ملکہ وکٹوریہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

وکٹوریہ کے دیگر استعمالات کے لیے دیکھیے وکٹوریہ (ضد ابہام)

ملکہ وکٹوریہ
ملکہ مملکت متحدہ، قیصر ہند
(انگریزی میں: Victoriaخاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
ملکہ وکٹوریہ 1882ء میں۔
ملکہ وکٹوریہ – 1882ء

ملکہ مملکت متحدہ
دور حکومت 20 جون 1837ء22 جنوری 1901ء
(عہدِ حکومت: 63 سال 7 ماہ 2 دن)
تاج پوشی جمعرات 28 جون 1838ء
وزرائے اعظم دیکھیے فہرست
ملکہ ہند،شہنشاہ ہند، قیصر ہند
دور یکم مئی 1876ء22 جنوری 1901ء
(عہدِ حکومت: 24 سال 8 ماہ 21 دن)
تاریخ تاج پوشی یکم جنوری 1877ء
وائسرائے دیکھیے فہرست
معلومات شخصیت
اصل نام الیگزینڈرینہ وکٹوریہ
پیدائش پیر 24 مئی 1819ء

کینزنگٹن محل، لندن، مملکت متحدہ
وفات منگل 22 جنوری 1901ء
(عمر: 81 سال 7 ماہ 29 دن شمسی)

آئل آف ویٹ، اوسبورن ہاؤس، جنوب مشرقی انگلستان، مملکت متحدہ
وجۂ وفات Cerebral hemorrhage  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وجۂ وفات (P509) ویکی ڈیٹا پر
مدفن فراگمور، ونڈسر، جنوب مشرقی انگلستان، انگلستان
تاریخ دفن پیر 4 فروری 1901ء
شہریت Flag of the United Kingdom.svg برطانیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
رکنیتیں رائل سوسائٹی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رکن در (P463) ویکی ڈیٹا پر
شوہر شہزادہ البرٹ کونسرٹ
اولاد ایڈورڈ ہشتم  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں اولاد (P40) ویکی ڈیٹا پر
والد شہزادہ ایڈورڈ، ڈیوک کینٹ و سٹرادرن
والدہ شہزادی وکٹوریہ سیسکوبرگ سالفیلڈ
خاندان ہینوور خاندان
نسل
دیگر معلومات
پیشہ آپ بیتی نگار،بادشاہ،مصور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
تصنیفی زبان انگریزی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں بولی، لکھی اور دستخط کی گئیں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
اعزازات
تمغا البرٹ (1887)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وصول کردہ اعزازات (P166) ویکی ڈیٹا پر
دستخط
ملکہ وکٹوریہ
ویب سائٹ
IMDB IMDB پر صفحات،IMDB پر صفحات  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں آئی ایم ڈی  بی - آئی ڈی (P345) ویکی ڈیٹا پر

ملکہ وکٹوریہ (پیدائش: 24 مئی 1819ء– وفات: 22 جنوری 1901ء) سلطنت برطانیہ کی ملکہ تھی۔ملکہ وکٹوریہ انیسویں صدی عیسوی میں دنیا کی با اثر ترین حکمرانوں میں شمار کی جاتی ہیں۔ملکہ وکٹوریہ کا شمار برطانیہ کی تاریخ میں انتہائی با اثر حکمرانوں میں ہوتا ہے۔ 1858ء میں اسی کے دور حکومت میں ایسٹ انڈيا کمپنی کے 120 سالہ تسلط کو ختم کر کے ہندوستان کو باضابطہ طورایک برطانوی کالونی بنادیا گيا۔ 1876ء میں ملکہ وکٹوریہ قیصرِ ہند بن گئیں۔ملکہ وکٹوریہ نے تقریباً 64 سال حکومت کی۔ملکہ وکٹوریہ کے دور میں سلطنت برطانیہ اپنی طاقت اور عالمی اثر و رسوخ میں اپنی انتہا پر تھی اور یہ دور بہت تبدیلیوں کا دور تھا۔ ملکہ وکٹوریہ 22 جنوری 1901ء کو اِنتقال کرگئیں۔ اُن کے انتقال کے بعد ایڈورڈ ہفتم تخت نشین ہوا۔ملکہ وکٹوریہ 22 جنوری 1901ء سے 9 ستمبر 2015ء تک مملکت متحدہ کی طویل ترین عہدِ حکومت والی حکمران کی حیثیت سے تاریخ کا حصہ رہیں، بعد ازاں 9 ستمبر 2015ء کو یہ ریکارڈ ملکہ ایلزبتھ دوم کو حاصل ہوگیا۔[1][2][3][4]

