مندرجات کا رخ کریں

کشمیری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
کشمیری
Kashmiris
کٲشِرؠ
گنجان آبادی والے علاقے
 بھارت6,797,587 (2011)*[1]|region2={{پرچم|پاکستان}}|pop2=353,064 (2017)*|ref2=[2]"Kashmiri: A language of India"۔ Ethnologue۔ 2019-01-07 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2007-06-02ri lan</ref>
 پاکستان353,064 (2017)*[2]|region4=|pop4=|ref4=|langs=کشمیری زبان
{{بہت چھوٹا|اردو بطور دوسری زبان بڑے پیمانے پر بولی جاتی ہے۔}}[3]
مذہب
اکثریت:
اسلام
اقلیت:
متعلقہ نسلی گروہ
Other درد لوگ

*The population figures are only for the number of speakers of the Kashmiri language. May not include ethnic Kashmiris who no longer speak Kashmiri language.

کشمیر کے رہنے والوں کو کشمیری یا کوشر کہا جاتا ہے۔ ان کا تعلق کشمیر کی وادی سے ہیں جو بھارت کے زیرِ انتظام ہے۔ اس کے علاوہ ایسے لوگ جو صدیوں سے پنجاب اور دیگر علاقوں میں آباد ہیں مگر ان کے آباء کشمیر سے تھے انھیں بھی کشمیری کہا جاتا ہے۔ پنجاب میں اسے ایک ذات کے طور پر بھی سمجھا جاتا ہے۔جب ہندوستان کی تقسیم ہوئی تو پنجاب کے اس حصے میں رہنے والے کشمیری، جو ہندوستان کا حصہ بن گیا تھا، پاکستان منتقل ہو گئے۔ کشمیریوں کی بھاری اکثریت سنی مسلمان ہے۔ اس قوم میں شیعہ اور ہندو اقلیتیں بھی بہت کم تعداد میں موجود ہیں۔وادی کشمیر اور پنجاب میں آباد کشمیریوں کا سنی صوفی اور علمی ورثہ بہت مضبوط ہے۔

کشمیری کون ہوتے ہیں؟

[ترمیم]

پاکستان میں ایک بہت بڑی غلط فہمی ہے کہ "آزاد کشمیر" کے باشندے کشمیری ہیں۔ تاریخی طور پر لفظ "کشمیر" سے مراد وادیٔ کشمیر تھا۔ اس کی تعریف میں وہ علاقے شامل نہیں تھے جو آج "آزاد کشمیر" کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ وادیٔ کشمیر میں مسلم حکمرانی کے خاتمے کے بعد، سکھوں نے اس پر قبضہ کر لیا تھا۔ انگریزوں  نے سکھوں سے وادیِ کشمیر حاصل کیا۔ 1846 میں انگریزوں نے کشمیر کی وادی اور جموں کے مختلف علاقوں کو یکجا کیا اور انھیں ڈوگرہ ہندو خاندان کے ہاتھوں فروخت کر دیا۔

1947 سے پہلے جموں اس ریاست کا الگ صوبہ تھا اور کشمیر الگ صوبہ تھا۔ وہ علاقہ جو آج "آزاد کشمیر" کے نام سے جانا جاتا ہے وہ تین ڈویژنوں پر مشتمل ہے۔ میرپور، پونچھ اور مظفرآباد۔ میرپور اور پونچھ صوبہ جموں کا حصہ تھے۔

جموں کے باشندوں کا تعلق جاٹ، راجپوت، گجر، سودھن، اعوان، مغل وغیرہ جیسی ذاتوں سے تھا؛یعنی وہی نسلی گروہ جو پنجاب میں بھی پائے جاتے ہیں۔ اس خطے کی زبانوں میں پہاڑی، ڈوگری، پوٹھوہاری اور ہندکو شامل ہیں۔ یہ تمام زبانیں پنجابی کے ہی لہجے ہیں یا کم از کم پنجابی سے کافی حد تک مماثلت رکھتی ہیں۔

وادیِ کشمیر ایک الگ خطہ ہے اور یہاں کی آبادی کا زیادہ تر حصہ نسلی کشمیریوں پر مشتمل ہے؛ ان کی زبان کشمیری ہے، جو پنجابی اور پہاڑی دونوں زبانوں سے بالکل مختلف ہے۔ وہاں پائی جانے والی ذاتوں میں بٹ، ڈار، لون، میر اور وائیں وغیرہ ہیں۔ گذشتہ دو صدیوں کے دوران کچھ لوگوں نے وادیٔ کشمیر چھوڑ کر پنجاب اور جموں کی طرف ہجرت کی، جہاں ان کی اولادوں نے پنجابی زبان اپنا لی۔

آزاد کشمیر کے لوگوں کی اکثریت کا وادیٔ کشمیر سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ وہاں ایک چھوٹی سی اقلیت (شاید زیادہ سے زیادہ پانچ یا دس فیصد) ایسی ہے جس کے آبا و اجداد وادیٔ کشمیر سے آئے تھے اور ان میں سے اکثر اب پہاڑی زبان بولتے ہیں۔ لیکن آزاد کشمیر کے نوے فیصد لوگ جاٹ، راجپوت، گجر اور سدھن جیسی برادریوں سے تعلق رکھتے ہیں؛ اور آزاد کشمیر کبھی (اصل) کشمیر کا حصہ نہیں رہا۔

آزاد کشمیر کے رہائشیوں کی اکثریت کشمیری نہیں ہے؛ وہ پنجابی ہیں

[ترمیم]

1921 میں ریاست جموں و کشمیر میں مردم شماری کی گئی تھی۔ وہ علاقہ جو آج "آزاد کشمیر" کے نام سے جانا جاتا ہے وہ تین ڈویژنوں پر مشتمل ہے۔ میرپور، پونچھ اور مظفرآباد۔[4]

