فتاویٰ رضویہ
رضا فاؤنڈیشن، لاہور مکتبہ غوثیہ: کراچی، جلد 1 | |
| مصنف | امام احمد رضا خان |
|---|---|
| زبان | اردو |
| صنف | فقہ |
| اشاعت | پہلا ایڈیشن: 1915 — جلد 1 1924 — جلد 2 1961 — جلد 3 1966 — جلد 4 1973 — جلد 5 1980 — جلد 6 1985 — جلد 7 1992 — جلد 8 1994 — جلدیں 9 تا 12 |
| ناشر | رضا فاؤنڈیشن، لاہور (جدید طباعت) |
| طرز طباعت | پرنٹ (مجلد) سافٹ وئير |
| صفحات | 22,000 |
| آئی ایس بی این | 2-7451-7204-2 |
| جلدیں | 30 |
| سلسلہ مضامین |
| بریلوی تحریک |
|---|
|
|
ادارے بھارت
پاکستان
مملکت متحدہ |
اَلْعَطَایَا النَّبَوِیَّۃ فِی الْفَتَاوی الرّضْوِیَّۃِ، جو فتاویٰ رضویہ کے نام سے معروف ہے، امام احمد رضا خان کے فتاویٰ کا 30 جلدوں پر مشتمل مجموعہ ہے۔ اسے فقہِ حنفی کا ایک جامع انسائیکلوپیڈیا بھی قرار دیا جاتا ہے۔[1]
نام
[ترمیم]اس کتاب کا نام مصنف نے خود رکھا اور اس کے بارے میں دعائیں فرمائیں۔ چنانچہ، اس کتاب کی پہلی جلد کی ابتدا ہی میں "خطبۃ الکتاب" کے بعد "صفۃ الکتاب" میں فرماتے ہیں:
میں نے اس کانام العطایا النبویہ فی الفتاوی الرضویہ رکھا۔ اللہ اسے اپنی رضاکاوسیلہ بنائے اور دونوں جہان میں مجھے اور اپنے بندوں کو اس سے نفع پہنچائے اور اسے اپنے سب شہروں پرنفع رسانی کے لیے برسنے والے عظیم باران بنائے، مرادیں دینے والا، اس پرقبول کی نسیم چلائے اور ہرسخت جاہل جھگڑالوسے اسے بچائے۔ اس لیے کہ میں پروردگار صبح کی پناہ میں آیا اس کی تمام مخلوقات کے شر سے، حاسد کی برائی سے جب وہ حسد کرے اور کینہ پر ور کے ضرر سے جب وہ کینہ رکھے ۔[2]
خصوصیات
[ترمیم]فتاویٰ رضویہ ایک عظیم علمی ذخیرہ ہے جو ضخامت، اعلیٰ تحقیق، فقہی و اعتقادی استناد، متعدّد علوم کا احاطہ، دلائل کی فراوانی اور زبان و اسلوب کی انفرادیت جیسے بے شمار اوصاف کا حامل ہے۔[3]
- ضخامت۔ جدید تخریج کے بعد 30 جلدوں پر مشتمل فتاویٰ رضویہ تقریباً 22000 صفحات،تقریباً 7000سوالات و جوابات اورتقریباً 200 تحقیقی رسائل کا مجموعہ ہے، جبکہ ہزاروں مسائل ضمناً زیرِ بحث آئے ہیں۔
- تبویب۔ اس کتاب میں فتاوے فقہ کے منہج اور ابواب کے مطابق اس انداز سے ترتیب دیے گئے ہیں کہ تلاش اور فہم میں سہولت ہو۔ مصنف خود فرماتے ہیں، "یہ فتاوے فقہ کی کتابوں اور بابوں پر مرتب کردیے گئے ہیں تو ان سے مسئلہ نکالنا آسان اور احباب میں ان کا دست بدست دورہ رکھنا سزا وار ہو ا۔"[4]
- کثیر فہارس۔ مصنف اپنے دور کے عظیم عبقری مفکر اور مفتی تھے۔ انھوں نے آج 2025 سے 110 سال پہلے 1915 میں جلد اول کی ترتیب دیتے وقت بھی عالی فکری کا ثبوت دیا۔ وہ یوں کہ 3 فہرستیں تیار کیں: (1) مضامینِ کتاب بنام "اس جلد کے ابواب اور ان کے مسائل کی فہرست"[5]، (2) ضمنی مسائل بنام "اس جلد میں جو مسائل ضمناً مذکور ہوئے، ان کی فہرست"[6] اور (3) رسائل بنام "مجمل فہرستِ رسائل"[7]۔ جبکہ اس دور میں اتنی فہرستیں تیار کرنے کا رواج نہ تھا۔ فتاویٰ رضویہ شریف کی جلد اول کی فہرست کے ابتدا میں انھوں نے ایک نوٹ لکھا تھا، جو ذیل میں بلفظ نقل کیا جا رہا ہے[8]:
"یہ جلد [اول] صرف باب التیمم تک ہے۔ خیال تھا کہ بارہ جلدوں میں ہر جلد 800 صفحوں کی کی جائے، پہلی جلد میں پوری کتاب الطہارۃ ہو، مگر فقط باب التیمم تک ساڑھے آٹھ سو صفحے ہو گئے۔ لہذا یہ جلد [اول] اسی قدر پر ختم کی۔ بظاہر اس [جلد اول] میں صرف 114 فتوے اور 28 رسالے ہیں مگر بحمد اللہ تعالیٰ ہزارہا مسائل پر مشتمل ہے، جن میں صدہا وہ ہیں کہ اس کتاب کے سوا کہیں نہ ملیں گے۔ ہم اولاً ان مسائل کی مجمل فہرست دیں جو اس جلد میں مذکور ہیں، پھر اجمالاً فہرستِ رسائل۔ "فہرست رسائل: باب تیمم تک جو مسائل ہیں، وہ اصالةً ان ابواب کے ہیں اور ضمناً تحقیقِ مسائل و بیانِ دلائل میں باب التیمم سے آگے ابوابِ طہارت، پھر نماز سے فرائض تک ابوابِ فقہ کے مختلف مسئلے، پھر علمِ فقہ کے علاوہ اور علوم مثل علمِ عقائد و علمِ حدیث و علمِ اصول و علمِ ہندسہ و ریاضی وغیرہا کے مسائل ہیں۔ لہٰذا مناسب ہوا کہ فہرستِ مسائل دو حصے ہو--مسائلِ ابوابِ جلد کہ باب التیمم تک ہیں، پھر مسائلِ ضمنیہ کہ دیگر ابوابِ طہارت و نماز وغیره ابوابِ فقہ و دیگر علوم کے ضمناً مذکور ہوئے۔[9]
- خطبہ بے مثال۔ اس کے ابتدائی خطبہ میں احمد رضا خان نے 90 اسمائے ائمہ و کتبِ فقہ کو بطورِ براعتِ اِستہلال استعمال کیا ہے، یعنی، اسے اس انداز سے ایک لَڑی میں پرویا کہ اللہ پاک کی حمد و ثنا بھی ہو گئی اور ان اسمائے مقدّسہ سے تبرّک بھی حاصل ہو گیا۔
- اعلیٰ تحقیق۔ مصنف کسی مسئلہ کی تحقیق میں پہلے لغوی معنی، اصطلاحی تعریف، تقسیم، پھر بحث سے متعلق قسم کا تعین اور پھر اس کا حکمِ شرعی بیان کرتے ہیں۔ اس کے بعد قرآن، حدیث، اجماع، اختلاف کی صورت میں مذاہبِ ائمہ اور آخر میں فقہِ حنفی کے مطابق اقوالِ علما و فقہا ذکر کرتے ہیں۔
- مرجع عوام و علما۔ سائلین میں عوامُ الناس کے ساتھ علما، محدثین و فقہا شامل تھے، جو پیچیدہ مسائل کے حل کے لیے احمد رضا خان کی طرف رجوع کرتے۔[10]
- عقائدِ اہلِ سنّت کا دفاع۔ فقہی تحقیقات کے ساتھ ساتھ فتاویٰ رضویہ میں عقائدِ اہلِ سنّت کے دفاع پر مبنی کئی رسائل بھی شامل ہیں۔
- مُعتمَد عَلَیہ فتاویٰ۔ یہ فقہِ حنفی کا مستند فتاویٰ مجموعہ ہے، جس سے علما و مفتیان کرام فتویٰ دینے میں رجوع کرتے ہیں۔
