بھارت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(ہند سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
  
بھارت
भारत गणराज्य
(بھارت گنراجیہ)
جمہوریہ بھارت
بھارت
پرچم بھارت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پرچم (P163) ویکی ڈیٹا پر
بھارت
بھارت کا ریاستی نشان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں coat of arms (P237) ویکی ڈیٹا پر

India (orthographic projection)-2.svg 

شعار
(ہندی میں: Satyameva Jayate خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعار کا متن (P1451) ویکی ڈیٹا پر
ترانہ:
اور
 جن گن من  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں ترانہ (P85) ویکی ڈیٹا پر
زمین و آبادی
متناسقات 22°N 77°E / 22°N 77°E / 22; 77  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں متناسقاتی مقام (P625) ویکی ڈیٹا پر[1]
بلند مقام کنگچنجنگا  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں بلند ترین سطح (P610) ویکی ڈیٹا پر
پست مقام کوٹاناڑ (-2 میٹر)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پست ترین مقام (P1589) ویکی ڈیٹا پر
رقبہ 3287263 مربع کلومیٹر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رقبہ (P2046) ویکی ڈیٹا پر
دارالحکومت نئی دہلی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں دارالحکومت (P36) ویکی ڈیٹا پر
سرکاری زبان ہندی،  انگریزی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سرکاری زبان (P37) ویکی ڈیٹا پر
آبادی 1349217956 (3 اگست 2018)[2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں آبادی (P1082) ویکی ڈیٹا پر
اوسط عمر
62.179 سال (1999)[3]
62.582 سال (2000)[3]
62.977 سال (2001)[3]
63.368 سال (2002)[3]
63.759 سال (2003)[3]
64.154 سال (2004)[3]
64.556 سال (2005)[3]
64.966 سال (2006)[3]
65.383 سال (2007)[3]
65.802 سال (2008)[3]
66.219 سال (2009)[3]
66.625 سال (2010)[3]
67.013 سال (2011)[3]
67.377 سال (2012)[3]
67.714 سال (2013)[3]
68.021 سال (2014)[3]
68.302 سال (2015)[3]
68.56 سال (2016)[3]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں اوسط عمر (P2250) ویکی ڈیٹا پر
حکمران
طرز حکمرانی وفاقی جمہوریہ،  پارلیمانی جمہوریت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں basic form of government (P122) ویکی ڈیٹا پر
صدر بھارت  رام ناتھ کووند (25 جولا‎ئی 2017–)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سربراہ ریاست (P35) ویکی ڈیٹا پر
وزیر اعظم بھارت  نریندر مودی (26 مئی 2014–)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سربراہ حکومت (P6) ویکی ڈیٹا پر
مقننہ پارلیمان بھارت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں legislative body (P194) ویکی ڈیٹا پر
عدلیہ بھارتی عدالت عظمیٰ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں اعلی ترین مختار عدالت (P209) ویکی ڈیٹا پر
مجلس عاملہ حکومت ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں ایگزیکٹو باڈی (P208) ویکی ڈیٹا پر
قیام اور اقتدار
تاریخ
یوم تاسیس 15 اگست 1947  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاسیس (P571) ویکی ڈیٹا پر
عمر کی حدبندیاں
شادی کی کم از کم عمر 21 سال،  18 سال  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شادی کی کم از کم عمر (P3000) ویکی ڈیٹا پر
لازمی تعلیم (کم از کم عمر) 6 سال  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں لازمی تعلم (کم از کم عمر) (P3270) ویکی ڈیٹا پر
لازمی تعلیم (زیادہ سے زیادہ عمر) 14 سال  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں لازمی تعلیم (زیادہ سے زیادہ عمر) (P3271) ویکی ڈیٹا پر
الحاق اور رکنیت
Flag of the United Nations.svg اقوام متحدہ (30 اکتوبر 1945–)
دولت مشترکہ ممالک (15 اگست 1947–)
عالمی تجارتی ادارہ (1 جنوری 1995–)
جی 20 اہم معیشتیں
برکس
سلامتی کونسل (1950–1951)
سلامتی کونسل (1967–1968)
سلامتی کونسل (1972–1973)
سلامتی کونسل (1977–1978)
سلامتی کونسل (1984–1985)
سلامتی کونسل (1991–1992)
سلامتی کونسل (2011–2012)
جنوبی ایشیائی علاقائی تعاون کی تنظیم (8 دسمبر 1985–)
بین الاقوامی بنک برائے تعمیر و ترقی (27 دسمبر 1945–)
بین الاقوامی انجمن برائے ترقی (24 ستمبر 1960–)
بین الاقوامی مالیاتی شرکت (20 جولا‎ئی 1956–)
کثیرالفریق گماشتگی برائے ضمانت سرمایہ کاری (6 جنوری 1994–)
افریقی ترقیاتی بینک
ایشیائی ترقیاتی بینک (1966–)
انٹرپول[4]
تنظیم برائے ممانعت کیمیائی ہتھیار[5]
شنگھائی تعاون تنظیم[6]
بین الاقوامی آب نگاری تنظیم[7]
Flag of UNESCO.svg یونیسکو (4 نومبر 1946–)[8]
Flag of UPU.svg عالمی ڈاک اتحاد[9]
عالمی بعید ابلاغیاتی اتحاد (1 جنوری 1869–)[10]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رکن (P463) ویکی ڈیٹا پر
مشترکہ سرحدیں
سفارتی تعلقات
اطالیہ (India–Italy relations)
برازیل (Brazil–India relations)
روس (بھارت روس تعلقات)
جرمنی (Germany–India relations)
اسرائیل (اسرائیل بھارت تعلقات)
ریاستہائے متحدہ امریکا (India–United States relations)
آسٹریلیا (Australia–India relations)
مقدس کرسی (Holy See–India relations)
سعودی عرب (بھارت سعودی عرب تعلقات)
یوکرین (India–Ukraine relations)
بیلاروس (Belarus-India relations)
شمالی کوریا (India–North Korea relations)
کمبوڈیا (Cambodia–India relations)
سربیا (India–Serbia relations)
جاپان (India–Japan relations)
عوامی جمہوریہ چین (بھارت چین تعلقات)
جنوبی کوریا (India–South Korea relations)
ایران (ایران بھارت تعلقات)
یونان (Greece–India relations)
بنگلہ دیش (بھارت بنگلہ دیش تعلقات)
فجی (Fiji–India relations)
جنوبی افریقا (India–South Africa relations)
ہسپانیہ (India–Spain relations)
یورپی اتحاد (India–European Union relations)
برونائی دار السلام (Brunei–India relations)
میانمار (India–Myanmar relations)
جنوبی سوڈان (India–South Sudan relations)
ویتنام (India–Vietnam relations)
یوراگوئے (India–Uruguay relations)
مملکت متحدہ (India–United Kingdom relations)
متحدہ عرب امارات (India–United Arab Emirates relations)
یوگنڈا (India–Uganda relations)
ترکی (India–Turkey relations)
ٹرینیڈاڈ و ٹوباگو (India–Trinidad and Tobago relations)
تھائی لینڈ (India–Thailand relations)
تنزانیہ (India–Tanzania relations)
تاجکستان (India–Tajikistan relations)
تائیوان (India–Taiwan relations)
سوریہ (India–Syria relations)
سری لنکا (India–Sri Lanka relations)
سنگاپور (India–Singapore relations)
سیچیلیس (India–Seychelles relations)
روانڈا (India–Rwanda relations)
پرتگال (India–Portugal relations)
پولینڈ (India–Poland relations)
