سکتہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
سکتہ
جماعت بندی اور بیرونی ذرائع
Brain human normal inferior view.svg
دماغ کا نچلی جانب کا منظر؛ جہاں سے دماغ میں خون کی نالیاں داخل ہوتی اور نکلتی ہیں
آئیسیڈی-10 I61.-I64.
آئیسیڈی-9 435-436
اوایـم 601367
معطیات 2247
میڈلائین 000726pi
ایمیڈ neuro/9 

سکتہ (stroke) ایک ایسی حالت کا نام ہے کہ جب اچانک نا گہانی طور پر دماغ (یا اسکے کسی حصے میں) دوران خون انقطاع ہوجاۓ یعنی اسمیں رکاوٹ آجاۓ۔ اس اانقطاع کی دو اہم وجوہات ہوسکتی ہیں، ایک تو یہ کہ دماغ کو خون لے کر جانے والی کسی شریان میں رکاوٹ آجاۓ اور دوسری یہ کہ وہ شریان ٹوٹ جاے یا عام الفاظ میں پھٹ جاۓ۔ چونکہ تمام غذائی ذرات اور آکسیجن خون کے زریعے ہی دماغ کے خلیات تک پہنچتی ہے لہذا اگر اس فراہمی میں کوئی رکاوٹ آجاۓ تو دماغ کے خلیات اپنی زندگی برقرار نہیں رکھ سکتے اور ناکارہ ہو جاتے ہیں۔ اور چونکہ یہ دماغ کے خلیات ہی ہوتے ہیں جو کہ تمام جسم کے حصوں کو احکامات بھیج کر ان سے کام لیتے ہیں، پس انکے ناکارہ ہوجانے پر جسم کے مختلف اعضاء مثلا عضلات (muscles) کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ اس کیفیت کو عام طور پر فالج کہا جاتا ہے کہ جب جسم کے عضلات مفلوج ہو جائیں اور اس کیفیت کی شدت کا دارومدار دماغ کے ناکارہ ہونے والے خلیات کی مقدار پر ہوتا ہے۔ بعض اوقات دماغ میں سکتہ کی صورتحال معمولی شدت کی ہوتی ہے اور ایسی صورت میں انسانی جسم مکمل مفلوج نہیں ہوتا اور یہ کیفیت مستقل قائم بھی نہیں رہتی اور اسکے جلد گذر جانے کے امکانات قوی ہوتے ہیں اسی وجہ سے ایسی سکتہ کی کیفیت کو ذودگذر-اقفاری-حادثہ (transient-ischemic-attack) کہا جاتا ہے۔ لیکن اس قسم کے چھوٹے سکتہ کے حادثات کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیۓ کیونکہ یہ اکثر سکتے کہ بڑے حملہ (مکمل فالج) کا پیش خیمہ ثابت ہوتے ہیں۔ طب کی دنیا میں لفظ سکتہ سے مراد ایک ایسے مرض کی لی جاتی ہے کہ جسکی تعریف اوپر بیان کی گئی ہے، یہاں سکتہ سے مراد اسکے عام مفہوم، خاموشی یا سکوت کی نہ لی جاۓ۔ طب میں سکتہ کا لفظ انگریزی کے لفظ stroke کا اردو متبادل ہے۔

‘‘http://ur.wikipedia.org/w/index.php?title=سکتہ&oldid=805948’’ مستعادہ منجانب