عمر خیام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عمر خیام
(فارسی میں: عُمَر خَیّام نیشابوری ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Portrait of Omar Khayyam.jpg
 

معلومات شخصیت
پیدائش بدھ یکم ذوالحجہ 439ھ/ 18 مئی 1048ء
نیشاپور، حکومت آل بویہ، فارس، خلافت عباسیہ، موجودہ خراسان، ایران
وفات جمعہ 11 محرم الحرام 526ھ/ 4 دسمبر 1131ء
(عمر: 86 سال 1 ماہ 10 دن ، 83 سال 6 ماہ 16 دن شمسی)
نیشاپور، خراسان، (ایران)
شہریت سلجوقی سلطنت  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
تلمیذ خاص ابوحاتم المظفر الاسفزاری،  عبدالرحمن منصور الخازنی  ویکی ڈیٹا پر (P802) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ریاضی دان[1][2]،  ماہر فلکیات[1]،  شاعر[3][1]،  غنائی شاعر،  فلسفی[2]،  موسیقار،  منجم،  مصنف[4][2]،  طبیعیات دان[1]  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان تاجک زبان،  عربی،  فارسی[5]  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل شاعری،  ریاضی،  فلکیات  ویکی ڈیٹا پر (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مؤثر ابن سینا[6]،  ابو ریحان البیرونی  ویکی ڈیٹا پر (P737) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تحریک فارسی ادب  ویکی ڈیٹا پر (P135) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحات  ویکی ڈیٹا پر (P345) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

عمر خیام کا پورا نام ابوالفتح عمر خیام بن ابراہیم نیشا پوری ہے۔ عمر خیام کے بارے میں متعدد سوانح نگاروں نے اس کا سال پیدائش 408 ھ یا 410 ھ لکھتا ہے اور سال وفات کے متعلق بھی کوئی فیصلہ کن بات نہیں کی گئی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس نے 526ھ میں وفات پائی۔ عمر خیام علم ہیت اور علم ریاضی کا بہت بڑا فاضل تھا۔ ان علوم کے علاوہ شعرو سخن میں بھی اس کا پایا بہت بلند ہے اس کے علم وفضل کا اعتراف اہل ایران سے بڑھ کر اہل یورپ نے کیا۔

فلسفہ پر خیام کی پانچ معلوم تصانیف موجود ہیں اور اس کی شاعری میں بھی بیشتر فلسفیانہ موضوعات موجود ہیں’ تاہم اس امر کا تعین کرنا ممکن نہیں کہ کائنات کے بارے میں اس کا تصور کیا تھا۔ [7]

عمر خیام ایک فلسفی تھا جو خوشیوں کوترستا رہا۔ وہ یونانی علوم کاحامی اور بو علی سینا کی تعلیمات کا پیروکار تھا۔ وہ اپنے عہد کا سب سے بڑا آزاد خیال مفکر تھا۔ وہ انتھک کام کرتا تھا۔ بہت اکھڑ مزاج ہونے کے ساتھ ساتھ سخت طبیعت کا مالک تھا۔ حافظہ بلا کا تھا، ایک مرتبہ اس نے ایک کتاب کو سات مرتبہ پڑھنے کے بعد لفظ بہ لفظ نقل کر دیا تھا۔ [8]

بدقسمتی سے ، ان کے بارے میں معلومات کافی نہیں ہیں ۔مگر دستیاب معلومات کے مطابق بچپن اور جوانی میں عمر خیام کی سوانح حیات اس حقیقت کی نشاندہی کرتی ہے کہ وہ نیشا پور میں رہتے تھے۔ ان کے اہل خانہ کے بارے میں معلومات محفوظ نہیں ہیں۔ خیام کا مطلب ہے "خیمہ بنانے والا" ۔

ایک طویل عرصے سے ، خیام کی تصانیف کے بارے میں دنیا کو خاص کر یورپی سائنسدانوں کو معلوم نہیں تھیں بعد میں جنہوں نے گریگورین جیومیٹری اور نئی اعلی الجبرا تخلیق کیا تھا۔ اور انہیں اس کیلنڈر کو بنانے میں دوبارہ محنت کی ، جو ان سے پہلے پانچ صدیوں پہلے تک خیام نے بنا رکھی تھی۔


