طبیعیات

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
طبیعیات
ایک مثالی حرحرکیاتی نظام - حرارت گرم (مِرجل یا boiler) سے سرد (مکثفہ یا condenser) کی جانب حرکت کرتی ہے اور اس حرکت سے استفادہ کرتے ہوۓ آلاتی کام انجام دیا جاسکتا ہے۔

طبیعیات سادہ سے الفاظ میں مادے اور توانائی کے علم اور ان کے باہمی تعلق کے مطالعے کو کہا جاتا ہے۔ یہ شعبہ علم علم طبیعی (physical science) کا ایک بنیادی شعبہ ہے۔ اس کی تعریف یوں بھی کی جاسکتی ہے کہ یہ فطرت یا طبیعہ کے اصول و قوانین کے مطالعہ کا نام ہے۔

انگریزی میں Physics کا لفظ ، یونانی زبان کے physis سے آیا ہے جس کے معنی فطرت یا طبیعہ کے ہوتے ہیں۔ طبیعہ سے مراد کائنات کی ہر وہ شئے ہوتی ہے کہ جو انسان کے اختیار یا تضبیط (control) سے باہر ہو (یا کم از کم اس وقت رہی ہو جب سے اس لفظ کی ان معنوں میں استعمال کی اصطلاح رائج ہوئی) اور اسی عربی لفظ طبیعہ سے آج کا مروجہ لفظ برائے physics یعنی طبیعیات ماخوذ ہے۔ بالکل اسی نام کی مناسبت سے طبیعیات ایک ایسا سائنسی علم ہے کہ جس میں فطرت و طبیعہ کے ان بنیادی قوانین پر تحقیق کی جاتی ہے کہ جو اس کائنات کے نظم و ضبط کو برقرار رکھے ہوۓ ہیں۔ یہ فطرت کے قوانین چار اہم اساسوں کے گرد گھومتے ہیں جو بنام زمان و مکاں اور مادہ و توانائی ہیں۔ اس کا لب لباب یوں کہہ سکتے ہیں کہ طبیعیات دراصل کائنات کی تشکیل کرنے والے بنیادی اجزاء اور ان اجزاء کے باہمی روابط کے مطالعے اور پھر ان کے زیرِ اثر چلنے والے دیگر نظاموں (بشمول انسان ساختہ) کے تجزیات کا نام ہے۔

طبیعیات کے سلسلے میں ایک عمومی بات یہ ہے کہ یہ طبیعی اجسام سے متعلق رہتا ہے یا یوں بھی کہ سکتے ہیں کہ عام طور پر اس میں غیر نامیاتی (inorganic) اجسام یا مادوں کا مطالعہ کیا جاتا ہے جبکہ اس کے برعکس نامیاتی (organic) مرکبات اور مادوں کا مطالعہ عام طور پر حیاتیات اور فعلیات کے زمرے میں آتا ہے۔ کیمیاء میں اکثر ایسے مقامات آتے ہیں جہاں اسکا علم غیر نامیاتی دائرے سے نکل کر نامیاتی اجسام کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے، مثال کے طور پر حیاتی کیمیاء۔ یہ دائرہ بندی گو بنیادی تصور قائم کرنے کے لیۓ تو اہم ہے لیکن آج سائنس کی ترقی نے ان تمام علوم کے دائروں کا مدھم کرکے اس حد تک پہنچا دیا ہے کہ جہاں اکثر مقامات پر ان کی سرحدیں ایک دوسرے میں نفوذ کرتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔


تاریخ[ترمیم]

طبیعیات علم کے قدیم ترین شعبوں میں شمار کیا جاتاہے اور اس کا آغاز علم فلسفہ سے ہوا ہے۔ یعنی شروع میں مظاہر فطرت کی توضیح و تشریح علم فلسفہ کا ہی حصہ تھا جو بعد میں فطری فلسفہ کہلانے لگا۔بعد ازاں اس کو فطری سائنس کہا جاتا رہا حتٰی کہ طبیعیات کا جدید تصور رائج ہو گیا۔