وکٹوریہ کی پیدائش سے قبل کا انگلینڈ[ترمیم]

25 اکتوبر 1760ء کو جارج سوم شاہِ انگلستان بن گئے اور اِس وقت مشرق میں ایسٹ انڈیا کمپنی اپنے پاؤں مضبوط کررہی تھی۔ 2 نومبر 1810ء کو شہزادی امیلیا کی جواں عمری میں انتقال کے سبب شاہِ انگلستان جارج سوم غمژدہ رہنے لگے جس سے اُن پر دیوانگی کے دورے پڑنے لگے۔ 1810ء کے اختتام تک جارج سوم ذہنی توازن کھوبیٹھے اور برطانوی پارلیمنٹ نے شاہِ انگلستان کی نگہداشت کے لیے ایک بل منظور کرلیا گیا جس کے مطابق ولی عہد جارج چہارم، مملکت متحدہ تب تک منتظم حکومت ہوں گے جب تک شاہِ انگلستان جارج سوم زندہ رہیں۔ یہ مدت تقریباً 10 سال تک رہی۔ جارج سوم نے 29 جنوری 1820ء کو حالتِ دیوانگی میں انتقال کیا۔

وکٹوریہ کی پیدائش اور والدین[ترمیم]

وکٹوریہ کے والد شہزادہ ایڈورڈ، ڈیوک کینٹ و سٹرادرن شاہِ انگلستان جارج سوم کے چوتھے بیٹے تھے۔وہ برطانوی فوج میں اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے۔ 29 مئی 1818ء کو شہزادہ ایڈورڈ، ڈیوک کینٹ و سٹرادرن نے جرمنی کی بیوہ شہزادی وکٹوریہ سیسکوبرگ سالفیلڈ سے شادی کرلی۔ اِس سے قبل شہزادی وکٹوریہ سیسکوبرگ سالفیلڈ کے سابقہ شوہر سے دو بچے کارل اور شہزادی فیوڈرا تھے۔ کارل کا انتقال 13 نومبر 1856ء کو ہوا اور شہزادی فیوڈرا کا انتقال 23 ستمبر 1872ء کو ہوا۔ شادی کے بعد وکٹوریہ کی والدہ شہزادی وکٹوریہ سیسکوبرگ سالفیلڈ کو ڈچز (Duchess) کا شاہی خطاب دیا گیا۔ اِس جوڑے کے ہاں 24 مئی 1819ء کی صبح 4 بجکر 15 منٹ پر کینزنگٹن محل، لندن میں وکٹوریہ کی پیدائش ہوئی۔[5]

24 جون 1819ء کو کینزنگٹن محل کے ایک نجی کمرے میں ننھی وکٹوریہ  کو بپتسمہ دیا گیا اور روس کے الیگزینڈر اول کے نام سے الیگزینڈرینہ اور اُس کی والدہ سے نام وکٹوریہ تجویز کیا گیا۔ اِس طرح وکٹوریہ کا نام الیگزینڈرینہ وکٹوریہ رکھا گیا حالانکہ اِس سے قبل متعدد نام جارجینا، شارلٹ، آگسٹا بھی زیرِ غور تھے مگر یہ تمام نام اُس وقت کے ولی عہد جارج چہارم، مملکت متحدہ کے احکام سے ہٹا دئیے گئے۔[6] 23 جنوری 1820ء کو وکٹوریہ کے والد 52 سال کی عمر میں فوت ہوگئے جبکہ وکٹوریہ ابھی محض 8 ماہ کی ہی تھی۔

حلیہ[ترمیم]

وکٹوریہ میانہ جسم کی حامل تھیں۔ رنگ گورا سپید اور جسم کسی قدر موٹاپے پر مائل تھا۔ قد 1.52 میٹر تھا۔ آنکھیں اُبھری ہوئیں، ماتھا کشادہ ناک ستواں اور دراز تھی۔ بھنوئیں کسی قدر کم تھیں۔ جوانی میں جسم میں فربھی بڑھنے لگی تھی اور غالباً 1861ء کے بعد موٹاپا زیادہ غالب آگیا۔ چست لباس سے تمام عمر نفرت رہی اور کھلے لباس پسند کرتی تھیں۔ ہاتھوں کی انگلیاں کسی قدر فربہ اور چھوٹی تھیں جن میں ہمہ وقت سونے کی انگوٹھیاں پہنے رہتیں۔ جواہرات اور تاج عموماً شاہی تقاریب اور عوامی تقاریب میں زینت بنے رہتے تھے۔

ابتدائی حالات اور تعلیم[ترمیم]

