محمد الیاس قادری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
محمد الیاس قادری
{{#if:
امیر اہلسنت
محمد الیاس قادری
Bapa 32.JPG
معروفیت امیر دعوت اسلامی
پیدائش 12 جولائی 1950 (1950-07-12) ‏(66)
شعبۂ زندگی عالم دین
مذہب اسلام
فقہ حنفی
مکتب فکر اہل سنت و جماعت
تحریک دعوت اسلامی
شعبۂ عمل قرآن، حدیث، تصوف، فقہ، نعت
اہم نظریات جدید ذرائع ابلاغ کے ذریعے سنت رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا احیاء اور تبلیغ اسلام
کارہائے نماياں فیضان سنت
ویب سائٹ محمد الیاس عطار قادری کی باضابطہ ویب سائٹ

محمد الیاس قادری ایک مسلم عالم دین ہیں جنہوں نے دعوتِ اسلامی کی بنیاد رکھی۔[1] محمد الیاس قادری 26 رمضان 1369ھ بمطابق 1950ء کو پاکستان کے شہر کراچی میں پیدا ہوئے۔آپ کی کنیت "ابوبلال"اور تخلص "عطار" ہے۔[2]

Basmala.svg
مضامین بسلسلہ
بریلوی تحریک
DargahAlahazrat.jpg
مزار احمد رضا خان
کلیدی شخصیات

رضا علی خان
فضل حق خیر آبادی
نقی علی خان
سید کفایت علی کافی
احمد رضا خان
پير مہر علی شاہ
سید جماعت علی شاہ
سید جماعت علی شاہ لاثانی

کلیدی شخصیات (دود جدید)

مولانا عبدالحامد قادری بدایونی
پیر محمد کرم شاہ الازہری
محمد مصلح الدین صدیقی
قمر الزمان اعظمى
امین میاں قادری
سید شجاعت علی قادری
شاہ احمد نورانی
محمد سردار احمد قادری
محمد عبدالحکیم شرف قادری
قاری غلام رسول
عبدالقیوم ہزاروی
کوکب نورانی اوکاڑوی
محمد الیاس قادری
محمد اختر رضا خان قادری

تعلیمی ادارے

جامعہ نظامیہ رضویہ لاہور،جامعہ نعیمیہ لاہور
جامعہ الکرم، جامعہ امجدیہ رضویہ
مانچسٹر سنٹرل مسجد
جامعۃ الرضا، جامعہ رضویہ منظر اسلام
الجامعۃ الاشرفیہ مبارکپور، بھارت، الجامعۃ الاسلامیہ

کتابیں

کنزالایمان، فتاوی رضویہ
بہار شریعت، حسام الحرمین

تنظیمیں و تحریکیں

دعوت اسلامی، ورلڈ اسلامک مشن
آل انڈیا سنی کانفرنس، تحریک ختم نبوت
سنی تحریک، تنظیم المدارس اہل سنت پاکستان
سنی اتحاد کونسل
انجمن طلباء اسلام
جمیعت علمائے پاکستان

آبا و اجداد

آپ کے آباو اجداد ہند کے گاؤں کتیانہ کے رہنے والے تھے۔آپ کا تعلق کتیانہ میمن برادری سے ہے۔ آپ کے دادا کی نیک نامی کی شہرت پورے کتیانہ میں مشہور تھی۔ پاکستان بننے کے بعد آپ کے والدین ہجرت کر کے پاکستان کے شہر حیدرآباد، سندھ میں آ گئے۔ آپ کے والد کا نام حاجی عبدالرحمان تھا جو ایک نیک اور پارسا انسان تھے۔ انھوں نے سری لنکا کی حنفی میمن مسجد کی بہت سال تک خدمت کی وہاں اس وقت لوگوں نے قصیدۂ غوثیہ پڑتے ہوئے آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی کرامت بھی دیکھی۔مولانا الیاس قادری کے والد 1370ھ میں ادائیگی حج کے دوران بیماری کی وجہ سے وفات پا گئے۔ اس وقت مولانا کی عمر صرف ایک سال تھی۔ آپ کے بڑے بھائی اور والدہ بالترتیب 1396ھ اور 1398ھ میں وفات پا گئے۔[3]

