مائیکل فیراڈے

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مائیکل فیراڈے
(انگریزی میں: Michael Faraday ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Faraday-Millikan-Gale-1913.jpg
 

معلومات شخصیت
پیدائش 22 ستمبر 1791[1][2][3][4][5][6][7]  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 25 اگست 1867 (76 سال)[1][2][3][4][5][6][7]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ہیمپٹن کورٹ محل[8]  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن ہائیگیٹ قبرستان[9]  ویکی ڈیٹا پر (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رہائش انگلینڈ
شہریت Flag of the United Kingdom.svg متحدہ مملکت برطانیہ عظمی و آئر لینڈ
Flag of the United Kingdom.svg مملکت متحدہ  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مذہب Sandemanian
رکن رائل سوسائٹی،  سائنس کی پروشیائی اکیڈمی،  رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز،  فرانسیسی اکادمی برائے سائنس،  روس کی اکادمی برائے سائنس،  امریکی اکادمی برائے سائنس و فنون،  امریکن فلوسوفیکل سوسائٹی[10]،  قومی اکادمی برائے سائنس  ویکی ڈیٹا پر (P463) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مقام_تدریس رائل انسٹیٹیوٹ
استاذ سر ہمفری ڈیوی  ویکی ڈیٹا پر (P1066) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ طبیعیات دان،  کیمیادان،  موجد  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مادری زبان انگریزی  ویکی ڈیٹا پر (P103) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان انگریزی[11]  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل طبیعیات،  کیمیا  ویکی ڈیٹا پر (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مؤثر سر ہمفری ڈیوی  ویکی ڈیٹا پر (P737) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
تمغا البرٹ (1966)
رائل میڈل (1846)
تمغا رمفورڈ (1846)
کاپلی میڈل (1838)[12]
کاپلی میڈل (1832)[12]
D-PRU Pour le Merite 1 BAR.svg آرڈر آف میرٹ فار آرٹس اینڈ سائنس
رائل سوسائٹی فیلو 
فیلو آف امریکن اکیڈمی آف آرٹ اینڈ سائنسز  ویکی ڈیٹا پر (P166) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دستخط
Michael Faraday signature.svg

مائیکل فیراڈے ایک انگلستانی سائنس دان تھا 22 ستمبر 1791ء کو انگلستان میں پیدا ہوا۔ اُس نے برقناطیسی قوت اور برقناطیسی کیمیا پر بہت کام کیا۔ اُس نے برقناطیسی تحریض (Electromagnetic induction) دریافت کیا۔ اگرچہ اُس نے بہت کم رسمی تعلیم حاصل کی تھی مگر آج سائنس کی تاریخ میں وہ ایک بہت اہم نام ہے۔[13] بطور کیمیا دان اُس نے بنزین دریافت کی۔ البرٹ آئنسٹائن اپنے پرس میں اُس کی تصویر آئزک نیوٹن اور جیمز کلیرک ماکسویل کی تصویروں کے ساتھ رکھتا تھا[14]۔ مشہورسائنس دان ایرنسٹ ردرفورڈ کا کہنا ہے کہ جب ہم اُس کے ایجادات اور اُن کے اثرات سائنس اور صنعت پر دیکھتے ہیں تو کوئی اعزاز اتنا بڑا نہیں ہے کہ فیراڈے کو دیا جاسکے، جو ہر زمانے کا عظیم ترین سائنس دان ہے۔ اُس نے اپنی زندگی میں سر کا خطاب دو دفعہ ٹھکرایا۔ اُس کا 25 اگست 1867ء کو اپنے گھر میں انتقال ہو گیا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب ربط : https://d-nb.info/gnd/118531921  — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اپریل 2014 — اجازت نامہ: CC0
  2. ^ ا ب http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb12349936f — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  3. ^ ا ب http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb12349936f — اخذ شدہ بتاریخ: 22 اگست 2017 — خالق: John O'Connor اور Edmund Robertson
  4. ^ ا ب Michael Faraday
  5. ^ ا ب ایس این اے سی آرک آئی ڈی: https://snaccooperative.org/ark:/99166/w6w19v74 — بنام: Michael Faraday — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  6. ^ ا ب NE.se ID: https://www.ne.se/uppslagsverk/encyklopedi/lång/michael-faraday — بنام: Michael Faraday — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — عنوان : Nationalencyklopedin
  7. ^ ا ب فائنڈ اے گریو میموریل شناخت کنندہ: https://www.findagrave.com/cgi-bin/fg.cgi?page=gr&GRid=20883 — بنام: Michael Faraday — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  8. http://www.lookandlearn.com/blog/29690/faraday-the-blacksmiths-son-whose-discoveries-revolutionised-the-nineteenth-century/
  9. اوکسفرڈ بائیوگرافی انڈیکس نمبر: https://doi.org/10.1093/ref:odnb/9153 — مدیر: Colin Matthew — عنوان : Oxford Dictionary of National Biography — ناشر: اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس
  10. ربط : این این ڈی بی شخصی آئی ڈی 
  11. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb12349936f — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  12. Award winners : Copley Medal — اخذ شدہ بتاریخ: 30 دسمبر 2018 — ناشر: رائل سوسائٹی
  13. Hart، Michael H. (2000). The 100: A Ranking of the Most Influential Persons in History. New York: Citadel Press. ISBN 0-89104-175-3. ۔
  14. "Einstein's Heroes: Imagining the World through the Language of Mathematics"، by Robyn Arianrhod UQP, reviewed by Jane Gleeson-White, 10 نومبر 2003, The Sydney Morning Herald۔