[9]

پیدائش[ترمیم]

عمر خیام نیشاپورسال پیدائش 408 ھ یا 410 ھ ہے۔

18 مئی 1048 کو نیشا پور میں پیدا ہوئے۔[9]


خیام کا بچپن اور جوانی[ترمیم]

عمر خیام نسلاََ عرب تھا۔ اس کا اظہار اس کے اپنے نام کے علاوہ والد کے نام سے بھی ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں، ابتدائی تعلیم جس انداز میں حاصل کی، اس سے عربی النسل ہونے کا ثبوت ملتا ہے۔ [8]

عمر خیام نے سب سے پہلے نیشاپور مدرسہ میں سائنس کو سمجھا ، جو اس وقت ایک معتبر تعلیمی ادارے کے نام سے جانا جاتا تھا ، جس نے اپنے وقت کے بڑے علما اور ماہرین اور محققین تیار کیا تھا۔ اس کے بعد ، عمر نے سمرقند اور بلخ میں اپنی تعلیم جاری رکھی ۔ [9]

اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد، وہ ایک استاد کے طور پر کام کرتا ہے. ملازمت کم اجرت والی اور عارضی تھی۔ زیادہ تر آقاؤں اور حکمرانوں کے مقام پر منحصر ہے۔ سائنسدان کی حمایت پہلے سمرقند کے چیف جج نے کی، پھر بخارا خان نے۔ 1074 میں اسے خود سلطان ملک شاہ کے دربار میں اصفہان بلایا گیا۔ یہاں اس نے فلکیاتی رصد گاہ کی تعمیر اور سائنسی کام کی نگرانی کی، اور ایک نیا کیلنڈر تیار کیا۔ [10]

علمی مقام[ترمیم]

فلسفہ میں بوعلی سینا کا ہمسر اور مذہبی علوم میں امام فن تھا۔ علوم نجوم کا تو وہ ماہر مانا گیا تھا۔ بادشاہ وقت خاص خاص تقریبات کی تاریخ مقرر کروانے کے لیے عمر خیام ہی کی طرف رجوع کرتا تھا ۔

نیشاپور ایران کے مشرق میں ثقافتی صوبہ خراسان میں واقع ہے۔ یہ شہر ایک ایسی جگہ تھی جہاں ایران کے مختلف علاقوں اور یہاں تک کہ پڑوسی ممالک سے بھی بہت سے لوگ علم و فنون کے لیے آتے تھے۔ اس کے علاوہ نیشاپور کو ایران میں اس وقت کے اہم ثقافتی مراکز میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ اس شہر میں ، گیارہویں صدی سے مدارس چلتے رہے تھے جو کہ اعلی اور ثانوی تعلیم کے اسکول ہو کرتے تھے ۔ عمر خیام نے اسی ماحول میں تعلیم حاصل کی .

اس کے پاس بہت سارے قدرتی علوم اور فنون تھے، جیومیٹری ، ریاضی ، فلکیات ، طبیعیات۔ عمر نے تاریخ ، کورانولوجی ، تھیسوفی ، فلسفہ اور فلسفیانہ مضامین کا ایک خاص مطالعہ بھی کیا ، جو اس وقت تعلیمی تصور کا حصہ تھا۔ وہ عربی ادب کو جانتا تھا ، عربی زبان میں روانی رکھتا تھا ، اور مہارت کی بنیادی باتوں کو بھی جانتا تھا۔ عمر طب اور علم نجوم کے ماہر تھے ، اور انہوں نے میوزک تھیوری کا بھی مطالعہ کیا۔

خیام قرآن کا بھی بخوبی مطالعہ جانتا تھا ، کوئی بھی آیت کی وضاحت کرسکتا تھا ۔ لہذا ، یہاں تک کہ مشرق کے سب سے معروف الہیات نے مشاورت کے لئے عمر سے رجوع کیا۔ تاہم ، اس کے اسلامی نظریات اس وقت کے قدامت پسندانہ طبقے میں میل نہیں رکھتے تھے ۔ [9]

ریاضی میں پہلی دریافتیں[ترمیم]

