ابن الہیثم

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
مسلم سائنسدان
ابو علی، الحسن بن الحسن بن الہيثم

ملک عراق کے 1980 کے دس دینار کے نوٹ پر ابن الہیثم کی تصویر
ولادت 965ء
بصرہ
وفات 1039ء [1]
پورا نام ابن الہیثم اور الہیثم
شہریت فارسی[2][3] یا عرب [4]
دور اسلامی سنہری دور
خطہ بصرہ in present-day Iraq, a part of بنی بویہ at that time[1]
دلچسپی تشریح, فلکیات, ہندسیات, ریاضی, آلاتیات, طب, بصریات, طب العین, فلسفہ, طبیعیات, نفسیات, سائنس
قابل ذکر کام کتاب المناظر, الشکوک علی بطلیموس, تكوين العالم, الحركۃ المتعرجۃ., رسالۃ فی الضوء، رسالۃ في المكان


ان کا نام “ابو علی الحسن بن الہیثم” ہے، ابن الہیثم کے نام سے مشہور ہیں ۔ ابن الہیشم (پیدائش: 965 ء، وفات: 1039 ء) عراق کے تاریخی شہر بصرہ میں پیدا ہوئے۔ وہ طبعیات ، ریاضی ، انجنئرنگ(ہندسیات) ،فلکیات اور علم الادویات کے مایہ ناز محقق تھے۔ ان کی وجۂ شہرت آنکھوں اور روشنی کے متعلق تحقیقات ہيں ۔

سوانح[ترمیم]

ابتدائی حالات[ترمیم]

ان کی پیدائش عراق کے شہر بصرہ میں غالباً 354 ہجری اور وفات 430 ہجری کو ہوئی، وہ مصر چلے گئے تھے اور اپنی وفات تک وہیں رہے، بچپن ہی سے وہ غور و فکر کا عادی تھے۔ پڑھائی لکھائی میں خوب دلچسپی لیتے تھے ۔ ریاضی، طبیعات، طب، اِلٰہیّات، منطق، شاعری، موسیقی اور علم الکلام اُن کے پسندیدہ موضوعات تھے۔ ابن الہیثم نے ان مضامین میں محنت کر کے مہارت حاصل کی۔ بعد میں اُن کے دماغ میں یہ بات آئی کہ کیوں نہ اپنی تحقیق و تجربات کو قیدِ تحریر میں لایا جائے تاکہ نہ صرف اپنی کتابیں وہ خود اپنے شاگردوں کو پڑھا سکیں بلکہ آئندہ آنے والی نسلیں بھی ان سے استفادہ کر سکیں ۔[5]

حالات زندگی[ترمیم]

996 ء میں وہ فاطمی خلافت مصر کے دربار سے منسلک ہو گئے۔ انہوں نے دریائے نیل پر اسوان کے قریب تین طرف بند باندھ کر پانی کا ذخیرہ کرنے کی تجویز پیش کی قفطی کی “اخبار الحکماء” میں ابن الہیثم کی زبانی یہ الفاظ نقل کیے گئے ہیں:

ترجمہ: “اگر میں مصر میں ہوتا تو اس کی نیل کے ساتھ وہ عمل کرتا کہ اس کے زیادہ اور نقصان کے تمام حالات میں نفع ہی ہوتا”

ان کے کہنے کا مقصد یہ تھا کہ وہ نیل کے پانی کو آبپاشی کے لیے سال کے بارہ مہینے دستیاب کر سکتے تھے، ان کا یہ قول مصر کے حاکم الحاکم بامر اللہ الفاطمی کو پہنچا تو انہوں خفیہ طور پر کچھ مال بھیج کر انہیں مصر آنے کی دعوت دی جو انہوں نے قبول کرلی اور مصر کی طرف نکل کھڑے ہوئے جہاں الحاکم بامر اللہ نے انہیں اپنی کہی گئی بات پر عمل درآمد کرنے کو کہا، ابن الہیثم نے نیل کے طول وعرض کا سروے شروع کیا اور جب اسوان تک پہنچے جہاں اس وقت “السد العالی” (السد العالی ڈیم) قائم ہے اور اس کا بھرپور جائزہ لینے کے بعد انہیں اندازہ ہوا کہ ان کے زمانے کے امکانات کے حساب سے یہ کام نا ممکن ہے اور انہوں نے جلد بازی میں ایک ایسا دعوی کردیا جسے وہ پورا نہیں کرسکتے تھے، چنانچہ الحاکم بامر اللہ کے پاس جاکر معذرت کر لی جسے الحاکم بامر اللہ نے قبول کرکے انہیں کوئی منصب عطا کردیا، مگر ابن الہیثم نے الحاکم بامر اللہ کی ان سے رضا مندی کو ایک ظاہری رضا مندی سمجھی اور انہیں یہ ڈر لاحق ہوگیا کہ کہیں یہ الحاکم بامر اللہ کی کوئی چال نہ ہو، چنانچہ انہوں نے پاگل پن کا مظاہرہ شروع کردیا اور الحاکم بامر اللہ کی موت تک یہ مظاہرہ جاری رکھا اور اس کے بعد اس سے باز آگئے اور اپنے گھر سے نکل کر جامعہ ازہر کے پاس ایک کمرے میں رہائش اختیار کر لی اور اپنی باقی زندگی کو تحقیق وتصنیف کے لیے وقف کردیا ۔ ناکافی وسائل کی وجہ سے جس منصوبے کو اسے ترک کرنا پڑا۔ اب اسی جگہ مصر کا سب سے بڑا ڈیم یعنی اسوان ڈیم قائم ہے۔

کارہائے نمایاں[ترمیم]

ابن ابی اصیبعہ “عیون الانباء فی طبقات الاطباء” میں کہتے ہیں: “ابن الہیثم فاضل النفس، سمجھدار اور علوم کے فن کار تھے، ریاضی میں ان کے زمانے کا کوئی بھی سائنسدان ان کے قریب بھی نہیں پھٹک سکتا تھا، وہ ہمیشہ کام میں لگے رہتے تھے، وہ نہ صرف کثیر التصنیف تھے بلکہ زاہد بھی تھے”.

نظریات[ترمیم]

ابن الہیثم وہ پہلے سائنسدان تھے جنہوں نے درست طور پر بیان کیا کہ ہم چیزیں کیسے دیکھ پاتے ہیں۔ انہوں نے افلاطون اور کئی دوسرے ماہرین کے اس خیال کو غلط ثابت کیا کہ آنکھ سے روشنی نکل کر اشیا پر پڑتی ہے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ روشنی ہماری آنکھ میں داخل ہوتی ہے تو ہم دیکھتے ہیں۔ انہوں نے اپنی بات ثابت کرنے کے لیے ریاضی کا سہارا لیا جو اس سے پہلے کسی نے نہیں کیا تھا۔

ابن الہیثم نے روشنی، انعکاس اور انعطاف کے عمل اور شعاؤں کے مشاہدے سے کہا کہ زمین کی فضا کی بلندی ایک سو کلومیٹر ہے ۔ [6]

ان کی کتاب “کتاب المناظر” بصریات کی دنیا میں ایک کلیدی حیثیت رکھتی ہے، کیونکہ ابن الہیثم نے بطلیموس کے نظریات قبول نہیں کیے، بلکہ انہوں نے بطلیموس کے روشنی کے حوالے سے بہت سارے نظریات کی مخالفت کی اور انہیں رد کردیا، ان کی روشنی کے حوالے سے دریافتیں جدید سائنس کی بنیاد بنیں، مثال کے طور پر بطلیموس کا نظریہ تھا کہ دیکھنا تب ہی ممکن ہوتا ہے جب شعاع آنکھ سے کسی جسم سے ٹکراتی ہے، بعد کے سائنسدانوں نے اس نظریہ کو من وعن قبول کیا، مگر ابن الہیثم نے کتاب المناظر میں اس نظریہ کی دھجیاں بکھیر دیں.. انہوں نے ثابت کیا کہ معاملہ اس کے بالکل بر عکس ہے اور شعاع آنکھ سے نہیں بلکہ کسی جسم سے دیکھنے والے کی آنکھ سے ٹکراتی ہے.

ابن الہیثم نے روشنی کا انعکاس اور روشنی کا انعطاف یعنی مڑنا دریافت کیا، انہوں نے نظر کی خامیوں کو دور کرنے کے لیے عدسوں کا استعمال کیا.. ان کی سب سے اہم دریافتوں میں آنکھ کی مکمل تشریح بھی ہے.. انہوں نے آنکھ کے ہر حصہ کے کام کو پوری تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے جس میں آج کی جدید سائنس بھی رتی برابر تبدیلی نہیں کرسکی.

ابن الہیثم نے آنکھ کا ایک دھوکا یا وہم بھی دریافت کیا جس میں مخصوص حالات میں نزدیک کی چیز دور اور دور کی چیز نزدیک نظر آتی ہے.

روشنی کی بارے میں نظریہ[ترمیم]

اس نے نظر کی کرنوں کا قدیم مفروضہ غلط ثابت کر کے ثابت کیا کہ جب روشنی کسی جسم پر پڑتی ہے تو کچھ کرنیں پلٹ کر فضا میں پھیل جاتی ہیں۔ ان میں شے بعض شعاعیں دیکھنے والے کی آنکھ میں داخل ہو جاتی ہیں جس سے وہ شے نظر آتی ہے۔

روشنی کے بارے میں ابو علی حسن ابن الہیثم کا کہنا ہے کہ: ’’نور ہمیشہ خط مستقیم (سیدھا راستہ) میں سفر کرتا ہے، اس کے لیے ذریعے یا واسطے کی ضرورت نہیں ہوتی ہے، بلکہ یہ بغیر سہارے کے سفر کرتا ہے۔ روشنی ہی کے سلسلے میں ابن الہیثم نے ایک اور تجربہ کیا اور اس تجربے کی بنیاد پر دوسرے سائنسدانوں نے فوٹو کیمرہ کا ایجاد کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’’اگر کسی تاریک کمرے میں دیوار کے اوپر والے حصے سے ایک باریک سوراخ کے ذریعہ سورج کی روشنی گزاری جائے تو اس کے بالمقابل اگر پردہ لگا دیا جائے تو اس پر جن جن اشیاء کا عکس پڑے گا، وہ الٹا ہوگا۔‘‘[7]

علم بصریات Optics[ترمیم]

بصریات Optics کے میدان میں تو اسلامی سائنسی تاریخ کو غیر معمولی عظمت حاصل ہے۔ ابن الہیثم کی معرکۃ الآراء کتاب (On Optics) آج اپنے لاطینی ترجمے کے ذریعہ زندہ ہے۔ انہوں نے تاریخ میں پہلی مرتبہ عدسے کی Magnifying Power کو دریافت کیا اور اس تحقیق نے Megnifying Lense کے نظریہ کو انسان کے قریب تر کردیا۔ ابن الہیثم نے ہی یونانی نظریہ بصارت Nature of Vision کو رد کرکے دنیا کو جدید نظریہ بصارت سے روشناس کرایا اور ثابت کیا کہ روشنی کی شعاعیں( Rays ) آنکھوں سے پیدا نہیں ہوتیں بلکہ بیرونی اجسام (External Objects) کی طرف سے آتی ہیں۔ انہوں نے پردہ بصارت (Retina) کی حقیقت پر صحیح طریقہ سے بحث کی اور اس کا Optic nerve اور دماغ (Brain) کے ساتھ باہمی تعلق واضح کیا۔ مزید برآں ان کا نام Velocities Light، Lense، Observation، Astronomical، Meteorology اور camera وغیرہ پرتاسیسی شان حامل ہے۔ [8]

تحقیق و دریافت[ترمیم]

یونیورسٹی آف سرے، برطانیہ کے پروفیسر جم الخلیلی [9] کی بی بی سی کے لیے ابن الہیثم سے متعلق پروگرام کی تیاری کے دوران سکندریہ میں ایک ماہر سے بات ہوئی جنہوں نے ابن الہیثم کا فلکیات کے موضوع پر حال ہی (2010ء)میں دریافت ہونے والا ایک مقالہ دکھایا۔بقول پروفیسر جم الخلیلی کے " ابن الہیثم نے معلوم ہوتا ہے سیاروں کے مدار کی وضاحت کی تھی جس کی بنیاد پر بعد میں کاپرنیکس، گیلیلیو، کیپلر اور نیوٹن جیسے یورپی سائنسدانوں نے کام کیا۔ کتنی غیر معمولی بات ہے کہ اب پتہ چل رہا ہے کہ آج کے ماہرین طبعیات پر ایک ہزار سال پہلے کے ایک عرب سائنسدان کا کتنا قرض ہے۔"

اس نے سب سے پہلے روشنی کو حرارتی توانائی قرار دیا۔ روشنی کو شعاع کی وہ نہایت صحیح تعریف کرتا ہے۔

فہرست کتب[ترمیم]

جیسا کہ ابن ابی اصیبعہ نے کہا وہ واقعی کثیر التصنیف تھے، سائنس کے مختلف شعبوں میں ان کی 237 تصانیف شمار کی گئی ہیں جن میں کچھ یہ ہیں:

  • كتاب المناظر.
  • مقالۃ في التحليل والتركيب.
  • ميزان الحكمۃ.
  • تصویبات على المجسطی.
  • مقالۃ في المكان.
  • التحديد الدقيق للقطب.
  • رسالۃ في الشفق.
  • كيفيۃ حساب اتجاہ القبلۃ.
  • المزولۃ الافقيۃ.
  • شكوك على بطليموس.
  • مقالۃ في قرسطون.
  • اكمال المخاريط.
  • رؤيۃ الكواكب.
  • مقالۃ فی تربیع الدائرۃ.
  • المرايا المحرقۃ بالدوائر.
  • تكوين العالم.
  • مقالۃ فی صورۃ ‌الکسوف
  • مقالۃ في ضوء النجوم.
  • مقالۃ في ضوء القمر.
  • مقالۃ في درب التبانۃ.
  • كيفيات الاظلال.
  • مقالۃ في قوس قزح.
  • الشكوك في الحركۃ المتعرجۃ.
  • التنبيہ على ما في الرصد من الغلط
  • ارتفاعات الكواكب.
  • اتجاہ القبلۃ.
  • نماذج حركات الكواكب السبعۃ.
  • نموذج الكون.
  • حركۃ القمر.
  • مقالۃ مستقصاۃ فی الاشکال الہلالیۃ.
  • الحركۃ المتعرجۃ.
  • رسالۃ في الضوء.
  • رسالۃ في المكان.
  • تاثير اللحون الموسيقيۃ في النفوس الحيوانيۃ
  • اختلاف منظر القمر.
  • اصول المساحۃ.
  • اعمدۃ المثلثات.
  • المرايا المحرقۃ بالقطوع.
  • شرح اصول اقليدس.
  • رسالۃ فی مساحۃ المسجم المکافی.
  • خواص المثلث من جہۃ العمود.
  • القول المعروف بالغریب فی حساب المعاملات.
  • قول فی مساحۃ الکرۃ.
  • الجامع في اصول الحساب.
  • كتاب في تحليل المسائل الہندسيۃ.

ابن الہیثم نے سوئی چھید کیمرہ (pin hole camera) یعنی ثقالہ ایجاد کیا۔

اسکی مشہور کتاب "کتاب المناظر" ہے۔ اس کے علاوہ اس نے پہلی بار آنکھ کا تراشہ بھی بنایا۔ [10]

محمد الفارسی کے ابن الہثم کتاب کتاب المناظر پر تبصرہ و تشریح لکھنے کی وجہ سے ابن الہثم کی یہ تحقیقی کتاب جو اہل مشرق نظرانداز کر چکے تھے اجاگر ہو کر سامنے آئی اور یورپ میں اسکے تراجم کی گئی۔ محمد الفارسی کی اس کتاب کو عربی میں التنقیح اور انگریزی میں Tanqih لکھا جاتا ہے۔ [11]

تاثرات[ترمیم]

راجر بیکن اور کیپلر نے الہیثم کے کام سے بہت استفادہ کیا جب کہ گلیلیونے اپنی دوربین انہی کے کام سے استفادہ کرتے ہوئے بنائی۔ [12]


حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ 1.0 1.1 (Lorch 2008)
  2. ^ (Child, Shuter & Taylor 1992, p. 70)
  3. ^ [1]
    (Dessel, Nehrich & Voran 1973, p. 164)
    (Samuelson Crookes, p. 497)
  4. ^ [2]
    (Dessel, Nehrich & Voran 1973, p. 164)
    (Samuelson Crookes, p. 497)
  5. ^ ابو طالب انصاری (18 / فروری 2006)، "(باب:ابن ہیثم (ماہر بصریات)"، اجالے ماضی کے )، ادارہ کتاب گھر، ص: 32 
  6. ^ پروفیسر جم الخلیلی (University of Surrey) (Monday, 05 January, 2009)، "The 'first true scientist' [ابن الہیثم: ’پہلے حقیقی سائنسدان‘]" (اردو اور انگلش میں)، بی بی سی، http://www.bbc.co.uk/urdu/science/story/2009/01/090105_hassan_haytham.shtml 
  7. ^ خرم اقبال عباسی، "ابو علی الحسن بن الہیشم ’’ابو البصریات‘‘"، روزنامہ جسارت، http://beta.jasarat.com/magazine/jasaratmagazine/news/28025 
  8. ^ ابو طالب انصاری، "[الطاہر شمارہ 48 مسلمان سائنسدان]"، ادارہ کتاب گھر (زیر اہتمام جماعت اصلاح المسلمین)، الطاہر شمارہ 48 
  9. ^ http://pak.net/members/%D9%86%D8%A7%D8%B5%D8%AD%DB%8C/+(26-10-10, 02:09)، "[پروفیسر Jim Al-Khalili کے بی بی سی کیلیے لکھے ہوئے ایک انگلش آرٹیکل کا ترجمہ]"، پاک ڈاٹ نیٹ، http://pak.net/%D8%B9%D9%85%D9%88%D9%85%DB%8C-%D8%B3%D8%A7%D8%A6%D9%86%D8%B3/%D8%A7%D8%A8%D9%86-%D8%A7%D9%84%DB%81%DB%8C%D8%AB%D9%85-%E2%80%99%D9%BE%DB%81%D9%84%DB%92-%D8%AD%D9%82%DB%8C%D9%82%DB%8C-%D8%B3%D8%A7%D8%A6%D9%86%D8%B3%D8%AF%D8%A7%D9%86-44066/#post326768 
  10. ^ عالمی اخبار ریسرچ یونٹ (28.01.2010, 11:04am , جعمرات)، "عظیم مسلمان سائینسدان "" ابن الہیثم ""ایک عہد کا نام ہے"، http://www.aalmiakhbar.com/index.php?mod=article&cat=interviews&article=3226 
  11. ^ خرم اقبال عباسی، "ابو علی الحسن بن الہیشم ’’ابو البصریات‘‘"، روزنامہ جسارت، http://beta.jasarat.com/magazine/jasaratmagazine/news/28025 
  12. ^ طارق اقبال سوہدروی (2006)، "مسلمان سائنس دانوں کے کارنامےسائنس قرآن کے حضورمیںتقریظ میر یعقوب علی خان جامعہ الملک عبدالعزیز کلیتہ العلوم جدہ، قرآن اردو بلاگ-- 


مزید مطالعہ[ترمیم]

مسلم سائنسدانوں کی فہرست