ابتدائی تعلیم

آپ نے علم دین کسی مدرسے میں باقاعدہ حاصل نہیں کیا بلکہ مفتی اعظم پاکستان علامہ مفتی وقارالدین کی خدمت میں 22 سال مسلسل جاتے رہے۔ مفتی مرحوم سے کتنا علم حاصل کیا اس کا اندازا صرف اس بات سے لگایا جا سکتا کہ علامہ الیاس قادری پوری دنیا میں ان کے واحد خلیفہ ہیں۔ 1981 میں جب علماء کرام اہلسنت کی دینی اصلاحی تنظیم بنانے کے لیے تگ و دو کر رہے تھے۔ اس وقت بھی مفتی وقارالدین نے آپ کا نام اس کام کے لیے پیش کیا، کیونکہ الیاس قادری صاحب پہلے سے ہی خود ہی اس طرز پر کام کر رہے تھے۔[4]

بیعت و ارادت

امام احمد رضا خان سے بے حد عقیدت کی بنا پر مولاناالیاس قادری کوآپ کے سلسلے میں داخل ہونے کا شوق پیدا ہوا۔ خود لکھتے ہیں:{{اقتباس|(مرید ہونے کے لئے) ایک ہی ہستی مرکز توجہ بنی ،گومشائخِ اہل سنت کی کمی تھی نہ ہے مگر۔۔ پسند اپنی اپنی خیال اپنا اپنا۔اس مقدس ہستی کا دامن تھام کر ایک ہی واسطے سے اعلیٰ حضرت علیہ رحمۃ الرحمن سے نسبت ہوجاتی تھی اور اس ’’ہستی‘‘ میں ایک کشش یہ بھی تھی کہ براہِ راست گنبد خضرا کا سایہ اُس پر پڑ رہا تھا۔ اس ’’مقدس ہستی‘‘ سے میری مراد حضرت شیخ الفضیلت آفتابِ رَضَویت ضیائے الْمِلَّت، مُقتدائے اَہلسنّت، مُرید و خلیفئہ اعلیٰ حضرت، پیرِ طریقت، رَہبرِ شریعت ، شَیخُ العرب و العَجَم، میزبانِ مہمانانِ مدینہ، قطبِ مدینہ، حضرت علامہ مولانا ضیاء الدین اَحمد مدنی قادِری رَضَوی علیہ رحمۃ اللہ القوی کی ذات گرامی (ہے)۔[5]

القابات

پاک و ہند کے علماء و عوام میں آپ "امیراہلسنت" کے نام سے مشہور ہیں۔ مریدین نام سے پہلے "شیخ طریقت" کا اضافہ کرتے ہیں۔ بعض اوقات آپ کو "حضرت صاحب" کہہ کر بھی یاد کیا جاتا ہے۔ تبلیغ قرآن و سنت کی عالمگیر تحریک دعوت اسلامی کے بانی ہونے کی وجہ سے آپ کو "بانیء دعوت اسلامی" بھی کہا جاتا ہے۔ آپ کی آل و اولاد اور متعدد اسلامی بھائی آپ سے عرض و معروض کے وقت "باپا" کے اپنائیت بھرے الفاظ سے بھی پکارتے ہیں۔ پاک و ہند کے مختلف علماء کرام و مفتیان کرام نے مختلف مواقع پر امیراہلسنت کو جن القابات سے تحریرا" یاد کیا ہے، ان میں چند ملاحظہ ہوں: عالم نبیل، فاضل جلیل، عاشق رسول مقبول، یادگارِ اسلاف، نمونہء اسلاف، مبلغ اسلام، رہبرقوم، عاشق مدینہ، فدائے مدینہ، فدائے غوث الوری، فدائے سیدنا امام احمد رضا خان، صاحب تقوی، مسلک اعلی حضرت کے عظیم ناشر و مبلغ پاسبان و ترجمان، ترجمان اہلسنت، مخدوم اہلسنت، محسن اہلسنت، حامی سنت، شیخ وقت، پیر طریقت، امیرملت۔ وغیرہا[6]