فلپائن (India–Philippines relations)
پیراگوئے (India–Paraguay relations)
پاناما (India–Panama relations)
دولت فلسطین (India–Palestine relations)
نائجیریا (India–Nigeria relations)
نیوزی لینڈ (India–New Zealand relations)
نیپال (بھارت نیپال تعلقات)
نمیبیا (India–Namibia relations)
موزمبیق (India–Mozambique relations)
مراکش (India–Morocco relations)
منگولیا (India–Mongolia relations)
میکسیکو (India–Mexico relations)
موریشس (India–Mauritius relations)
مالٹا (India–Malta relations)
مالی (India–Mali relations)
مالدیپ (India–Maldives relations)
ملائیشیا (India–Malaysia relations)
مڈغاسکر (India–Madagascar relations)
لیبیا (India–Libya relations)
لائبیریا (India–Liberia relations)
لیسوتھو (India–Lesotho relations)
لبنان (India–Lebanon relations)
کویت (India–Kuwait relations)
کینیا (India–Kenya relations)
قازقستان (India–Kazakhstan relations)
کوت داوواغ (India–Ivory Coast relations)
عراق (India–Iraq relations)
انڈونیشیا (India–Indonesia relations)
فرانس (France–India relations)
بھوٹان (بھارت بھوٹان تعلقات)
افغانستان (افغانستان بھارت تعلقات)
انگولا (Angola–India relations)
الجزائر (Algeria–India relations)
آسٹریا (Austria–India relations)
بینن (Benin–India relations)
کینیڈا (Canada–India relations)
بلجئیم (Belgium–India relations)
چلی (Chile–India relations)
کیوبا (Cuba–India relations)
ڈنمارک (Denmark–India relations)
مصر (Egypt–India relations)
استونیا (Estonia–India relations)
کولمبیا (Colombia–India relations)
گیانا (Guyana–India relations)
آئس لینڈ (Iceland–India relations)
ہانگ کانگ (Hong Kong–India relations)
گواتیمالا (Guatemala-India relations)
ایتھوپیا (India-Ethiopia relations)
جمیکا (India-Jamaica relations)
گھانا (India-Ghana relations)
سینیگال (India-Senegal relations)
ترکمانستان (India-Turkmenistan relations)
زیمبیا (India-Zambia relations)
لاؤس (India—Laos relations)
جارجیا
جمہوریہ آئرلینڈ (India–Ireland relations)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سفارتی تعلقات (P530) ویکی ڈیٹا پر
خام ملکی پیداوار
 ← کل
2597491162897.67 امریکی ڈالر (2017)[11]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں فی کس جی ڈی پی (P2131) ویکی ڈیٹا پر
 ← فی کس 5701 بین الاقوامی ڈالر (2014)[12]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں PPP GDP per capita (P2299) ویکی ڈیٹا پر
جی ڈی پی تخمینہ
 ← فی کس 1598.26 امریکی ڈالر (2015)[13]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں nominal GDP per capita (P2132) ویکی ڈیٹا پر
کل ذخائر 325081060906 امریکی ڈالر (2014)[14]
674536630 امریکی ڈالر (1960)[15]
666357094 امریکی ڈالر (1961)[15]
512791844 امریکی ڈالر (1962)[15]
607862500 امریکی ڈالر (1963)[15]
499145125 امریکی ڈالر (1964)[15]
600850886 امریکی ڈالر (1965)[15]
609694584 امریکی ڈالر (1966)[15]
663764119 امریکی ڈالر (1967)[15]
730352744 امریکی ڈالر (1968)[15]
927764119 امریکی ڈالر (1969)[15]
1023173271 امریکی ڈالر (1970)[15]
1245821898 امریکی ڈالر (1971)[15]
1367601418 امریکی ڈالر (1972)[15]
1629325093 امریکی ڈالر (1973)[15]
2324650346 امریکی ڈالر (1974)[15]
2064427967 امریکی ڈالر (1975)[15]
3728750637 امریکی ڈالر (1976)[15]
6085439869 امریکی ڈالر (1977)[15]
8316115827 امریکی ڈالر (1978)[15]
11815414018 امریکی ڈالر (1979)[15]
12009788667 امریکی ڈالر (1980)[15]
8108837891 امریکی ڈالر (1981)[15]
8241561692 امریکی ڈالر (1982)[15]
8215732398 امریکی ڈالر (1983)[15]
8535944481 امریکی ڈالر (1984)[15]
9493102974 امریکی ڈالر (1985)[15]
10480102587 امریکی ڈالر (1986)[15]
11511740598 امریکی ڈالر (1987)[15]
9185839446 امریکی ڈالر (1988)[15]
8048455918 امریکی ڈالر (1989)[15]
5637446363 امریکی ڈالر (1990)[15]
7615987475 امریکی ڈالر (1991)[15]
9538786025 امریکی ڈالر (1992)[15]
14674627089 امریکی ڈالر (1993)[15]
24220928477 امریکی ڈالر (1994)[15]
22864636916 امریکی ڈالر (1995)[15]
24889364651 امریکی ڈالر (1996)[15]
28385372950 امریکی ڈالر (1997)[15]
30646563679 امریکی ڈالر (1998)[15]
36005296852 امریکی ڈالر (1999)[15]
41059064900 امریکی ڈالر (2000)[15]
49050838024 امریکی ڈالر (2001)[15]
71607866919 امریکی ڈالر (2002)[15]
103737210018 امریکی ڈالر (2003)[15]
131631147565 امریکی ڈالر (2004)[15]
137824828256 امریکی ڈالر (2005)[15]
178049786750 امریکی ڈالر (2006)[15]
276578101493 امریکی ڈالر (2007)[15]
257422721844 امریکی ڈالر (2008)[15]
284682885686 امریکی ڈالر (2009)[15]
299463726003 امریکی ڈالر (2010)[15]
298739485811 امریکی ڈالر (2011)[15]
300425518088 امریکی ڈالر (2012)[15]
298092483487 امریکی ڈالر (2013)[15]
325081060905 امریکی ڈالر (2014)[15]
353319058314 امریکی ڈالر (2015)[15]
361694316000 امریکی ڈالر (2016)[15]
412613792019 امریکی ڈالر (2017)[15]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں کل ذخائر (P2134) ویکی ڈیٹا پر
اشاریہ انسانی ترقی
اشاریے
0.362 (1980)
0.397 (1985)
0.428 (1990)[16]
0.462 (1995)
0.496 (2000)[16]
0.539 (2005)
0.586 (2010)[16]
0.597 (2011)[16]
0.600 (2012)[16]
0.604 (2013)[16]
0.609 (2014)[16]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں انسانی ترقیاتی اشاریہ (P1081) ویکی ڈیٹا پر
شرح بے روزگاری 4 فیصد (2014)[17]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں unemployment rate (P1198) ویکی ڈیٹا پر
دیگر اعداد و شمار
کرنسی بھارتی روپیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رائج سکہ (P38) ویکی ڈیٹا پر
مرکزی بینک ریزرو بینک آف انڈیا  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مرکزی بینک (P1304) ویکی ڈیٹا پر
منطقۂ وقت متناسق عالمی وقت+05:30
بھارتی معیاری وقت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منطقہ وقت (P421) ویکی ڈیٹا پر
ٹریفک سمت بائیں[18]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں ڈرائیونگ سمت (P1622) ویکی ڈیٹا پر
ڈومین نیم in.[19]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں ٹی ایل ڈی (P78) ویکی ڈیٹا پر
سرکاری ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں باضابطہ ویب سائٹ (P856) ویکی ڈیٹا پر
آیزو 3166-1 الفا-2 IN  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں ISO 3166-1 alpha-2 code (P297) ویکی ڈیٹا پر
بین الاقوامی فون کوڈ +91  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں ملکی ڈائیلنگ کوڈ (P474) ویکی ڈیٹا پر
بھارت

