یعقوب بن طارق

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
یعقوب بن طارق
معلومات شخصیت
پیدائش صدی 8  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
بغداد  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات سنہ 796 (-5–-4 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
بغداد  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Black flag.svg دولت عباسیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ ریاضی دان،  ماہر فلکیات،  منجم  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

یعقوب بن طارق وفات 796 عیسوی) آٹھویں صدی کے بغداد کے رہنے والے ایک فارسی ماہر فلکیات اور ریاضی دان تھے۔ 771 یا 773ء میں بغداد میں سندھ آنے والے وفد سے اس نے تعاون نے کیا۔ یعقوب بن طارق کا سب سے اہم کام زيج محلول في السندهند لدرجة درجة ہے جس میں فلکیاتی ڈگریوں کے حد شدہ جدول ہیں۔ واضح طور پر زیج کی سب سے اہم خصوصیت یہ تھی کہ جدول کے کالموں میں درجات کے درمیان میں وقفہ ایک ڈگری تھا۔ اس کے بنیادی پیرامیٹرز انفزاری کی زیج السندھ ہند الکبیر سے بہت ملتے جلتے تھے۔ اس کے علاوہ یعقوب نے زیج الشاہ سے مرکز کی مساوات کو مکمل طور پر اپنی کتاب میں شامل کیا ہے، جب کہ خروج مرکز کی کچھ مساواتیں زیج الکند سے شامل کر لی ہیں۔

ترکیب الافلاک میں بھی یعقوب نے زیج السندھ ہند اور زیج ارکند جو ہندوستانی ماہرین فلکیات کا کام ہے سے مدد لی۔ اس کتاب میں سیاروں کے مدار کا ارض مرکزی فاصلہ، جغرافیہ اور سیاروں کی حرکت کے جیومیٹرییکل ماڈل دیے گئے ہیں۔[1]

کام[ترمیم]

یعقوب بن طارق سے منسوب کام:[2]

  • زيج محلول في السندهند لدرجة درجة (زیج محلول فی السند ہند للدرجہ درجہ)

اس میں ہند میں دیئے گئے "فلکیاتی جدول کا حل ہر ہر درجے کے لیے دیا گیا ہے۔ زیج، 770ء کے آپس پاس لکھی گئی، خیال کیا جاتا ہے کہ یہ کتاب سنسکرت کے کام،[2] سندھانت پر مبنی تھی۔[3] مبینہ طور پر کانکھ نامی ایک سندھی فلکیات دان نے[4] یہ کام سندھ سے المنصور باللہ کو پیش کیا تھا۔[3]

  • تركیب افلاک

کتاب الافلاک کائنات پر بحث کرتی ہے، اس میں اجرام فلکی کے حجم اور مقام کا بیان ہے۔[2] اس کے یہ تخمینے ابو ریحان البیرونی کے ہندوستان میں کیے گئے کام پر ہیں; یعقوب ابن طارق کے مطابق، زمین کا رداس 1,050 فرسخہے اور چاند اور عطارد کا قطر 5,000 فرسخ (4.8 زمین کا رداس) اور دیگر اجرام فلکی (وینس، سورج، مریخ، مشتری اور زحل) کے قطر 20,000 فرسخ (19.0 زمین کا رداس۔)[5]، مختلف اجرام فلکی کی ترکیب کے بارے میں، اس میں سیاروی مداروں کے ارض مرکزی کے فاصلے، جغرافیہ اور سیاروں کی حرکت کے جغرافیائی نمونے پر بحث ہے۔

  • كتاب العلل

اس کتاب کا حوالہ البیرونی نے اپنی کتاب میں دیا، اصل کتاب مکمل حالت میں ابھی تک گم ہے، یا ضائع ہو چکی۔ اس کے چند اجزا ملے ہیں، جن میں دھوپ گھڑی میں سویاں لگانے کے اصول قواعد درج ہیں۔

  • تقطيع كردجات الجيب
  • ما إرتفع من قوس نصف النهار
  • المقالات، منسوب بہ یعقوب بن طارق ناقابل تسلی حوالے کے ساتھ۔[2]

حواشی[ترمیم]

  1. http://www.encyclopedia.com/science/dictionaries-thesauruses-pictures-and-press-releases/yaqub-ibn-tariq
  2. ^ ا ب پ ت Plofker
  3. ^ ا ب Pingree, p. 97
  4. Kennedy 1956, p. 134, 71
  5. Pingree, pp. 105–106

مزید پڑھیے[ترمیم]