منشی عبد الکریم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
منشی عبد الکریم
تفصیل= منشی عبدالکریم روایتی ہندوستانی پگڑی میں – مصور رڈولف سووبڈا (1888ء)

ہندوستانی اتالیق ملکہ وکٹوریہ
مدت منصب
23 جون 1887ء22 جنوری 1901ء
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1863[1][2]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
للت پور، بھارت  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 1909 (45–46 سال)[1][2]  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
آگرہ  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ معلم، سیاست دان  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان انگریزی  ویکی ڈیٹا پر زبانیں (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ملازمت ملکہ وکٹوریہ  ویکی ڈیٹا پر نوکری (P108) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
کمپینین آف دی آرڈر آف دی انڈین ایمپائر  ویکی ڈیٹا پر وصول کردہ اعزازات (P166) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

عبد الکریم (پیدائش: 20 اگست 1863–وفات: اپریل 1909) ملکہ وکٹوریہ کے منشی تھے۔ کچھ کہتے ہیں کہ وہ ملکہ کے اردو کے استاد بھی تھے۔ ان کو دربار میں اردو "کلرک" کا عہدہ بھی حاصل تھا۔ حافظ عبد الکریم صاحب نے ملکہ وکٹوریہ کے ساتھ پندرہ (15) سال کام کیا۔ 1887ء میں ہندوستان سے دو ہندوستانیوں کو ملکہ وکٹوریہ کی گولڈن جوبلی پر انہیں ایک مہر پیش کرنے کے لیے انگلستان لایا گیا۔

منشی حافظ عبد الکریم کو شروع میں ملکہ وکٹوریہ کے مطبخ خانے میں بیرا لگایا گیا تھا۔ ملکہ ان کے کاموں ،سچائی اورمہارت متاثر تھی۔ لہذا وہ جلد ہی ملکہ کے منشی کے عہدے پر مقرر ہو گئے- انھوں نے ملکہ کو اردو زبان کے اسباق دیے اور ہندوستان کے رسوم و رواج سے متعارف کروایا۔ بعد میں وہ ملکہ کے "ذاتی کلرک" مقرر ہوئے۔ اور کچھ ہی دنوں بعد ترقی انکا مقدر بن گئی۔ 1895ء میں انھیں ملکہ وکٹوریہ نے " آرڈر آف انڈین ایمپریل" اور 1899ء میں "رائل وکٹوریہ آرڈر" کے خطاب سے نوازہ۔ ملکہ وکٹوریہ نے منشی صاحب کو آگرہ میں اراضی بھی عطا کی۔ ملکہ وکٹوریہ کے انتقال کے بعد ان کے صاحب زادے شاہ ایڈورڈ ہفتم نے منشی عبد الکریم کو دربار سے نکال دیا اور انھیں واپس ہندوستان بھجوادیا۔ مگر شاہ ایڈورڈ ہفتم نے ملکہ وکٹوریہ کے جنازے پر منشی عبد الکریم کو ملکہ وکٹوریہ کا چہرہ دیکھنے کی اجازت دے دی تھی۔ ہندوستان واپس آ کر آگرہ کے "کریم لاج" میں قیام پزیر ہوئے۔ 1909ء میں ان کا انتقال اسی گھر میں ہوا۔ ان کے انتقال کے بعد منشی صاحب اور ملکہ وکٹوریہ کے حوالے سے کئی کہانیاں گردش میں آئیں۔ ان کہانیوں کی سچائی یا حقیقت کے کوئی ٹھوس ثبوت نہیں مل سکے۔

برطانیہ آمد[ترمیم]

منشی آگرہ سے اوائل 1887ء میں روانہ ہوئے اور یکم جون 1887ء کو برطانیہ پہنچے۔[3]

وفات[ترمیم]

منشی عبد الکریم نے 46 سال کی عمر میں 27 اپریل 1909ء میں آگرہ میں وفات پائی۔ منشی کی تدفین قبرستان پِچ کویاں، آگرہ میں کی گئی۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب جی این ڈی- آئی ڈی: https://d-nb.info/gnd/141366745 — اخذ شدہ بتاریخ: 15 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: CC0
  2. ^ ا ب ایف اے ایس ٹی - آئی ڈی: http://id.worldcat.org/fast/1753940 — بنام: Abdul Karim — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  3. Abdul Karim | Making Britain

بیرونی روابط[ترمیم]