بھارت یا جمہوریہ بھارت جنوبی ایشیا میں واقع ایک ملک ہے۔ بھارت آبادی کے لحاظ سے دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے اور اس لحاظ سے یہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت بھی کہلاتا ہے۔ بھارت کے ایک ارب سے زائد باشندے ایک سو سے زائد زبانیں بولتے ہیں۔ بھارت کے مشرق میں بنگلہ دیش اور میانمار ہیں، شمال میں بھوٹان، چین اور نیپال اور مغرب میں پاکستان ہے اس کے علاوہ بھارت کے جنوب مشرق اور جنوب مغرب میں بحر ہند واقع ہے۔ نیز یہ ملک سری لنکا ،مالدیپ کے قریب ترین ملک ہے۔ جبکہ بھارت کے نکوبار اور اندامان جزیرے تھائی لینڈ اور انڈونیشیا سے سمندری حدود سے جڑے ہیں۔

بھارت کے کچھ مغربی علاقے زمانہ قدیم میں وادی سندھ کے مراکز میں شامل تھے جو تجارت اورنفع بخش سلطنت کے لیے قدیم زمانے سے ہی دنیا میں مشہور تھی۔ چار مشہور مذاہب جن میں ہندومت ،بدھ مت، جین مت اور سکھ مت نے اسی ملک میں جنم لیا جبکہ زرتشت، جودھامت، مسیحیت اور اسلام اپنے ابتدائی ہزار سالوں میں ہی یہاں پہنچ گئی تھی جس نے اسے علاقے کی تہذیب و ثقافت پر انمٹ نقوش مرتب کیے۔ اس علاقے پر آہستہ آہستہ ایسٹ انڈیا کمپنی کی حکومت 18 ویں صدی میں شروع ہوئی جبکہ 1857ء کی جنگ آزادی کے بعد یہاں برطانیہ کی براہ راست حکومت قائم ہوئی۔

فی الحال بھارت کی معیشت عمومی جی ڈی پی کے لحاظ سے ساتویں بڑی اور قوت خرید (پی پی پی) کے لحاظ سے تیسری بڑی معیشت ہے۔1991ء کے معاشی اصلاحات نے اسے دنیا کی تیزی سے ابھرتی معیشتوں میں لا کھڑا کیا ہے اور یہ تقریباً صنعتی ملک کا درجہ حاصل کرنے والا ہے۔ بہرحال اس کے باوجود یہ ملک غربت، کرپشن، خوراک اور صحت کے مسائل کا شکار ہے۔ جوہری ہتھیاروں سے لیس یہ ملک خطے کا ایک طاقتور ملک ہے اس کی فوج بلحاظ تعداد دنیا کی تیسری بڑی قوت ہے اور دفاعی خرچ کے لحاظ سے یہ دنیا کی چھٹی بڑی فوج ہے۔ بھارت ایک وفاقی جمہوریہ ہے جو پارلیمانی نظام کے تحت 29 ریاستوں اور 7 وفاقی علاقوں پر مشتمل ہے۔ بھارت ایک کثیر لسانی ،مذہبی ،ثقافتی اور نسلی معاشرہ ہے۔ نیز یہ ملک کئی انواع واقسام کی جنگلی حیات سے بھی مالا مال ہے۔

نام کی بنیاد[ترمیم]

دریائے سندھ کے مشرق میں واقع علاقہ کا نام عرب تاریخ نگاروں کے ہاں ہند تھا۔ علامہ اقبال کامشہور قومی نغمہ "سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا" الفاظ سے شروع ہوتا ہے۔ اس کا ایک اور نام انڈیا ہے۔ انڈس دریا سے نام انڈیا پڑا۔ ماضی میں اس خطے کو عموماً ہندوستان یا بھارت کہا جاتا تھا۔ آزادی کے بعد ملک کا سرکاری نام بھارت رکھا گیا،[20] تاہم تمام عالمی زبانوں میں اس کا انگریزی نام انڈیا ہی مستعمل ہے۔

تاریخی اعتبار سے بھارت کو کرما بھومی، تپو بھومی اور پُنیا بھومی جیسے ناموں سے بھی جاتا ہے۔[21]

تاریخ[ترمیم]