ریاضی کے میدان میں اس کی اولین دریافتوں نے اس کو تاریخ میں مشہور کیا۔ عمر خیام نے اس سائنس کو اپنی تعلیم کا مرکز بنایا۔ 25 سال کی عمر میں ، اس نے ریاضی میں اپنی پہلی دریافت کی۔ 11 ویں صدی کی 60 کی دہائی میں ، وہ اس بارے پر کام لکھتا رہا، جس سے وہ ایک بہترین سائنسدان ثابت ہوا ۔ اور اس کی بعد اس کی سرپرستی کرنے والوں نے اس کو سراہا ۔۔ [9]

دربار تک رسائی[ترمیم]

قاضی ابوطاہر نے اس کی تربیت کی اور آخر شمس الملک خاقان بخارا کے دربار میں پہنچا دیا۔ ملک شاہ سلجوقی نے اسے اپنے دربار میں بلا کر صدر خانۂ ملک شاہی کی تعمیر کا کام سپرد کیا۔ یہیں فلکیاتی تحقیق کے سلسلے کا آغاز کیا۔ اور زیچ ملک شاہی لکھی۔ اپنی رباعیات کے لیے بہت مشہور ہے۔

حکان شمس الملکا کے دربار میں زندگی[ترمیم]

گیارہویں صدی کے حکمرانوں نے ایک دوسرے سے مقابلہ کرنے کی کوشش میں ماہرین علوم و فنون کی سرپرستی شروع کی ۔ مشہور شاعروں اور سائنس دانوں کو مختلاف مقتدر اور با اختیار افراد تک رسائی حاصل ہوئی ۔ اس لہر نے عمر کو بھی نظرانداز نہیں کیا۔

عمر خیام نے سب سے پہلے اپنی سائنسی سرگرمیاں بوہر کے شہزادہ حکان شمس الملکا کے دربار میں انجام دیں۔ گیارہویں صدی کے تاریخ دان کی شہادتوں کے مطابق ، بخارا حکمران نے عمر کو بہت احترام دیا اور یہاں تک کہ اسے اپنے ساتھ والے تخت پر بٹھا دیا۔

اصفہان کو دعوت نامہ[ترمیم]

اس وقت تک ، عظیم سلجوق کی سلطنت ترقی کررہی تھی ۔ سلجوق کے حکمران ، توگلبک نے 1055 میں بغداد فتح کیا۔ اس نے اپنے آپ کو نئی سلطنت کا مالک قرار دیا۔ خلیفہ کا اقتدار تقریباً ختم ہو چکا تھا اور اس کے بعد ایک نئے ثقافتی خوشحالی کے دور کا آغاز ہوا ، جسے مشرقی نشات ثانیہ کہا جاتا ہے۔

عمر خیام کو اصفہان شہر میں 1074ء کو شاہی دربار میں مدعو کیا گیا تھا۔ اس وقت ، سلطان ملک شاہ کی حکمرانی تھی۔ یہ دور اس کے سائنسی اور علمی تحقیقات کا ایک بہت بڑا دور تھا ۔ اس وقت ، اصفہان شہر سلجوق ریاست کا دارالحکومت تھا ، جو بحیرہ روم سے لے کر چین کی سرحدوں تک پھیلا ہوا تھا۔ [9]

ملک شاہ کے دربار میں زندگی[ترمیم]

عمر عظیم سلطان کا اعزازی رکن بن گیا۔ نظام الملک نے اسے نیشا پور اور آس پاس کے علاقے کے اختیارات دیے تھے ۔ عمر نے کہا کہ وہ امور سلطنت نہیں جانتے ۔ وہ علمی کام کرنا چاہتے ہيں ۔ تب سلطان نے اسے سالانہ 10 ہزار سونے دینار کی تنخواہ مقرر کی تاکہ خیام آزادانہ طور پر سائنس میں مشغول ہوسکے۔

رصد گاہ[ترمیم]

