نظریاتی طبیعیات

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

نظری طبیعیات علم طبیعیات کی ایک شاخ ہے جس میں علم ریاضی کے اصولوں اور منطق کی مدد سے مظاہر فطرت کی وضاحت کی جاتی ہے۔ علم طبیعیات دو بڑی شاخوں میں منقسم ہے یعنی نظری طبیعیات اور تجربی طبیعیات۔ نظری طبیعیات کے برعکس تجربی طبیعیات میں مظاہر فطرت کو سمجھنے کے لیے تجربات کی مدد لی جاتی ہے۔ سائنس کی ترقی نظری اور تجربی تحقیق کے امتزاج پر منحصر ہے۔ کبھی نظری پیشین گوئیوں کوسالوں تجرباتی توصیح کا انتظار کرنا پڑتا ہے جیسا کہ ہگز بوزون کے موجود ہونے کی تجرباتی شہادت ملنے میں تقریبا نصف صدی کا عرصہ لگا۔[1] اسی طرح بعض اوقات تجرباتی طور پر دریافت شدہ مظاہر کی نظری توضیح میں برسوں لگ جاتے ہیں ۔

شوارزشیلڈ ورم ہول کا بصری اظہار۔ ابھی تک ورم ہول دریافت نہیں ہوئے مگر ریاضیاتی اور سائنسی نظریات نے ان کی موجودگی کی پیشین گوئی کی ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "کائنات کی تخلیق کی وجہ، اہم ذرّے کی تلاش کا دعویٰ"۔ برطانوی نشریاتی ادارہ۔ 4جولائی 2015۔ اخذ شدہ بتاریخ 2015-04-24۔ Check date values in: |date= (معاونت)