- متعدّد علوم کا جامع۔ یہ کتاب فقہ کے علاوہ دیگر بیسیوں علوم جیسے حدیث، تفسیر، علمُ الکلام، سائنس، توقیت، ریاضی، منطق، فلسفہ وغیرہ پر بھی مشتمل ہے۔
- سائنسی تحقیق سے مزین۔ یہ کتاب سائنسی بصیرت کی آئینہ دار ہے۔ اس میں بڑے بڑے سائنسدانوں — دیموقراطیس، بطلمیوس، ابن سینا، نصیر الدین طوسی، کیپلر، ولیم ہرشیل، نیوٹن، گلیلیو، آئن اسٹائن، البرٹ ایف پورٹا — کے افکار کا علمی رد کیا گیا (جسے یونیورسٹی آف مشی گن نے تسلیم کیا[11])، جبکہ ارشمیدس، خوارزمی، کندی، غزالی، رازی، البیرونی، ابن الہیثم، عمر خیام، جے جے ٹامس کے سائنسی افکار کی تائید کی گئی۔[12] اس میں پانی، بخارات، برف (دیکھیے فتاویٰ رضویہ: جلد 1، صفحہ 547)، مرجان کو پتھر تسلیم کرنے کی تحقیق (دیکھیے فتاویٰ رضویہ: جلد 3، باب التیمم، صفحہ 686)[13]، نظریۂ حرکتِ زمین، جو فیثاغورث، کوپرنیکس اور آئن اسٹائن سے منسوب ہے، کا عقلی و نقلی رد، نیز آواز، فونوگراف اور قراءتِ قرآن کے سائنسی پہلو (جلد 23) پر تحقیق شامل ہے۔ اس کے علاوہ بھی اس میں بھرپور سائنسی تحقیقی مواد جگہ بہ جگہ موجود ہے۔
- دلائل کے انبار۔ یہ کتاب دلائل سے پُر ہے۔ ایک مشت داڑھی کا واجب ہونا ثابت کیا گیا 18 آیات، 72 احادیث اور 60 اقوالِ علما کے ذریعے ۔ حرمت سجدہ تعظیمی پر 70 صفحات پر مشتمل فتویٰ ہے جس میں 40 احادیث اور 150 فقہی و فتاوی مصادر کے حوالے ہیں۔[14] سماع موتی پر 149 صفحات کا فتویٰ ہے جس میں 60 احادیث اور 300 اقوالِ علما شامل ہیں۔[14] جمع الصلاتین پر 114 صفحات پر مشتمل فتویٰ میں 80 احادیث اور سینکڑوں حوالے موجود ہیں۔[14] حتیٰ کہ اس میں موجود 15 صفحات پر مشتمل مختصر ترین رسالہ بنام ”اَلتَّحْبِیْر بِبَابِ التَّدْبِیْر“ بھی 21آیات قرآنی، 40احادیث نبوی اورکثیر نصوص و جزئیات سے معمور ہے۔
- جواب بمطابق سوال۔ سائل کا سوال جس زبان میں ہو، جواب بھی اسی زبان میں دیا گیا ہے۔
- رسائل کا اضافہ۔ فتاویٰ رضویہ کی کُل 30 جلدیں ہیں اور ہر جلد کی ایک سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ ہر ایک جلد میں کچھ رسائل بھی شامل ہیں، جس کی نظیر فتاویٰ کی دوسری کتابوں میں کم ملتی ہے۔[15][16]
- تاریخی نام۔ اس میں متعدد رسائل کے عنوانات اس اندازِ تاریخی میں رکھے گئے ہیں جن سے ان کے سنِّ تحریر کا اخذ ممکن ہے۔ یہ فنِ تاریخ گوئی ایک نایاب اور دقیق فن ہے۔[17]
- معاشرتی رسم و رواج کی رعایت۔ اس میں معاشرتی ضرورتوں اور عرف کو ملحوظ رکھا گیا ہے تاکہ مسلمان آسانی سے حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کر سکے۔[18]
- فتنہ و فساد کا تدارک۔ اس میں فتویٰ دیتے وقت اس بات پر زور ہے کہ فرائض کی ادائیگی، محرمات سے اجتناب اور فتنوں سے بچاؤ کو ترجیح دی جائے۔[18]
- اعلیٰ ترتیب۔ اس میں مسائل کے نمبر شمار، رسائل کے نمبر شمار، فوائد پر متن و حواشی کے نمبر کے نمبر شمار وغیرہ بدرجہ اتم موجود ہیں۔
- غیر مکرر فتاویٰ۔ اس میں فتاویٰ کی تکرار نہیں۔ خود مصنف فرماتے ہیں، "مکرر فتوے ان میں نہیں۔ اُن کی حریم اس سے محفوظ رکھی گئی ہے کہ اور اہل زمانہ کے فتوے نقل کرکے گنتی اور کتاب کا حجم بڑھائیں۔ بلکہ اُن میں خود میرے ہی فتوے پورے درج نہ ہوپائے، آدھے ہوں گے یاکچھ زیادہ یاتہائی کم ہو گئے اور تہائی بہت ہوتی ہے ۔"[19]
موضوعات
[ترمیم]

فہرس
[ترمیم]- فتاویٰ رضویہ: جلد 1 — کتاب الطہارۃ (حصہ اول)
- فتاویٰ رضویہ: جلد 2 — کتاب الطہارۃ (حصہ دوم)
- فتاویٰ رضویہ: جلد 3 — کتاب الطہارۃ (حصہ اول)
- فتاویٰ رضویہ: جلد 4 — کتاب الطہارۃ (حصہ دوم)
- فتاویٰ رضویہ: جلد 5 — کتاب الصّلوٰۃ (حصہ اول)
- فتاویٰ رضویہ: جلد 6 — کتاب الصّلوٰۃ (حصہ دوم)
- فتاویٰ رضویہ: جلد 7 — کتاب الصّلوٰۃ (حصہ سوم)
- فتاویٰ رضویہ: جلد 8 — کتاب الصّلوٰۃ (حصہ چہارم)
- فتاویٰ رضویہ: جلد 9 — کتاب الجنائز
- فتاویٰ رضویہ: جلد 10 — کتاب الزکوٰۃ، کتاب الصوم، کتاب الحج
- فتاویٰ رضویہ: جلد 11 — کتاب النکاح (حصہ اول)
- فتاویٰ رضویہ: جلد 12 — کتاب النکاح (حصہ دوم)، کتاب الطلاق (حصہ اول)
- فتاویٰ رضویہ: جلد 13 — کتاب الطلاق (حصہ دوم)، کتاب الایمان، کتاب الحدود و التعزیر
- فتاویٰ رضویہ: جلد 14 — کتاب السیر (حصہ اول)
- فتاویٰ رضویہ: جلد 15 — کتاب السیر (حصہ دوم)
- فتاویٰ رضویہ: جلد 16 — کتاب الشرکۃ، کتاب الوقف
- فتاویٰ رضویہ: جلد 17 — کتاب البیوع، کتاب الحوالہ، کتاب الکفالہ
- فتاویٰ رضویہ: جلد 18 — کتاب الشھادۃ، کتاب القضاء و الدعاوی
- فتاویٰ رضویہ: جلد 19 — کتاب الوکالۃ، کتاب الاقرار، کتاب الصلح، کتاب المضاربۃ، کتاب الامانات، کتاب العاریۃ، کتاب الھبہ، کتاب الاجارۃ، کتاب الاکراہ، کتاب الحجر، کتاب الغصب
- فتاویٰ رضویہ: جلد 20 — کتاب الشفعہ، کتاب القسمہ، کتاب المزارعہ، کتاب الصید و الذبائح، کتاب الاضحیہ
- فتاویٰ رضویہ: جلد 21 — کتاب الحظر و لاباحۃ (حصہ اول)
- فتاویٰ رضویہ: جلد 22 — کتاب الحظر و لاباحۃ (حصہ دوم)
- فتاویٰ رضویہ: جلد 23 — کتاب الحظر و لاباحۃ (حصہ سوم)
- فتاویٰ رضویہ: جلد 24 — کتاب الحظر و لاباحۃ (حصہ چہارم)
- فتاویٰ رضویہ: جلد 25 — کتاب المداینات، کتاب الاشربہ، کتاب الرھن، باب القسم، کتاب الوصایا
- فتاویٰ رضویہ: جلد 26 — کتاب الفرائض، کتاب الشتی (حصہ اوّل)
- فتاویٰ رضویہ: جلد 27 — کتاب الشتی (حصہ دوم)
- فتاویٰ رضویہ: جلد 28 — کتاب الشتی (حصہ سوم)
- فتاویٰ رضویہ: جلد 29 — کتاب الشتی (حصہ چہارم)
- فتاویٰ رضویہ: جلد 30 — کتاب الشتی (حصہ پنجم)
تفصیل
[ترمیم]اس کتاب میں اسلامی شریعت کے تقریباً تمام ابواب پر تفصیلی شرعی رہنمائی موجود ہے۔ ابتدائی جلدیں کتاب الطہارۃ اور کتاب الصلوٰۃ پر مشتمل ہیں، جن میں طہارت، وضو، غسل، نماز اور اس کے متعلقہ مسائل کی وضاحت کی گئی ہے، جن میں مندرجہ ذیل ابواب ہیں: باب الوضو، باب المیاہ (پانیوں کا بیان)، باب التیمّم، باب المسح علی الخفین [موزوں پر مسح کا بیان]، باب الحیض، باب المعذور، باب النجاسات، باب الاستنجاء۔ اس کے بعد کتاب الجنائز، کتاب الزکوٰۃ، کتاب الصوم اور کتاب الحج جیسے بنیادی اسلامی ارکان پر تفصیلی مباحث آتے ہیں۔
وسطی جلدوں میں کتاب النکاح، کتاب الطلاق، کتاب الایمان، کتاب الحدود والتعزیر، کتاب السیر، کتاب الشرکۃ، کتاب الوقف اور دیگر اہم فقہی موضوعات شامل ہیں۔ تجارت و مالی معاملات سے متعلقہ ابواب جیسے کتاب البیوع، کتاب الشھادۃ، کتاب القضاء، کتاب الوکالۃ، کتاب الصلح، کتاب الاجارۃ اور کتاب الغصب بھی بڑی تفصیل کے ساتھ بیان کیے گئے ہیں۔
آخری جلدوں میں کتاب الشفعہ، کتاب الحظر و الاباحۃ، کتاب المداینات، کتاب الفرائض اور متفرق فقہی موضوعات پر مشتمل کتاب الشتی کے پانچ حصے شامل ہیں، جو فقہِ حنفی کا قیمتی ذخیرہ پیش کرتے ہیں۔ اس طرح ’’فتاویٰ رضویہ‘‘ ایک ہمہ گیر انسائیکلوپیڈیا کی حیثیت رکھتا ہے جو شریعتِ مطہرہ کے ہر گوشے پر روشنی ڈالتا ہے۔
تاریخ
[ترمیم]اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کی پوری عمر کی فتویٰ نویسی کی مدت تقریباً 55 سال بنتی ہے۔ وہ اس طرح کہ اعلی حضرت رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے باقاعدہ طور پر پہلا فتویٰ 13 سال، 10 ماہ اور 4 دن کی عمر میں دیا اور آپ کا وصال تقریباً 68 سال کی عمر میں ہوا ۔ اس حساب سے، یعنی 68 میں سے 13 نکالنے سے ظاہر ہوا، تقریباً 55 سال آپ نے فتاویٰ جاری فرمائے۔ تو وقت، زمانہ اور عرصے کی وسعت کے اعتبار سے بھی آپ کی فقہی مہارت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔[20] درج ذیل فتاویٰ میں کچھ تاریخی شواہد ملاحظہ ہوں:
محمدسلامت اﷲ ابوالذکاسراج الدین 1296 الجواب صحیح والمجیب نجیح کتبہ محمد سلطان احمد عفی عنہ ۔[21]
اس عمدہ تحریر کی تزیین سے قلم نے حرمت والے مہینے ذو الحجہ کے دمیان عشرے کے اندر1297ھ کو ایک ہی نشست میں راحت حاصل کی ۔ شہر پاک مارہرہ منورہ میں آرام فرمانے والے ان اولیائے کرام کے مزارات مقدس کے پہلو میں یہ تحریرلکھی گئی جو ہمارے سردار ومشائخ عارفین گرامی قدر ہیں۔[22]
مسئلہ 23:از شہر، مسؤولہ: منشی شوکت علی صاحب، محرر چونگی، تاریخ: 18 ذی الحجۃ 1339 ھ۔ کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ حساب قیمت کا جس وقت زیور بنوایا تھا وہ رہے گا یا نرخِ بازار جو بر وقت دینے زکوٰۃ کے ہے۔ بینو اتو جروا۔[23]
انھیں فتاویٰ نویسی کا حکم ان کے والد ماجد حضرت مولانا نقی علی خان نے 14 شعبان 1286ھ (تقریباً 25 نومبر 1869ء) کو اس وقت دیا جب وہ ابھی پورے 14 سال کے بھی نہیں ہوئے تھے۔ پہلے چند سال فتوے لکھ کر والد کو دکھاتے رہے، پھر 7 سال بعد اجازت ملی کہ بغیر دکھائے فتوے جاری کریں، مگر اُنھوں نے ازراہِ ادب و احتیاط یہ جرأت نہ کی، یہاں تک کہ والد ماجد کا وصال ذی القعدہ 1297ھ (اکتوبر 1880ء) میں ہو گیا۔ تاہم، ان تقریباً 12برسوں میں جو فتاویٰ لکھے گئے ان کو جمع کرنے کا اہتمام نہ ہو سکا، ان میں بعض فتاویٰ صرف ایک بار لکھے گئے اور دوبارہ نقل نہ کیے جانے کی وجہ سے محفوظ نہ ہو سکے اور باقیوں میں بھی اختصار ملحوظ رکھا گیا۔ باوجود اس کے کہ بہت سے فتاویٰ محفوظ نہ رہ سکے ، مصنف کی حیات مبارکہ میں موجودہ مجموعہ 12 ضخیم جلدوں تک جا پہنچا۔[24] اگر سارے فتاویٰ محفوظ رہ جاتے تو ان کی تعداد اتنی ہوتی کہ شاید سیکٹروں جلدیں بنتیں۔ اس کتاب کی تاریخ خود مصنف نے کتاب کی پہلی جلد کے آغاز میں، "خطبۃ الکتاب" کے بعد "صفۃ الکتاب" کے عنوان کے تحت بیان کی ہے:
ہمارے سردار ومولٰی حضرت مولوی محمدنقی علی خان صاحب قادری برکاتی نے (کہ اللہ عزوجل اُن کے مرقد کریم پر اب سے ہمیشہ تک اپنی رضا کے مینہ برسائے) مجھے 14 شعبان خیروبشارت کو فتوے لکھنے پرمامور فرمایا [...]اور اس وقت میری عمر کے 14برس پورے نہ ہوتے تھے[...]۔
تو میں نے فتوے دینا شروع کیا[...]۔ حضرت[مولوی محمدنقی علی خان صاحب قادری برکاتی] قدس سرہ [...نے...]7برس کے بعد مجھے اذن فرمادیا کہ اب فتوے لکھو اور بغیر حضور کو سنائے سائلوں کو بھیج دیاکروں، مگر میں نے اس پر جرأت نہ کی یہاں تک کہ [...] حضرت والا[...][کا] ذی القعدہ 1297ھ میں[...][وصال ہو گیا] ۔ تو ان برسوں میں جوفتوے تقریباً ایک قرن کامل، یعنی 12سال، تک لکھے، اُن کے جمع کرنے کاخیال نہ آیا۔ اور اُس کے بعد پاس پاس کے شہروں اور دُور دراز کے ملکوں سے اگرسوال 10یازیادہ بارآیا توکتاب میں ایک ہی بار کاجواب درج کیا، مگر کسی فائدے یازیادہ نفع کے لیے یابھول کر کہ آدمی بھول سے کم خالی ہوتا ہے۔
اور باآنکہ اتنے کثیر فتاوے جاتے رہے اور باقیوں میں اس قدر اختصار منظور رہا، اب تک میرے فتاوے 7مجلد کبیر تک پہنچ گئے، ہرجلد1400صفحہ کلاں سے 1600 کے اندر تک اور ہنوز جہاں تک وہ جُودوکرم والا چاہے افزائش ہی ہے۔ پس، احباب نے مجلدات کاحجم بھاری دیکھ کر فتاوے کو 12جلدوں پر تقسیم کیا اور جو کچھ مولاتعالٰی اس کے بعد عطافرمائے گا وہ اس کی مدد اکبر سے عنقریب ذیل فتاوٰی ہوجائے گا۔[25]
پہلا ایڈیشن( 12 جلدیں، متفرق ناشرین)
[ترمیم]فتاویٰ رضویہ کی پہلی جلد 1915 میں امام احمد رضا خان کی حیاتِ مبارکہ میں شائع ہوئی۔ باقی گیارہ جلدیں 1924 سے 1944 کے درمیان مختلف ناشرین کے ذریعے شائع ہوئیں۔ اس طرح یہ مجموعہ کل بارہ جلدوں پر مشتمل ہوا، جو بریلی، لکھنؤ، دہلی اور بمبئی کے مطابع سے طبع ہوا۔ مکمل مجموعے کے صفحات کی تعداد 7,888 ہے۔ جلد 10 "جلد 11" کے عنوان سے شائع ہوئی۔
| جلد | عنوان | ناشر | سن اشاعتء | سن اشاعت ھ | صفحات |
|---|---|---|---|---|---|
| 1 | کتاب الطہارۃ (حصہ اول) | مطبع اہلسنت: بریلی | 1915 | 1335 | 896 |
| 2 | کتاب الطہارۃ (حصہ دوم) | مطبع اہلسنت: بریلی | 1924 | 1344 | 578 |
| 3 | کتاب الصّلوٰۃ | سرفراز پریس: لکھنؤ | 1961 | 1381 | 840 |
| 4 | کتاب الجنائز | نامی پریس: لکھنؤ | 1966 | 1387 | 748 |
| کتاب الزکوٰۃ | |||||
| کتاب الصوم | |||||
| کتاب الحج | |||||
| 5 | کتاب النکاح | نامی پریس: لکھنؤ (جز اول) سرفراز پریس: لکھنؤ (جز دوم) |
1973 | 1397 | 937 |
| کتاب الطلاق | |||||
| 6 | کتاب السیر | نشاط پریس: ٹانڈہ | 1980 | 1401 | 627 |
| کتاب اللقطہ | |||||
| کتاب اللقیط | |||||
| کتاب المفقود | |||||
| کتاب الشرکہ | |||||
| کتاب الوقف | |||||
| 7 | کتاب البیوع | آفسیٹ پریس: دہلی | 1985 | 1407 | 676 |
| کتاب الکفالہ | |||||
| کتاب الحوالہ | |||||
| کتاب الشھادۃ | |||||
| کتاب القضاء و الدعاوی | |||||
| 8 | کتاب الوکالۃ | جے اے آفسیٹ پریس: دہلی | 1992 | 1412 | 754 |
| کتاب الاقرار | |||||
| کتاب الصلح | |||||
| کتاب المضاربۃ | |||||
| کتاب الامانات | |||||
| کتاب العاریۃ | |||||
| کتاب الھبہ | |||||
| کتاب الاکراہ | |||||
| کتاب الاجارۃ | |||||
| کتاب الحجر | |||||
| کتاب الغصب | |||||
| کتاب الشفعہ | |||||
| کتاب القسمہ | |||||
| کتاب المزارعہ | |||||
| کتاب الذبائح | |||||
| کتاب الصید | |||||
| کتاب الاضحیہ | |||||
| کتاب العقیقہ | |||||
| 9 الف 9 ب |
کتاب الحظر و لاباحۃ | مکتبہ ایوان رضا: پیلی بھیت | 1994 | 1415 | 619 |
| 10* | کتاب المداینات | تصنیفاتِ رضا: بریلی | 1994 | 1415 | 569 |
| کتاب الاشربہ | |||||
| کتاب الوصایا | |||||
| کتاب الرھن | |||||
| 11 | کتاب الشتی (حصہ اول) | رضا اکیڈمی: بمبئی | 1994 | 1415 | 345 |
| 12 | کتاب الشتی (حصہ دوم) | رضا اکیڈمی: بمبئی | 1994 | 1415 | 299 |
| صفحات | 7,888 | ||||
| *جلد 10 "جلد 11" کے نام سے شائع ہوئی۔ | |||||
دوسرا ایڈیشن (30 جلدیں، رضا فاؤنڈیشن: لاہور)
[ترمیم]فتاویٰ رضویہ کا دوسرا ایڈیشن رضا فاؤنڈیشن لاہور سے 1990ء سے 2005ء کے دوران شائع ہوا، جو 30 جلدوں پر مشتمل تھا۔ اس ایڈیشن میں مجموعی طور پر 6,934 فتاویٰ، 206 رسائل اور 21,666 صفحات شامل ہیں۔ تحقیق، تدوین اور موضوعاتی ترتیب کے اعتبار سے یہ اشاعت ایک اہم سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔
| جلد | عنوان | جوابات | رسائل | سن اشاعت | صفحات |
| 1 | کتاب الطہارۃ (حصہ اول) | 22 | 11 | 1990 | 838 |
| 2 | کتاب الطہارۃ (حصہ دوم) | 33 | 7 | 1991 | 710 |
| 3 | کتاب الطہارۃ (حصہ اول) | 59 | 6 | 1992 | 756 |
| 4 | کتاب الطہارۃ (حصہ دوم) | 132 | 5 | 1993 | 760 |
| 5 | کتاب الصّلوٰۃ (حصہ اول) | 140 | 6 | 1993 | 692 |
| 6 | کتاب الصّلوٰۃ (حصہ دوم) | 457 | 4 | 1994 | 736 |
| 7 | کتاب الصّلوٰۃ (حصہ سوم) | 269 | 7 | 1994 | 720 |
| 8 | کتاب الصّلوٰۃ (حصہ چہارم) | 337 | 6 | 1995 | 664 |
| 9 | کتاب الجنائز | 273 | 13 | 1996 | 946 |
| 10 | کتاب الزکوٰۃ | 316 | 16 | 1996 | 832 |
| کتاب الصوم | |||||
| کتاب الحج | |||||
| 11 | کتاب النکاح (حصہ اول) | 459 | 6 | 1997 | 736 |
| 12 | کتاب النکاح (حصہ دوم) | 328 | 3 | 1997 | 688 |
| کتاب الطلاق (حصہ اول) | |||||
| 13 | کتاب الطلاق (حصہ دوم) | 293 | 2 | 1998 | 688 |
| کتاب الایمان | |||||
| کتاب الحدود و التعزیر | |||||
| 14 | کتاب السیر (حصہ اول) | 339 | 7 | 1998 | 712 |
| 15 | کتاب السیر (حصہ دوم) | 81 | 15 | 1999 | 744 |
| 16 | کتاب الشرکۃ | 432 | 3 | 1999 | 632 |
| کتاب الوقف | |||||
| 17 | کتاب البیوع | 153 | 2 | 2000 | 726 |
| کتاب الحوالہ | |||||
| کتاب الکفالہ | |||||
| 18 | کتاب الشھادۃ | 152 | 2 | 2000 | 740 |
| کتاب القضاء و الدعاوی | |||||
| 19 | کتاب الوکالۃ | 296 | 3 | 2001 | 692 |
| کتاب الاقرار | |||||
| کتاب الصلح | |||||
| کتاب المضاربۃ | |||||
| کتاب الامانات | |||||
| کتاب العاریۃ | |||||
| کتاب الھبہ | |||||
| کتاب الاجارۃ | |||||
| کتاب الاکراہ | |||||
| کتاب الحجر | |||||
| کتاب الغصب | |||||
| 20 | کتاب الشفعہ | 334 | 3 | 2001 | 632 |
| کتاب القسمہ | |||||
| کتاب المزارعہ | |||||
| کتاب الصید و الذبائح | |||||
| کتاب الاضحیہ | |||||
| 21 | کتاب الحظر و لاباحۃ (حصہ اول) | 291 | 9 | 2002 | 676 |
| 22 | کتاب الحظر و لاباحۃ (حصہ دوم) | 241 | 6 | 2002 | 692 |
| 23 | کتاب الحظر و لاباحۃ (حصہ سوم) | 409 | 7 | 2003 | 768 |
| 24 | کتاب الحظر و لاباحۃ (حصہ چہارم) | 284 | 9 | 2003 | 720 |
| 25 | کتاب المداینات | 183 | 3 | 2004 | 658 |
| کتاب الاشربہ | |||||
| کتاب الرھن | |||||
| باب القسم | |||||
| کتاب الوصایا | |||||
| 26 | کتاب الفرائض | 325 | 8 | 2004 | 616 |
| کتاب الشتی (حصہ اوّل) | |||||
| 27 | کتاب الشتی (حصہ دوم) | 35 | 10 | 2005 | 684 |
| 28 | کتاب الشتی (حصہ سوم) | 22 | 6 | 2005 | 684 |
| 29 | کتاب الشتی (حصہ چہارم) | 215 | 11 | 2005 | 752 |
| 30 | کتاب الشتی (حصہ پنجم) | 24 | 10 | 2005 | 772 |
| 6,934
جوابات |
206
رسائل |
— | 21,666
صفحات | ||
سی ڈی ایڈیشن
[ترمیم]
فتاویٰ رضویہ کا ایک سی ڈی ایڈیشن 21 دسمبر 2015 کو جاری کیا گیا، جس میں شائع شدہ دوسرے ایڈیشن کی نقل شامل تھی۔ اس سی ڈی میں تلاش کی سہولت جیسی خصوصیات موجود تھیں۔ یہ سی ڈی دعوتِ اسلامی کے تحقیقی ادارے، المدینۃ العلمیہ، نے اپنے اشاعتی شعبے، مکتبۃ المدینہ، کے ذریعے تیار کی اور اسے دعوتِ اسلامی کی ویب گاہ سے مفت ڈاؤن لوڈ کے لیے فراہم کیا گیا۔
تیسرا ایڈیشن (33 جلدیں، رضا فاؤنڈیشن: لاہور)
[ترمیم]فتاویٰ رضویہ کا تیسرا ایڈیشن 2006ء میں رضا فاؤنڈیشن (لاہور) سے شائع ہوا، جو 33 جلدوں پر مشتمل ہے۔ اس ایڈیشن میں پہلی جلد میں موجود عربی اور فارسی عبارات کا ازسرِ نو ترجمہ کیا گیا اور اس جلد کو دو حصوں—جلد 1 (الف) اور جلد 1 (ب)—میں تقسیم کر کے الگ الگ شائع کیا گیا۔ علاوہ ازیں، دو مزید جلدیں، فہارس اور اشاریہ، کا اضافہ کیا گیا، جس کے بعد مجموعی جلدوں کی تعداد 33 ہو گئی۔ اگرچہ فتاویٰ اور رسائل کی تعداد بدستور 6,934 اور 206 رہی، تاہم صفحات کی مجموعی تعداد 21,666 سے بڑھ کر 23,235 ہو گئی۔
| جلد | عنوان | جوابات | رسائل | سن اشاعت | صفحات |
| 1الف | کتاب الطہارۃ (حصہ اول) | 22 | 11 | 2006 | 588 |
| 1ب | کتاب الطہارۃ (حصہ دوم) | 2006 | 565 | ||
| 2 | کتاب الطہارۃ (حصہ سوم) | 33 | 7 | 1991 | 710 |
| 3 | کتاب الطہارۃ (حصہ چہارم) | 59 | 6 | 1992 | 756 |
| 4 | کتاب الطہارۃ (حصہ پنجم) | 132 | 5 | 1993 | 760 |
| 5 | کتاب الصّلوٰۃ (حصہ اول) | 140 | 6 | 1993 | 692 |
| 6 | کتاب الصّلوٰۃ (حصہ دوم) | 457 | 4 | 1994 | 736 |
| 7 | کتاب الصّلوٰۃ (حصہ سوم) | 269 | 7 | 1994 | 720 |
| 8 | کتاب الصّلوٰۃ (حصہ چہارم) | 337 | 6 | 1995 | 664 |
| 9 | کتاب الجنائز | 273 | 13 | 1996 | 946 |
| 10 | کتاب الزکوٰۃ | 316 | 16 | 1996 | 832 |
| کتاب الصوم | |||||
| کتاب الحج | |||||
| 11 | کتاب النکاح (حصہ اول) | 459 | 6 | 1997 | 736 |
| 12 | کتاب النکاح (حصہ دوم) | 328 | 3 | 1997 | 688 |
| کتاب الطلاق (حصہ اول) | |||||
| 13 | کتاب الطلاق (حصہ دوم) | 293 | 2 | 1998 | 688 |
| کتاب الایمان | |||||
| کتاب الحدود و التعزیر | |||||
| 14 | کتاب السیر (حصہ اول) | 339 | 7 | 1998 | 712 |
| 15 | کتاب السیر (حصہ دوم) | 81 | 15 | 1999 | 744 |
| 16 | کتاب الشرکۃ | 432 | 3 | 1999 | 632 |
| کتاب الوقف | |||||
| 17 | کتاب البیوع | 153 | 2 | 2000 | 726 |
| کتاب الحوالہ | |||||
| کتاب الکفالہ | |||||
| 18 | کتاب الشھادۃ | 152 | 2 | 2000 | 740 |
| کتاب القضاء و الدعاوی | |||||
| 19 | کتاب الوکالۃ | 296 | 3 | 2001 | 692 |
| کتاب الاقرار | |||||
| کتاب الصلح | |||||
| کتاب المضاربۃ | |||||
| کتاب الامانات | |||||
| کتاب العاریۃ | |||||
| کتاب الھبہ | |||||
| کتاب الاجارۃ | |||||
| کتاب الاکراہ | |||||
| کتاب الحجر | |||||
| کتاب الغصب | |||||
| 20 | کتاب الشفعہ | 334 | 3 | 2001 | 632 |
| کتاب القسمہ | |||||
| کتاب المزارعہ | |||||
| کتاب الصید و الذبائح | |||||
| کتاب الاضحیہ | |||||
| 21 | کتاب الحظر و لاباحۃ (حصہ اول) | 291 | 9 | 2002 | 676 |
| 22 | کتاب الحظر و لاباحۃ (حصہ دوم) | 241 | 6 | 2002 | 692 |
| 23 | کتاب الحظر و لاباحۃ (حصہ سوم) | 409 | 7 | 2003 | 768 |
| 24 | کتاب الحظر و لاباحۃ (حصہ چہارم) | 284 | 9 | 2003 | 720 |
| 25 | کتاب المداینات | 183 | 3 | 2004 | 658 |
| کتاب الاشربہ | |||||
| کتاب الرھن | |||||
| باب القسم | |||||
| کتاب الوصایا | |||||
| 26 | کتاب الفرائض | 325 | 8 | 2004 | 616 |
| کتاب الشتی (حصہ اوّل) | |||||
| 27 | کتاب الشتی (حصہ دوم) | 35 | 10 | 2005 | 684 |
| 28 | کتاب الشتی (حصہ سوم) | 22 | 6 | 2005 | 684 |
| 29 | کتاب الشتی (حصہ چہارم) | 215 | 11 | 2005 | 752 |
| 30 | کتاب الشتی (حصہ پنجم) | 24 | 10 | 2005 | 772 |
| 31 | فہارس | - | - | 2006 | 950 |
| 32 | اشاریہ | - | - | 2006 | 304 |
| 6,934
جوابات |
206
رسائل |
— | 23,235
صفحات | ||
ایپ ایڈیشن
[ترمیم]
فتاویٰ رضویہ کا ایک اینڈرائیڈ ایپ ایڈیشن 15 اگست 2024 کو جاری کیا گیا، جس میں شائع شدہ تیسرے ایڈیشن کی نقل شامل تھی۔ اس ایپ میں تلاش اور بُک مارک جیسی خصوصیات موجود تھیں۔ یہ ایپ دعوتِ اسلامی کے تحقیقی ادارے، المدینۃ العلمیہ، نے اپنے اشاعتی شعبے، مکتبۃ المدینہ، کے ذریعے تیار کی اور گوگل پلے اسٹور سے مفت ڈاؤن لوڈ کے لیے دستیاب تھی۔
اہمیت