خیام کو محل کے رصد گاہ کے انتظام کے لئے مدعو کیا گیا تھا۔ سلطان نے اپنے دربار میں بہترین ماہر فلکیات جمع کیے اور مہنگے سامان کے حصول کے لئے بڑی رقم مختص کی۔ عمر کو نیا کیلنڈر بنانے کا کام سونپا گیا تھا۔ 11 ویں صدی میں وسطی ایشیاء اور ایران میں بیک وقت دو نظام موجود تھے: شمسی اور قمری تقویم۔ دونوں نامکمل تھے۔ مارچ 1079 تک ، مسئلہ حل ہوگیا۔ خیام کے ذریعہ تجویز کردہ کیلنڈر موجودہ گریگورین کیلنڈر (16 ویں صدی میں تیار کردہ) کے مقابلے میں 7 سیکنڈ زیادہ درست تھا! عمر خیام نے نیشا پور میں اپنا ایک رصد گاہ بنوایا تھا اور اس آبزرویٹری میں اس نے فلکیاتی مشاہدے کیے۔ اس کے عہد میں ، فلکیات کا علم نجوم سے بہت قریب تھا ، جو قرون وسطی میں عملی ضرورت کی سائنس تھی۔ اور عمر کو شاہ کے مشیر اور ماہر نجوم کی حیثیت سے شامل کیا گیا۔ اس کی پیشن گوئیوں کی اہمیت تھی ۔ [9]

ریاضی میں نئی ​​پیشرفت[ترمیم]

اصفہان کے دربار میں عمر خیام نے ریاضی کی تعلیم بھی حاصل کی۔ 1077 میں ، اس نے ایک ہندسی کام تخلیق کیا جو یوکلڈ کی مشکل دفعات کی ترجمانی کے لئے وقف تھا۔ پہلی بار اس نے مرکزی اقسام کیوبک ، مربع ، لکیری (مجموعی طور پر 25 اقسام) کی ایک عمدہ درجہ بندی دی ، اور مکعب مساوات کو حل کرنے کے لئے ایک نظریہ بھی تشکیل دیا۔ وہی شخص تھا جس نے سب سے پہلے جیومیٹری اور الجبرا کی سائنس کے درمیان تعلق پر سوال اٹھایا تھا۔

[9]

درست کیلنڈر[ترمیم]

عمر خیام نے کیلنڈر کو ہموار کرنے کے لیے ملک شاہ کے قائم کردہ ایک خصوصی کمیشن کی سربراہی کی۔ ان کی قیادت میں تیار کیا گیا کیلنڈر سب سے زیادہ درست ہے۔ یہ 5000 سالوں میں ایک دن کی غلطی دیتا ہے۔

جدید، گریگورین کیلنڈر میں، ایک دن کی خرابی 3333 سال تک چلے گی۔ اس طرح تازہ ترین کیلنڈر خیام کیلنڈر سے کم درست ہے۔

[10]


فلسفہ[ترمیم]

خیام نے نظریہ فلسفہ کے مسائل میں مہارت پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ ایوسینا کے سائنسی ورثے کا بھی مطالعہ کیا۔ انہوں نے اپنی کچھ تصنیف کا ترجمہ فارسی سے عربی میں کیا ، جس میں نئی جہتیں متعارف کی گئیں چونکہ اس وقت عربی زبان نے سائنس کی زبان کا کردار ادا کیا تھا ۔

عمر نے پہلا فلسفیانہ مقالہ 1080 میں تخلیق کیا تھا ("وجود اور فرض پر ایک معاہدہ")۔ خیام کا کہنا تھا کہ وہ ابو سینا کے پیروکار ہیں ، اور انہوں نے مشرقی ارسطو سے تعلق رکھنے والے مقام سے اسلام کے بارے میں بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ عمر نے خدا کے وجود کو وجود کی اصل وجہ تسلیم کرتے ہوئے دلیل دی کہ چیزوں کا مخصوص ترتیب فطرت کے قوانین سے ہوتا ہے ، یہ خدائی حکمت کا نتیجہ نہیں ہے۔ ان خیالات کو اسلامی افکار سے سے بہت دور مانا گیا۔ اس مقالے میں انھیں ایک مختصر اور سنجیدہ ، حکایت اور نقائص کی زبان میں بیان کیا گیا تھا۔ عمر خیام کی شاعری میں کبھی نہایت ہی دلیری کے ساتھ کبھی گستاخانا معاملات بھی نظر آتے تھے ۔ [9]

وجہ شہرت[ترمیم]