وکٹوریہ کے والد 23 جنوری 1820ء کو انتقال کرگئے تھے جبکہ ابھی وہ 8 مہینوں کی تھی۔ وکٹوریہ کی عمر کے دو عشرے کینزنگٹن محل میں گزرے جہاں وہ اپنی والدہ کے ساتھ مقیم رہی۔کینزنگٹن محل میں 1830ء کے بعد وکٹوریہ کی حفاظت بھرپور طریقہ سے کی گئی۔ کینزنگٹن محل میں جان کانرائے کا عمل دخل بہت بڑھ چکا تھا اور وکٹوریہ کی والدہ اور جان کانرائے کی ملی بھگت سے وکٹوریہ کی محل میں حفاظت ایک منظم انداز میں کی گئی۔ وکٹوریہ سے ملاقات کرنے والا براہِ راست پہلے وکٹوریہ کی والدہ اور جان کانرائے کو اپنے حال احوال سناتا اور پھر جاکر وہ وکٹوریہ سے ملاقات کرپاتا تھا۔[7]

کینزنگٹن محل میں وکٹوریہ اپنی والدہ کے ہمراہ ایک ہی کمرے میں سوتی تھی، اِسی محل میں وہ مطالعہ کرتی اور نجی اساتذہ کی آمد بھی اِسی محل میں ہوتی جو وکٹوریہ کو تعلیم دیا کرتے۔ تعلیم کی تحصیل کے لیے پابندی وقت بہت ضروری خیال کی جاتی تھی جس پر وکٹوریہ پورا اُترتی تھی۔ اکثر وہ گڑیاؤں سے کھیلتی تھی۔[8] اساتذہ سے فرانسیسی زبان، جرمن زبان، اطالوی زبان اور لاطینی زبان سیکھی مگر وہ گھریلو طور پر انگریزی زبان بولتی تھی۔[9]

مصوری[ترمیم]

کینزنگٹن محل میں قیام کے دوران میں ہی وکٹوریہ نے مصوری بھی سیکھی۔ مصوری سے اُس کا لگاؤ آخری دم تک قائم رہا۔ اُس کے روزنامچہ ڈائری میں جا بجاء تصویری خاکے بھی ملتے ہیں جس کی وہ خود عینی شاہد ہوتی تھی۔ 1833ء میں اپنا ذاتی خاکہ بھی بنایا جو روزنامچہ وکٹوریہ میں موجود ہے۔

تخت کے جانشینوں کی فہرست[ترمیم]

1819ء میں جب وکٹوریہ کی پیدائش ہوئی تو وہ اُس وقت تخت کے دعویداروں میں پانچوں شمار پر تھی۔1817ء تک شہزادی شارلٹ ویلز ہی شاہِ انگلستان کی قانونی و جائز وارث تھی۔ 6 نومبر 1817ء کو شہزادی شارلٹ ویلز 21 سال کی عمر میں فوت ہوگئی تو شاہی خاندان کے لیے قانونی و جائز وارث کی تلاش ممکن ہوئی۔پہلے شمار پر خود شاہِ انگلستان جارج سوم، دوسرے شمار پر ولی عہد جارج چہارم، مملکت متحدہ، تیسرے شمار پر شہزادہ فریڈرک ڈیوک یارک البانے، چوتھے شمار پر ولیم چہارم، مملکت متحدہ اور پانچویں شمار پر وکٹوریہ کے والد ایڈورڈ ڈیوک کینٹ و سٹرادرن تھے۔