برصغیر پاک و ہند صرف تین ادوار میں ایک ملک رہا۔ ایک تو چندرگپت موریا کے عہد میں اور دوسرے مغلیہ دور میں اور تیسرے انگریزوں کے زمانے میں۔ اورنگ زیب عالمگیر کے دور حکومت میں مغلیہ سلطنت نسبتاً سب سے بڑی تھی۔ انگریزوں کے زمانے میں سلطنت مغلیہ دور سے قدرے کم تھی۔ ان تین ادوار کے علاوہ ہندوستان (موجودہ بھارت، بنگلہ دیش اور پاکستان) ہمیشہ چھوٹی چھوٹی بے شمار ریاستوں میں بٹا رہا۔ اپنی ہزاروں سال کی تاریخ کے بیشتر دور میں ہندوستان چھوٹی ریاستوں ہی میں بٹا رہا ہے۔ بھارت میں پتھروں پر مصوری کی شروعات 40،000 سال پہلے ہوئی۔ سب سے پہلی مستقل آبادیاں 9،000 سال پہلے وجود میں آئیں۔ ان مقامی آبادیوں نے ترقی کر کہ سندھ طاس تہذیب کو جنم دیا۔ یہ تہذیب چھبیسویں صدی قبل از مسیح سے لے کر انیسویں صدی فبل از مسیح تک اپنے عروج پر تھی اور اس زمانے کی سب سے بڑی تہذیبوں میں شامل ہوتی تھی۔ مگر اس زمانے میں بھی اسے کبھی ہند نہیں کہا گیا بلکہ سندھ کے نام سے جانا جاتا رہا۔ برصغیر بہت عرصہ تک سندھ اور ہند میں منقسم رہا۔

اس کے بعد آنے والے دور کے بارے میں دو نظریات ہیں۔ پہلا نظریہ ماکس مولر نے پیش کیا۔ اس کے مطابق تقریباً پندرہویں صدی قبل از مسیح میں شمال مغرب کی طرف سے آریاؤں نے ہندورستان میں گھسنا شروع کر دیا۔ آریا حملہ آور بن کر آئے تھے اور طاقت کے استعمال سے پھیلے۔ مگر گنتی کے چند آریا طاقت کا استعمال کیے بغیر آہستہ آہستہ اس علاقے میں پھیلے اور آریاؤں اور مقامی دراوڑوں کے درمیان میں ہونے والے تعلق اور تبادلۂ خیالات سے ویدک تہذیب نے جنم لیا۔ دوسرا نظریہ یہ ہے کہ آریا / ویدک لوگ ہندوستان کے مقامی لوگ تھے جو دراوڈ تہذیب ختم ہونے کے بعد عروج پزیر ہوئے۔

ساتویں صدی میں عربوں نے مغربی برصغیر کے علاقے سندھ پر حملہ کر کہ قبضہ کر لیا۔ اس سے پہلے بہت سے لوگ اسلام قبول کرچکے تھے اور عربوں کے قابض ہونے کے بعد مقامی لوگوں نے بڑی تیزی سے اسلام قبول کیا۔ اس کے بعد تیرہویں صدی میں ترکوں نے ہندوستان پر حملہ کیا اور شمالی ہندوستان پر قبضہ کر لیا۔ سولہویں صدی میں مغلوں نے ہندوستان پر حملہ کیا اور آہستہ آہستہ تمام ہندوستان کے حاکم بن گئے۔ مغلوں کے حملے سے پہلے ہی ہندوستان میں مقامی لوگوں کی بڑی تعداد مسلمان تھی۔

انیسویں صدی میں انگریزوں نے مغلوں کو اپنے ماتحت کر لیا اور اس طرح ہندوستان کے حاکم بن گئے۔ 1857ء کے غدر کے بعد حکومت کمپنی سے برطانوی تاج کے پاس چلی گئی۔ 1876ء کے بعد سے برطانوی شاہان کو شاہنشاہ ہندوستان کا عہدہ بھی مل گیا۔ ملک کو سنبھالنے کے لیے‎ برطانوی حاکموں نے اپنی ’بانٹو اور راج کرو‘ پالیسی کو استعمال کیا۔ برطانوی پیداوار سستی اور مقامی پیداوار مہنگی کر کے مقامی صنعت کو نقصان پہنچایا گیا اور اس طرح ہندوستان سے پیسہ برطانیہ جاتا گیا۔ بھارت کی تحریک آزادی کا زیادہ تر زور نسلی امتیاز اور تابع تجارتی پالیسی کے خلاف تھا۔

بھارت کا نقشہ، اردو میں

برطانوی راج کے خلاف ایک زیادہ تر غیر تشدد پسند تحریک چلا کر موہن داس کرم چند گاندھی، جواہر لال نہرو، سردار پٹیل، ابوالکلام آزاد، بال گنگادھر تلک اور سبھاش چندر بوس کی قیادت میں بھارت نے 1947ء میں برطانیہ سے آزادی حاصل کی۔ ہندوستان کی تقسیم ہو کر دو نئے ملک پاکستان اور بھارت بن گئے۔

1962ء میں بھارت کی متنازع علاقوں پر چین سے جنگ ہوئی۔ 1965ء میں کشمیر پر بھارت کی پاکستان سے جنگ ہوئی۔ 1971ء میں پاکستان میں خانہ جنگی ہوئی اور اس میں بھارتی مداخلت بھی ہوئی۔ اس کے نتیجے میں بنگلہ دیش وجود میں آیا۔

گزشتہ کچھ عرصہ میں بھارت کی سرمایہ کاری اور پیداوار میں اضافہ دیکھا ہے۔ اس کے باوجود بھارت کے سامنے بنیادی مسائل، پاکستان کے ساتھ کشمیر کا تنازع، آبادی کا زیادہ ہونا، ماحولیاتی آلودگی، غربت، مذہبی اور نسلی اختلاف ہیں۔

قومی علاماتِ جمہوریہ بھارت
قومی جانور 2005-bandipur-tusker.jpg
قومی پرندہ Pavo muticus (Tierpark Berlin) - 1017-899-(118).jpg
قومی درخت Banyan tree on the banks of Khadakwasla Dam.jpg
قومی پھول Sacred lotus Nelumbo nucifera.jpg
قومی وراثی جانور Panthera tigris.jpg
قومی آبی سمندری ستنپایی PlatanistaHardwicke.jpg
قومی رینگنے والا جانور King-Cobra.jpg
قومی وراثی ستنپایی Hanuman Langur.jpg
قومی پھل An Unripe Mango Of Ratnagiri (India).JPG
قومی مندر New Delhi Temple.jpg
قومی دریا River Ganges.JPG
قومی پہاڑ Nanda Devi 2006.JPG

سیاست[ترمیم]

بھارت ایک جمہوری ملک ہے۔ بھارت اپنی 29 ریاستوں (صوبہ جات) اور مرکزی زیرِ حکومت علاقوں کا یونین (اتحاد) ہے جس کا بنیادی ڈھانچہ وفاقی ہے۔ بھارت کی ریاست کا سربراہ صدر بھارت ہے۔ صدر اور نائب صدر بھارت پانچ سالہ عرصے کے لیے منتخب ہوتے ہیں۔