میرپور ضلع میں کشمیری مسلمانوں کی آبادی صرف 8،337 تھی (3،999 مرد اور 4،338 عورتیں)۔ اس کے برعکس میرپور ضلع میں جاٹ مسلمانوں کی آبادی 87،258 تھی (42،973 مرد اور 44،285 عورتیں)۔ اس کے علاوہ میرپور ضلع میں راجپوت مسلمانوں کی کل آبادی 51،440 تھی (24،191 مرد اور 27،249 عورتیں)۔ مزید یہ کہ ضلع میرپور میں گوجر مسلمانوں کی آبادی 27،589 تھی (13،270 مرد اور 14،319 عورتیں)۔[4]

ضلع میرپور میں اور بھی بہت سی چھوٹی قومیں آباد تھیں لیکن مسلمانوں میں سے ضلع میرپور میں بڑی قومیں جاٹ، راجپوت اور گجر تھیں۔ کشمیری نہیں۔ پنجاب کے لوگ بھی جاٹ، راجپوت اور گجر جیسی قوموں سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس علاقے میرپور کی باقی قومیں جیسے مغل، سید، شیخ، اعوان وغیرہ بھی پنجاب میں پائی جاتی ہیں۔[4]

پونچھ کے علاقے میں کشمیری مسلمانوں کی آبادی صرف 16،984 تھی (8،318 مرد اور 8،666 عورتیں)۔ اس کے برعکس پونچھ کے علاقے میں سودھن مسلمانوں کی آبادی 62،017 تھی (31،348 مرد اور 30،669 عورتیں)۔ اس کے علاوہ پونچھ کے علاقے میں راجپوت مسلمانوں کی کل آبادی 59،130 ​​تھی (28،045 مرد اور 31،085 عورتیں)۔ پونچھ کے علاقے میں گوجر مسلمانوں کی آبادی 61،877 تھی (32،809 مرد اور 29،068 عورتیں)۔[4]

پونچھ کے علاقے میں اور بھی بہت سی چھوٹی قومیں آباد تھیں لیکن پونچھ کے علاقے میں مسلمانوں میں سے اہم قومیں سودھان، راجپوت اور گجر تھیں۔ کشمیری نہیں۔ پنجاب کے لوگ بھی راجپوت اور گجر جیسی قوموں سے تعلق رکھتے ہیں۔ پونچھ علاقے کی باقی قومیں جیسے مغل، سید، شیخ، اعوان وغیرہ بھی پنجاب میں پائی جاتی ہیں۔[4]

ضلع مظفرآباد میں کشمیری مسلمانوں کی آبادی 24،886 تھی (13،106 مرد اور 11،780 عورتیں)۔ اس کے برعکس ضلع مظفرآباد میں گوجر مسلمانوں کی آبادی 53،442 تھی (28،902 مرد اور 24،540 عورتیں)۔ اس کے علاوہ ضلع مظفرآباد میں راجپوت مسلمانوں کی کل آبادی 27،732 تھی (14،285 مرد اور 13،447 عورتیں)۔[4]

ضلع مظفرآباد میں اور بھی بہت سی چھوٹی قومیں تھیں۔ لیکن ضلع مظفرآباد میں مسلمانوں میں راجپوتوں اور گجروں کی آبادی کشمیریوں سے کہیں زیادہ تھی۔ پنجاب کے لوگ بھی راجپوت اور گجر جیسی قوموں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ضلع مظفرآباد کی باقی قومیں جیسے مغل، سید، شیخ، اعوان وغیرہ بھی پنجاب میں پائی جاتی ہیں۔[4]

کچھ حقیقی کشمیریوں کی وادی کشمیر سے پنجاب تک ہجرت

[ترمیم]

آج کے دور میں پنجاب کے کشمیری اپنے مغرور پن، اپنے پہلوانی کے روایات اور اپنے کاروباری کامیابی کے لیے جانے جاتے ہیں۔ لیکن وہ پہلے ایک بھکاری قوم کے طور پر بھی جانے جاتے تھے۔

اپنی کتاب "آتش چنار" میں کشمیری رہنما شیخ عبد اللہ نے کشمیری مسلمانوں کی اپنے خوبصورت وطن سے پنجاب کی طرف ہجرت کو بیان کیا ہے۔ [5]

کشمیری پنجاب پہنچنے کے لیے درہ بانیہال یا مری کو عبور کرتے تھے۔ درہ بانہال وہ جگہ ہے جہاں وادی کشمیر سے جاتے ہوئے جموں میں داخل ہونے کے لیے راستہ تھا۔ شیخ عبد اللہ نے لکھا تھا کہ کئی کشمیری پنجاب جاتے ہوئے راستے میں ہی مر جاتے تھے اور دوسرے کشمیری پنجاب کے شہروں میں آکر غم اور مزدوری کی زندگی بسر کرتے تھے۔ شیخ عبد اللہ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اکثر کشمیریوں کو پنجاب میں بھیک مانگتے ہوئے بھی دیکھا تھا۔[5]

شیخ عبد اللہ نے ان سے پوچھا کہ تم بھیک مانگنے کی بجائے کام کیوں نہیں کرتے؟ کشمیریوں نے جواب دیا کہ وہ کام کرتے ہیں لیکن ان کی کمائی کافی نہیں ہوتی ہے۔ [5]

کشمیر اور پنجاب میں حقیقی کشمیریوں کی آبادی

[ترمیم]

وادیِ کشمیر میں کشمیریوں میں کئی ذاتیں پائی جاتی تھیں۔ جموں و کشمیر کی 1931کی مردم شماری کے مطابق کشمیریوں میں سب سے بڑی ذات 'بٹ' (Butt) تھی آبادی کے حساب سے۔ [6]1881کی مردم شماری کے مطابق، پنجاب میں بھی کشمیریوں کے درمیان 'بٹ' سب سے بڑی ذات تھی۔[7]

