داستان امیر حمزہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
داستان امیر حمزہ
Mir Sayyid Ali Ilia prorok.jpg 

مصنف مرزا امان علی خان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مصنف (P50) ویکی ڈیٹا پر
اصل زبان اردو  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں کام یا نام کی زبان (P407) ویکی ڈیٹا پر
ادبی صنف داستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں طرز (P136) ویکی ڈیٹا پر
ناشر منشی نول کشور،  اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں ناشر (P123) ویکی ڈیٹا پر
تاریخ اشاعت 1855  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ اشاعت (P577) ویکی ڈیٹا پر
تعداد صفحات 528   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعداد صفحات (P1104) ویکی ڈیٹا پر
آئی ایس بی این 0-679-64354-0  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں آئی ایس بی این-10 (P957) ویکی ڈیٹا پر
او سی ایل سی 144225312  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں او سی ایل سی کنٹرول نمبر (P243) ویکی ڈیٹا پر

داستان امیر حمزہ ایک بہادر شخص حمزہ بن ازرک کی فرضیہ داستان ہے یہ پرانے اردو داستانوں میں مشہور ترین ہے اس کا تعلق مغل بادشاہ اکبر سے ہے جو داستان سننے کا رسیا تھا۔[1] داستانِ امیر حمزہ کا شمار اردو ادبِ عالیہ (کلاسیک) میں ہوتا ہے جسے کئی مصنفین نے اپنے اپنے انداز میں بیان کیا۔ یہ داستان فارسی ادب سے اردو ادب میں منتقل ہوئی لیکن اسے اردو میں کہیں زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ریختہ: داستان امیز حمزہ اخذ کردہ بتاریخ 2 جولائی 2017ء