وکٹوریہ – 1823ء

ولی عہد جارج چہارم، مملکت متحدہ کی کوئی اولاد نہ تھی، علاوہ ازیں شاہِ انگلستان جارج سوم کی دیوانگی کے بعد جارج چہارم، مملکت متحدہ بطور ولی عہد ہی انتظامِ حکومت سنبھالے ہوئے تھا۔ اِس کے علاوہ یارک کے ڈیوک ولیم چہارم، مملکت متحدہ کی دو بیٹیاں کم عمری میں ہی فوت ہوگئی تھیں (شہزادی شارلٹ کلارینس جو 27 مارچ 1819ء کو پیدائش کے روز ہی فوت ہوگئی اور شہزادی ایلزبتھ کلارینس جو 10 دسمبر 1820ء کو پیدا ہوئی اور 4 مارچ 1821ء کو 2 ماہ 25 دن کی عمر میں فوت ہوگئی) اور ولیم چہارم، مملکت متحدہ کی کوئی ناجائز اولاد تختِ شاہی کی وارث نہیں بن سکتی تھی۔ وکٹوریہ کے والد شہزادہ ایڈورڈ ڈیوک کینٹ و سٹرادرن اور شہزادہ فریڈرک ڈیوک یارک البانے نے 1818ء میں شادیاں کیں۔ 1819ء میں وکٹوریہ پیدا ہوئی لیکن شہزادہ فریڈرک ڈیوک یارک البانے کے کوئی اولاد نہ ہوئی۔ وکٹوریہ کے والد شہزادہ ایڈورڈ ڈیوک کینٹ و سٹرادرن 23 جنوری 1820ء کو 52 سال کی عمر میں فوت ہوئے اور شاہِ انگلستان جارج سوم 29 جنوری 1820ء کو حالتِ دیوانگی میں فوت ہوئے۔ 5 جنوری 1827ء کو شہزادہ فریڈرک ڈیوک یارک البانے بھی 63 سال کی عمر میں انتقال کرگیا۔ 1827ء تک تخت شاہی کے دعویداروں میں اب صرف تین دعویدار باقی رہ گئے تھے۔ پہلے شمار پر ولی عہد جارج چہارم، مملکت متحدہ، دوسرے شمار پر ولیم چہارم، مملکت متحدہ اور خود وکٹوریہ۔ 29 جنوری 1820ء کو شاہِ انگلستان جارج سوم کے انتقال کے بعد ولی عہد جارج چہارم، مملکت متحدہ برسراِقتدار آیا تو وکٹوریہ کی رسائی تخت شاہی تک تیسرے شمار پر رہ گئی تھی۔ 26 جون 1830ء کو شاہِ انگلستان جارج چہارم، مملکت متحدہ نے 67 سال کی عمر میں انتقال کیا تو اُن کے چھوٹے بھائی ولیم چہارم، مملکت متحدہ 26 جون 1830ء کو شاہِ انگلستان بن گئے، اب وکٹوریہ دوسرے شمار پر آگئی۔

وکٹوریہ – کینزنگٹن محل (1833ء)

جانشینی تک سفر[ترمیم]

23 دسمبر 1830ء کو شاہِ انگلستان ولیم چہارم، مملکت متحدہ کے ابتدائی عہد میں ایک نیا قانون وضع کرلیا گیا جو قانون نائب السلطنت 1830ء کہلاتا ہے۔ اِس قانون کے تحت شاہِ انگلستان ولیم چہارم، مملکت متحدہ کے بعد قانونی و جائز وارث صرف 18 سال کی عمر تک ہونے میں تسلیم کرنے کا اعلان کیا گیا۔ علاوہ ازیں اِس قانون کے تحت ولیم چہارم، مملکت متحدہ کے انتقال کے بعد اگر قانونی و جائز وارث 18 سال کا ہوگا تو ہی تخت نشیں ہوسکے گا وگرنہ اُس کی والدہ منتظم حکومت یا نائب السلطنت کا عہدہ اپنے پاس رکھے گی۔ اِس قانون کے تحت وکٹوریہ ولیم چہارم، مملکت متحدہ کے بعد قانونی و جائز وارث قرار دے دی گئی۔ قانون نائب السلطنت 1830ء کو برطانوی پارلیمنٹ نے قبول تو کرلیا مگر اِس کے نفاذ کی ضرورت کبھی میسر نہیں آئی کیونکہ جب ولیم چہارم، مملکت متحدہ نے 20 جون 1837ء کو انتقال کیا تو وکٹوریہ 18 سال کی ہوچکی تھی۔1836ء میں شاہِ انگلستان ولیم چہارم، مملکت متحدہ نے اپنی حمایت سے یہ اعلان کردیا کہ اگر وہ وکٹوریہ کی اٹھارہویں سالگرہ تک زندہ رہا تو قانون نائب السلطنت 1830ء خود بخود ختم ہوجائے گا اور میرے بعد وکٹوریہ تخت شاہی کی وارث ہوگی۔[10]

قانون نائب السلطنت 1830ء کا اختتام اور شاہِ انگلستان کی وفات[ترمیم]

24 مئی 1837ء کو وکٹوریہ کی اٹھارہویں سالگرہ منائی گئی اور قانون نائب السلطنت 1830ء ختم ہوگیا کیونکہ وکٹوریہ کی عمر 18 سال ہوچکی تھی۔ اٹھارہویں سالگرہ کے ایک مہینہ بعد 20 جون 1837ء کو شاہِ انگلستان ولیم چہارم، مملکت متحدہ 71 سال کی عمر میں فوت ہوگئے اور وکٹوریہ اُن کی جانشین ہوئی۔ وکٹوریہ نے 20 جون 1837ء کے روزنامچہ میں لکھا ہے کہ:

لارڈ فرانسس کننگہم (بائیں جانب) وکٹوریہ کو ملکہ ہونے کی خوشخبری سناتے ہوئے اور ساتھ آرچ بشپ کینٹربری ولیم ہاؤلے (بائیں جانب) – 1887ء

"میں صبح 6 بجے سو کر اُٹھی۔ والدہ نے بتلایا کہ ابھی یہاں لارڈ فرانسس کننگہم اور آرچ بشپ کینٹربری ولیم ہاؤلے موجود ہیں جو تمہارا انتظار کر رہے ہیں۔ میں بستر سے اُٹھ کر اپنے شب کے لباس میں ہی نشست گاہ والے کمرے میں چلی گئی اور اُن دونوں کو وہاں انتظار کرتے ہوئے دیکھا۔ لارڈ فرانسس کننگہم نے مجھے اِطلاع دی کہ میرے بزرگ چچا (ولیم چہارم، مملکت متحدہ) شب 2 بجکر 12 منٹ پر انتقال کرگئے اور اب آپ ملکہ ہیں۔" [11][12]

وکٹوریہ کے لیے سرکاری دستاویزات کی تیاری کا حکم دیا گیا، اِن دستاویزات میں وکٹوریہ کا نام الیگزینڈرینہ اُس کی خواہش پر حذف کردیا گیا اور دوبارہ کبھی مستعمل نہیں ہوا۔[13]

ابتدائی عہدِ حکومت[ترمیم]

وکٹوریہ کی تخت نشینی کی تصویر۔ جارج ہیٹر1838ء

13 جولائی 1837ء کو وکٹوریہ سرکاری طور پر بکنگہم محل منتقل ہوگئی۔ وکٹوریہ بحیثیتِ ملکہ انگلستان پہلی حکمران تھی جس نے بکنگہم محل میں رہائش اختیار کی۔[14] 20 جون 1837ء کو لارڈ میلبورن نے بحیثیت وزیراعظم برطانیہ کا حلف اٹھایا اور 30 اگست 1841ء تک وہ اِس عہدہ پر قائم رہا۔ لارڈ میلبورن وکٹوریہ کے وزرائے اعظم میں پہلا تھا جو وکٹوریہ کو دو سال سے زائد تک کے عرصہ میں سیاست کے اسرار و رموز سکھاتا رہا۔ وکٹوریہ اُسے اپنے والد کے مقام پر سمجھتی تھی۔[15] حالانکہ برطانوی عوام سمجھتی تھی کہ نو عمر ملکہ لارڈ میلبورن سے شادی کرلیں گی، حتیٰ کہ عوام اکثر وکٹوریہ کو مسز میلبورن کہا کرتی تھی۔[16]

تخت نشینی[ترمیم]

20 جون 1837ء کو شاہِ انگلستان ولیم چہارم، مملکت متحدہ کی وفات کے بعد وکٹوریہ رسمی طور پر ملکہ انگلستان بن چکی تھی مگر باضابطہ طور پر رسمِ تخت نشینی باقی تھی۔جمعرات 28 جون 1838ء کو وکٹوریہ کی باضابطہ رسمِ تخت نشینی ویسٹ منسٹر ایبے میں کی گئی۔ 28 جون 1838ء کی صبح بکنگہم محل کے باہر برطانوی عوام کا جم غفیر تھا، تقریباً 4 لاکھ سے زائد افراد بکنگھم محل سے ویسٹ منسٹر ایبے تک کے جانے والے راستوں پر بیٹھے ہوئے تھے اور وہ بس وکٹوریہ کی ایک جھلک دیکھنے کو بے قرار تھے۔ وکٹوریہ کی تخت نشینی کی تقریب اُنیسویں صدی عیسوی کی اہم اور بڑی تقاریب میں سے ایک شمار کی جاتی ہے۔ وکٹوریہ کی تخت نشینی پر خرچ ہونے والی رقم 79,000 پاؤنڈ اسٹرلنگ تھی جو 2015ء کے ایک محتاط تخمینہ کے مطابق 6.41 ملین پاؤنڈ اسٹرلنگ رقم تھی۔وکٹوریہ کی تخت نشینی کے لیے شاہی بگھی وہی استعمال کی گئی جو اِس سے قبل 1831ء میں شاہِ انگلستان ولیم چہارم، مملکت متحدہ کی تقریبِ تخت نشینی میں استعمال کی گئی تھی۔