جموں و کشمیر کی 1931کی مردم شماری کے مطابق، اس ریاست میں بٹ ذات کے 168،228افراد تھے، جن کی اکثریت وادیِ کشمیر میں آباد تھی۔[6] 1881کی مردم شماری کے مطابق، پنجاب کے کشمیریوں میں 'بٹ' (Bat) ذات کے24،463 افراد موجود تھے۔[7]

جموں و کشمیر کی 1931کی مردم شماری میں یہ نام "Bat" (باٹ) لکھا گیا تھا، نہ کہ "Bhat" (بھٹ) یا "Butt" (بٹ)۔[6] پنجاب کی 1881کی مردم شماری میں بھی اسے "Bat" (باٹ) لکھا گیا تھا، نہ کہ "Bhat" (بھٹ) یا "Butt"(بٹ)۔ [7]بہرحال، نام ایک ہی ہے۔

یہ ذات "بٹ" برہمنوں کی اولاد تھی؛ کشمیریوں میں برہمنوں سے تعلق رکھنے والی دیگر ذاتیں پنڈت، کول، ریشی اور گنائی وغیرہ تھی۔

جموں و کشمیر کی 1931کی مردم شماری کے مطابق، 'ڈار' ذات سے تعلق رکھنے والے افراد کی تعداد 118،352 تھی؛ ان میں سے اکثریت وادیِ کشمیر میں مقیم تھی۔ [6]پنجاب میں 1881کی مردم شماری کے مطابق، 'ڈاز ذات سے تعلق رکھنے والے افراد کی تعداد 16،214 تھی۔[7]

جموں و کشمیر میں 1931کی مردم شماری کے مطابق، 'لون‘ ذات سے تعلق رکھنے والے افراد کی تعداد 64،367 تھی۔ ان میں سے اکثریت وادیٔ کشمیر میں تھی۔[6] پنجاب کی 1881کی مردم شماری کے مطابق، لون ذات سے تعلق رکھنے والے افراد کی تعداد 4،848 تھی۔[7]

جموں و کشمیر کی 1931کی مردم شماری کے مطابق، 'وائن‘ ذات سے تعلق رکھنے والے افراد کی کل تعداد 72،113 تھی۔ ان کی بھاری اکثریت وادیٔ کشمیر میں رہتی تھی۔[8][6] پنجاب میں 1881کی مردم شماری کے مطابق، 'وائین ذات سے تعلق رکھنے والے کشمیریوں کی تعداد 7،419 تھی۔[7]

اب وادیِ کشمیر میں 'وائیں' (Wyne/Wa'en) کا تلفظ 'وانی' (Wani) بھی کیا جاتا ہے، جبکہ پنجاب میں کشمیری اب بھی اسے 'وائیں' ہی کہتے ہیں۔ [8]

کشمیری قوم میں "میر" ذات کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کا تعلق مغل نسل سے ہے۔ جموں و کشمیر کی 1931کی مردم شماری کے مطابق، 'میز ذات کی کل آبادی 102،247 تھی۔ ان کی بھاری اکثریت وادیِ کشمیر میں رہتی تھی۔[6] پنجاب میں 1881کی مردم شماری کے مطابق، وہاں 'میز برادری سے تعلق رکھنے والے کشمیریوں کی تعداد 19،855 تھی۔[7]

کشمیریوں میں گنائی، مگرے، ٹانترے، پنڈت، رشی، سید، پیرزادہ اور رینہ وغیرہ جیسی کئی دیگر ذاتیں پائی جاتی تھیں۔ ان میں 'خواجہ' بھی شامل تھے، لیکن 'خواجہ' دراصل کشمیریوں میں استعمال ہونے والا ایک اعزازی لقب تھا، نہ کہ بذاتِ خود کوئی ذات؛ بالکل اسی طرح جیسے کچھ جاٹ اور راجپوت 'چوہدری' کا لقب استعمال کرتے ہیں اور کچھ آرائیں 'میاں' کا۔

وقت کے ساتھ ساتھ، پنجاب میں کشمیریوں کی کئی چھوٹی ذاتوں—جیسے ڈار، لون، وائیں، میر وغیرہ—نے بھی "بٹ" (Butt) کا نام استعمال کرنا شروع کر دیا ہے، کیونکہ پنجاب میں یہ لفظ نسلی کشمیریوں کی پہچان بن چکی ہے۔

کشمیر کے پہلے مسلمان بادشاہ

[ترمیم]

اللہ کے ولی بلبل شاہ رحمۃ اللہ علیہ نے کشمیر کے بادشاہ رنچن شاہ کو اسلام قبول کروایا تھا-[9]

میر سید علی ہمدانی کی تبلیغی خدمات

[ترمیم]

دو سگی بہنیں بیک وقت کشمیر کے سلطان قطب الدین کے نکاح میں تھیں۔ یہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت سے متصادم تھا۔ اس وقت کشمیر پر ایک مسلمان شاہی خاندان "شاہ میر" کی حکومت تھی۔[10]

حضرت میر سید علی ہمدانی رحمۃ اللہ علیہ کے زیر اثر آنے کے بعد سلطان قطب الدین نے توبہ کی اور ان میں سے ایک کو چھوڑ دیا۔ سلطان قطب الدین حضرت میر سید علی ہمدانی رحمۃ اللہ علیہ کے عقیدت مند تھے۔ وہ ایک عالم دین تھے جن کا کشمیر کی اسلامی تاریخ میں اہم کردار تھا۔ انھوں نے 1400 اولیاء سے فیض حاصل کیا تھا۔[10]