مختلف علوم میں ماہر ہونے کے باوجود عمر خیام کی شہرت کا سرمایہ اس کی فارسی رباعیات ہیں۔ اس بلند پایہ شاعر کا علمی دنیا سے تعارف کرانے میں اہل یورپ نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ سب سے پہلے روسی پروفیسر ولنتین ژو کو فسکی نے رباعیات عمر خیام کا ترجمہ کیا۔ پھر فٹنر جیرالڈ نے عمر خیام کی بعض رباعیات کا انگریزی میں ترجمہ کیا۔ اور بعض اہم مضمون رباعیات کا مفہوم پیش کر کے کچھ ایسے انداز میں اہل یورپ کو عمر خیام سے روشناس کرایا کہ اسے زندہ جاوید بنا دیا ۔

رباعیات[ترمیم]

عمر خیام جب نجوم ،ریاضی اور فلسفے کے پیچیدہ مسائل سے فارغ ہوتا تو دل اور دماغ کی تفریح کے لیے شعر کی طرف مائل ہوتا۔ عمر خیام کی شاعری کا حاصل صرف اس کی فارسی رباعیات ہیں۔ رباعیوں کی زبان بڑی سادی، سہل اور رواں ہے۔ لیکن ان میں فلسفیانہ رموز ہیں جو اس کے ذاتی تاثرات کی آئینہ دار ہیں۔ سب سے پہلے جو چیز عمر خیام کی رباعیوں میں ہمیں نمایاں نظر آتی ہے وہ انسانی زندگی کے آغاز وانجام پر غور وخوص ہے۔ اگر چہ انسانی زندگی مختصر ہے اور اس پر بھروسا نہیں کیا جاسکتا لیکن دریافت اور جستجو کی ایک امنگ ہے جو انسان کو قانع نہیں رہنے دیتی اور اس کی بدولت وہ اپنے آغاز و انجام کے متعلق سوچتا رہتا ہے اس کے کانوں میں رہ رہ کر یہ صدا گونجتی ہے ۔

ماز آغاز و انجام جہاں بی خبر یم اول وآخر این کہنہ کتاب افتاداست

انسان کی یہ بے خبری، لاعلمی، زندگی کی رفتار اور بے چین روح اسے جستجو اور دریافت کی راہ پر لگائے رکھتی ہے۔ رباعیات کا ترجمہ دنیا کے قریباً سب معروف زبانوں مین ہوچکا ہے۔ علوم نجوم و ریاضی کا بہت بڑا عالم تھا۔

آخری حالات ایام[ترمیم]

1092ء میں عمرخیام کا دوست اور مربی’ نظام الملک قتل ہو گیا۔ اس کے چند ماہ بعد جلال الدین ملک شاہ بھی انتقال کرگیا’اور ملک شاہ کی دوسری بیوی ترکان خاتون نے اپنے کم عمر بیٹے کی سرپرست کے طور پر حکومت کی بھاگ دوڑ سنبھال لی۔ ترکان خاتون کا ملک شاہ کے جانشین کے سلسلے میں نظام الملک سے اختلاف رائے تھا۔ چنانچہ اس کے منظور نظر افراد کی دربار سے چھٹی کر دی گئی۔ خیام بھی انتقامی کارروائی کا نشانہ بنا۔ رصدگاہ کی سرپرستی ختم کردی گئی اور وہاں ہونے والی سرگرمیاں منسوخ ہو گئیں۔ کیلنڈر کی اصلاحات ابھی مکمل طور پر نافذ نہ ہوئی تھیں۔ نیز خیام کی رباعیوں میں پیش کردہ آزادی کی وجہ سے بعض دینی حلقے بھی اس سے خفا تھے اور اس کے لیے پریشانی کا باعث تھے۔ خیام کا قریباً اٹھارہ برس کا رصدگاہ سے وابستگی کا عرصہ جو خوش حالی اور علمی طور پر کامیاب زمانہ تھا اختتام پذیر ہوا۔ القفطی (۱۲۳۹-۱۱۷۲ء) کے خیال میں اس دور میں کفروالحاد کے الزامات کو دھونے کی غرض سے خیام نے حج بھی کیا۔ان سب واقعات کے باوجود خیام نے سلجوقی دربار میں رہ کر ملک شاہ کے جانشینوں سے رصدگاہ کی سرپرستی بحال کرانے کی کوششیں جاری رکھیں۔ اس دور میں اس نے نوروزنامہ تصنیف کیا جس میں اس نے قدیم ایرانی حکمرانوں کی علوم و فنون کی سرپرستی اور قدیم ایرانی شمسی سالِ نو کے تہوار کا ذکر ہے۔ اس میں اس نے شمسی سال کی تاریخ بیان کرتے ہوئے نوروز کے تہوار کی سرگرمیاں بیان کیں۔ خصوصی طور پر اس نے قدیم ایرانی حکمرانوں کو فیاض’ علم و فن کے سرپرست’ تعمیر وترقی کے دلدادہ اور اہلِ علم کے قدردانوں کی حیثیت سے پیش کیا۔ خیام نے سلطان سنجر کے عہد میں اصفہان کو خیرباد کہا اور کچھ عرصہ مرو (ترکمانستان) میں گزارا جہاں اس نے میزان الحکم اور فی القسطاس المستقیم) تصنیف کیں’ جو اس نے شاگرد الخازنی نے اپنی تصنیف میزان الحکم میں نقل کیں۔ خیام نے میزان میں کسی جڑاؤ زیور میں خالص سونے اور چاندی کی مقدار کا تعین کرنے کے لیے کثافتِ اضافی معلوم کرنے کے الجبرے کے طریقوں کا استعمال کیا۔ فی القسطاس بیلنس میں متحرک اوزان اور متغیر پیمانوں کے استعمال کے بارے میں ہے۔ [7]