ویسٹ منسٹر ایبے میں تخت نشینی کی تقریبِ خاص کی موسیقی انگریزی موسیقار جارج تھامس اسمارٹ نے مرتب کی تھی جس پر 1,500 پاؤنڈ اسٹرلنگ خرچ ہوئے۔ وکٹوریہ کے لیے نیا تاج رنڈیل اینڈ برج نامی کمپنی نے تیار کیا تھا جو شاہی تاج ریاست کہلایا، اِس تاج میں 3,093 بیش قیمت جواہرات جڑے ہوئے تھے، جبکہ تاج کے عین وسط میں ایک سرخ بڑا یاقوت جڑا گیا۔ تاج پر واقع شاہی صلیب پر ہشت پہلو تراشا ہوا سینٹ ایڈورڈ نیلم جڑا گیا۔1859ء میں اِس تاج شاہی کو بعد ازاں وکٹوریہ نے دوبارہ پہنا تاکہ مصور فرانز ژوئیر ونٹرہالٹر تخت نشینی کی تصویر بناسکے۔

مقبولیت میں کمی[ترمیم]

وکٹوریہ اپنے عہدِ تخت نشینی کے اولین دور میں عوام کی بھرپور توجہ کا مرکز بنی ہوئی تھی[17] کہ اُس کی شہرت و مقبولیت کو 1839ء میں اُس وقت دھچکا لگا جب اُس کی والدہ کی کنیزوں میں سے ایک کنیز لیڈی فلورا ہیسٹنگز ماں بننے کے قابل ہوگئی۔ 33 سالہ لیڈی فلورا ہیسٹنگز محل میں شک و شبہہ کی نظر سے دیکھی جانے لگی، مشہور ہوگیا تھا کہ جان کانرائے کے اِس کنیز کے ساتھ تعلقات ہیں۔[18] افواہوں نے محل میں بازار گرم کر رکھا تھا اور نو عمر وکٹوریہ نے افواہ پر یقین کرلیا۔[19] معاملات طبی معائنہ جات پر ٹھہرے، اولاً لیڈی فلورا پیسٹنگز نے معائنہ کروانے سے انکار کردیا، لیکن وسط ماہِ فروری 1839ء میں وہ طبی معائنے پر راضی ہوگئی اور طبی معائنہ کے بعد کنواری پائی گئی۔[20] 27 جون 1839ء کو وکٹوریہ لیڈی فلورا ہیسٹنگز کو دیکھنے بھی گئی مگر وہ بہت لاغر اور نڈھال ہوچکی تھی۔[21] 5 جولائی 1839ء کو لیڈی فلورا ہیسٹنگز 33 سال کی عمر میں فوت ہوئی تو جراحی بعد از وفات کی اطلاع کے مطابق اُس کے جگر میں ایک بڑی رسولی اندرونی جانب موجود تھی جو دراصل شکم کے بڑھ جانے کا سبب بنی تھی۔[22] وکٹوریہ کو اِس معاملہ میں دکھ ہوا مگر وکٹوریہ کی مقبولیت میں کمی ہوتی گئی۔

وکٹوریہ پر ایڈورڈ آکسفورڈ کا قاتلانہ حملہ – 10 جون 1840ء
وکٹوریہ – 1843ء
وکٹوریہ کی سب سے پہلی کیمرا سے لی گئی تصویر جس میں اُن کی بڑی بیٹی وکٹوریہ، جرمن ملکہ بھی ساتھ ہے – 1845ء
وکٹوریہ اپنے شوہر شہزادہ البرٹ کونسرٹ کے ہمراہ بکنگہم محل میں– 30 جنوری 1854ء

شادی[ترمیم]

ملکہ انگلستان ایلزبتھ اول کے بعد وکٹوریہ پہلی ملکہ تھی جو تخت شاہی پر کنوارگی کی حالت میں برسر اِقتدار آئی تھی۔ 1839ء میں لارڈ میلبورن کے ساتھ خوشگوار تعلقات پر برطانوی عوام سمجھنے لگی تھی کہ عمر رسیدہ لارڈ میلبورن سے ملکہ شادی کرلیں گی مگر یہ خیال خام خیال ہی رہا۔ 10 اکتوبر 1839ء میں وکٹوریہ کا عم زاد شہزادہ البرٹ کونسرٹ ونڈسر محل لندن آیا۔ محض پانچ روز وکٹوریہ کے ساتھ گزارنے پر شہزادہ البرٹ کونسرٹ نے وکٹوریہ کو شادی کے لیے آمادہ کرلیا۔[23] 23 نومبر 1839ء کو خصوصی مجلس شوریٰ برطانیہ نے وکٹوریہ کی شادی کا قانونی و شاہی بل منظور کرلیا۔ 10 فروری 1840ء کو شادی کی یہ تقریب سینٹ جیمز محل میں معنقد ہوئی۔وکٹوریہ اِس شام بہت مسحور تھی، اور اِس تمام کیفیت کو اُس نے 10 فروری 1840ء کے روزنامچہ میں تحریر بھی کیا ہے۔[24] محض پانچ روز میں تخلیق ہونے والا یہ رشتہ آمادگی و خوشگواری آئندہ 21 سال 10 ماہ 4 دن تک مضبوطی سے قائم رہا اور 9 بچوں کی پیدائش ہوئی جو بعد ازاں یورپ کے مختلف شاہی خاندانوں میں بیاہے گئے، اِس طرح وکٹوریہ کو یورپ کی ساس بھی کہا جاتا ہے۔