تنظیم دعوت اسلامی کا قیام

آپ نے 1401ھ میں ’’دعوتِ اسلامی‘‘ جیسی عظیم اورعالمگیر تحریک کے کام کا آغاز فرما دیا۔یہ آپ کی کوششوں کا ہی نتیجہ ہے کہ مختصر سے عرصے میں دعوتِ اسلامی کا پیغام (تادم تحریر) دنیا کے 195 ممالک میں پہنچ چکا ہے اور لاکھوں عاشقانِ رسول نیکی کی دعوت کو عام کرنے میں مصروف ہیں۔ مختلف ممالک میں کُفار بھی مُبلِّغینِ دعوت ِ اسلامی کے ہاتھوں مُشرف بہ اسلام ہوتے رہتے ہیں۔ آپ کی جہدِمسلسل نے لاکھوں مسلمانوں بالخصوص نوجوانوں کی زندگیوں میں انقلاب برپا کردیاجس کی بدولت وہ فرائض و واجبات کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ سر پر سبز عمامے اور چہرے پر سنت کے مطابق داڑھی بھی سجالیتے ہیں۔[7]

تبلیغی زندگی

قیام دعوت اسلامی کے قیام سے لے کر آج تک مولانا الیاس قادری اسلام کی تبلیغ میں مشغول ہیں، شروع شروع میں خود دور دراز شہروں کا تبلیغی سفر کرتے رہے ہیں۔ آہستہ آہستہ نوجوان نسل آپ کی طرف متوجہ ہوئی اور تعداد بڑھنے لگی، 1990 کے لگ بگ اپنی درسی کتاب فیضان سنت شائع کی، اس کے بعد کراچی میں فیضان مدینہ کے نام سے دعوت اسلامی کا مرکز قائم کیا جس میں مسجد، مدرسہ، اور رہاہشی کمرے بنائے گئے ہیں۔ تعداد بڑھنے کی وجہ سے الیاس قادری صاحب نے خود تنظیم کی تربیت کی صرف توجہ دینے لگے، اس دوران ان پر دو بار قاتلانہ حملہ ہوا، جس کی وجہ سے اب خود تبلیغ کے لیے پاکستان کے اندر سفر نہیں کرتے۔[8]

کتب و رسائل

اب تک 120 رساہل، چند کتب اس کے علاوہ 2 صخیم جلدوں میں فیضان سنت جو تقریبا 3300 صفحات پر شاہع ہو چکی ہے، جب کے آپ کی کتب کو دنیا کی 35 زبانوں میں ترجمہ کیا جا رہا ہے۔

اولاد

آپ کے دو بیٹے اور ایک بیٹی ہے، بڑا بیٹا عبید رضا ہے جس کو عالم دین بنایا ہے، چھوٹے بیٹا جس کا نام محمد بلال ہے اس کی آواز میں بہت سوز ہے ، یہ آج کل حمد،نعت اور مناقب صحابہ و اولیاء کرام مین مشغول ہے اور بہت زیادہ سنا جا رہا ہے۔ جبکہ بیٹی کا نام آمنہ ہے۔ دونوں بیٹوں شادی شدہ ہیں جن کی شادی کی انتہاہی سادہ تقریب براہ راست مدنی چینل پر بھی نشر کی گی۔

حوالہ جات

  1. N. K. Singh (2009). global encyclopaedia of islamic mystics and mysticism. India: Global Vision Publishing House, India. pp.270. 
  2. ولادت با سعادت
  3. امیراہلسنت کے آباواجداد
  4. خلافت و اجازات
  5. بیعت و ارادت
  6. القابات
  7. دعوت اسلامی کا قیام
  8. امیر اہلسنت کی تبلیغی خدمات،( مختلف صفحات)