ملکہ وکٹوریہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

وکٹوریہ کے دیگر استعمالات کے لیے دیکھیے وکٹوریہ (ضد ابہام)

وکٹوریہ
Victoria
Queen Victoria by Bassano.jpg
ملکہ وکٹوریہ 1882
ملکہ مملکت متحدہ
معیاد عہدہ 20 جون 1837 – 22 جنوری 1901
پیشرو ولیم چہارم
جانشین ایڈورڈ ہفتم
وزرائے اعظم دیکھیے فہرست
ملکہ ہند
فرماں روائی 1 مئی 1876 – 22 جنوری 1901
شاہی دربار 1 جنوری 1877
جانشین ایڈورڈ ہفتم
وائسرائے دیکھیے فہرست
شریک حیات البرٹ
نسل
تفصیل
مکمل نام
الیگزینڈرینہ وکٹوریہ
خاندان ہینوور خاندان
والد شہزادہ ایڈورڈ
والدہ شہزادی وکٹوریہ
پیدائش 24 مئی 1819 (1819-05-24)
لندن
وفات 22 جنوری 1901 (عمر 81 سال)
آئل آف ویٹ
تدفین 4 فروری 1901
ونڈسر
دستخط
ملکہ وکٹوریہ کی تخت نشینی کی تصویر، اس تصویر کو جارج ہَیٹر نے1838ء میں تخلیق کیا تھا۔

ملکہ وکٹوریہ سلطنت برطانیہ کی ملکہ تھی۔ ملکہ وکٹوریہ بروز سوموار 24 مئی 1819 ء کو صبح 04:15 پر کینسنگٹن محل لندن میں پیدا ہوئی۔ منگل20 جون1837ء کو 18سال28 دن کی عمر میں ملکہ برطانیہ بنی اور تا وفات ملکہ رہی۔10 فروری 1840ء کو شہزادہ البرٹ سے رشتہ ازدواج میں منسلک ہو گئی۔ 14دسمبر 1861ء کو پرنس البرٹ تپ محرقہ کا شکار ہو کر وفات پاگیا۔ اس کے بعد ملکہ نے چالیس سال حالت بیوگی میں اداس تنہا گزارے۔ ملکہ کا کل دور اقتدار 63 سال 7 مہینے 3 دن ہے، اس لحاظ سے وہ سب سے زیادہ دیر تک اقتدار میں رہنے والی برطانوی حکمران تھی۔ بروز منگل 22 جنوری 1901ء کو شام06:30 پر وفات پائی اُس وقت کل عمر 81 سال 8 مہینے تھی۔ سوموار 4 فروری 1901ء کو فراگمور وِنڈسر میں تدفین کی گئی۔ ملکہ وکٹوریہ کے دور میں سلطنت برطانیہ اپنی طاقت اور عالمی اثر و رسوخ میں اپنی انتہا پر تھی اور یہ دور بہت تبدیلیوں کا دور تھا۔ ملکہ کے 9 بچے تھے۔

ملکہ کی پانچ بیٹیاں اور چار بیٹے تھے۔


بیٹے  :

ایڈورڈ ہفتم [پیدائش 9 نومبر1841ء، وفات 6 مئی 1901ء]

الفریڈ [پیدائش 6 اگست 1844ء ، وفات 30 جولائی 1900ء]

آرتھر [پیدائش یکم مئی 1850ء، وفات 16جنوری 1942ء]

لیوپولڈ [پیدائش 7 اپریل 1853ء، وفات 28 مارچ 1884ء]

بیٹیاں :

وکٹوریہ [پیدائش 21 نومبر1840ء ، وفات 5 اگست 1901ء]

ایلس [پیدائش 25 اپریل 1843ء ، وفات 14دسمبر1878ء]

ہیلینا [ پیدائش 25 مئی 1846ء، وفات 9 جون 1923ء]

لوئز [پیدائش 18 مارچ1848ء، وفات 3 دسمبر 1939ء]

بیٹرکس [پیدائش 14 اپریل1857ء، وفات 26 اکتوبر 1944ء]

انگریز دنیا ميں جہاں بھی گئے اپنی اس ملکہ کو نہ بھولے آسٹریلیا کے ایک صوبے کا نام وکٹوریا ہے۔ افریقہ میں ایک جھیل کا نام وکٹوریہ ہے للی کے خاندان میں ایک بڑے پتوں والے پودے کا نام وکٹوریہ ہے۔ برطانیہ کے سب سے بڑے فوجی اعزاز کا نام وکٹوریہ کراس ہے۔



بیرونی روابط[ترمیم]

20 جون سنہ 1837 کو ملکۂ وکٹوریہ جس کی عمر اس وقت صرف اٹھارہ سال تھی تخت نشیں ہوئی۔ اس کا شمار برطانیہ کی تاریخ میں انتہائی با اثر ملکاؤں میں ہوتا ہے۔ اس نے64 سال تک برطانیہ پر حکمرانی کی۔ ملکہ وکٹوریہ کے دور میں سلطنت برطانیہ اپنی طاقت اور عالمی اثر و رسوخ میں اپنی انتہا پر تھی اور یہ دور بہت تبدیلیوں کا دور تھا۔ سنہ 1858میں اسی کے دور حکومت میں ایسٹ انڈيا کمپنی کے 120 سالہ تسلط کو ختم کر کے ہندوستان کو باضابطہ طورایک برطانوی کالونی بنادیا گيا۔ کہتے ہیں کہ سنہ 1876 میں ہندوستان میں قحط سالی کے نتیجے میں تقریبا ستر لاکھ لوگ مرگئے اور ملکہ وکٹوریہ کے سپاہی اس دوران بھی ہندوستان سے غلہ ایکسپورٹ کرتے رہے۔ ملکہ وکٹوریہ چونسٹھ برس تک ہندوستانی عوام سمیت ديگر اقوام کا خون نچوڑنے کے بعد 22 جنوری سنہ 1901 ميں انتقال کرگئی۔ اس کے انتقال کے بعد ایڈورڈ ہفتم تخت نشین ہوا۔