بھارت میں انتظامی طاقت کابینہ کے پاس ہے۔ کابینہ کے سربراہ وزیر اعظم ہوتے ہیں۔ صدر ان کو وزیر اعظم مقرر کرتے ہیں جن کو پارلیمان کی اکثریتی جماعت/ جماعتوں نے نامزد کیا ہوتا ہے۔ پھر وزیر اعظم کی صلاح پر دوسرے وزراء مقرر ہوتے ہیں


ذیلی علاقہ جات[ترمیم]

بھارت ایک ملک ہے جو 29 ریاستوں اور 7 مرکزی زیر اقتدار علاقوں پر مبنی ہے۔ ۔[22] 1956 کے سٹیٹ ریگولیشن ایکٹ کے تحت، اتحادی علاقے مرکزی حکومت کے زیر اقتدار آتے ہیں۔ ریاستورں کو لسانی بنیاد پر تشکیل کی گئی۔ ہر ریاست یا اتحادی علاقہ اضلاع میں تقسیم کیا گیا اور اضلاع تحصیلوں میں۔ حکومت کی آخری انتظامی اکائی کے طور پر گاؤں/پنچایت تشکیل پائے گئے۔

بحر ہندخلیج بنگالبحیرہ انڈمانبحیرہ عرببحیرہ لاکادیوسیاچن گلیشیرجزائر انڈمان و نکوبارچندی گڑھدادرا و نگر حویلیدمن و دیودہلیلکشادیپپونڈیچریپونڈیچریپونڈیچریاروناچل پردیشآسامبہار (بھارت)چھتیس گڑھگواگجرات (بھارت)ہریانہہماچل پردیشجموں و کشمیرجھارکھنڈکرناٹککیرلامدھیہ پردیشمہاراشٹرمنی پورمیگھالیہمیزورمناگالینڈاڑیسہپنجاب (بھارت)راجستھانسکمتمل ناڈوتریپورہاتر پردیشاتراکھنڈمغربی بنگالافغانستانبنگلہ دیشبھوٹانمیانمارچیننیپالپاکستانسری لنکاتاجکستاندادرا و نگر حویلیدمن و دیوپونڈیچریپونڈیچریپونڈیچریپونڈیچریگواگجرات (بھارت)جموں و کشمیرکرناٹککیرلامدھیہ پردیشمہاراشٹرراجستھانتمل ناڈوآساممیگھالیہآندھرا پردیشاروناچل پردیشناگالینڈمنی پورمیزورمتلنگانہتریپورہمغربی بنگالسکمبھوٹانبنگلہ دیشبہار (بھارت)جھارکھنڈاڑیسہچھتیس گڑھاتر پردیشاتراکھنڈنیپالدہلیہریانہپنجاب (بھارت)ہماچل پردیشچندی گڑھپاکستانسری لنکاسری لنکاسری لنکاسری لنکاسری لنکاسری لنکاسری لنکاسری لنکاسری لنکاکشمیرکشمیر
بھارت کے 29 ریاستوں اور 7 متحدہ عملداریوں کا قابل طق نقشہ

ریاستیں

مرکزی زیر انتظام علاقے

  1. جزائر انڈمان و نکوبار
  2. چندی گڑھ
  3. دادرا اور نگر حویلی
  4. دمن و دیو
  5. لکشادیپ
  6. قومی دارالحکومتی علاقہ دہلی
  7. پانڈی چیری

فوجی طاقت[ترمیم]

اے جے ایل ٹی: جو ایک ہلکا بھارتی سپرسونك لڑاکا طیارہ ہے।

1947ء میں اپنی آزادی کے بعد سے بھارت نے زیادہ تر ممالک کے ساتھ خوشگوار تعلق قائم رکھا ہے۔ 1950ء کی دہائی میں بھارت نے بھرپور طریقے سے افریقہ اور ایشیا میں یورپی ممالک سے آزادی کی حمایت کی اور غیر وابستہ تحریک میں ایک اہم کردار ادا کیا۔ 1980ء کے دہائی میں بھارت نے پڑوسی ممالک کی دعوت پر دو ممالک میں مختصر فوجی مداخلت کی۔ مالدیپ، سری لنکا اور دیگر ممالک میں آپریشن کے دوران میں بھارتی امن فوج بھیجی۔ جبکہ، بھارت کے پڑوسی ملک پاکستان کے ساتھ ایک کشیدہ تعلق شروع سے برقرار رہا اور دونوں ملک تین بار جنگوں ( 1965ء، 1971ء اور 1999ء میں) میں مدمقابل آئے۔ تنازع کشمیر ان جنگوں کی بڑی وجہ تھی۔ 1971ء کو چھوڑ کر کہ وہ جنگ اس وقت کے مشرقی پاکستان میں شہری کشیدہ حالات کے لیے کی گئی تھی۔ 1962ء کی بھارت - چین جنگ اور پاکستان کے ساتھ 1965ء کی جنگ کے بعد بھارت نے اپنی فوجی اور اقتصادی حالت میں ترقی کرنے کی کوشش کی۔ سوویت یونین کے ساتھ اچھے تعلقات کی وجہ سے سن 1960ء کی دہائی میں، سوویت یونین بھارت کا سب سے بڑا ہتھیار فراہم کرنے والے ملک کے طور پر ابھرا ہے۔

آج روس کے ساتھ دور رس تعلقات کو جاری رکھنے کے علاوہ، بھارت اسرائیل اور فرانس کے ساتھ دفاعی تعلقات رکھ رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں، بھارت نے علاقائی تعاون اور عالمی تجارتی تنظیم کے لیے ایک جنوب ایشیائی ایسوسی ایشن میں موثر کردار ادا کیا ہے۔ بھارت نے اب تک 10،000 متحدہ فوجی اور پولیس اہلکاروں کے ذریعے چار براعظموں میں پینتیس اقوام متحدہ امن کارروائیوں میں خدمات فراہم کی ہیں۔ بھارت بھی مختلف بین الاقوامی مقام، خاص طور پر مشرقی ایشیا کی سربراہ اجلاس اور جی -85 اجلاس میں ایک سرگرم رکن رہا ہے۔ اقتصادی شعبے میں بھارت نے جنوبی امریکا، افریقہ اور ایشیا کے ترقی پزیر ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات رکھے ہیں۔ اب بھارت نے "آگے کی طرف دیکھو پالیسی" میں بھی اتفاق کیا ہے۔ یہ "آسیان" ممالک کے ساتھ اپنی شراکت کو مضبوط بنانے کے امور کا معاملہ ہے جس میں جاپان اور جنوبی کوریا نے بھی مدد کی ہے۔ یہ خاص طور پر اقتصادی سرمایہ کاری اور علاقائی سلامتی کی کوشش ہے۔

