وکٹوریا اینڈ عبدل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
وکٹوریا اینڈ عبدل
Victoria & Abdul
VictoriaAndAbdulPoster.jpg
برطانوی پوسٹر
ہدایت کار سٹیفن فریرز
پروڈیوسر
  • ٹم بیون
  • ایرک فیلنر
  • بیبن کڈرون
  • ٹریسی سیورڈ
منظر نویس لی ہال
ماخوذ از Victoria & Abdul 
از شربانی باسو
ستارے
موسیقی تھامس نیومین
سنیماگرافی ڈینی کوہن
ایڈیٹر میلنی این اولیور
پروڈکشن
کمپنی
تقسیم کار
تاریخ اشاعت
  • 3 ستمبر 2017ء (2017ء-09-03) (وینس)
  • 15 ستمبر 2017ء (2017ء-09-15) (مملکت متحدہ)
  • 22 ستمبر 2017ء (2017ء-09-22) (ریاستہائے متحدہ)
دورانیہ
111 منٹ[1]
ملک
  • مملکت متحدہ
زبان انگریزی
باکس آفس $65.3 ملین[2]

وکٹوریا اینڈ عبد ل (انگریزی: Victoria & Abdul) سٹیفن فریرز کی ہدایتکاری میں 2017ء میں بننے والی ایک برطانوی سوانحی فلم ہے جسے لی ہال نے تحریر کیا۔ فلم اپنی ہم نام کتاب پر مبنی ہے جس جے مصنف شربانی باسو ہیں۔ اس فلم کی کہانی مملکت متحدہ کی ملکہ وکٹوریہ اور ان کے ہندوستانی ملازم منشی عبد الکریم کے باہمی تعلقات کے بارے میں ہے۔

کہانی[ترمیم]

آگرہ، ہندوستان کے ایک نوجوان جیل کلرک عبدالکریم کو 1887ء میں ملکہ وکٹوریہ کی گولڈن جوبلی کے موقع پر ملکہ وکٹوریہ کو ایک مہر (سونے کا ایک سکہ) پیش کرنے کے لیے منتخب کر کے انگلستان روانہ کیا جاتا ہے۔

ملکہ تنہائی کا شکار اور اپنے درباری چاپلوسوں سے بیزار ہے، اسی لیے عبد الکریم سے دلچسبی اور دوستی اختیار کرتی ہے۔ وہ اس کے ساتھ تنہا وقت گزارتی ہے اور اسے اپنا استاد منشی بنا لیتی ہے۔ وہ اسے اردو اور قرآن پڑھانے کو کہتی ہے۔ ملکہ وکٹوریہ کو پتا چلتا ہے کہ عبد الکریم شادی شدہ ہے تو وہ اس کی بیوی اور ساس کو بھی انگلستان بلا لیتی ہے۔ اور اس کے خاندان کی آمد پر خصوصی توجہ دیتی ہے۔ عبد الکریم کی بیوی جو برقع میں آتی ہے اسے خاص پر پر علیحدگی میں دیکھنے جاتی ہے۔

ملکہ کی ایک ہندوستانی پر خصوصی نوازشات کی وجہ سے اس کا خاندان اور اندرونی حلقہ بشمول اس کا بیٹا برٹی اور وزیر اعظم اسے نا پسند کرتے ہیں۔ وہ عبد الکریم کے خلاف سازش کرتے ہیں اور ملکہ وکٹوریہ کو کہتے ہیں کہ 1857ء میں مسلمانوں نے ہی انگریزوں کے خلاف علم بغاوت بلند کیا تھا۔ ان کا خیال تھا کہ اس وجہ سے ملکہ عبد الکریم کو واپس بھجوا دے گی۔ ملکہ اس بات پر واقعی عبد الکریم سے زنجیدہ اور ناراض ہوتی ہے اور اسے واپس بھیجنے کا فیصلہ کرتی ہے۔ جس پر خاندان کافی خوش ہوتا ہے۔ تاہم وہ عین موقع ہر اپنا فیصلہ تبدیل کر لیتی ہے۔

ملکہ وکٹوریہ کی ہندوستان میں دلچسبی بڑھتی جاتی ہو اور وہ آئل آف ویٹ میں اپنے اوزبورن ہاؤس میں ایک دربار روم تعمیر کرواتی ہے جسے ہندوستانی طرز سے سجایا جاتا ہے۔ وہ اپنے خاندان والوں کو یہ بھی کہتی ہے کہ وہ عبد الکریم کو نائٹ کا خطاب دینا چاہتی ہے۔ اس کے رد عمل میں تمام خاندان اس فیصلے کے خلاف متحد ہو کے اپنے استعفے ملکہ کو بھجوا دیتا ہے۔ ملکہ سخت برہم ہو کر تمام خاندان کو بلاتی ہے اور کہتی ہے جس جس کو مستعفی ہونا ہے وہ آگے بڑھے، تاہم کوئی بھی آگے نہیں بڑھتا۔

جب ملکہ بیمار پڑتی ہے تو وہ عبد الکریم کو کہتی ہے کہ وہ واپس ہندوستان چلا جائے کیونکہ اس کے بعد اس کے خاندان والے اس کے خلاف ہو جائیں گے، تاہم وہ ملکہ کے پاس رہنا چاہتا ہے۔ 1901ء میں ملکہ وفات پا جاتی ہے اور برٹی بطور ایڈورڈ ہفتم تخت نشین ہوتا ہے۔ اس کے حکم پر عبد الکریم کو ملکہ سے ملنے والے تحائف اور تمام تحریروں کو نذر آتش کر دیا جاتا ہے۔ اسے اور اس کے خاندان کو واپس ہندوستان بھیج دیا جاتا ہے۔ فلم کی آخر میں دکھایا گیا ہے کہ عبد الکریم آگرہ، ہندوستان میں واپس آ کر بھی صبح سویرے ملکہ وکٹوریہ کے مجسمے کے پاس جاتا ہے اور اپنی عقیدت کا اظہار کرتا ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "VICTORIA AND ABDUL (PG)"۔ Universal Pictures Int (UK)۔ British Board of Film Classification۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ اگست 22, 2017۔
  2. "Victoria and Abdul (2017)"۔ باکس آفس موجو۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ جنوری 17, 2017۔

بیرونی روابط[ترمیم]