ذکر ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم حضرت شیخ ابو سعید کے خواب میں نظر آئے اور انھیں بتایا کہ وہ حضرت میر سید علی ہمدانی رحمۃ اللہ علیہ سے ملاقات کریں گے۔ حضرت شیخ ابو سعید نے میر سید علی ہمدانی رحمۃ اللہ علیہ سے ملاقات کی اور حضرت میر سید علی ہمدانی رحمت اللہ علیہ نے ان سے خلافت حاصل کی۔[10]

کہا جاتا ہے کہ وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے تھے۔ وہ ایرانی شہر ہمدان سے آئے تھے اور ان کے والد شہاب الدین ہمدان کے حاکم تھے۔ میر سید علی ہمدانی رحمۃ اللہ علیہ سری نگر میں آکر آباد ہوئے تھے اور دریائے جہلم کے کنارے نماز پڑھتے تھے۔ ان کے لیے ایک خانقاہ بھی بنایا گیا تھا۔[10]

ان کے کشمیر آنے سے وادی کشمیر میں اسلام اور تصوف سورج کی طرح چمکنے لگے اور وادی کشمیر کے لوگ اسلام قبول کرنے میں فخر محسوس کرتے تھے۔[10]

اس وقت کشمیر کے رسم و رواج اور لباس ہندوؤں اور بدعت کے مطابق تھے۔ میر سید علی ہمدانی رحمت اللہ علیہ نے اسے تبدیل کرنے کی کوشش کی اور انھوں نے "پھیرن" کو فروغ دیا جو ایک قسم کی قمیض ہے جسے کشمیری آج بھی پہنتے ہیں۔ کشمیر میں ان کا اثر اس قدر ہوا ہے کہ کشمیر میں ان کا ختم شریف آج بھی بہت زیادہ پڑھا جاتا ہے۔[10]

کشمیر میں غیر مسلموں کے لیے قواعد

[ترمیم]

میر سید علی ہمدانی جو کشمیر میں اسلام کے سب سے بااثر صوفی اوليا میں سے ایک تھے، نے سیاست اور حکومت پر ایک مقالہ لکھا تھا جس کا نام ذخیرۃ الملوک ہے۔اس میں انھوں نے مسلم ممالک کے غیر مسلم باشندوں کے لیے یہ اصول لکھے تھے۔[11]

  1. وہ مسلمانوں کی حکومت والے ملک میں نیا مندر نہیں بنائیں گے۔
  2. وہ مندروں کو دوبارہ نہیں بنا سکتے جو خراب ہو چکے ہیں۔
  3. اگر مسلمان ان کے گھروں میں داخل ہوں تو انھیں تین دن تک مسلمانوں کو کھانا فراہم کرنا ہوگا۔
  4. وہ جاسوسی نہیں کر سکتے۔
  5. انھیں کسی ایسے رشتہ دار کو نہیں روکنا چاہیے جو اسلام قبول کرنا چاہتے ہوں۔.
  6. انھیں مسلمانوں کا احترام کرنا چاہیے۔
  7. انھیں مسلمانوں کے لیے اجتماعات میں اٹھنا چاہیے۔
  8. انھیں مسلمانوں سے مختلف لباس پہننا چاہیے اور مسلم ناموں کا استعمال نہیں کرنا چاہیے۔
  9. وہ زینوں سے گھوڑے پر سوار نہیں ہو سکتے اور نہ تلوار لے کر گھوم سکتے ہیں۔
  10. وہ قیمتی پتھروں والی انگوٹھیاں نہیں پہن سکتے۔
  11. وہ مسلمانوں کے محلوں میں اپنے گھر نہیں بنا سکتے
  12. وہ مسلمان غلام نہیں خرید سکتے۔
  13. وہ اپنی مذہبی روایات مسلمانوں کے سامنے نہیں دکھا سکتے۔
  14. وہ اپنے مرنے والوں کے لیے اونچی آواز میں ماتم نہیں کر سکتے۔

میر سید علی ہمدانی نے آخر میں کہا کہ اگر غیر مسلم ان میں سے کسی اصول کی خلاف ورزی کرتے ہیں تو ان کے خلاف جنگ ہوگی اور ان کے لیے کوئی تحفظ نہیں ہوگا۔[11]

کشمیری مسلمان کیسے بنے؟

[ترمیم]

کشمیری برہمنوں کو سلطان سکندر کے دور میں اسلام قبول کرنے پر مجبور کیا گیا تھا۔اس کا تذکرہ تاریخ فرشتہ میں تفصیل کے ساتھ کیا گیا ہے۔ اس کتاب کے مصنف، محمد قاسم ہندو شاہ، ایک درباری مورخ تھے جنھوں نے دکن کے سلطانوں کے لیے کام کیا تھا۔[12]

سلطان سکندر نے برہمنوں کو اسلام قبول کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس حکم کے پیچھے سلطان سکندر کے وزیر سوہا بٹ کا بڑا ہاتھ تھا، جو خود مقامی سابق ہندو تھے۔ سلطان سکندر کی یہ پالیسی اس لیے بنائی گئی تھی کیونکہ انھیں سوہا بٹ نے ایسا کرنے کا مشورہ دیا تھا۔[12]

خود سابق برہمن ہونے کے باوجود، اسلام قبول کرنے کے بعد سوہا بٹ نے سلطان کو کشمیری برہمنوں کو اسلام قبول کرنے پر مجبور کرنے کا مشورہ دیا تھا۔ پھر سلطان سکندر نے حکم دیا تھا کہ تمام برہمن یا تو اسلام قبول کر لیں یا کشمیر چھوڑ دیں۔ نتیجتاً، بہت سے ہندوؤں نے خود کشی کی تاکہ انھیں مسلمان نہ ہونا پڑے یا اپنے وطن سے بے دخل نہ ہونا پڑے۔[12]

