دکنی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
دکنی
مستعمل جنوبی ہند
خطہ جنوبی ایشیا (دکن سطح مرتفع)
کل مکلمین 11 ملین (2007ء)[1]
خاندان_زبان ہند۔یورپی
خطات اردو
باضابطہ حیثیت
باضابطہ زبان Flag of India.svg بھارت بصورتِ اردو ، Flag of the United Arab Emirates.svg متحدہ عرب امارات
نظمیت از قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان
رموزِ زبان
آئیسو 639-1 None
آئیسو 639-2
آئیسو 639-3

دکنی (ہندی: दक्खिनी، انگریزی: Dakhini) اردو زبان کی ایک اہم بولی ہے، جو جنوبی ہندوستان میں بولی جاتی ہے۔ اس بولی پر جغرافیائی اعتبار سے، علاقائی زبانوں کے اثرات نظر آتے ہیں۔ جیسے، ریاست آندھرا پردیش کی اردو پر تیلگو کا تھوڑا اثر پایا جاتا ہے۔ اسی طرح مہاراشٹرا کی اردو پر مراٹھی کا، کرناٹک کی اردو پر کنڑا کا، اور تمل ناڈو کی اردو پر تمل کا۔ لیکن مکمل طور پر جنوبی ہند میں بولی جانی والی دکنی ایک خصوصی انداز کی اردو ہے، جس میں مراٹھی، تیلگو زبانوں کا میل پایا جاتا ہے۔

تاریخ[ترمیم]

اُردو کا آغاز اگرچہ شمالی ہند میں ہوا لیکن اپنے ارتقا کی منزلیں شمال کے علاوہ دکن میں بھی طے کی۔ شمالی ہند میں تقریبا ایک سو سال تک فروغ پانے کے بعد اُردو دکن کا رُخ کرتی ہے جہاں اسے دکنی کہا جاتا ہے۔ بہ قولِ پروفیسر عبد القادر سروری

دکنی، اُردو کا وہ روپ ہے جس کی ادبی نشوونما ابتدائی زمانے میں دکن اور گجرات میں چودھویں صدی عیسوی کی نصف آخر سے سترھویں صدی کےاواخر دوران میں ہُوئی

۔

شمال سے جو زبان جنوب کی طرف گئی اس کی دو شاخیں ہو گئیں۔ دکن میں دکنی اور گجرات میں گُجری۔ دکن میں اُردو کی ابتدا علائی آمد سے ہوتی ہے۔ محمد بن تغلق نے دولت آباد کو پایۂ تخت بنایا تو اُردو کی ترقّی اور اشاعت کے امکانات روشن ہوئے۔

جغرافیائی تقسیم[ترمیم]

اس بولی کو بولنے والوں کی زیادہ تر تعداد دکن میں ہے۔ ریاست مہاراشٹر، کرناٹک، آندھرا پردیش، کیرلا اور تمل ناڈو میں کثیر تعداد میں بولی جاتی ہے۔ کیرلا میں دکنی جماعت، تمل ناڈو میں نوایت اور کرناٹک میں بھٹکلی، بڑے گروہ ہیں جو دکنی زبان کا اساسہ مانے جاتے ہیں۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ Mikael Parkvall, "Världens 100 största språk 2007" (The World's 100 Largest Languages in 2007), in Nationalencyklopedin

مزید دیکھئے[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]