محمد حسین آزاد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
محمد حسین آزاد

۔محمد حسین آزاد اپنی کتاب آپ حیات کی وجہ سے کافی مشہور ہیں۔

حسین آزاد دہلی میں 1832ء کے لگ بھگ پیدا ہوئے۔آزاد اپنے والد سے اور پھر ذوق کے سایہ عاطفت میں تعلیم حاصل کی ۔ بعد ازاں دہلی کالج میں داخل ہوئے جہاں مولوی نذیراحمد، ذکاء اللہ اور پیارے لال آشوب سے ہم سبق ہونے کا موقع ملا
والد کا نام مولوی محمد باقر تھا جنہوں نے 1837 میں دہلی سے پہلا اخبار( اردو اخبار) نکالا۔ 1854 میں محمد حسین آزاد بھی اس میں ایڈیٹر کی حیثیت سے شریک ہوگئے۔1857 کے غدر (یا جنگ آزادی) کے زمانہ میں اردو اخبار نے اگریزوں کے خلاف دھواں دھار مضمین شائع کئے ۔ مگر انگریزوں کے خلاف بغاوت مکمل طور پر ناکام ہوگئی۔ اس کے بعد پکڑ دھکڑ شروع ہوئی ۔مولانا باقر گرفتار کرلیے گئے اور انہیں گولی مادی گئی۔محمد حسین آزاد بھاگ کر روپوش ہوگئے۔ آخر انہوں نے سیاست سے علیحدگی اختیار کرلی اور وہ اپنے تمام خاندان کو لے کر لکھنو پہنچے۔ تلاش معاش میں کئی سال مارے پھرتے رہے آخر 1864ء میں لاہور چلے آئے اور مولوی رجب علی کی سفارش پر انگریزوں کے ایک تعلیمی ادارہ گورنمنٹ کالج لاہور میں پندرہ روپے ماہوار پر ملازم ہوگئے۔ میجر فلر داکٹر سررشتہ تعلیم کو اس کی گوناگوں صلاحیتوں کا علم ہوا تو انہوں نے سرکاری اخبار (اتالیق پنجاب) کا نائب مقرر کر دیا۔ اس رسالے کے بند ہونے پر (پنجاب میگزین) نکلتا رہا۔ 1865ء میں آزاد کابل اور بخارا گئے۔ دوسرا سفر انہوں نے 1883ء میں کیا۔ اس طرح انہیں جدید فارسی سیکھنے کا موقع ملا۔
1873ء میں کرنل ہالرائیڈ نے انجمن پنجاب قائم کی اور ایک خاص قسم کے مشاعروں کی بنیاد ڈالی جس میں مصرع طرح کی بجائے نظم لکھنے کے لیے عنوان دیاجاتا تھا۔ ان مشاعروں میں آزاد اورالطاف حسین حالی ذوق و شوق کے ساتھ حصہ لیتے رہے اور متعدد اخلاقی اور نیچرل نظمیں لکھیں۔
آزاد گورنمنٹ کالج لاہور میں عربی فارسی کے پروفیسر بھی رہے اور 1880میں ملکہ وکٹوریہ کی جوبلی پر شمس العلماء کا خطاب پایا۔ دماغی تھکاوٹ اور جوان بیٹی کی بے وقت موت کی وجہ سے 1889ء میں دماغی توازن کھو بیٹھے اور جنون کے آثار پیدا ہوگئے۔ آخری عمر تک یہی حالت رہی آخر22 فروری 1910ء کو وفات پائی۔

تصانیف[ترمیم]