1974ء میں بھارت نے اپنے پہلے ایٹمی ہتھیاروں کا تجربہ کیا اور پھر 1998ء میں زیر زمین تجربات کیے۔ بھارت کے پاس اب انواع و اقسام کے جوہری ہتھيار ہیں۔ بھارت اب روس کے ساتھ مل کر جدید لڑاکا طیارے تیار کر رہا ہے، جو جوہری ہتھیاروں سے لیس ہو کر حملہ آور ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

حال ہی میں، بھارت کا امریکا اور یورپی یونین کے ساتھ مشترکہ اقتصادی، وسیع تر باہمی مفاد اور دفاعی تعاون بڑھ گیا ہے۔ 2008ء میں، بھارت اور امریکا کے درمیان میں غیر فوجی جوہری تعاون کے معائدے پر دستخط کیے گئے تھے۔ حالانکہ اس وقت بھارت کے پاس ایٹمی ہتھیار تیار تھا اور وہ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (این پی ٹی) کے حق میں نہیں تھا۔ گو اس کو بین الاقوامی ایٹمی توانائی ادارے اور نیوکلیئر سپلائر گروپ سے چھوٹ حاصل ہے۔ اسی معائدے کے تحت بھارت کی غیر فوجی جوہری ٹیکنالوجی اور جوہری تجارتی مقاصد پر پہلے ہی پابندی ختم کر دی گئی ہے۔ بھارت دنیا کا چھٹا ایٹمی ہتھیار سے لیس ملک بن گیا ہے۔ نیوکلئیر سپلائر گروپ کی جانب سے دی گئی چھوٹ کے بعد بھارت روس، فرانس، برطانیہ اور کینیڈا سمیت دوسرے ممالک کے ساتھ غیر فوجی جوہری توانائی معاہدے پر دستخط کرنے کے قابل ہے۔

تقریباً 1.3 ملین سرگرم فوجیوں کے ساتھ، بھارتی فوج دنیا میں تیسری سب سے بڑی فوجی طاقت ہے۔ بھارت کے صدر بھارتی مسلح افواج کے سپریم کمانڈر ہیں۔ سال 2011ء میں بھارتی دفاعی بجٹ 36.03 ارب امریکی ڈالر رہا (یا خام ملکی پیداوار کا 1.83٪)۔ 2008ء کی ایک رپورٹ کے مطابق، بھارت خریدنے کی طاقت کے معاملے میں بھارتی فوج کے فوجی اخراجات 72.7 ارب امریکی ڈالر رہے۔ سال 2011ء میں بھارتی وزارت دفاع کے سالانہ دفاعی بجٹ میں 11.6 فیصد اضافہ ہوا، تاہم یہ رقم حکومت کی دیگر شاخوں کے ذریعے فوجی اخراجات کے بجٹ میں شامل نہیں ہوتی۔ حالیہ سالوں میں، بھارت دنیا کا سب سے بڑا ہتھیار درآمد کنندہ بن گیا ہے۔

آبادیات[ترمیم]

بھارت اس وقت آبادی کے لحاظ سے دنیا کا دوسرا بڑا ملک ہے۔ اگر دنیا کی آبادی کو چھ حصوں میں تقسیم کیا جائے تو ان چھ حصوں میں سے ایک حصہ آبادی بھارت کی ہے۔ بھارت میں کُل دنیا کے 17.5 فیصد لوگ آباد ہیں۔ آبادی کی مختلف شماریات اور تناسبات کو دیکھ کر ماہرین کا کہنا ہے کہ 2025ء تک بھارت دنیا کا پہلا سب سے بڑا ملک بن جائے گا اور اس کی آبادی چین سے زیادہ ہو جائے گی۔[23]

بھارت کی 50 فیصد سے زیادہ آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے یعنی جن کی عمر 25 سال سے کم ہے۔ بھارت میں 1 سال سے 35 سال تک عمر والے افراد پورے بھارت کی 65 فیصد آبادی ہے۔

زبانیں[ترمیم]

بھارت میں 1000 سے زائد نسلی گروہ ہیں جو ہزار سے زائد زبانیں بولتے ہیں۔۔ دنیا کے چاروں بڑے خاندانہائے زبان (دراوڑی زبانیں، ہند-یورپی زبانیں، جنوبی ایشیائی زبانیں، چینی۔تبتی زبانیں) بھارت میں موجود ہیں۔ بھارت دو اہم زبانی خاندان (ہند آریائی زبانیں اور دراویدی زبانیں) کی جائے پیدائش ہے۔ اول کو 74 فیصد اور دوم کو 24 فیصد آبادی بولتی ہے۔ دیگر زبانوں میں جنوبی ایشیائی زبانیں، چینی تبتی زبانیں جیسے لسانی خاندان شامل ہیں۔ [24] ہندی زبان سب سے زیادہ بولی جانے والی زبان ہے۔[25] [24] انگریزی زبان کو ملک بھر میں اچھی حیثیت حاصل ہے۔ تجارت، تعلیم اور انتظامیہ میں انگریزی زبان کو وسی پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے۔

مذہب[ترمیم]

بھارت میں مذہب مذہبی عقائد و اعمال کے تنوع کی خصوصیات رکھتا ہے۔ آئین میں 1976ء میں کی جانی والی 42 ویں ترمیم کے مطابق بھارت ایک لادینی ریاست ہے، اس سب کا مطلب ہے کہ ریاست تمام مذاہب کے ساتھ مساوی رویہ اختیار کرے گی۔ برصغیر کئی بڑے مذاہب کا پیدائشی وطن ہے; یعنی ہندومت، بدھ مت، جین مت اور سکھ مت۔ بھارت کی پوری تاریخ میں، مذہب ملکی ثقافت کا ایک اہم حصہ رہا ہے۔ مذہبی تنوع اور مذہبی اعتدال دونوں ملک میں بذریعہ قانون اور رسوم کے قائم ہوئے; بھارت کا آئین صاف الفاظ میں مذہبی آزادی کو بنیادی حق قرار دیتا ہے۔[26]

آج، پوری دنیا کی کل ہندو آبادی کا 90% بھارت میں ہے۔ زیادہ تر ہندو سمادھیاں اور مندر بھارت میں ہیں، اسی طرح یہ زیادا تر ہندو سنتوں کی جنم بھومی ہے۔ الٰہ آباد دنیا کی سب سے بڑی مذہبی زیارت، کمبھ میلہ کا میزبانی کرتا ہے، جہاں پر دنیا بھر کے ہندو بھارت کے تین مقدس دریاؤں دریائے گنگا، دریائے جمنا اور سرسوتی کے سنگم پر غسل کے لیے آتے ہیں۔ مغرب میں بھارتی تارکین وطن نے ہندو فلسفہ کے کئی پہلؤوں کو عام کیا ہے جیسے یوگا، مراقبہ، آیور ویدک، کہانت، کرم اور تناسخ وغیرہ کے نظریات ۔[27]