[ترمیم]کسی مفتی سے مسائل پوچھے جاتے ہیں؛ وہ اُن کے جوابات دیتے ہیں؛ یہ سب فتاویٰ جمع ہوتے رہتے ہیں؛ پھر فتاویٰ کا ایک مجموعہ بن جاتا ہے اور کسی نام سے چَھپ جاتا ہے۔ پاک و ہند میں، فقہ حنفی سے تعلق رکھنے والی ایسی کتبِ فتاوی 100 سے زائد ہوں گی۔ لیکن حیرت انگیز بات یہ ہے کہ دنیائے اسلام کی تاریخ میں ایک فرد کے لکھے ہوئے فتاوی کا اتنا بڑا مجموعہ موجود نہیں ہے جتنا ضخیم اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا فتاویٰ رضویہ ہے۔ یعنی جتنے بڑے، مفصل اور کثیر مجلدات پر مشتمل فتاوی آپ نے جاری کیے، پوری دنیائے اسلام میں اتنے فتاویٰ کسی نے جاری نہیں کیے۔ یہ آپ کی فقہی دَسْتَرس اور مہارت کی ایک بہت بڑی نشانی ہے۔[26]فردِ واحد کا یہ اُردو زبان میں دنیا کا ضَخیم ترین فتاویٰ ہے۔ احمد رضا خان چودھویں صدی کے مجدد تھے، فتاوٰی رضویہ تو غواصِ بحرِ فقہ کے لیے آکسیجن کا کام دیتا ہے۔[27]
مصنف احمد رضا خان بذاتِ خود فتاویٰ رضویہ کی پہلی جلد (طباعت اول) کے متعلق فرماتے ہیں:
بظاہر اس [فتاویٰ رضویہ کی] پہلی جلد میں 114 فتوے اور 28 رسالے ہیں، مگر بحمدللہ تعالیٰ ہزارہا مسائل پر مشتمل ہے جن میں صد ہا وہ کہ اس کتاب کے سوا کہیں نہ ملیں گے۔[28]
مکہ مکرمہ کے ایک مشہور فاضل، حافظ کتب الحرم، علامہ مفتی سید اسماعیل بن خلیل مکی نے سرکار اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ کے فتویٰ کو دیکھنے کے بعد، 1323ھ بمطابق 1906ء میں لکھا:
خدا کی قسم میں کہتا ہوں، اگر ان کے فتویٰ کو حضرت امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت رضی الله تعالیٰ عنہ دیکھتے تو ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوتیں اور اس کے لکھنے والے کو اپنے تلامذہ میں سے بناتے۔[29]
ماہرِ رضویات پروفیسر مسعود احمد دہلوی ( فرزند مفتی محمد مظہر اللہ نقشبندی) نے 1980ء میں اپنے تاثر کا اظہار اس انداز میں کیا تھا کہ:
سچ تو یہ ہے کہ اعلیٰ حضرت معاصرین کے دیے جانے والے القابات کے جامع ہیں۔
مولانا محمد الیاس عطار قادری رضوی فرماتے ہیں:
امام احمد رضا بے مثال ذہانت و فطانت ، کمال درجہ فقاہت اور قدیم و جدید علوم میں کامل دسترس و مہارت رکھتے تھے ۔ آپ كی تقریباً ایک ہزار کتب ہیں۔ آپ کے 55 سے زائد علوم و فنون آپ کی تبحر علمی پر دال پر ہیں۔ آپ کی جن کاوشوں کو بین الاقوامی شہرت حاصل ہوئی، ان میں سے کنزالایمان، حدائق بخش اور فتاویٰ رضویہ شامل ہیں ۔ آخر الذکر (فتاویٰ رضویہ ) تو علوم و فنون کا ایسا بحر بیکراں ہے جو پیکراں ہے جو بے شمار و مستند مسائل و تحقیقات کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہے جسے پڑھ کر قدر دان انسانی بے ساختہ پکار اٹھتا ہے ہے کہ امام احمد رضا امام اعظم کی مجتہدانہ بصیرت کا پرتو ہیں۔ آپ کی کتب رہتی دنیا تک کے مسلمانوں کے لیے مشعل رہا ہے۔[30]
محمد ادریس کاندھلوی اور امین احسن اصلاحی کے شاگرد، سید ابوالاعلیٰ مودودی کے معتمد، ہفت روزہ شہاب (لاہور) کے چیف ایڈیٹر کوثر نیازی نے امام احمد رضا کانفرنس (اسلام آباد) منعقدہ 1993ء میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا:
قرطاس و قلم سے میرا تعلق دو چار سال کی ہی بات نہیں، نصف صدی کی بات ہے۔ اس دوران میں وقت کے بڑے بڑے اہلِ علم و قلم، علما و مشائخ کی صحبت میں بیٹھ کر استفادہ کرنے کا موقع ملا اور ان کے درس میں شریک رہا اور اپنی بساط کے مطابق فیض حاصل کرتا رہا۔ زندگی میں میں نے اتنی روٹیاں نہیں کھائی ہوں گی جتنی کتابیں پڑھی ہیں۔ میری اپنی ذاتی لائبریری میں دس ہزار سے زیادہ کتابیں ہیں، وہ سب مطالعہ سے گذری ہیں۔
ان مطالعے کے دوران میں احمد رضا کی کتب نظر سے نہیں گذری تھیں اور مجھے یوں محسوس ہوتا تھا کہ علم کا خزانہ پا لیا ہے اور علم کا سمندر پار کر لیا ہے، علم کی ہر جہت تک رسائی حاصل کر لی ہے۔ مگر جب احمد رضا خان کی کتابیں مطالعہ کیں اور ان کے علم کے دروازے پر دستک دی اور فیض یاب ہوا تو اپنے جہل کا احساس اور اعتراف ہوا۔
یوں لگا کہ ابھی تو علم کے سمندر کے کنارے کھڑا سیپیاں چن رہا تھا۔ علم کا سمندر تو امام کی ذات ہے۔ احمد رضا بریلوی کی تصانیف کا جتنا مطالعہ کرتا جاتا ہوں، عقل اتنی ہی حیران ہوتی چلی جاتی ہے اور یہ کہے بغیر نہیں رہا جاتا کہ امام احمد رضا حضور نبی کریم ﷺ کے معجزوں میں سے ایک معجزہ ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے اتنا وسیع علم دے کر دنیا میں بھیجا ہے کہ علم کی کوئی جہت ایسی نہیں جس پر امام کو دسترس حاصل نہ ہو اور اس پر کوئی تصنیف نہ کی ہو۔
یقیناً آپ سرکارِ دوعالم ﷺ کے علوم کے صحیح جانشین تھے، جس سے ایک عالم فیض یاب ہوا۔[31]
معین الدین ندوی لکھتے ہیں:
مولانا احمد رضا خان مرحوم صاحبِ علم و نظر مصنفین میں سے تھے۔ دینی علوم خصوصاً فقہ و حدیث پر ان کی نظر وسیع اور گہری تھی۔ مولانا نے جس وقت نظر اور تحقیق کے ساتھ علما کے استفسارات کے جوابات تحریر فرمائے، اس سے ان کی جامعیت علمی بصیرت قرآنی استحضار ذہانت اور طباعی کا پورا پورا اندازہ ہوتا ہے۔ ان کے عالمانہ محققانہ فتاوٰی مخالف و موافق ہر طبقہ کے مطالعہ کے لائق ہیں۔[32]
محمد یوسف بنوری کے والد زکریا شاہ بنوری شاوری نے فرمایا:
اگر اللہ تبارک و تعالیٰ ہندوستان میں احمد رضا خان بریلوی کو نہ پیدا فرماتا تو ہندوستان میں حنفیت ختم ہو جاتی۔[33]
ملک غلام علی (نائب و مشیرِ سید ابوالاعلیٰ مودودی ) لکھتے ہیں:
حقیقت یہ ہے کہ مولانا احمد رضا خان صاحب کے بارے میں اب تک ہم لوگ سخت غلط فہمی میں مبتلا رہے ہیں۔ ان کی بعض تصانیف اور فتاوٰی کے مطالعہ کے بعد اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ جو علمی گہرائی میں نے ان کے یہاں پائی، وہ بہت کم علما میں پائی جاتی ہے اور عشق خدا اور رسول تو ان کی سطر سطر سے پھوٹا پڑتا ہے۔[34]
عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے محمد متین خالد لکھتے ہیں:
احمد رضا خان بریلوی مقتدر علما روزگار سے تھے۔ مختلف موضوعات پر ان کی تقریباً ایک ہزار کے قریب تصانیف بیش بہا علمی ورثے کی حیثیت رکھتی ہیں۔ بالخصوص فتاوٰی رضویہ موجودہ دور کا علمی شاہکار ہے۔[35]
یہ کتاب کالجوں، یونیورسٹیوں اور دیگر علمی اداروں کے اعلیٰ تحقیقی معیار پر بھی قدر و پزیرائی حاصل کر چکی ہے، جس کا اندازہ ذیل میں درج علمی مقالات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔
- اعظم علی۔ "فتاویٰ رضویہ میں مباحث سیرت کا تجزیاتی و تحقیقی مطالعہ۔" ایم فل، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی، فیصل آباد۔ نگران: ڈاکٹر مطلوب احمد رانا، 2014۔
- احمد سعید طفیل۔ "فتاویٰ شامی کے فتاویٰ رضویہ پر اثرات کا تحقیقی جائزہ۔" ایم فل، منہاج یونیورسٹی لاہور۔ نگران: محمد ممتاز الحسن، (تاریخ درج نہیں)۔
- رقیہ چمن۔ "مباحث اصولِ فقہ: فتاویٰ رضویہ کی روشنی میں تحقیقی جائزہ۔" ایم فل، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی، فیصل آباد۔ نگران: ہمایوں عباس شمس، (تاریخ درج نہیں)۔
- زینت یاسمین۔ "فتاویٰ رشیدیہ اور فتاویٰ رضویہ کے معاشی مسائل کا تقابلی جائزہ۔" ایم فل، یونیورسٹی آف سرگودھا، سب کیمپس بھکر۔ نگران: ڈاکٹر ساجد اقبال، 2017۔
- صفینہ علی، سید۔ "فتاویٰ رضویہ کے تفسیری مباحث (جلد نمبر 11، 12)۔" ایم اے، منہاج یونیورسٹی لاہور۔ نگران: فیض اللہ بغدادی، (تاریخ درج نہیں)۔
- صبا نور۔ "امام احمد رضا خان کے معاشی نظریات، اجارہ و مضاربت اور عصرِ حاضر میں اس کی افادیت: فتاویٰ رضویہ کی روشنی میں۔" ایم فل، یونیورسٹی آف فیصل آباد، پتوکی کیمپس۔ نگران: ناہید کوثر، (تاریخ درج نہیں)۔
- عاطف فضل۔ "فتاویٰ رضویہ میں آثارِ صحابہ سے استدلال کا اسلوب: فقہ الاسرہ کے تناظر میں۔" ایم فل، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور۔ نگران: محمد نعیم حافظ، (تاریخ درج نہیں)۔
- عبدالمصطفیٰ صابر۔ "فتاویٰ رضویہ میں فن حدیث کے اہم مباحث کا تحقیقی مطالعہ۔" ایم فل، گفٹ یونیورسٹی، گوجرانوالہ۔ نگران: محمد ریاض محمود، (تاریخ درج نہیں)۔
- علی نواز۔ "فتاویٰ رضویہ میں مباحثِ سیرت۔" ایم اے، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی، فیصل آباد۔ نگران: محمد حامد رضا، (تاریخ درج نہیں)۔
- عمر دراز رانا۔ "فتاویٰ رضویہ میں مباحث تصوف: مطالعہ و جائزہ۔" ایم فل، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی، فیصل آباد۔ نگران: —، (تاریخ درج نہیں)۔
- قیصر ایوب۔ "فتاویٰ رضویہ، امداد الفتاویٰ اور فتاویٰ ثنائیہ کے مناہج کے تقابلی مطالعہ۔" ایم فل، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی، فیصل آباد۔ نگران: ڈاکٹر محفوظ احمد، 2009۔
- محمد اسحاق مدنی۔ "برصغیر کی سیاست میں فتاویٰ رضویہ کا حصہ۔" پی ایچ ڈی، جامعہ کراچی۔ نگران: جلال الدین احمد نوری، (تاریخ درج نہیں)۔
- محمد جمیل الرحمٰن۔ "فتاویٰ رضویہ میں علمِ جرح و تعدیل کی مباحث۔" ایم فل، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی، فیصل آباد۔ نگران: ہمایوں عباس شمس، (تاریخ درج نہیں)۔
- محمد خضر حیات، حافظ۔ "امام احمد رضا بریلوی کی معاشی فکر اور عصرِ حاضر: فتاویٰ رضویہ کا خصوصی مطالعہ۔" ایم فل، بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی، ملتان۔ نگران: محمود سلطان کھوکھر، (تاریخ درج نہیں)۔
- محمد عبد القوی۔ "علم مختلف الحدیث اور اس کا فتاویٰ رضویہ میں اطلاق۔" ایم فل، یونیورسٹی آف فیصل آباد۔ نگران: محفوظ احمد، (تاریخ درج نہیں)۔
- محمد محبوب رضا۔ "فتاویٰ رضویہ کا منہج و اسلوب: کتاب الطہارت کی روشنی میں۔" بی اے ایچ، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور۔ نگران: محمد قاسم بٹ، (تاریخ درج نہیں)۔
- محمد وسیم۔ "المبین ختم النبیین کا تحقیقی مطالعہ اور منکرین ختم نبوت کا ردّ: فتاویٰ رضویہ کی روشنی میں۔" ایم فل، نیشنل کالج آف بزنس ایڈمنسٹریشن اینڈ اکنامکس، ملتان۔ نگران: —، (تاریخ درج نہیں)۔
- ممتاز احمد۔ "فتاویٰ عالمگیری، فتاویٰ شامی پر فتاویٰ رضویہ کی روشنی میں۔" پی ایچ ڈی، لاہور گیریژن یونیورسٹی۔ نگران: سعید احمد سعیدی، (تاریخ درج نہیں)۔
- نور صالحہ۔ "فتاویٰ رضویہ میں مباحث عصمت و رسالت۔" ایم اے، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی، فیصل آباد۔ نگران: محمد حامد رضا، (تاریخ درج نہیں)۔
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ علامہ حافظ محمد عبد الستار سعیدی (ناظم تعلیمات جامعہ نظامیہ رضویہ، لاہور و شیخوپورہ)۔ "پیش لفظ: فتاویٰ رضویہ--جلد 30"۔ مقدمہ فتاویٰ رضویہ: جلد 30۔ رضا فاؤنڈیشن: لاہور، 2005ء، صفحہ 10۔
- ↑ امام احمد رضا خان۔ فتاویٰ رضویہ: جلد 1 الف۔ رضا فاؤنڈیشن: لاہور، 2006ء، صفۃ الکتاب، صفحہ 95۔
- ↑ ڈاکٹر محمد ہمایوں عباس شمس۔ "برصغیر کے چند جید علما کی کتب فتاوی"۔ فکر ونظر: 2006ء، جلد 44، شمارہ 1، صفحہ 41، https://doi.org/10.52541/fn.v44i1.4272 (اخذ شدہ بتاریخ 19 جولائی 2025)۔
- ↑ امام احمد رضا خان۔ فتاویٰ رضویہ: جلد 1 الف۔ رضا فاؤنڈیشن: لاہور، 2006ء، صفۃ الکتاب، صفحہ 93۔
