فتاویٰ رضویہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
فتاویٰ رضویہ
 
Fatawarazavia.jpg
مصنف احمد رضا خان
اصل عنوان '
ملک بھارت
زبان اردو، فارسی، عربی اور ایک انگریزی میں فتویٰ ہے۔
موضوعات شریعت اسلامیہ (فقہ حنفی)
صنف اسلامی ادب
ناشر پاکستان اور بھارت کے کئی ناشرین
ذرائع ابلاغ مجلد، سافٹ وئير
صفحات 30 جلدیں، 22000+ صفحات، چھ ہزار آٹھ سو چالیس سوالات مع جوابات
آئی ایس بی این 2-7451-7204-2

فتاویٰ رضویہ فقہ حنفی کے مطابق احمد رضا خان کے جاری کردہ ہزاروں فتاوی جات کا مجموعہ ہے، اس علمی ذخیرے کو فقہ حنفی کا انسائیکلوپیڈیا کہا جاتا ہے۔ اس کا پورا نام العطایا النبویہ فی الفتاوی الرضویہ ہے جسے مختصر طور پر فتاویٰ رضویہ کہا جاتا ہے۔ تخریج شدہ تینتیس جلدوں جن میں کل 6847 سوالات کے جوابات ہیں اور احمد رضا خان کے 206 رسائل بھی اس میں شامل ہیں۔[1]

اشاعت[ترمیم]

خصوصیات[ترمیم]

  • فتوی کی ترتیب سب سے پہلے قرآنی آیات اس کے بعد احادیث کا حوالہ آتا ہے۔
  • فقہا احناف کی کتابوں کے حوالے کثرت سے دیتے ہیں، صرف حوالہ ہی نہیں دیتے بلکہ نئے نکات کا اضافہ کرتے ہیں۔
  • فتوی دیتے وقت اپنے و بیگانہ کی تمیز نہیں کرتے، بلکہ جو تحقیق سے حاصل ہو وہی بیان کرتے ہیں۔
  • ایک ہی مسئلہ پر کثرت سے حوالے دیتے ہیں جو بعض اوقات سو سے اوپر چلے جاتے ہیں۔[2]

کثرت حوالہ کی مثالیں[ترمیم]

  • فتوی الہادی الحاجب عن جنازۃ الغائب میں 239 کتابوں کے حوالے دیئے ہیں۔[2]
  • حرمت سجدہ تعظیمی پر 70 صفحات پر مفصل فتوی ہے جس میں 40 احادیث اور 150 حوالے فقہ و فتاوی کی کتابوں سے دیئے ہیں۔[3]
  • سماع موتی کے مسئلے پر 149 صفحات پر فتوی ہے جس میں 60 احادیث اور 300 اقوال علما بطور حوالہ پیش کیے ہیں۔[3]
  • جمع الصلاتین کے مسئلے پر 114 صفحات پر فتوی میں 80 احادیث اور سینکڑوں حوالے دیئے ہیں۔[3]

اہمیت و فضیلت[ترمیم]

ملفوظات اعلیٰ حضرت میں ہے:

فتاوٰی رضویہ توغواصِ بحرِفِقہ کے لئے آکسیجن کا کام دیتا ہے ۔ فتاوٰی رضویہ (غیر مخرجہ ) کی 12اور تخریج شدہ کی 30 جِلدیں ہیں۔یہ غالباً اُردو زبان میں دنیا کے ضَخیم ترین فتاویٰ ہیں جو تقریباً بائیس ہزار (22000) صَفَحات، چھ ہزار آٹھ سو سینتا لیس (6847) سُوالات کے جوابات اور دو سو چھ (206) رسائل پرمُشتَمل ہیں۔ جبکہ ہزارہا مسائل ضِمناً زیرِ بَحث آ ئے ہیں۔ اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ چودھویں صدی کے مجدد ہیں لہٰذا الفاظ آپ کے قلم سے صفحہ قرطاس پر منتقل ہوئے ہوں یا زبان سے ، دونوں صورتوں میں ہمارے لئے رہنمائی کا سر چشمہ ہیں۔[4]

جبکہ فتاویٰ رضویہ میں لکھا ہے۔ بلا مبالغہ ہم یہ دعویٰ کر سکتے ہیں 30 جِلدوں پر مشتمل یہ دنیا کا ضَخیم ترین فتاویٰ ہے۔ یہ بلند فقہی شاہکارمجموعی طور پر (21970) صَفَحات، چھ ہزار آٹھ سو سنتا لیس (6847) سُوالات کے جوابات اور دو سو چھ (206) رسائل پرمُشتَمل ہیں۔ جبکہ ہزارہا مسائل ضِمناً زیرِ بَحث آ ئے ہیں[5]

اکابرین کی رائے[ترمیم]

ماہر رضویات پروفیسر مسعود احمد دہلوی فرزند مفتی محمد مظہر اللہ نقشبندی نے 1980ء میں اپنے تاثر کا اظہار اس انداز میں کیا تھا کہ: سچ تو یہ ہے کہ اعلیٰ حضرت معاصرین کے دیئے جانے والے القابات کے جامع ہیں۔

محمد ادریس کاندھلوی، امین احسن اصلاحی کے شاگرد، سید ابوالاعلیٰ مودودی کے معتمد، ہفت روزہ شہاب لاہور کے چیف ایڈیٹر، نے امام احمد رضا کانفرس اسلام آباد منعقدہ 1993ءمیں کہا تھا: قرطاس و قلم سے میرا تعلق دو چار سال کی ہی بات نہیں، نصف صدی کی بات ہے اس دوران میں وقت کے بڑے بڑے اہل علم و قلم علماء و مشائخ کی صحبت میں بیٹھ کر استفادہ کرنے کا موقع ملا اور ان کے درس میں شریک رہا اور اپنی بساط کے مطابق فیض حاصل کرتا رہا ۔ زندگی میں میں نے اتنی روٹیاں نہیں کھائی ہوں گی جتنی کتابیں پڑھی ہیں۔ میری اپنی ذاتی لائبریری میں دس ہزار سے زیادہ کتابیں ہیں وہ سب مطالعہ سے گزری ہیں۔ ان مطالعے کے دوران میں امام احمد رضا رحمۃ اللہ علیہ کی کتب نظر سے نہیں گزری تھیں اور مجہے یوں محسوس ہوتا تھا کہ علم کا خزانہ پالیا ہے اور علم کا سمندر پار کر لیا ہے۔ علم کی ہر جہت تک رسائی حاصل کرلی ہے۔مگر جب امام اہل سنت (مولانا احمد رضا بریلوی) کی کتابیں مطالعہ کیں اور ان کے علم کے دروازے پر دستک دی اور فیض یاب ہوا تو اپنے جہل کا احساس اور اعتراف ہوا ۔ یوں لگا کہ ابھی تو علم کے سمندر کے کنارے کھڑا سیپیاں چن رہا تھا۔ علم کا سمندر تو امام کی ذات ہے۔امام (احمد رضا بریلوی) کی تصانیف کا جتنا مطالعہ کرتا جاتا ہوں عقل اتنی ہی حیران ہوتی چلی جاتی ہے اور یہ کہے بغیر نہیں رہا جاتا کہ امام احمد رضا حضور نبی کریم ﷺ کے معجزوں میں سے ایک معجزہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اتنا وسیع علم دے کر دنیا میں بھیجا ہے کہ علم کی کوئی جہت ایسی نہیں جس پر امام کو دسترس حاصل نہ ہو اور اس پر کوئی تصنیف نہ کی ہو۔ یقیناًآپ سرکار دوعالم ﷺ کے علوم کے صحیح جانشیں تہے جس سے ایک عالم فیض یاب ہوا۔[6][7]

شماریات[ترمیم]

فتاوی کی نئی اشاعت جو لاہور سے 1990ء سے 2005ء تک عربی و فارسی عبارات مع رسائل و تخریج حوالہ جات کے شائع ہوا اس کے مطابق شماریات ہیں۔

جلد نمبر عنوانات جواباتِ اسئلۃ رسائل تعداد سنین اشاعت صفحات
1 کتاب الطھارۃ 22 11 شعبان المعظم 1410___مارچ 1990ء 1152
2 کتاب الطھارۃ 33 7 ربیع الثانی1412__نومبر 1991 710
3 کتاب الطھارۃ 59 6 شعبان المعظم 1412__فروری1992ء 756
4 کتاب الطھارۃ 125 5 رجب المرجب 1413__جنوری 1993 760
5 کتاب الصلوٰۃ 140 6 ربیع الاول1414__ستمبر 1993 692
6 کتاب الصلوٰۃ 457 4 ربیع الاول1415__اگست1994 736
7 کتاب الصلوٰۃ 269 7 رجب المرجب 1415__دسمبر1994 720
8 کتاب الصلوٰۃ 337 6 محرم الحرام1416__جون 1995 664
9 کتاب الجنائز 273 13 ذیقعدہ 1416__اپریل1996 946
10 کتاب الجنائز، کتاب الصوم، کتاب الحج 316 16 ربیع الاول1417__اپریل 1996 832
11 کتاب النکاح 459 6 محرم الحرام 1418__اگست 1996 736
12 کتاب النکاح، کتاب الطلاق 328 3 رجب المرجب 1418__مئی1917 656
13 کتاب الطلاق، کتاب الایمان، کتاب الحدود و التعزیر 293 2 ذیقعدہ 1418__نومبر1997 688
14 کتاب السیر 339 7 جمادی الاخریٰ1419__ستمبر1998 712
15 کتاب السیر 81 15 محرم الحرام1420__اپریل1999 744

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. محمد عبد الستار، حافظ، سعیدی (2006)۔ فہارس فتاوی رضویہ۔ لاہور: رضا فاؤنڈیشن۔ صفحہ۔4۔ http://www.alahazratnetwork.org۔ 
  2. ^ 2.0 2.1 محمد ہمایوں عباس شمس، ڈاکٹر (جنوری-فروری-مارچ 2006ء). "برصغیر کے چند جید علما کی کتب فتاوی (اجمالی تعارف)". سہ ماہی فکر ونظر 44 (1): 41. http://iri.aiou.edu.pk/indexing/wp-content/uploads/2016/07/v44i13u.pdf. 
  3. ^ 3.0 3.1 3.2 غلام یوسف، حافظ (جولائی تا دسمبر 2011ء). "اکابر علمائے بریلی کی کتب فتاوی - تجزیاتی مطالعہ". جھہات الاسلام 5 (1): 134. http://iri.aiou.edu.pk/indexing/wp-content/uploads/2016/07/07-akbir-ulam-e-bralvi-ki-kotob.pdf. 
  4. ملفوظات اعلیٰ حضرت، صفحہ 43، مولانا مصطفیٰ رضا خان، مجلس المدینۃ العلمیۃ
  5. فتاویٰ رضویہ جلد 1 صفحہ 9رضا فاؤنڈیشن جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور
  6. ص49۔مجلہ امام احمد رضا کانفرنس۔ ادارہ تحقیقات امام احمد رضا کراچی۔ 1415ھ 1944ء
  7. http://islamicrch.org/alahazrat.html