2011ء کی بھارت میں کی جانے والی مردم شماری کے مطابق کل آبادی کا 79.8% ہندو اور 14.2% مسلمان ہیں، جب کہ 6% دیگر مذاہب جیسے مسیحیت، سکھ مت، بدھ مت، جین مت وغیرہ ہیں۔ مسیحیت بھارت کا تیسرا بڑا مذہب ہے۔ پارسی اور یہودی قدیم بھارت میں آباد تھے، آج کے دور میں ان کی تعداد محض ہزاروں میں ہے۔

ثقافت[ترمیم]

بھارت کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہے، اس وجہ ایک جغرافیائی خطہ ہو کر بھارت میں کافی ننوع دیکھنے میں آیا ہے۔ بھارت کی آبادی کی غالب اکثریت ہندومت کی پیروکار ہے۔ تاہم کوئی ایک تعریف کبھی دیکھنے میں نہیں آئی کہ ہندو کون ہے۔ آریہ سماج کے کئی لوگ بت پرستی کو نہیں مان کر بھی ہندو ہے۔ برہمو سماج کے لوگ توحید کا عقیدہ رکھ کر بھی ہندو ہیں۔ ہندو دھرم کے زیادہ تر لوگ کثرت الوہ اور بت پرستی کے قائل ہیں، مگر وہ ان لوگوں کو بھی اپنے میں قبول کرتے ہیں۔ حد یہ کہ خدا کو نہیں ماننے والے ملحد بھی ہندو ہیں۔

ماضی میں بھارت کے پہلے وریر اعظم جواہر لعل نہرو ملحد تھے[28]، 2013–18 تک کرناٹک ریاست کے وزیر اعلیٰ سدارمیا معلنہ طور پر ملحد رہے[29]۔ اس وجہ یہاں کا دایاں محاذ ہر بھارتی کو ہندو مانتا ہے لفظ ہندو کو بھارتی کے معنوں میں پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے۔[30] تاہم اس بات سے ہر کوئی متفق نہیں ہے۔ اس کے باوجود، بھارت ایک سیکولر ملک ہے۔ یہاں جس طرح منادر جگہ جگہ موجود ہیں، اسی طرح مساجد، گرجا گھر اور گرودوارے ہیں۔ ملک میں کچھ وقت پہلے ڈاکٹر اے پی جے عبد الکلام صدر جمہوریہ تھے جو ایک مسلمان تھے۔ اسی طرح گیانی ذیل سنگھ سکھ ہو کر بھی بھارت کے صدر جمہوریہ تھے۔ ڈاکٹر منموہن سنگھ بھی سکھ تھے اور بھارت میں دس سال تک وزیر اعظم تھے۔

اسی طرح سے بھارت میں کئی زبانیں اور بولیاں موجود ہیں، مگر ملک میں وفاقی حکومت کی سرکاری زبان ہندی کو قرار دینے کے باوجود اسے قومی زبان کا درجہ نہیں دے پائے ہیں۔ [31] اس کی وجہ غالبًا یہ ہے کہ ہم زبان اور بولی میں حد فاصل کیسے قائم کریں، یہ طے نہیں ہے۔ لوگ جدید طور پر بھوجپوری زبان بولتے ہیں جو ہندی زبان سے کافی مشابہ ہے اور دونوں زبان کے لوگ ایک ہی انداز میں بات کرتے ہیں، ایک دوسرے کو سمجھتے ہیں۔ تاہم بھوجپوری لوگ اپنی زبان کو ہندی سے الگ ماننے لگے ہیں۔ یہی حال راجستھانی زبان اور کچھ اور بولیوں کا ہے۔ ہندی کے خلاف سے سب زیادہ احتجاج جنوبی ہند کی ریاست تمل ناڈو میں ہوئے ہیں۔[32] اس کی وجہ سے ریاست کے زیادہ تر مدارس میں لوگ ہندی نہیں پڑھاتے۔ بھارت میں مرکزی اور ریاستی زبانوں کے جھگڑے بھی ہوئے ہیں۔[33] اور اس کے علاوہ اردو زبان کو اس کا مستحقہ مقام دینے کا مسئلہ ایسا رہا ہے، جس پر سیاسی حلقے سنجیدگی سے کام نہیں کرتے۔ [34] پھر بھی بھارت ایک ہمہ لسانی ملک کے طور عالمی پہچان بنا چکا ہے۔ اس کے کئی بین الاقوامی مطالعے بھی ہو چکے ہیں۔

بھارتی ثقافت میں نرینہ اولاد کو سبقت دینے کی وجہ سے مادہ اسقاط حمل کے رواج سے نر اور مادہ بچوں کے تناسب میں انتشار پیدا ہو گیا ہے۔[35]

ہندوستانی ادب[ترمیم]

بھارت میں قدیم دور میں تحریری روایتوں کی کمی رہی ہے۔ ہندو میں مذہبی طور پر مقدس چار وید زبانی روایتوں کے ذریعے فروغ پائے۔ بعد کے دور میں ان سے متاثر ہو کر کئی اور کتابیں وجود میں آئی ہیں۔ جیسے کہ اپنشد، اپ وید، پران، برہمنا، اتہاس وغیرہ شامل ہیں۔

قدیم راجگان اور مہاراجگان کے دور سے لے مسلمان سلاطین اور مغلوں کے دور میں درباری شاعر اور مؤرخوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی رہی ہے۔ ہندوستان کے کچھ حصے پر فاتح محمود غزنوی نے اپنے درباری شاعر فردوسی اپنی خود کی تاریخ بہ عنوان شاہنامہ لکھنے پر مامور کیا۔ جب فردوسی نے پوری ایمان داری سے شاہ نامہ لکھ دیا، تب باد شاہ نے وعدہ شدہ انعام دینے سے انکار کر دیا۔ ایسے میں فردوسی بد دل ہو کر دربار سے رخصت ہوا۔ وہ یہ باور کرنے لگا کہ محمود میں شاہی خون کی کمی ہی شاید رہی ہے کہ وہ اپنے وعدے سے مکر گیا۔ اس کے کچھ عرصہ بعد محمود غزنوی اپنے کیے پر نادم ہوتا ہے اور وعدہ شدہ رقم فردوسی کے گھر پہنچاتا ہے۔ مگر تب تک وہ انتقال کر جاتا ہے۔ اس کی بیٹی نے یہ کہہ کر انعامی رقم لینے سے انکار کر دیا کہ جب جس سے وعدہ کیا گیا تھا، وہ نہیں رہے، تو یہ رقم لینے سے کیا حاصل۔ [36]

