اردو ادب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

اردو زبان پر مشتمل ادب اردو ادب کہلاتا ہے جو نثر اور شاعری پرمشتمل ہے۔ نثری اصناف میں ناول، افسانہ، داستان، انشائیہ، مکتوب نگاری اور سفر نامہ شامل ہیں۔ جب کہ شاعری میں غزل، رباعی، نظم، مرثیہ، قصیدہ اور مثنوی ہیں۔ اردو ادب میں نثری ادب بھی اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ شعری ادب، لیکن غزل اور نظم سے ہی اردو ادب کی شان بڑھی ایسا سمجھا جاتا ہے۔ اردو ادب پاکستان میں مقبول ہے، بھارت میں مشہور ہے اور افغانستان میں بھی سمجھا اور پڑھا جاتا ہے۔

آغاز[ترمیم]

اردو ادب کا آغاز 14 ویں صدی میں شمالی بھارت میں ہوا۔ اس دور میں جو بھی سلاطین تھے ان کی سرکاری زبان فارسی تھی۔ اس وجہ سے اردو ادب پر فارسی ادب کی چھاپ نظر آتی ہے۔ اردو زبان کی اصطلاحات کے ذخیرہ کو، سنسکرت سے ماخوذ پراکرت الفاظ، عربی، فارسی زبان کے الفاظ کا مشترکہ ملاپ سمجھا جاتا ہے۔ صرف زبان کا اشتراک ہی نہیں بلکہ ادبی، ثقافتی اشتراک بھی ہے۔

خاص کارنامے[ترمیم]

اردو ادب کے آغازی دور میں حضرت امیر خسرو نام لیا جاتا ہے، یہ نہ صرف اردو ادب میں بلکہ ہندی ادب میں بھی کافی اہم ادیب مانے جاتے ہیں۔ اردو زبان اور اردو ادب کے بانیوں میں ان کا شمار کیا جاتا ہے۔ امیر خسرو فارسی، عربی، ہندی زبان میں ماہر تھے۔ اردو زبان کا آغاز تھا، تو انہوں نے ان زبانوں کو مربی شکل میں اردو میں پیش کیا۔ ان کے علاوہ محمد قلی قطب شاہ جو دکن سے تعلق رکھتے تھے، اردو، فارسی، عربی اور تیلگو زبانوں پر کافی اچھا عبور تھا۔ یہ اردو کے پہلے صاحب دیوان شاعر تھے، ان کی کلیات “ کلیاتِ قلی قطب شاہ“ ہے۔ تیلگو زبان میں بھی شاعری کہی۔ انہیں کی کاوشوں کے نتیجہ میں اردو زبان، ادبی زبان کی حیثیت سے جانی جانے لگی۔ ان کا انتقال 1611 میں ہوا۔[1]

سید شمس اللہ قادری کو دکنیات پر تحقیق کرنے کا سہرا جاتا ہے۔[2] ان کے تحقیقات سلاطین ع معبر 1929، [3] اردوئے قدیم 1930,[4] تاریخ ملیبار، [5] مورخینِ ہند، [6] تحفتہ المجاہدین 1931، [7] عمادیہ، [8] نظام التواریخ، [9] تاریخ زبان اردو-اردوئے قدیم، [10] تاریخ زبان اردو ال مسمے ٰ بہ اردوئے قدیم، [11][12] تاریخ زبان اردو یعنی اردوئے قدیم، [13] تاریخVol III,[14] اثرالکلام، [15] تاریخ، [16] شجرہ آصفیہ، [17] اہل یار، [18] پراچینا ملابار[19]

داستان گوئی[ترمیم]

اردو زبان
اردو زبان

یہ مضمون اردو زبان پر مضامین کا تسلسل ہے
اصناف ادب

اردو ادب میں نثری ادب سے زیادہ نظمی ادب موجود ہے۔ جب بات نثری ادب کی آتی ہے تو صنف داستان کی تخلیقات زیادہ ہیں۔ ان داستانوں میں دیومالائی کہانیاں، قصے، کئی حالات کو بیان کرنے والی داستانیں وغیرہ۔

یہ صنف، قصہ گوئیوں پر، دلچسپ کہانی قصوں پر مبنی ہے۔ حقائق اور دلائل سے پرے داستانیں ہی اس صنف کے موضوعات تھے۔ فارسی مثنوی، پجنابی قصے، سندھی واقعاتی بیت وغیرہ داستانوی موضوعات بن گئے۔ سب سے قدیم اردو داستان حمزہ نامہ یا داستان امیر حمزہ ہے۔ میر تقی خیال کی بوستانِ خیال (1760) بھی اپنا خاصا مقام رکھتی ہے۔ اردو ادب میں جتنی بھی داستانیں ملتی ہیں وہ 19ویں صدی میں لکھی گئی ہیں۔ میر امن کی باغ و بہار، نہال چند لاہوری کی مذہبِ عشق، حیدر بخش حیدر کی آرائشِ محفل اور خلیل علی خان اشک کی گلزارِ چین وغیرہ اہم داستانیں ہیں۔[20] اور دیگر مشہور داستانیں حسین عطا خان تحسین کی نوطرز مرصع، مہر چند کھتری کی نو آئینِ ہندی (قصۂ مالک محمود و گیتی افروز)، شاہ حسین حقیقت کی جذبۂ عشق، سید محمد حسین جاہ کی طلسم ہوش ربا ہیں۔

تھیٹر آف دی ابسرڈ[ترمیم]

اردو ادب کی ایک نئی صنف مانی جاتی ہے، اس کی شکل ہوبہو ڈرامے جیسی ہے۔ اس کی پہلی نمائش پاکستان کے محقق و مصنف مجتبی حیدر زیدی دسمبر 2008 میں کیا۔ اس کا نام مزاروں کے پھول رکھا گیا تھا۔[21] (i.e. Graveyard Flowers).

