لندن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
لندن
London
مملکت متحدہ اور انگلستان کا دار الحکومت
Heron TowerTower 4230 St Mary AxeLeadenhall BuildingWillis BuildingLloyds Buildingکینری وارف، لندن20 Fenchurch Streetلندن شہرلندن انڈرگراؤنڈبگ بینٹریفالگر اسکوائرلندن آئیٹاوربرجدریائے ٹیمزLondon montage. Clicking on an image in the picture causes the browser to load the appropriate article.
اس تصویر کے متعلق
اوپر سے گھڑی وار: لندن شہر پیش منظر میں مع کینری وارف دور پس منظر میں، ٹریفالگر اسکوائر، لندن آئی، ٹاوربرج اور لندن انڈرگراؤنڈ کی علامت بگ بین کے سامنے
لندن London is located in انگلستان
لندن London
لندن
London
لندن London is located in مملکت متحدہ
لندن London
لندن
London
لندن London is located in یورپ
لندن London
لندن
London
لندن London is located in زمین
لندن London
لندن
London
انگلستان میں مقام##مملکت متحدہ میں مقام##یورپ میں مقام##زمین پر مقام
متناسقات: 51°30′26″N 0°7′39″W / 51.50722°N 0.12750°W / 51.50722; -0.12750متناسقات: 51°30′26″N 0°7′39″W / 51.50722°N 0.12750°W / 51.50722; -0.12750
خود مختار ریاستمملکت متحدہ
ملکانگلستان
علاقہلندن عظمیٰ
آباد از رومی سلطنت47 عیسوی[1]
بطور لوندینیوم
کاؤنٹیلندن شہر اور لندن عظمیٰ
اضلاعلندن شہر اور 32 برو
حکومت
 • قسمذمہ دار اتھارٹی
 • مجلسگریٹر لندن اتھارٹی
 • منتخب ادارہلندن اسمبلی
 • میئرصادق خان (لیبر پارٹی)
 • لندن اسمبلی14 حلقہ جات
 • مملکت متحدہ پارلیمان73 حلقہ جات
 • یورپی پارلیمانلندن
رقبہ
 • لندن عظمیٰ1,572 کلومیٹر2 (607 میل مربع)
 • شہری1,737.9 کلومیٹر2 (671 میل مربع)
 • میٹرو8,382 کلومیٹر2 (3,236 میل مربع)
بلندی[2]11 میل (36 فٹ)
آبادی (2017)[4]
 • لندن عظمیٰ8,825,000
 • کثافت5,590/کلومیٹر2 (14,500/میل مربع)
 • شہری9,787,426
 • میٹرو14,040,163[3]
نام آبادیلنڈنر
کاکنی (مکالماتی)
جی وی اے (2016)[5]
 • کلپاؤنڈ اسٹرلنگ396 بلین (امریکی ڈالر531 بلین)[6]
 • فی کسپاؤنڈ اسٹرلنگ45,046 (امریکی ڈالر60,394)[7]
منطقۂ وقتگرینوچ معیاری وقت (UTC)
 • گرما (گرمائی وقت)برطانوی موسم گرما وقت (UTC+1)
ڈاک رمز علاقے
ٹیلی فون کوڈ
پولیسلندن شہر پولیس اور میٹروپولیٹن پولیس
بین الاقوامی ہوائی اڈےہیتھرو (ایل ایچ آر)
سٹی (ایل سی وائی)
لندن عظمی سے باہر:
گیٹوک (ایل جی ڈبلیوو)
اسٹینسٹیڈ (ایس ٹی این)
لوٹن (ایل ٹی این)
ساوتھ اینڈ (ایس ای این)
جغرافیائی اعلی ترین ڈومین نیم۔london
ویب سائٹlondon.gov.uk