ایسے سخت اقدامات کی وجہ سے لاتعداد لوگ ابدی جہنم کی آگ سے بچ گئے ہیں۔

ہر ایک میں مختلف مذاہب کا موازنہ کرنے اور حقیقی مذہب کا تعین کرنے کی ذہنی صلاحیت نہیں ہوتی۔ عام لوگوں کو اکثر وہ کرنے پر مجبور کرنا پڑتا ہے جو ان کے لیے بہتر ہوتاہے ورنہ وہ غلط فیصلے کرتے ہیں۔

اسلام کے لیے شیخ حمزہ مخدوم کی خدمات

[ترمیم]

حضرت شیخ حمزہ مخدوم رحمۃ اللہ علیہ کشمیر کے بڑے سنی بزرگوں اور اولیا میں سے تھے۔ ان کی ولادت تجر شریف (وادی کشمیر میں) میں ہوئی تھیں۔ وہ پانچ صدیوں پہلے، ہجری کیلنڈر کے 9٠٠ویں سال میں، پیدا ہوئے تھے۔ انھیں "سلطان العارفین" اور "محبوب العالم" بھی کہا جاتا ہے۔ وہ عثمان رینہ کے بیٹے تھے۔ ان کے خاندان کا سلسلہ کشمیر کی ہندو اشرافیہ سے تھا۔ ان کے جد امجد رام چندر تھے جو کشمیر کے ہندو بادشاہ راجا سہ دیو کے وزیر تھے۔ شیخ حمزہ مخدوم رحمت اللہ علیہ کے آبا و اجداد نے حضرت بلبل شاہ رحمۃ اللہ علیہ کی وجہ سے اسلام قبول کیا تھا۔[13]

شیخ حمزہ مخدوم رحمۃ اللہ علیہ کے بارے میں مشہور ہے کہ انھوں نے کبھی جھوٹ نہیں بولا تھا۔ وہ ایک بار دوسرے بچوں کے ساتھ کھیلے لیکن بعد میں انھوں نے توبہ کی اور اپنے آپ کو دین کے لیے وقف کر دیا۔[13]

ان کے دادا انھیں حضرت بابا اسماعیل کے بیٹے بابا فتح اللہ کے پاس لے گئے۔ حضرت حمزہ مخدوم رحمۃ اللہ علیہ نے ان سے قرآن سیکھا۔ اس کے بعد حضرت حمزہ مخدوم رحمۃ اللہ علیہ نے بیس سال شمسی چک کے مدرسہ میں تعلیم حاصل کی۔ وہاں انھوں نے فقہ، حدیث، منطق، تفسیر، فلسفہ، اخلاق، اذکار اور تصوف کی تعلیم حاصل کی تھیں۔[13]

کشمیر میں سنی شیعہ فسادات کی وجہ سے شیخ حمزہ مخدوم رحمت اللہ علیہ کو کشمیر کے حکمران علی شاہ چک نے قید کر دیا تھا۔ حضرت شیخ حمزہ مخدوم رحمۃ اللہ علیہ کی زندگی میں صرف یہی مسئلہ نہیں تھا۔ ان کا ایک سازشی رشتہ دار تھا جس کا نام "کوکا رینہ" تھا۔ کوکا رینہ نے حضرت شیخ حمزہ مخدوم پر پاگل ہونے کا الزام لگایا تھا۔ حضرت حمزہ مخدوم پہاڑ پر گئے اور انھوں نے بد دعا دی۔[13]

کوکا رینہ کی اولاد آج بھی موجود ہے اور وہ شیخ حمزہ مخدوم کی بد دعا سے متاثر ہیں۔ بد دعا کا ایک اثر یہ ہے کہ کوکا رینہ کی اولاد جلد بوڑھی ہو جاتی ہے۔[13]

مشکل حالات میں کشمیری لوگ شیخ حمزہ مخدوم رحمۃ اللہ علیہ کا وظیفہ اور خاتم شریف پڑھتے ہیں۔ پھر اللہ ان کے مسائل حل کرتا ہے۔[13]

ان کا مقبرہ وادی کشمیر میں ہری پربت کے آس پاس ہے۔[13]

کشمیری سنیوں پر شیعہ مظالم جس کی وجہ سے کشمیری سنی علما نے مغل حکومت کو دعوت دی

[ترمیم]

کشمیری عالم شیخ یعقوب سرفی رحمۃ اللہ علیہ مشرقی پنجاب کے سرہند کے مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی رحمۃ اللہ علیہ کے ساتھیوں میں سے تھے۔ انھوں نے شیخ احمد سرہندی رحمۃ اللہ علیہ سے فیض حاصل کیا تھا۔ ہندوستان میں قیام کے دوران انھوں نے شیخ احمد سرہندی رحمۃ اللہ علیہ سے تصوف اور علم حدیث کا درس بھی لیا تھا۔[14]

شیخ یعقوب سرفی رحمۃ اللہ علیہ نے مغل بادشاہ اکبر کو درخواست دی تھی کہ وہ وادی کشمیر کو فتح کرے تاکہ اس کی سنی اکثریت کو آزاد کیا جائے جو "چک" نامی شیعہ شاہی خاندان کے قبضے اور حکومت میں رہ رہے تھے۔ شیعہ چک حکمران نے ممتاز کشمیری سنی عالم حضرت قاضی موسیٰ رحمۃ اللہ علیہ کو شہید کیا تھا جب حضرت قصی موسیٰ رحمۃ اللہ علیہ نے اذان میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ذکر کرنے سے انکار کر دیا تھا۔[14]

کشمیری سنیوں اور شیعوں کے درمیان تعلقات

[ترمیم]

1893 میں سر والٹر لارنس نے کتاب "وادی کشمیر" لکھی تھیں۔ اپنی کتاب میں وہ قارئین کو بتاتے ہیں کہ وادی کشمیر میں شیعہ آبادی صرف پانچ فیصد کے لگ بھگ تھی اور کشمیر کی سنی اکثریت شیعوں سے نفرت کرتی تھیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کشمیری سنی شیعوں کو معاشرے سے خارج ہونے والے لوگ سمجھتے تھے اور انھیں مسلمان نہیں سمجھتے تھے۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ کشمیری سنی شیعوں کو "رافضی" کہتے تھے اور شیعوں کو ناپاک سمجھتے تھے۔[15]

شمس الدین عراقی وادی کشمیر کی تاریخ میں ایک قابل ذکر شیعہ شخصیت تھے اور اس مصنف کے مطابق سنی اکثریتی کشمیریوں نے اکثر ان کی قبر کی بے حرمتی کی تھیں۔ وہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ 1872 تک کشمیری سنیوں اور شیعوں کے درمیان اکثر پرتشڈ لڑائیاں ہوتی تھیں۔[15]

شادی سے متعلق کشمیری رسومات

[ترمیم]

سر والٹر لارنس ایک برطانوی مصنف تھے جنھوں نے انیسویں صدی میں کشمیر کا دورہ کیا تھا۔ 1893 میں انھوں نے "وادی کشمیر" کے نام سے ایک کتاب شائع کی جس میں انھوں نے وادی کشمیر کے لوگوں اور ثقافت کے بارے میں لکھا۔[16]

انھوں نے دیکھا کہ جب لڑکا بلوغت کو پہنچتا تھا تو اس کے والد اس کی دلہن کی تلاش شروع کر دیتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیری مسلمان کسان اپنی بیٹیوں کی شادی اس وقت کرتے تھے جب وہ 7 یا 3 سال کی ہوتی تھیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ میاں بیوی کے درمیان بعض اوقات پہلے جنسی تعلقات تب ہوتے تھے جب لڑکی کی عمر 9 سال ہوتی تھی، تاہم عموماً لڑکی کی عمر 12 سال ہوتی تھیں۔ جب وہ 14 سال کی ہو جاتی تھیں تو ایک کشمیری لڑکی ماں بن جاتی تھیں۔ [16]

سر والٹر لارنس نے یہ بھی کہا کہ کشمیری شوہر اپنی بیویوں سے محبت کرتے ہیں اور بد اخلاق عورتیں بہت کم ہیں۔ انھوں نے مشاہدہ کیا کہ کشمیری معاشرے میں میاں بیوی کے درمیان مشترکہ دوستی تھیں۔ انھوں نے یہ بھی دیکھا کہ کشمیریوں میں طلاق اور بے حیائی کم تھیں۔ [16]

پنجاب میں کشمیری سنی علما

[ترمیم]

گذشتہ صدی میں برصغیر میں اہل حدیث کے سب سے نمایاں علما میں سے ایک مولانا ثناء اللہ امرتسری تھے۔ وہ پنجاب کے کشمیری تھے۔ ان کے بزرگ وادی کشمیر کے ڈورو سے آئے تھے جو اننت ناگ میں واقع تھا۔ کاروبار یا ڈوگرہ ہندو ریاست کے ظلم و ستم کی وجہ سے ان کے بزرگ پنجاب چلے آئے تھے۔[17]

کشمیر پر پانچ سو سال تک مسلمانوں کی حکومت رہی تھی۔ افغان گورنروں کے بعد کشمیر پر سکھوں اور پھر ڈوگرہ ہندوؤں نے قبضہ کر لیا تھا۔ مولانا ثناء اللہ امرتسری، جو انیسویں صدی میں پیدا ہوئے تھے، خود امرتسر کے رہنے والے تھے اور پنجاب کی تقسیم کے بعد وہ پاکستان آ کر آباد ہو گئے۔[17]

تقسیم کے دوران بھارتی پنجاب سے پاکستان کی جانب کشمیریوں کی ہجرت

[ترمیم]

پنجاب کی 1881 کی مردم شماری کے مطابق پنجاب میں کشمیری بولنے والوں میں سے 65 فیصد امرتسر، لدھیانہ اور کانگڑا اضلاع میں مقیم تھی۔ [7]کانگڑا ضلع میں نور پور کا قصبہ تھا جہاں وادی کے کشمیریوں کی ایک بڑی آبادی تھیں۔نورپور کے یہ کشمیری کشمیری زبان بولتے تھے اور زیادہ تر شالیں بنانے کا کام کرتے تھے۔[18]

صرف امرتسر میں پنجاب کے نصف سے زیادہ کشمیری بولنے والے تھے۔ لاہور، راولپنڈی، سیالکوٹ، گورداسپور اور گجرات کے اضلاع میں باقی کشمیری بولنے والے تھے۔ خلاصہ یہ ہے کہ کشمیری زبان بولنے والوں کی اکثریت مشرقی اضلاع میں رہتی تھی جو 1947 میں پنجاب کا ہندوستانی حصہ بن گئے۔ 1881 کی مردم شماری میں پنجاب کے کشمیری بولنے والوں کا صرف ایک چوتھائی حصہ پنجاب کے مغربی اضلاع میں تھا جو 1947 میں پاکستانی پنجاب بن گیا تھا۔[7]

امرتسر میں کشمیری سب سے اہم مسلم برادری تين۔ وہ اس کی مسلم اشرافیہ کا ایک اہم حصہ تھے اور سیاسی طور پر نمایاں تھے۔ اس لیے یہ بات قابل فہم ہے کہ امرتسر سے کشمیری مسلم اشرافیہ کے بیانیے سب سے نمایاں ہوں گے۔ ایان ٹالبوٹ نے مزید لکھا کہ لاہور کی طرح امرتسر میں بھی مسلم لیگ نے کشمیری برادری کی حمایت پر انحصار کیا تھا۔[19]

ایان ٹالبوٹ نے کشمیری مسلمانوں کی ثقافت کے ساتھ ساتھ امرتسر پر ان کی ثقافت کے گہرے اثرات کے بارے میں کچھ وضاحتیں پیش کیں ہے۔ کشمیری پکوان کی روایات کا خاص طور پر مقامی ثقافت پر گہرا اثر پڑا تھا۔ کشمیریوں نے پنجاب میں ہریسا، شب دیگ، سبز چائے (نمکین گلابی رنگ کی چائے)، بکرخانی اور دیگر بہت سی کھانے متعارف کروائیں تھے۔ [19]

ایان ٹالبوٹ نے اے حمید کا حوالہ دیا جنھوں نے یاد کیا کہ امرتسر میں کشمیری مسلمان خوش حال تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیری خوبصورت تھے اور وہ اچھے کپڑے اور اچھے کھانے کے شوقین تھے۔ ان کا کہنا یہ بھی ہے کہ کشمیری رات کے کھانے میں چاول کھاتے تھے اور یہ کہ ان کی ہریسہ جیسی کھانے پینے کی اشیاء کی دکانیں تھیں۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ کشمیری مسلمان چھ مہینے شال کی تجارت میں مصروف رہتے تھے اور اگلے چھ مہینے فرصت میں گزارتے تھے۔ [19]

لیکن 14 اگست 1947 کو پاکستان کی آزادی کے بعد کے ہفتوں میں، سکھ جتھوں (ملیشیا) اور سکھ ریاستوں کی فوجوں نے مشرقی پنجاب میں مسلم آبادی کے خلاف نسل کشی کا ارتکاب کیا جس کی وجہ سے ہندوستان اور پاکستان نے پنجاب کے دو حصوں کے درمیان مذہبی اقلیتوں کا تبادلہ کیا، اس طرح مشرقی پنجاب کی کل مسلم آبادی 33 فیصد سے کم ہو کر 2 فیصد ہو گئی۔اس وقت موجودہ بھارتی ریاستیں ہریانہ اور ہماچل پردیش بھی پنجاب کا حصہ تھیں۔ [19]

کشمیری بولنے والوں کی اولادوں کو مشرقی پنجاب کی باقی مسلمان آبادی کے ساتھ مشرقی پنجاب چھوڑ کر پاکستان کے مغربی پنجاب میں منتقل ہونا پڑا۔[19]

قیام پاکستان سے پہلے امرتسر اور باقی مشرقی پنجاب کے مسلمانوں نے کبھی اپنے گھر بار چھوڑ کر پاکستان ہجرت کرنے کا ارادہ نہیں کیا تھا حالانکہ انھوں نے اس مسلم ملک کے قیام کی حمایت کی تين۔ ایان ٹالبوٹ نے لاہور کے کشمیری اکثریتی نسبت روڈ محلے کے ایک باشندے کے الفاظ کا حوالہ دیا جس نے کہا کہ امرتسر کے مسلمانوں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ وہ ہجرت کریں گے۔[19]

مشرقی پنجاب کے مسلمان اس لیے پاکستان بھاگے کہ سکھوں نے انھیں بے دخل کیا تھا، ان کی نسل کشی کی تين اور انھیں زبردستی سکھ بنانے کی کوشش کی تين۔ سکھ جتھوں (جنگی بینڈ جو سابق ہندوستانی فوجیوں اور سکھ ریاستوں کے فوجیوں (جیسے پٹیالہ ریاست کی فوج) پر مشتمل تھے) نے 14 اگست کے بعد مشرقی پنجاب سے مسلمانوں کی نسل کشی کی، حالانکہ اس نسل کشی کے منصوبے پہلے سے ہی چل رہے تھے۔[19]

ایان ٹالبوٹ نے ذکر کیا کہ تقسیم سے پہلے کے مہینوں میں برطانوی حکام کو انٹیلی جنس رپورٹس موصول ہوئی تھیں کہ ہندو تاجر سکھ ملٹری آپریشنز کے لیے فنڈنگ ​​کر رہے ہیں۔ یہ بھی اطلاعات تھیں کہ پٹیالہ کے مہاراجا ہتھیار فراہم کر رہے تھے اور عام شہریوں کے لباس میں ملبوس فوجیوں کو امرتسر بھیج رہے تھے۔ (صفحہ 43)[19]

ایان ٹالبوٹ نے تقسیم کے متاثرین کا انٹرویو کیا اور اس کتاب میں ایسے زندہ بچ جانے والوں کی شہادتیں پیش کیں۔ مثال کے طور پر اس نے حمیدہ کی گواہی پیش کی جو امرتسر سے ایک مسلمان پناہ گزین عورت تين۔ حمیدہ نے بتایا کہ اس کے پڑوسی کا ایک بیٹا مارا گیا تھا اور اس لڑکے کی ماں پھر غم سے مر گئی تين۔[19]

حمیدہ نے یہ بھی بتایا کہ محلے کے مولوی کی بیٹیوں کو اغوا کیا گیا تھا۔ جب لڑکیوں کے والدین لاہور کی گوال منڈی میں آکر آباد ہوئے تو وہ اپنی بیٹیوں کے لیے روتے تھے اور خواہش کرتے تھے کہ وہ اپنے اغوا کاروں کے ساتھ رہنے کی بجائے مر گئے ہوں۔ (صفحات 145ء146)[19]

امرتسر اور مشرقی پنجاب کے دیگر علاقوں کے کشمیری مسلمان بھی اس سے مستثنیٰ نہیں تھے اور وہ اپنے باقی پنجابی مسلمان بھائیوں کے ساتھ پاکستان کے قیام کی قیمت کے طور پر بہت سی قربانیاں پیش کرنے کے بعد پاکستان آئے تھے۔ بہت سے امرتسری کشمیری جو لاہور پہنچے، نسبت روڈ پر آباد ہوئے جو تقسیم کے بعد کے سالوں میں امرتسری کشمیریوں کی آبادکاری کا مرکز تھا۔[19]