دربار میں عمر خیام کا مقام[ترمیم]

1092 کے آخر میں ، ملک شاہ کے دربار میں ان کی زندگی کا 20 سالہ پرسکون دور ختم ہوا۔ اس وقت ، سلطان پراسرار حالات میں مر گیا۔ اور نظام الملک کو ایک ماہ قبل ہی ہلاک کردیا گیا تھا۔ قرون وسطی کے ذرائع نے خیام کے دو سرپرستوں کی ہلاکت کا ذمہ دار اسماعیلیوں کو قرار دیا ہے ، جو مذہبی اور سیاسی تحریک کے نمائندوں نے ترک سلطنت کے خلاف ہدایت کی تھی۔ ملک شاہ کی موت کے بعد ، انہوں نے اصفہان بزرگ کو دہشت زدہ کردیا۔ تشدد اور مذمتیں شہر میں طغیانی کے خفیہ قتل کے خوف سے پیدا ہوئیں۔ اقتدار کی جدوجہد کا آغاز ہوا ، عظیم سلطنت ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئی۔

ملک شاہ ترکان - خاتون کی بیوہ عورت کے دربار میں عمر کی حیثیت بھی متنا‍زعہ ہوگئی۔ اس خاتون کو نظام الملک سے لگاؤ نہیں تھا۔ عمر خیام نے کچھ وقت تک رصد گاہ میں کام کیا ، لیکن دیکھ بھال یا تعاون حاصل نہیں کیا۔ اسی دوران ، انہوں نے ترکان خاتون کے دربان میں میں بطور معالج اور نجومی کے طور پر خدمات انجام دیں ۔ [9]

خیام کے درباری دور کا اختتام[ترمیم]

اس کے درباری دور کے تباہ ہونے کی کہانی آج ایک قصہ پارینہ بن گئی ۔ اس کا تعلق سال 1097 ہے۔ ملک شاہ کا سب سے چھوٹا بیٹا 11 سالہ لڑکا سنجر ایک بار چکن پاکس یا خسرہ کے مرض میں مبتلا ہوگیا تھا ، اور خیام جو اس کا علاج کر رہا تھا ، نادانستہ طور پر کہا کہ یہ شاید ہی ٹھیک ہو سکے ۔ وزیر سے بولے گئے الفاظ نوکر نے سنے اور بیمار وارث تک پہنچ گئے۔ بعد میں سلطان بننے کے بعد ، جس نے 1118 سے لے کر 1157 تک سلجوق ریاست پر حکمرانی کی ، سنجر نے اپنی پوری زندگی خیام سے ناپسندیدگی اختیار کی۔