لندن، برطانیہ کا دارالحکومت اور سب سے بڑا شہر ہے۔[8] تقریباًً دو ہزار سال پرانی آبادی، جس کے تاریخی مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ اس کی بنیاد قدیم رومیوں نے رکھی تھی۔[9] اس آبادی کے قیام سے آج تک لندن بہت سے تحریکوں اور عالمگیر واقعات کا مظہر رہا ہے، جس میں انگریزی کا ارتقا، صنعتی انقلاب اور قدیم رومیوں کا احیاء بھی شامل ہیں۔[10] مرکزِ شہر اب بھی وہی قدیم شہرِ لندن ہے، جس میں اب بھی قرون وسطٰی کی حدود نظر آتی ہیں، تاہم کم از کم اُنیسویں صدی سے نام “لندن“، اُن تمام علاقوں تک پھیل گیا، جو اس کے اطراف و اکناف میں آباد ہوئے تھے۔[11] اور آج آبادیوں کا یہ ہجوم لندن، برطانیہ کے علاقوں[12] اور عظیم لندن کے انتظامی علاقے [13] اور مقامی طور پر منتخب ناظم اور لندن دستور ساز مجلس کا حامل ہے۔[14] لندن دنیا کے ممتاز تجارتی، معاشی اور ثقافتی مراکز میں سے ایک ہے[15] اور دنیا بھر کی سیاسی، تعلیمی، تفریحی، صحافتی، فیشن اور فنون لطیفہ اس کے گہرے اثرات، اس کے بین الاقوامی شہر ہونے کے شاہد ہیں۔[16] لندن چار یونیسکو عالمی ثقافتی ورثہ کا حامل ہے: ویسٹمنسٹر محل اور کلیسائے ویسٹمنسٹر، کلیسائے سینٹ مارگریٹ، لندن بُرج، گرینچ کی تاریخی آبادی اور شاہی نباتیاتی باغیچہ، کیو۔[17] یہ شہر اندرون ملک و بیرون ملک سے آنے والے سیاحوں کا سب سے بڑا مرکز ہے۔[18] لندن بہت سے قسم کے لوگ، مذاہب اور ثقافتوں کا گہوارہ ہے، اس شہر میں تین سو سے زائد زبانیں بولی جاتی ہیں۔[19] 2006ء کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق یہاں کی آبادی 75,12,400 ہے جو عظیم لندن کی حدود میں ہے۔[20] یہ آبادی کے لحاظ سے یورپی اتحاد کا سب سے بڑا شہر ہے۔[21] سن 2001ء کے اعداد و شمار کے مطابق لندن کے شہری علاقوں کی آبادی 82,78,251 [22] جبکہ میٹروپولیٹن علاقوں کی آبادی ایک کڑور بیس لاکھ سے ایک کڑور چالیس لاکھ کے لگ بھگ تھی۔[23][24]

تاریخ[ترمیم]

1300ء کا لندن، قرونِ وسطٰی کی حدود نمایاں ہیں۔

لفظ لندن کا اشتقاقی مفہوم ہنوز صیغہء راز میں ہے۔ ابتدائی اشتقاقی وضاحتوں کو جیوفرے آف منماؤتھ برطانیہ کی قبل از تاریخ سے جوڑا جاتاہے۔ ایک قیاس یہ بھی ہے کہ یہ نام اسے اس وقت کے برطانوی بادشاہ لد کی بدولت ملا، جس کے متعلق کہا جاتا ہے کہ اُس نے لندن پر قبضہ کر لیا اور اسے کیرلد کے نام سے موسوم کیا، کیرلد وقت کے ساتھ ساتھ کیرلدن اور پھر آخر کار لندن ہو گیا۔ اس سلسلے میں اور بھی کئی قیاس آرائیاں ہیں، جو گزرتے وقت کے ساتھ بڑھتی جا رہی ہیں، جن میں سے زیادہ تر کے مطابق یہ نام ویلزی یا برطانوی لفظ سے اخذ کردہ ہے جبکہ بعض کے مطابق یہ متروک شدہ پرانی انگریزی حتٰی کے بعض کے مطابق یہ لفظ عبرانی سے اخذ شدہ ہے۔
انگريزوں كا دعوي ہے كہ قديم رومى دور ميں بهى لندن ايكـ سر گرم مركز تها ـ يہ چہوٹا سا گاؤں دريائے تهيمز كے كنارے اس طرح آباد كيا گيا كہ ايكـ طرف سے دريا اس كى حفاظت كرتا تها ـ تاريخ بتاتى ہے كہ جن دنوں عرب مسلمانوں كى تهذيب ہسپانیہ يعنى اسپین ميں عظمت كى بلنديوں كو چہو رهى تهى ـ ان دنوں لندن ايكـ چہوٹے سے گاؤں كى حثيت ركهتا تها ـ جهاں كى دلدلى اور بنجر زمين پر چند جہونپڑى نما مكانات اور