شہزادہ البرٹ کونسرٹ کی بکنگہم محل آمد کے بعد وکٹوریہ پر سے لارڈ میلبورن کی سرپرستی اُٹھ گئی، اب شہزادہ البرٹ کونسرٹ براہِ راست ریاستی و سیاسی معاملات میں وکٹوریہ کو رائے اور مشورہ دینے لگا۔ لارڈ میلبورن کا عمل دخل سیاسی معاملات سے ختم ہوگیا اور وہ اگست 1841ء میں اپنے عہدہ وزارت سے برخاست ہوگیا۔

قاتلانہ حملہ[ترمیم]

1840ء سے 1882ء تک وکٹوریہ پر 7 قاتلانہ حملے ہوئے جن میں ملکہ بالکل محفوظ رہیں۔

1840ء سے 1861ء تک کا زمانہ[ترمیم]

ہندوستان میں جنگ آزادی 1857ء[ترمیم]

اعلان وکٹوریہ[ترمیم]

وکٹوریہ اپنے شوہر شہزادہ البرٹ کونسرٹ بچوں کے ہمراہ بکنگھم محل میں– 30 جنوری 1854ء

شہزادہ البرٹ کونسرٹ کی وفات[ترمیم]

حالت بیوگی[ترمیم]

وزرائے اعظم برطانیہ[ترمیم]

وکٹوریہ کے 63 سالہ عہدِ حکومت میں 10 برطانوی وزرائے اعظم اِقتدار میں آئے۔ لارڈ میلبورن، رابرٹ پیل، لارڈ ابرڈین اور لارڈ روزبری 1 بار، لارڈ جان رسل 2 بار، لارڈ ڈربی 3 بار، لارڈ پامرسٹن، بینجمن ڈزرائیلی 2 بار، لارڈ سالسبری 3 بار، ولیم ایورٹ گلیڈسٹون 4 بار اِقتدار میں آئے۔

قیصرِ ہند 1877ء[ترمیم]

منشی عبد الکریم کی آمد اور ملکہ وکٹوریہ کی اتالیقی[ترمیم]

وکٹوریہ – 1859ء

حکومت کے آخری سال[ترمیم]

وفات[ترمیم]

جنوری 1901ء کے اوائل میں ملکہ وکٹوریہ علیل ہوئیں اور عمر کے 81 ویں سال میں وہ اپنے مشاغل میں مصروف تھیں حتیٰ کہ اپنے روزنامچہ کے آخری صفحہ وفات سے 7 روز قبل لکھا۔ جنوری 1901ء کے دوسرے ہفتے میں اُن پر فالج کے اثرات نظر آنے لگے اور بینائی کمزور ہوگئی اور وکٹوریہ کو چلنے پھرنے میں دقت پیش آنے لگی۔ 22 جنوری 1901ء کو وکٹوریہ کی علالت میں شدت آگئی، بستر مرگ کے قریب ایڈورڈ ہفتم اور ولہم دوم بیٹھے ہوئے تھے کہ شام 6 بجکر 30 منٹ پر وکٹوریہ انتقال کرگئیں۔ بوقت انتقال عمر 81 سال 7 ماہ 29 دن شمسی تھی۔

تدفین[ترمیم]

وکٹوریہ – 15 مئی 1860ء

ہفتہ 2 فروری 1901ء کو وکٹوریہ کی میت کو سینٹ جارج چیپل، ونڈسر قلعہ میں رکھ دیا گیا تاکہ عوام ان کا آخری بار دیدار کرسکیں۔ پیر 4 فروری 1901ء کو فراگمور، ونڈسر، بارکشائر میں آخری رسومات اداء کی گئیں جن میں یورپ کے شاہی خاندان شریک ہوئے۔ وکٹوریہ یورپ میں واحد اور آخری ملکہ تھیں جن کی آخری رسومات میں تقریباً یورپ کے تمام شاہی خاندان شریک ہوئے، بعد ازاں یہ موقع کسی ملکہ یا بادشاہ کو میسر نہیں آیا۔

