عمر خیام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
عمر خیام
عمر خیام
Omar Khayyam Profile.jpg
پیدائش 18 May[1] 1048[2]
نیشاپور، خراسان، (ایران)
وفات 4 دسمبر[1] 1131 (عمر 83)[2]
نیشاپور، خراسان، (ایران)
قومیت Persian
مکتب فکر Persian mathematics، فارسی ادب، Persian philosophy
شعبہ عمل
ریاضی، فلکیات، فلسفہ، فارسی ادب
مقبرہ عمر خیام، نیشاپورر

فارسی شاعر اور فلسفی ۔ حکیم ابوالفتح عمر خیال بن ابراہیم ۔ نیشاپور میں پیدا ہوا۔ علوم و فنون کی تحصل کے بعد ترکستان چلا گیا جہاں قاضی ابوطاہر نے اس کی تربیت کی اور آخر شمس الملک خاقان بخارا کے دربار میں پہنچا دیا۔ ملک شاہ سلجوقی نے اسے اپنے دربار میں بلا کر صدر خانۂ ملک شاہی کی تعمیر کا کام سپرد کیا۔ یہیں فلکیاتی تحقیق کے سلسلے کا آغاز کیا۔ اور زیچ ملک شاہی لکھی۔ اپنی رباعیات کے لیے بہت مشہور ہے۔ ان کا ترجمہ دنیا کے قریباً سب معروف زبانوں مین ہوچکا ہے۔ علوم نجوم و ریاضی کا بہت بڑا عالم تھا۔ تصانیف ما الشکل من مصادرات اقلیدس ، زیچ ملک شاہی ، رسالہ مختصر در طبیعیات ، میزان الحکم ، رسالۃ اکلون و التکلیف ، رسالہ موضوع علم کلی وجود ، رسالہ فی کلیات الوجود ، رسالہ اوصاف یا رسالۃ الوجود ، غرانس النفائس ، نوروزنامہ ، رعبایات خیام ، بعض عربی اشعار ، مکاتیب خیام فارسی ’’ جو اب ناپید ہے‘‘۔

مزید دیکھیۓ[ترمیم]

نگار خانہ[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ 1.0 1.1 خطا در حوالہ: حوالہ بنام britannica کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا ().
  2. ^ 2.0 2.1 Professor Seyyed Hossein Nasr and Professor Mehdi Aminrazavi. “An Anthology of Philosophy in Persia، Vol. 1: From Zoroaster to ‘Umar Khayyam”، I.B. Tauris in association with The Institute of Ismaili Studies، 2007.