كچى سڑكيں تهيں اور لوگ بهى ذيادہ تر وحشى اور غاروں كے باسى تہے ـ چناچہ جب انگريزوں كى فوج رچرڈ شير دل كى قيادت ميں صلاح الدین ایوبی سے صليبى جنگوں ميں مقابلہ كرنے گئى تو اس کی اكثريت كهالوں ميں ملبوس تهى اور مسلمان فوج كے لباس اور هتهيار ديكهـ كررچرڈ كے فوجى دنگ رہ گئے ـ 1258ء كے سقوط بغداد كے عظيم الميے كے بعد جب تەذيب كا سورج مغرب ميں طلوع ہوا تو يورپى اقوام نے اپنے شہر منظم كرنے شروع كئيے ـ يورپ ميں شہر بسانے كے لئيے پہلے كوئى يادگارمثلا فوارا يا گهنٹا گهر قسم كى چيز تعمير كر كے اس كے گرد ايكـ بهت بڑا گول چوراها بنايا جاتا تها۔ جس سے كچهـ فاصلے پر اردگرد گولائى ميں مكانات بننے شروع ہو جاتے تہے اور يوں شەر وجود ميں آجاتا تهاـ اس كے برعكس مشرق ميں پہلے ايكـ سيدها طويل بلكہ مستطيل بازار تعمير كيا جاتا ہے جس كے اردگرد مكانات تعمير كئے جاتے هيں ـ انگريزوں نے برصغير ميں جو شہر آباد كئے ان ميں اپنا انداز اپنايا چناچہ لائل پور موجودہ فیصل آباد اور گوجرانوالہ ميں یہی اُصول اپنایا گياـ اصل لندن بهى ايكـ فوارے كے گرد آباد ہے جس كا نام پكاڈلى سركس ہےـ اس فوارے پكاڈلى سركس كے چاروں طرف چهـ بازار نكلتے هيں جو آدھے آدھے ميل لمبے هيں، اصل شہر لندن كى بس یہى حدود هيں يعنى ایک ميل لمبا اور ایک ميل چوڑا ـ انگريزوں كى كالونياں ہونے كى وجہ سے جب دور دور كى دولت سمٹ كر لندن پہنچى تو چند ہزار كى آبادى سے يہ شہر لاكہوں كا شہر بن گيا اور لندن كے گرد مضافاتى بستياں بنائى گئيں اور انهيں مكمل شەروں كے اختيارات دئيے گئے چناچہ لندن شہر سے كہيں بڑے بارہ شہر لندن کے گرد 1940ء ميں آباد كئيے گئے ـ ان شہروں كو ہوم كاؤنٹى كا نام ديا گيا ـ برطانیہ بھر ميں ايسى كاؤنٹيوں كى تعداد 32 ہے، جن ميں سے بارہ لندن ميں ہیں ـ لندن شہر اور اس كى كاونٹيوں كا موجودہ كل رقبعہ 610 مربع میل ہے، جسے عظيم لندن كہا جاتا ہے ـ ایک محتاط اندازے كے مطابق روزانہ گيارہ سے بارہ لاكهـ افراد لندن ميں داخل ہوتے، گہومتے پهرتے ہیں اور شام كو واپس جاتے هيں اور ٹرانسپورٹ كے بەترين نظام سے فائدہ اٹهاتے هيں جو ہائى ويز سے لے كر ريل كے جديد نظام تكـ پهيلا ہوا ہے ـ لندن كے بین الاقوامی ہوائی اڈے ہیتھرو پرقريبا ساڑے چار كروڑمسافر سالانہ سفر كرتے هيں دنيا كى سب سے پەلى زير زمين ريل گاڑى1863ء ميں لندن ميں چلائى گئى ـ دوسرى جنگ عظيم ميں زير زمين ريل گاڑى كے نظام كو كافى نقصان پەنچا ـ اب اس كى پٹريوں كى كل لمبائى254 ميل ہے ـلندن كا كوئى مقام ايسا نەيں جو اس كى دسترس سے باہرہو ـ

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Number 1 Poultry (ONE 94)، Museum of London Archaeology, 2013۔ Archaeology Data Service, The University of York.
  2. "London weather map". The Met Office. 26 اگست 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 26 اگست 2018. 