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. J. S. Ifthekhar (January 12, 2012)۔ "Solemnity envelops Qutb Shahi tombsThe Hindu۔ http://www.thehindu.com/news/cities/Hyderabad/solemnity-envelops-qutb-shahi-tombs/article2793649.ece۔ 
  2. http://www.usindh.edu.pk/tahqiq/articles/18.pdf
  3. "Salateen E Muabber"۔ Muslim University Press Aligarh۔ اخذ کردہ بتاریخ 31 August 2013۔ 
  4. "Urdu-i-qadim"۔ Urdu literature - History and criticism۔ Lucknow : [s.n.], 1930.۔ 
  5. Sayyed ShamsUllah Qadri (1930)۔ "Tareekh - Malabaar"۔ Hindustan - Malabaar (Urdu زبان میں)۔ Aligarh: Muslim University Press۔ صفحہ 98۔ 
  6. Syed Shams Ullah Qadri (1933)۔ "Moorrakheen-E-Hind"۔ Bibliographical Studies In Indo-Muslim History (Urdu زبان میں)۔ HYDERABAD DECCAN: THE MAGAZINE TAREEKH۔ صفحہ 139۔ 
  7. Tuhfat al-mujahidin۔ 
  8. Sayyed Shams Ullah Qadri (1925)۔ "Imadia"۔ Imad-Ul-Mulk - Sawaneh Tazkira - Nawabeen Awadh - Imad-Ul-Mulk (Urdu زبان میں)۔ Hyderabad: Tarikh office۔ صفحہ 330۔ 
  9. Sayyed ShamsUllah Qadri (1930)۔ "Nizam Ut Tawareekh"۔ GENERALITIES (Urdu زبان میں)۔ Hyderabad: Tareekh Press۔ صفحہ 158۔ 
  10. Sayyed Shams Ullah Qadri۔ "Tareekh Zuban Urdu - Urdu-E-Qadeem"۔ Urdu Zuban - Tareekh (Urdu زبان میں)۔ Taj Press۔ صفحہ 134۔ 
  11. Sayyed Shams Ullah Qadri (1967)۔ "Tareekh Zuban Urdu Al Musamma Ba - Urdu-E-Qadeem"۔ Urdu Adab - Tareekh (Urdu زبان میں)۔ صفحہ 228۔ 
  12. Shamsullah Quadri (1967)۔ "Urdu-i-qadim"۔ Urdu language - History.۔ Lucknow: Matba naval Kishore۔ 
  13. Sayyed ShamsUllah Qadri (1925)۔ "Tareekh Zuban Urdu Yaani - Urdu-E-Qadeem"۔ Urdu Adab - Tareekh Urdu-E-Qadeem - Tareekh (Urdu زبان میں)۔ 
  14. Sayyid ShamsUllah Qadri (1931)۔ "Tarikh Vol III"۔ GEOGRAPHY. BIOGRAPHY. HISTORY (Urdu زبان میں)۔ 
  15. Sayyid Shamsullah Qadri۔ "Asaarul Karaam"۔ Tareekh Hindustani Musalman۔ Hyderabad: Anjuman Imdaad Bahami Maktaba Abr Aheemiya۔ صفحہ 156۔ 
  16. Sayyid Shamsullah Qadri (1930)۔ "Tarikh"۔ Geography. Biography. History (Urdu زبان میں)۔ Tarikh Press Hyderabad۔ صفحہ 1۔ 
  17. Murattib Shams Ullah Qadri (1938)۔ "Shijrah Asifiya"۔ Tareekh Asifiya Hyderabad۔ صفحہ 120۔ 
  18. Shamsullah Quadri (1930)۔ "Ahleyaar"۔ Urdu poetry (Urdu زبان میں)۔ 
  19. Hakim sayyid Shamsullah Qadri؛ translated by V. Abdul Qaiyyum (1954)۔ "Pracina malabar"۔ Pakistan - History۔ Kazhikode: Bushra Pub. House۔ صفحہ 1۔ 
  20. Welcome forumpakistan.net - BlueHost.com
  21. Ilm-o-Irfan Publishers, Urdu Bazaar, Lahore, Pakistan

25.Almi urdu ghar:Bihar urdu youth forum- Afsanay

حواشی[ترمیم]

  • http://www.indianchild.com/literature/urdu-literature.htm
  • Muhammad Husain Azad: Ab-e hayat (Lahore: Naval Kishor Gais Printing Wrks) 1907 [in Urdu]; (Delhi: Oxford University Press) 2001 [In English translation]
  • Shamsur Rahman Faruqi: Early Urdu Literary Culture and History (Delhi: Oxford University Press) 2001

بیرونی روابط[ترمیم]