- ↑ امام احمد رضا خان۔ فتاویٰ رضویہ: جلد 1۔ مکتبہ رضویہ: کراچی، "فہرست جلد اولِ کتابِ مستطاب العطایا النبویہ فی الفتاوے و الرضویۃ"، سطر 1 تا 6، صفحہ 9۔
- ↑ امام احمد رضا خان۔ فتاویٰ رضویہ: جلد 1۔ مکتبہ رضویہ: کراچی، "فہرست جلد اولِ کتابِ مستطاب العطایا النبویہ فی الفتاوے و الرضویۃ"، سطر 1 تا 6، صفحہ 21۔
- ↑ امام احمد رضا خان۔ فتاویٰ رضویہ: جلد 1۔ مکتبہ رضویہ: کراچی، "فہرست جلد اولِ کتابِ مستطاب العطایا النبویہ فی الفتاوے و الرضویۃ"، سطر 1 تا 6، صفحہ 33۔
- ↑ مولانا حافظ محمد عبد الستار سعیدی۔ حاشیہ فتاویٰ رضویہ: جلد 1۔ رضا فاؤنڈیشن: لاہور، 1991ء، "فہرست جلد اول: ابواب و مسائل"، حاشیہ 1، صفحہ 57۔
- ↑ امام احمد رضا خان۔ فتاویٰ رضویہ: جلد 1۔ مکتبہ رضویہ: کراچی، "فہرست جلد اولِ کتابِ مستطاب العطایا النبویہ فی الفتاوے و الرضویۃ"، سطر 1 تا 6، صفحہ 9۔
- ↑ مولانا عبدالحبیب۔ عاشقوں کے امام: سیرتِ اعلیٰ حضرت۔ مکتبۃ المدینۃ: کراچی، 2025ء، بیان 7، اعلیٰ حضرت کی سیرت کے خوبصورت پہلو، "فتاویٰ رجویہ کی خصوصیات"، صفحہ 230۔
- ↑ کم کلارک (Kim Clarke)۔ "پروفیسر پورٹاز پری ڈک شنز (Professor Porta's Predictions)۔" یونیورسٹی آف مشی گن: اخذ شدہ بتاریخ 17 جولائی 2025ء۔
- ↑ روزنامہ نوائے وقت، 27 دسمبر 2013، صفحہ 13
- ↑ امام احمد رضا خان۔ فتاویٰ رضویہ: جلد 3، باب التیمم، رضا فاؤنڈیشن: لاہور، صفحہ 686۔
- ^ ا ب پ حافظ غلام یوسف۔"اکابر علمائے بریلی کی کتب فتاوی - تجزیاتی مطالعہ" ۔ جہات الاسلام: 2011ء، جلد 5، شمارہ 1، صفحہ 134۔https://jihat-ul-islam.com.pk/journal/index.php/journal/article/view/500، اخذ شدہ بتاریخ 19 جولائی 2025ء۔
- ↑ ڈاکٹر ظہور احمد اظہر (چیئرمین شعبہ عربی، پنجاب یونیورسٹی)۔ "فتاویٰ رضویہ کی علمی قدر و قیمت۔" مقدمہ فتویٰ رضویہ: جلد 6۔ رضا فاؤنڈیشن: لاہور، 1994ء، صفحہ 9۔
- ↑ مفتی محمد کمال الدین اشرفی مصباحی (صدر مفتی شیخ الحدیث ادارہ شرعیہ، اتر پردیش)۔ خصائص فتاویٰ رضویہ۔"فتاویٰ رضویہ کا موضوعاتی اشاریہ۔" مولانا نور الدین اکیڈمی: اتر دیناج پور (بنگال)، 2021ء، صفحہ 52۔
- ↑ محمد دانش۔ "فتاویٰ رضویہ کی 10 خصوصیات"۔ ماہنامہ فیضان مدینہ: کراچی، صفر المظفر 1442ھ۔
- ^ ا ب ڈاکٹر رشید احمد جالندھری (ڈائریکٹر ادارہ ثقافت اسلامیہ، لاہور)۔ "فتاوی رضویہ کی غیر معمولی اہمیت۔" مقدمہ فتویٰ رضویہ: جلد 7۔ رضا فاؤنڈیشن: لاہور، 1994ء، صفحہ 7۔
- ↑ امام احمد رضا خان۔ فتاویٰ رضویہ: جلد 1 الف۔ رضا فاؤنڈیشن: لاہور، 2006ء، صفۃ الکتاب، صفحہ 93 تا 94۔
- ↑ مفتی محمد قاسم عطاری۔ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی اعلیٰ باتیں۔ دار الافتا اہلسنت: کراچی، 2022ء، "تیسری فقہی خصوصیت"، صفحہ 3۔
- ↑ امام احمد رضا خان۔ فتاویٰ رضویہ: جلد 26۔ رضا فاؤنڈیشن: لاہور، 2004ء،مسئلہ 268، صفحہ 552۔
- ↑ امام احمد رضا خان۔ فتاوِیٰ رضویہ: جلد 30۔ رضا فاؤنڈیشن: لاہور، 2005، رسالہ ھدی الحیران، صفحہ 750 تا 751۔
- ↑ امام احمد رضا خان۔ فتاوِیٰ رضویہ: جلد 10۔ رضا فاؤنڈیشن: لاہور، 1996، مسئلہ 23، صفحہ 133۔
- ↑ امام احمد رضا خان۔ فتاویٰ رضویہ: جلد 1۔ دار العلوم امجدیہ-مکتبہ رضویہ: کراچی، 1994ء، صفۃ الکتاب، صفحہ 4۔
- ↑ امام احمد رضا خان۔ فتاویٰ رضویہ: جلد 1 الف۔ رضا فاؤنڈیشن: لاہور، 2006ء، صفۃ الکتاب، صفحہ 94 تا 95۔
- ↑ مفتی محمد قاسم عطاری۔ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی اعلیٰ باتیں۔ دار الافتا اہلسنت: کراچی، 2022ء، "تیسری فقہی خصوصیت"، صفحہ 3 تا 4۔
- ↑ مولانا مصطفیٰ رضا خان۔ ملفوظات اعلیٰ حضرت۔ مکتبۃ المدینہ، کراچی، 2009ء، صفحہ 43۔
- ↑ امام احمد رضا خان۔ فتاویٰ رضویہ: جلد 1۔ رضا فاؤنڈیشن: لاہور، 1990ء، صفحہ 21۔
- ↑ حامد رضا خان۔ الإجازات المتينة لعلماء بكة والمدينة۔ مکتبۃ المدینہ: کراچی، صفحہ 11۔
- ↑ مولانا الیاس عطار قادری رضوی۔ پیش لفظ والدین ، زوجین اور ساتذہ کے حقوق۔ مکتبۃ المدینہ: کراچی، 2006ء صفحہ 12 تا صفحہ 13۔
- ↑ مولانا یٰس اختر مصباحی۔ امام احمد رضا اور جدید افکار و تحریکات۔ رضا اکیڈمی: ممبئی، 2010ء، صفحہ 30 تا 31۔
- ↑ ماہنامہ معارف اعظم گڑھ۔ ستمبر 1949ء، بحوالہ سفید و سیاہ، ص 114، 115۔
- ↑ امام احمد رضا کی فقہی بصیرت۔ القلم: دہلی، صفحہ 32۔
- ↑ ارمغان حرم۔ لکھنؤ، صفحہ14، بحوالہ سفید و سیاہ، صفحہ 114۔
- ↑ عاشق مصطفٰے صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم امام احمد رضا اور حدائق بخشش۔ صفحہ 6 تا 7۔
بیرونی روابط
[ترمیم]- فتاویٰ رضویہ – دعوتِ اسلامی – اردو زبان میں مکمل 30 جلدوں کا نسخہ، دعوتِ اسلامی کی ویب گاہ پر مفت آن لائن مطالعہ اور ڈاؤن لوڈ کے لیے دستیاب۔
- فتاویٰ رضویہ – اعلیٰ حضرت نیٹ ورک – اردو پی ڈی ایف فارمیٹ میں ہر جلد کے لیے علاحدہ ڈاؤن لوڈ روابط کے ساتھ منظم فہرست۔
- فتاویٰ رضویہ–آرکائیو ڈاٹ او آر جی –مکمل ڈیجیٹل سیٹ انٹرنیٹ آرکائیو پر دستیاب، آف لائن مطالعے اور تحقیقی حوالہ جات کے لیے مفید۔
- فتاویٰ رضویہ–فتاویٰ رضویہ ڈاٹ آرکائیو شدہ (غیرموجود تاریخ) بذریعہ fatawarizvia.com (نقص:نامعلوم آرکائیو یو آر ایل) – مطالعہ اور تلاش کے لیے فائدہ مند۔
- فتاویٰ رضویہ – سی ڈی ورژن – دعوتِ اسلامی کی ویب گاہ سے مفت ڈاؤن لوڈ کے لیے دستیاب ڈیسک ٹاپ ایپلیکیشن۔
- فتاویٰ رضویہ – اینڈرائیڈ ایپ – گوگل پلے اسٹور پر دستیاب ایپ، تلاش اور بُک مارک جیسی خصوصیات کے ساتھ۔

