حامد رضا خان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
حامد رضا خان
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1875  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بریلی  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات 23 مئی 1943 (67–68 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد احمد رضا خان  ویکی ڈیٹا پر والد (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والدہ ارشاد بیگم  ویکی ڈیٹا پر والدہ (P25) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بہن/بھائی
مصطفٰی رضا خان، مصطفائی بیگم  ویکی ڈیٹا پر بہن/بھائی (P3373) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ مصنف، مترجم، مفتی، شاعر  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مؤثر احمد رضا خان  ویکی ڈیٹا پر مؤثر (P737) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P islam.svg باب اسلام

شاہ حامد رضا خان بریلوی قادری (پیدائش: ربیع الاول 1292ھ/1875ء) ایک اسلامی عالم اور بریلوی تحریک کے صوفی تھے۔ آپ بریلی، ہندوستان میں پیدا ہوئے۔[1]

نام ونسب[ترمیم]

اعلیٰ حضرت امام اہلسنت کے بڑے شہزادے۔محمد نام،معروف بہ حامد رضا،لقب ،حجۃ الاسلام۔

تاریخِ ولادت[ترمیم]

ماہ ربیع الاول1292ھ بمطابق 1875ء میں اپنےدادا مولانا نقی علی خان کے گھر بریلی میں پیدا ہوئے۔

خاندان[ترمیم]

رضا علی خان
پہلی شادیدوسری شادی
(دختر) زوجہ مہدی علینقی علی خانمستجاب بیگمببی جان
احمد رضا خانحسن رضا خان
حامد رضا خانمصطفٰی رضا خان
ابراہیم رضا خان
اختر رضا خان

آپ کے جد اعلیٰ افغانستان سے آئے تھے اور ہندوستان میں مغلیہ سلطنت کے زمانے میں اعلیٰ منصب پر فائز ہوئے۔ آپ کے پردادا مفتی رضا علی خان نے ہندوستان میں پہلا باقاعدہ دارالافتاء قائم کیا۔ آپ کا سلسلہ نسب کچھ یوں ہے۔۔۔ حامد رضا خان بن احمد رضا خان بن نقی علی خان بن رضا علی خان۔[2]

بنیادی تعلیم[ترمیم]

آباؤ اجداد کی شاندار روایات کےمطابق درسیات تمام وکمال والد ماجد سے پڑھی19 سال کی عمر میں تمام مروجہ درسیات کی کتب سےفارغ التحصیل ہوئے۔علم وعمل میں باکمال والدِ ماجد کے جانشین،عربی نظم ونثر میں منفرد اسلوب رکھتے تھے۔زمانۂ تعلیم میں ہی آپ نے درسیات کی امہات الکتب ،خیالی،توضیح تلویح،ہدایہ اخیرین،صحیح بخاری پرحواشی لکھ کر اپنے والد کی خدمت میں پیش کیا تو اعلیٰ حضرت نے "قال الولد الاعز"لکھ کراپنے صاحبزادے کو دادِ تحسین فرمائی۔جب گلستانِ رضا کا یہ پھول ہر سو خوشبو پھیلانے لگا تو مجدد دین وملت نے اپنے اکابر خلفاء کی موجودگی میں!"حامدمنی وانا من حامد" فرماکر آپ کی عظمت وفضیلت پر مہر ثبت کردی ۔۔[3]

ادبی کام[ترمیم]

انہوں نے مختلف موضوعات پر متعدد کتابوں کا ترجمہ کیا۔ بیعت وخلافت : آپ حضرت مخدوم شاہ ابو الحسن احمد نوری مارہروی قدس سرہٗ کے مرید و خلیفہ تھے۔والد ماجد سے بھی تمام سلاسل میں اجازت وخلافت حاصل تھی۔

سیرت[ترمیم]

حسن معنوی کیساتھ ساتھ حُسن ظاہری میں بھی وحیدِ زمانہ تھے۔ صاف ستھری طبیعت کے مالک ،تلامذہ،مریدین اور ناداروں کی دستگیری آپ کا شیوہ تھا۔ آپ اُن تمام خوبیوں کے جامع تھے جو ایک مجدد کے جانشین میں ہونی چاہیے تھیں۔تحریک پاکستان میں بھر پور کردار اداکیا۔ساری زندگی اپنے والد گرامی کے مشن کو پھیلاتے رہے،ہر قسم کی گمراہ کن تحریکوں کےاثراتِ بد سے ملت اسلامیہ کی حفاظت فرماتے رہے۔

وصال[ترمیم]

17/جمادی الاول 1362ھ، کو وصال فرمایا۔مزار شریف بریلی میں مرجعِ خلائق ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

حضرت مولانا شاہ حامد رضا بریلوی﷫