  3. "Metropolitan Area Populations". Eurostat. 16 نومبر 2017. اخذ شدہ بتاریخ 17 نومبر 2017. 
  4. "Regional gross value added (income approach) – Office for National Statistics". www.ons.gov.uk. 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 10 اکتوبر 2018. 
  5. "XE: Convert GBP/USD. United Kingdom Pound to United States Dollar". www.xe.com. 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 10 اکتوبر 2018. 
  6. "XE: Convert GBP/USD. United Kingdom Pound to United States Dollar". www.xe.com. 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 10 اکتوبر 2018. 
  7. "سن 2006ء میں دنیا کے عظیم اور وسیع ترین شہری علاقے". City Mayors.com. 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. 
  8. "قدیم رومی سلطنت". لندن کا عجائب گھر. 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. 
  9. "قدیم رومی طرزِ تعمیر". Ontario Architecture. 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 06 مئی 2008. 
  10. ملز، ڈیوڈ (2001-02-22). مقامات کے نام، لندن کی لغت. آکسفورڈپیپرز. ISBN 978-0-19-280106-7. OCLC 45406491. 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 16 اکتوبر 2008. 
  11. ملفِ حقیقت: لندن "سرکاری دفاتر برائے انگریزی علاقہ جات" تحقق من قيمة |url= (معاونت). لندن کے سرکاری دفاتر. 
  12. الکوک، ہاورڈ (1994). مقامی حکومت: حکمتِ عملی و انتظام برائے مقامی حکومت. روڈلیج. صفحہ 368. ISBN 0-415-10167-0. 
  13. جانز، بل; ڈینس کوانگ، مائیکل موران، فلپ نورٹن (2007). سیاستِ برطانیہ. پئیرسن ایجوکیشن. صفحہ 868. ISBN 1-4058-2411-5.  Cite uses deprecated parameter |coauthors= (معاونت)
  14. ز۔ین لیمیٹڈ (2005). "لندن بہ لحاظ سے بین الاقوامی معاشی مرکز". CityOfLondon. 26 دسمبر 2018 میں اصل (PDF) سے آرکائیو شدہ. 
  15. * "دنیا کے شہروں کی فہرست". جامعہء لوگبورو، برطانیہ. 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. 
    • ساسین، ساسکیا (1991). بین الاقوامی شہر: نیو یارک، لندن، ٹوکیو. ناشر جامعہء پرنسٹن. ISBN 0-691-07063-6. OCLC 45799502. 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. 
    • بین الاقوامی شہر: GaWC بین الاقوامی شہروں کی فہرست 1999 بین الاقوامی شہر#GaWC بین الاقوامی شہروں کی فہرست (1999 طباعت);
    • بین الاقوامی شہرWC بین الاقوامی شہروں کی فہرست 2004 بین الاقوامی شہر#GaWC دنیا کے ممتاز شہر (2004 طباعت)
  16. "فہرستیں: عظیم برطانیہ کے متحدہ ممالک اور شمالی آئرلینڈ". ثقافتِ دنیا. 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. 
  17. "برطانونی روزگار میلہ;— بیرون ملک کا دورہ". وائے ایکس بیرون ممالک روزگار. 23 جنوری 2007 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 07 جون 2008. 
  18. "برطانیہ کے لوگوں میں بولی جانے والی زبانیں". CILT. 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 06 جون 2008. 
  19. "منتخب عمر کے افراد کے گروہ، مقامی برطانون اربابِ اقتدار". دفتر برائے سرکاری اعداد و شمار. 26 دسمبر 2018 میں اصل (XLS) سے آرکائیو شدہ. 
  20. "یورپی اتحاد کا سب سے بڑا شہر:2001 میں ستر لاکھ سے زائد مکین". www.statistics.gov.uk. 06 جنوری 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ. 
  21. "عمومی شہری آبادی:مردم شماری 2001 شہری علاقوں کے اعداد و شمار". www.statistics.gov.uk. 09 جنوری 2019 میں اصل سے آرکائیو شدہ. 
  22. "فرہنگ جغرافیہ". دنیا کے میٹروپولیٹن علاقے. 30 ستمبر 2007 میں اصل سے آرکائیو شدہ. 
  23. "لندن میٹرو پولیٹن علاقوں کی آبادی". ناشر آبادتیاتی. 28 اگست 2007. 26 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ.