عبدالرحمن الصوفی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عبدالرحمن الصوفی
(فارسی میں: عبدالرحمن صوفی ویکی ڈیٹا پر مقامی زبان میں نام (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
معلومات شخصیت
پیدائش 12 دسمبر 903  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رے  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 30 مئی 986 (83 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شیراز  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رہائش اصفہان  ویکی ڈیٹا پر رہائش (P551) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت بنی بویہ  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ ماہر فلکیات، مترجم، ریاضی دان، منجم  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان عربی، فارسی[1]  ویکی ڈیٹا پر زبانیں (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل فلکیات، ریاضی، جہازرانی، قبلہ  ویکی ڈیٹا پر شعبۂ عمل (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کارہائے نمایاں کتاب صور الکواکب  ویکی ڈیٹا پر کارہائے نمایاں (P800) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عبدالرحمٰن الصوفی کی ایک کتاب سے برج قوس کی تصویر کشی اور تشریح

عبد الرحمٰن الصوفی (ولادت: جمعہ 16 محرم الحرام 291ھ/ 9 دسمبر 903ء — وفات: منگل 12 محرم الحرام 376ھ/ 25 مئی 986ء) ایک مشہور مسلمان فلکیات دان تھا جس کا تعلق ایران کے قدیم شہر رے (جو اب تقریباً تہران میں شامل ہے) سے تھا۔ موجودہ دور کے بیشتر کواکب اور ستاروں کے نام اس کی مشہور کتاب 'ساکن ستاروں کی کتاب'(عربی: كتاب الكواكب الثابتة ) میں آج سے ایک ہزار سال پہلے دیے گئے تھے۔ انگریزی میں اس کا نام Azophi مشہور ہے۔ آج بھی جدید فلکیات میں اس کے نام پر چاند کے ایک گڑھے کا نام 'lunar crater Azophi' اور ایک سیارہ کا نام Al-Sufi۔ 12621 رکھا گیا ہے۔


عبد الر حمن الصوفی (903ـ986 ء ،ایران) پہلا عالمی ماہر افلاک تھا جس نے 964ء میں اینڈرو میڈا گیلکسی(M31 andromeda galaxy )کو دریافت کیا تھا۔ ہمارے نظام شمسی سے باہر کسی اور سٹار سسٹم کے ہونے کا یہ پہلا تحریری ثبوت تھا جس کا ذکر اس نے اپنی تصنیف کتاب الکواکب الثا بت المصور( Book of Fixed Stars )میں کیا۔ یہی کہکشاں سات سو سال بعد جر من ہیئت دان سا ئمن Simon Marius d1624))نے دسمبر1612ء میں ٹیلی سکوپ کی مدد سے دریافت کی تھی۔

حالات[ترمیم]

ان کی زیادہ زندگی اصفہان میں گزری جہاں وہ امیر عبد الدولہ کے دربار میں فلکیات اور دیگر علوم کی تراجم و تصانیف کے لیے مامور تھے۔ جہاں اس نے اپنی تصانیف کے علاوہ بے شمار شاگرد بناَئے۔ اس کے کاموں میں اصطرلاب کے ایک ہزار استعمالات کی تشریح بھی شامل ہے۔

تصانیف[ترمیم]

اس کی مشہور تصانیف درج ذیل ہیں۔

  • كتاب الكواكب الثابتة : 964ء میں شائع ہوئی اور اس کے متعدد نسخے آج بھی موجود ہیں۔ انگریزی میں یہ Book of Fixed Stars کے نام سے مشہور ہے۔
  • صور الكواكب الثمانية والأربعين : اس میں کواکب و نجوم کی درست ترین تصویر کشی کی گئی ہے۔
  • أرجوزة في الكواكب الثابتة

نگار خانہ[ترمیم]

  1. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb143844019 — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