مغل بادشاہوں میں اکبر نے کئی اہل قلم کی حوصلہ افزائی کی۔ بعد کے دور میں یہ حوصلہ افزائی اور بھی بڑھی ہوئی ہونے لگی۔ آخری مغل فرمانروا بہادر شاہ ظفر خود ایک شاعر تھے۔ انہوں نے استاد ذوق اور مرزا غالب جیسے کئی لوگوں کی حوصلہ افزائی کی تھی جو اصحاب قلم شاعر تھے۔ [37]

برطانوی ہند میں ربندرناتھ ٹیگور گیتانجلی لکھے تھے، جس کے لیے انہیں نوبل انعام ملا تھا۔[38]

آزاد ہندوستان میں بھی کئی اہل قلم بھارت میں گزرے۔ ملک کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو ایک تاریخی دستاویز Discovery of India لکھے تھے۔ مشہور مصنفہ اروندھتی رائے سسکتے لوگ نامی ناول لکھا تھا، جس کے لیے اسے بکر انعام دیا گیا تھا۔ [39]

حقوق[ترمیم]

مراقبت[ترمیم]

بھارتی سرکار کی طرف سے غیر پسندیدہ طباعت پر پابندی لگانے کی روایت ہے۔ اکانمسٹ کے 2011ء شمارے میں کشمیر کا نقشہ متنازع علاقہ لکھنے پر بھارت نے نقشہ پر سفید دھبہ لگانے کے بعد فروخت کی اجازت دی۔[40]

کھیل[ترمیم]

دنیا بھر میں ناپید ہونے والے قدیم کھیل بھارت میں اب بھی مشہور ہیں اور کھیلے جاتے ہیں جیسے کبڈی، کھو کھو، پہلوانی اور گلی ڈنڈا۔ ایشیائی مارشل آرٹ کی کچھ اقسام جیسے کالا رلیتتو، موستی یوددا، سلمبم اور مارما ادی بھارت کی ہی پیداوار ہیں۔ شطرنج کو عام طور پر بھارت میں ایجاد ہوا کھیل مانا جاتا ہے اورآج کل دنیا بھر میں کافی مقبول ہو رہا ہے اور بھارتی گرانڈ ماسٹر کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔و334وو335و پاششچی جلال الدین اکبر کے دربار میں ایک بڑے سے ماربل کا منقش تھا۔و336و

بھارت سے متعلقہ مضامین[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1.   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں OSM relation ID (P402) ویکی ڈیٹا پر "صفحہ بھارت في خريطة الشارع المفتوحة"۔ OpenStreetMap۔ اخذ شدہ بتاریخ 19 مئی 2019۔
  2. https://www.indiastat.com/popclockflash.aspx
  3. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ د ڈ ذ ر​ ڑ​ ز ژ س http://data.uis.unesco.org/Index.aspx?DataSetCode=DEMO_DS
  4. https://www.interpol.int/Member-countries/World — اخذ شدہ بتاریخ: 7 دسمبر 2017 — ناشر: انٹرپول
  5. https://www.opcw.org/about-opcw/member-states/ — اخذ شدہ بتاریخ: 7 دسمبر 2017 — ناشر: تنظیم برائے ممانعت کیمیائی ہتھیار
  6. http://eng.sectsco.org/about_sco/ — اخذ شدہ بتاریخ: 8 دسمبر 2017 — ناشر: شنگھائی تعاون تنظیم
  7. https://www.iho.int/srv1/index.php?option=com_wrapper&view=wrapper&Itemid=452&lang=en — اخذ شدہ بتاریخ: 8 دسمبر 2017 — ناشر: بین الاقوامی آب نگاری تنظیم
  8. http://www.unesco.org/eri/cp/ListeMS_Indicators.asp
  9. http://www.upu.int/en/the-upu/member-countries.html — اخذ شدہ بتاریخ: 4 مئی 2019
  10. https://www.itu.int/online/mm/scripts/gensel8 — اخذ شدہ بتاریخ: 4 مئی 2019
  11. https://data.worldbank.org/indicator/NY.GDP.MKTP.CD?locations=IN
  12. http://data.worldbank.org/indicator/NY.GDP.PCAP.PP.CD
  13. http://data.worldbank.org/indicator/NY.GDP.PCAP.CD
  14. http://data.worldbank.org/indicator/FI.RES.TOTL.CD
  15. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ د ڈ ذ ر​ ڑ​ ز ژ س ش ص ض ط ظ ع غ ف ق ک گ ل​ م​ ن و ہ ھ ی ے اا اب ات اث اج اح اخ اد اذ ار از اس اش اص اض اط اظ اع اغ اف اق https://data.worldbank.org/indicator/FI.RES.TOTL.CD — اخذ شدہ بتاریخ: 1 مئی 2019 — ناشر: عالمی بنک
  16. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج http://hdr.undp.org/en/countries/profiles/IND
  17. http://data.worldbank.org/indicator/SL.UEM.TOTL.ZS
  18. http://chartsbin.com/view/edr
  19. https://www.cia.gov/library/publications/the-world-factbook/geos/in.html — اخذ شدہ بتاریخ: 2 جون 2015
  20. "دستور ہند"۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  21. “Indian Society: Issues, Policies and Welfare Schemes”، Dr Vinita Pandey, BSC Publishers & Distributors, Hyderabad, P. 1.3.
  22. Library of Congress 2004.
  23. BBC NEWS | In Depth | India population 'to be biggest'
  24. ^ ا ب Ottenheimer 2008، صفحہ۔ 303.
  25. Mallikarjun 2004.
  26. درگا داس باسو۔ بھارتی آئین کا تعارف۔ LexisNexis۔ صفحہ 124۔ آئی ایس بی این 978-81-803-8918-4۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  27. P. 225 Essential Hinduism By Steven Rosen
  28. The Chacha Nehru we hardly know! - IN SCHOOL – The Hindu
  29. Atheist Siddaramaiah and God's changing role in politics – Rediff.com India News
  30. All Indians are Hindus, says RSS chief – NATIONAL – The Hindu
  31. Nearly 60% of Indians speak a language other than Hindi | India News – Times of India
  32. https://thewire.in/politics/tamil-nadu-anti-hindi-protests
  33. Marathi-Hindi Row Turns Ugly in Mumbai, Hawkers Thrash MNS Workers – News18
  34. https://www.mainstreamweekly.net/article1094.html
  35. "The full extent of India's 'gendercide'"۔ انڈپنڈنٹ۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 25 مئی 2011۔
  36. Appendix 1 – Firdausi’s Panegyric of Mahmud of Ghazni and his Satire on the Same Ruler
  37. The Telegraph – Calcutta : Opinion
  38. Gitanjali by Rabindranath Tagore
  39. The God of Small Things | The Man Booker Prizes
  40. "کشمیر کا نقشہ، بھارت پر سینسرشپ کا الزام"۔ بی بی سی۔ مورخہ 25 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 24 مئی 2011۔