اے حمید، ایک امرتسری کشمیری، نے خواجہ افتخار (جو مسلم لیگ کی امرتسر شاخ کے نائب صدر تھے) کی کتاب "جب امرتسر جل رہا تھا" کے پیش لفظ میں امرتسر کے لیے ایک یادگار نوحہ لکھا۔ ان کے الفاظ تھے:[19]

"بات یہ ہے کہ امرتسر میرے لیا بیچرہ ہوا یاروسلم ہے اور میں اس کی دیوار گریہ ہوں۔ امرتسر تو میرے خون میں گارڈش کر رہا ہے۔ امرتسر کو دیکھ کر سوتا ہوں اور سبھا اٹھا کر سب سے پہلے اسے دیکھتا ہوں۔"

حمید نے بھی امرتسر کی مسلم اور کشمیری ثقافتوں کے خاتمے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ:[19]

"وہاں مسلمانوں کے کلچر اور سقفات کے نقش پا بھی نہیں تھے۔ مسجدیں مرثیہ خانہ تين، کشمیریوں کی بیٹھکوں میں ہندو عورتیں گوبر کا لپ کر رہی تين”

ان الفاظ میں انھوں نے امرتسر کی مسلمانوں کی آبادی کے خاتمے اور اس شہر سے اسلام کی نشانیوں کے خاتمے کا موازنہ الاندلس (مسلم اسپین) کے خاتمے سے بھی کیا:[19]

"اس کی مسجدوں کی خاک میں میرے ابا او اجداد کے سجدوں کے نشان پوشیدہ ہیں اور اُس کی گلی کوچوں میں شہیدوں کے خون کی لالی بکھری ہوئی ہے

ہسپانیہ تُو خُونِ مسلماں کا امیں ہے

مانندِ حرم پاک ہے تُو میری نظر میں

پوشیدہ تری خاک میں سجدوں کے نشاں ہیں

خاموش اذانیں ہیں تری بادِ سحَر میں"

اے حمید نے شہید امرتسری مسلمانوں کو ان الفاظ میں خراج عقیدت بھی پیش کیا، جس میں انھوں نے تبصرہ کیا کہ ان مسلمانوں نے امرتسر کی گلیوں میں پاکستان کے لیے اپنی جانیں قربان کیں، حالانکہ انھوں نے اس ملک کو کبھی نہیں دیکھا تھا۔[19]

“یہ وہ لوگ تھے جو ایک اندیکھے وطن کی خاطر شہید ہو گئے، امرتسر کی گلی کوچوں میں۔”

وہ ان کو یہ کہہ کر یاد کرتے ہیں کہ یہ وہ لوگ تھے جن کی خوشبو ہمیں پاکستان کے گلابوں میں ملتی ہے اور جن کی روشنی ہم پاکستان کے چڑھتے سورج میں دیکھ سکتے ہیں ۔

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. ↑
  2. 1 2
  3. 1 2 "Kashmiri: A language of India"۔ Ethnologue۔ 2019-01-07 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2007-06-02
  4. 1 2 3 4 5 6 7 Chaudhari, Khan Bahadur (1923). Census of India, 1921. Vol. XXII: Kashmir. Part I - Report / Part II - Tables. Mufid-i-Am Press
  5. 1 2 3 شیخ عبد اللہ، "آتش چنار"، صفحہ 37-38
  6. 1 2 3 4 5 6 7 Ram, P. A. (1933). Census of India, 1931: Vol. 24. Jammu and Kashmir State. Part 1: Report. Jammu: The Ranbir Government Press
  7. 1 2 3 4 5 6 7 8 9 Ibbetson, D. (1883). Report on the census of the Panjáb taken on the 17th of February 1881 (Vols. 1–2). Lahore, India: Central Gaol Press, page 303
  8. 1 2 Fauq, M. D. (1996). Tareekh-e-Aqwam-e-Kashmir (Vols. 1-2). Gulshan Publishers, page 314-316
  9. ↑ محمد طارق لاہوری سنی حنفی، "اولیأ کشمیر"، صفحہ ۱۴
  10. 1 2 3 4 5 6 محمد طارق لاہوری سنی حنفی، "اولیأ کشمیر"، صفحہ ۱۶ - ۲۱
  11. 1 2 امیر کبیر میر سید علی ہمدانی، ذکرۃ الملوک (اردو ترجمہ)، اسلامک بک فاؤنڈیشن، نئی دہلی، صفحہ 302-304
  12. 1 2 3 محمد قاسم فیریشتا، تاریخ فیریشتا، جلد چهارم، صفحات 698-699
  13. 1 2 3 4 5 6 7 محمد طارق لاہوری سنی حنفی، "اولیأ کشمیر"، صفحہ ۲۵-۳۰
  14. 1 2 محمد طارق لاہوری سنی حنفی، "اولیأ کشمیر"، صفحات ۳۸ - ۴۲
  15. 1 2 سر والٹر لارنس، "وادیِ کشمیر"، صفحات ۳۴۳ تا ۳۴۵
  16. 1 2 3 سر والٹر لارنس، "وادیِ کشمیر"، صفحات 317-333
  17. 1 2 عبد المجید سوہدروی "سیرۃ ثنائی سوانح حیات شیخ الاسلام مولانا ثناء اللہ امر تسری" صفحات 91 - 95
  18. ↑ Barnes, G. C. (1855) "Report on the Settlement in the District of Kangra in the Trans-Sutlej States", Chronicle Press
  19. 1 2 3 4 5 6 7 8 9 10 11 12 13 14 15 (2007). Ian Talbot. Divided Cities: Partition and its Aftermath in Lahore and Amritsar, 1947-57. Karachi: Oxford University Press, 2006.

بیرونی روابط

[ترمیم]

بلاگ