رچرڈ اول شاہ انگلستان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
رچرڈ اول شاہ انگلستان
(انگریزی میں: Richard the Lionheart)،(فرانسیسی میں: Richard Cœur de Lion خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
Church of Fontevraud Abbey Richard I effigy.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 8 ستمبر 1157  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
اوکسفرڈ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 6 اپریل 1199 (42 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
شالو  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
مدفن روان کیتھیڈرل  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام دفن (P119) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of England.svg مملکت انگلستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
مذہب رومن کیتھولک
والد ہنری دوم شاہ انگلستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والد (P22) ویکی ڈیٹا پر
بہن/بھائی
خاندان خاندان پلانٹیجنیٹ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں خاندان (P53) ویکی ڈیٹا پر
مناصب
فہرست انگریز شاہی حکمرانان   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
دفتر میں
6 ستمبر 1189  – 15 اپریل 1199 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png ہنری دوم شاہ انگلستان 
جان شاہ انگلستان  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
دیگر معلومات
پیشہ شاعر،  نغمہ ساز،  بادشاہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان لاطینی زبان[1]،  اوسیٹین  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
رچرڈ شیر دل
انیسویں صدی کی عکاسی میں رچرڈ حسرت سے بیت المقدس کی جانب دیکھتے ہوئے

رچرڈ اول (پیدائش:8 ستمبر، 1157ء - وفات: 6 اپریل، 1199ء) 6 جولائی، 1189ء سے اپنی وفات تک انگلستان کا بادشاہ تھا۔ انہوں نے مختلف اوقات میں اسی مدت کے دوران میں نارمنڈے ،Aquitaine ،گاسکونی کے ڈیوک، آئر لینڈ، قبرص کے لارڈ، نینتز، آنجو، مائن کے نواب اور Brittany (فرانس کا صوبہ) کے سردار اعلیٰ کے طور پر حکومت کی۔ رچرڈ کی ماں کا نام ایلینار آف گا ئن تھا۔ رچرڈ اس کی آخری عمر میں پیدا ہوا تھا۔ وہ شاہ لویس کی سابقہ ملکہ تھی جو 1149ء کی صلیبی جنگ میں مسیحی فوجوں کا ایک سردار تھا۔ شاہ لویس سے طلاق کے بعد ایلینار نے ہنری ڈیوک آف آنجو سے شادی کر لی۔ 16 سال کی عمر میں رچرڈ نے اپنی فوج کی کماند کرتے ہوئے پااٹو (Poitou) میں بغاوت کو کچلا جو اس کے والد، بادشاہ ہنری دوم کے خلاف تھی ۔

رچرڈ بلا کا طاقتور تھا - بہت دلیر اور اولوالعزم - اس نے بڑے بڑے معرکے سر کیے تھے۔ جنگ میں اس کی شجاعت مسلم تھی۔ اس کی پرجوش فطرت کو کھیلوں کے مقابلوں کی عمدہ ضیافتوں میں تسکین ملتی۔ اس کی رگوں میں پوشیرز اور گاسکونی کے مطربوں اور منچلے شہزادوں کا خون گردش کر رہا تھا وہ تیغ زنی اور نیزہ بازی میں انتہا ئی لطف محسوس کرتا۔ وہ بربط بجانے کا بھی بہت شوقین تھا۔ رچرڈ کو فن ملک داری سے دور کا بھی واسطہ نہ تھا۔ اس کے قوی ہاتھ تلوار کے قبضے اور نیزے کے گز کے لیے پیدا کیے گئے تھے۔ انہں قلم اور کاغز سے کوئی سروکار نہ تھا۔

وہ رچرڈ شیر دل کے طور پر جانا جاتا تھا، یہاں تک کہ اپنے الحاق سے پہلے بھی اور اس کی بڑی وجوہات تھیں کہ رچرڈ ایک عظیم فوجی رہنما اور جنگجو کے طور پر مشہور تھا۔ اس نے تیسری صلیبی جنگ کے لیے رقم جمع کرنے کے لیے نہایت ہی بے پروائی سے شاہی مراعات فروخت کر دی۔ اپنے باپ کے قہر سے بچنے کے لیے رضا کارانہ طور پر جلا وطنی اختیار کر لی تھی۔ وہ اپنے باپ کی موت تک فرانس میں مقیم رہا۔ صلیبی جنگ کے دور آغاز میں وہ تخت نشین ہوا۔ وہ نازک مزاج، متکبر اور انتہائی بہادر تھا۔ رچرڈ تیسری صلیبی جنگ کے دوران مرکزی مسیحی کمانڈر تھا، مؤثر طریقے سے فلپ آگسٹس کی رخصتی کے بعد اس مہم کی قیادت اس کے پاس تھی گویا اس نے مسلمان ہم منصب صلاح الدین ایوبی کے خلاف کچھ کامیابیاں ضرور حاصل کیں، لیکن وہ یروشلم فتح کرنے میں ناکام رہا۔

عرب مورخ اسے ملک الرک کے نام سے یاد کرتے ہیں۔ رچرڈ شیر دل انفرادی مبارزت میں واقعی بے مثال تھا۔ لیکن فوجی قیادت اس کے بس کا روگ نہ تھا، رچرڈ کی قیادت میں صلیبی جنگ ناکام ہو گئی تھی۔ اس نے جنگ میں خطروں کو للکارا تھا، خوب دادشجاعت حاصل کی لیکن اپنے مقصد اولین میں بری طرح ناکام رہا تھا۔ جب اس نے فوج کی کمان سنبھالی تو وہ بالکل بے بس ہو کر رہ گیا تھا پھر اس نے یہ ظلم ڈھایا کہ عکہ کے مسلمان اسیران جنگ کو جو دراصل یرغمال تھے تہ تیغ کر دیا۔ لیکن اس بدترین ناکامی کے باوجود اس کے دلیرانہ کارنامے ہمیشہ یاد رہيں گے۔

صلیبی جنگ میں شکست کھانے کے بعد انگلستان میں رچرڈ کا کسی نواب سے سونے پر جھگڑا ہو گیا۔ رچرڈ نے خفا ہو کر اس کے قلعے کا محاصرہ کر لیا دوران محاصرہ کسی تیر انداز نے گز دار کمان سے بادشاہ کو نشانہ بنایا۔ رچرڈ نے تیر انداز کی جان بخش دی لیکن وہ اس کاری زخم سے جانبر نہ ہو سکا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مکمل کام یہاں دستیاب ہے: http://catalogue.bnf.fr/ — اخذ شدہ بتاریخ: 8 اکتوبر 2016