وکٹوریہ اپنے شوہر شہزادہ البرٹ کونسرٹ کے ہمراہ عروسی شاہی لباس میں– بکنگہم محل، 30 جنوری 1854ء
وکٹوریہ کی پانچ بیٹیاں حالت غم میں اپنے والد شہزادہ البرٹ کونسرٹ کے مجسمہ کے پاس– مارچ 1862ء

وراثت[ترمیم]

شاہی خطابات[ترمیم]

وکٹوریہ اور گھڑ سوار جان براؤن1863ء

اولاد[ترمیم]

ملکہ وکٹوریہ اور * شہزادی ایلس، مملکت متحدہ اپنے پانچ بچوں کے ہمراہ– شہزادی ایلس، مملکت متحدہ، * شہزادہ الفریڈ

نگارخانہ[ترمیم]

برطانوی سکہ فارتھنگ1884ء
ہندوستانی روپیہ جس پر وکٹوریہ کی شبیہ ہے– ایڈورڈ ہفتم
وکٹوریہ – 1883ء

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://www.express.co.uk/news/royal/603847/Queen-Elizabeth-II-Britain-s-longest-serving-monarch
  2. http://www.bbc.com/news/uk-34177107
  3. http://www.telegraph.co.uk/news/uknews/queen-elizabeth-II/11852796/The-Queen-longest-serving-monarch-live.html
  4. http://www.telegraph.co.uk/news/uknews/queen-elizabeth-II/11485439/Should-we-celebrate-when-the-Queen-becomes-our-longest-reigning-monarch.html
  5. Hibbert, pp. 3–12; Strachey, pp. 1–17; Woodham-Smith, pp. 15–29
  6. Hibbert, pp. 12–13; Longford, p. 23; Woodham-Smith, pp. 34–35
  7. Hibbert, p. 27; Longford, pp. 35–38, 118–119; St Aubyn, pp. 21–22; Woodham-Smith, pp. 70–72.
  8. Waller, pp. 338–341; Woodham-Smith, pp. 68–69, 91
  9. Longford, p. 31; Woodham-Smith, p. 75
  10. Hibbert, p. 46; Longford, p. 54; St Aubyn, p. 50; Waller, p. 344; Woodham-Smith, p. 126
  11. St Aubyn, pp. 55–57; Woodham-Smith, p. 138
  12. ملکہ وکٹوریہ: روزنامچہ وکٹوریہ، بابت 20 جون 1837ء۔
  13. Woodham-Smith, p. 140
  14. St Aubyn, p. 69; Waller, p. 353
  15. https://www.gov.uk/government/history/past-prime-ministers/william-lamb-2nd-viscount-melbourne
  16. Hibbert, p. 83; Longford, pp. 120–121; Marshall, p. 57; St Aubyn, p. 105; Waller, p. 358
  17. Marshall, p. 42; St Aubyn, pp. 63, 96
  18. Marshall, p. 47; Waller, p. 356; Woodham-Smith, pp. 164–166
  19. Hibbert, pp. 77–78; Longford, p. 97; St Aubyn, p. 97; Waller, p. 357; Woodham-Smith, p. 164
  20. Hibbert, p. 79; Longford, p. 98; St Aubyn, p. 99; Woodham-Smith, p. 167
  21. Rappaport, Helen, Queen Victoria: A Biographical Companion، ABC-CLIO, 2003, p.188.
  22. Longford, p. 122; Marshall, p. 57; St Aubyn, p. 104; Woodham-Smith, p. 180
  23. Hibbert, pp. 107–110; St Aubyn, pp. 129–132; Weintraub, pp. 77–81; Woodham-Smith, pp. 182–184, 187
  24. Hibbert, p. 123; Longford, p. 143; Woodham-Smith, p. 205
ملکہ وکٹوریہ
ذیلی شاخ ویلف خاندان
پیدائش: 24 مئی 1819ء وفات: 22 جنوری 1901ء
شاہی القاب
پیشرو 
ولیم چہارم، مملکت متحدہ
ملکہ مملکت متحدہ
20 جون 1837ء22 جنوری 1901ء
جانشین 
ایڈورڈ ہفتم
خالی
عہدے پر پچھلی شخصیت
بہادر شاہ ظفر
بطور مغل شہنشاہ سلطنت مغلیہ
شہنشاہ ہند
یکم مئی 1876ء22 جنوری 1901ء

<link rel="mw:PageProp/Category" href="./زمرہ:خاندان_ہانوور" />