جارج اول، برطانیہ عظمی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
جارج اول، برطانیہ عظمی
(انگریزی میں: George Iخاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
جارج اول، برطانیہ عظمی

شاہ برطانیہ عظمی و آئر لینڈ (مزید...)
دور حکومت 1 اگست 1714 – 11 جون 1727[1]
تاج پوشی 20 اکتوبر 1714
وزیر اعظم (enA) رابرٹ والپول
انتخاب کنندہ ہانوور
دور 23 January 1698 – 11 June 1727[1]
معلومات شخصیت
پیدائش 7 جون 1660[2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
ہینور[3]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 22 جون 1727 (67 سال)[2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
اوسنابرک[4]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
وجۂ وفات سکتہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وجۂ وفات (P509) ویکی ڈیٹا پر
تاریخ دفن 4 اگست 1727
شہریت Flag of the United Kingdom.svg مملکت متحدہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
مذہب لوتھریت[5]
رکن رائل سوسائٹی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رکن (P463) ویکی ڈیٹا پر
اولاد جورج دوم  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں اولاد (P40) ویکی ڈیٹا پر
خاندان خاندان ہانوور
نسل جارج دوم
صوفیہ ڈوروتھیا
دیگر معلومات
پیشہ سیاست دان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
دستخط
جارج اول، برطانیہ عظمی

جارج اول (George I) یکم اگست، 1714ء سے 11 جون، 1727 میں اپنی موت تک مملکت برطانیہ عظمی اور مملکت آئرلینڈ کا بادشاہ تھا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ 1.0 1.1 Throughout George's life, Great Britain used the Old Style جولینی تقویم. Hanover adopted the New Style عیسوی تقویم on 1 March 1700 (N.S.) / 19 February 1700 (O.S.). Old Style is used for dates in this article unless otherwise indicated; however, years are assumed to start from 1 January and not 25 March, which was the English New Year.
  2. ^ 2.0 2.1 اجازت نامہ: سی سی زیرو
  3. اجازت نامہ: سی سی زیرو
  4. اجازت نامہ: سی سی زیرو
  5. Lathbury، Thomas (1858)۔ A History of the Book of Common Prayer and Other Books of Authority۔ Oxford: John Henry and James Parker۔ صفحہ 430۔ "George I. remained a Lutheran as long as he lived, and had his German chaplain; but he conformed on some occasions with the Church of England. George II. was in the same position. Though Lutherans, they exercised acts of supremacy in the Church of England; and the common opinion was, that there was no opposition between the views of the two Churches"