ملک شاہ کی موت کے بعد ، اصفہان مرکزی سائنسی مرکز اور شاہی رہائش گاہ کی حیثیت سے محروم ہو گیا۔ یہ ناکارہ ہوکر گر گیا اور ، آخر کار ، رصد گاہ کو بند کردیا گیا ، اور دارالحکومت میرو (خروسان) شہر منتقل کردیا گیا۔ عمر ہمیشہ کے لئے یہ جگہ چھوڑ گیا ، نیشا پور لوٹا۔ [9]

نیشا پور میں زندگی[ترمیم]

یہاں وہ اپنی موت تک زندہ رہا ، بس کبھی کبھار شہر سے بلخ یا بخورہ جانا پڑتا تھا۔ اس کے علاوہ ، انہوں نے مکہ مکرمہ میں مسلم مزارات پر طویل سفر کیا۔ خیام نیشاپور مدرسہ میں پڑھاتے تھے۔ اس کے پاس طلباء کا ایک چھوٹا سا حلقہ تھا۔ کبھی کبھی وہ سائنسدانوں کو اپنے ساتھ ملاقاتوں کی تلاش میں لے جاتا ، سائنسی تنازعات میں حصہ لیا کرتا تھا۔

اس کی زندگی کا آخری دور انتہائی مشکل تھا ، محرومی کے ساتھ وابستہ اور خواہش کے ساتھ ، جو روحانی تنہائی سے پیدا ہوا تھا۔ نیشا پور میں وقت کے سات ساتھ اس کی شہرت ایک ملحد اور مرتد کے طور پر بھی ہوتی چلی گئی ۔ ایک ماہر فلکیات اور ریاضی دان کی حیثیت سے اس کی خدمات کو فراموش کر دیا گیا ۔ مسلمان مفتیوں اور علما کی طرف اس کے خلاف شدید خیالات اور مخالفت شروع ہو گئی ۔ اس نے بھی گلیلیو کی طرح زمین کے گول ہونے اور نطام شمسی کے گرد گھومنے کا نظریہ پیش کیا اور اس مقصد کے لیے رصد گاہ میں خواص اور عوام کو مشاہدہ بھی کروایا ۔ مگر اسلامی انتہا پسندوں نے اس کو جان سے مارنے کی کوشش کی ۔ جس پر اسے نہ صرف اپنے اس خیالات سے دستبردار ہونا پڑا ، بلکہ اپنے ساز و سامان کے اپنی آنکھوں کے سامنے جلاتے ہوئے دیکھنا پڑا ۔ اس واقعے نے اس کو دل برداشتہ کر دیا ۔ [9]


مکہ مکرمہ اور گاؤں کی زندگی کا سفر[ترمیم]

کچھ عرصے کے بعد ، مسلم مفتیوں اور مولویوں کے ساتھ جھڑپیں اتنی خطرناک ہوگئیں کہ خیام مجبور ہوا کہ وہ سب چھوڑ کر مکہ جانے کی کوشش کرے۔ اس دور میں ، مقدس مقامات کا سفر بعض اوقات برسوں تک جاری رہتا تھا۔ عمر کچھ دیر کے لئے بغداد میں سکونت اختیار کر گیا۔ یہاں اس کے درس نظامی میں درس و تدریس کے واقعات ملتے ہیں۔

عمر خیام ، جن کی زندگی بدقسمتی سے بھرپور تھی ۔ وطن لوٹ کر ، نیشا پور کے قریب ایک گاؤں میں ایک ویران مکان میں رہنے لگے۔ وہ شادی شدہ نہیں تھا اور اس کی کوئی اولاد نہیں تھی۔ وہ شکوک و شبہات کی وجہ سے مستقل خطرے میں تنہائی میں رہتا تھا۔ [9]

خیام نے ایک مرتبہ یہ کہا تھا کہ اس کی قبر ایسی جگہ ہوگی جہاں اس پر پھولوں کی بارش ہوتی رہے گی۔ آج اس کا مزار ایک باغ کے کنج میں واقع ہے اور وہ اکثر پھولوں سے ڈھکا رہتا ہے’ [7]

یادگار[ترمیم]

بیسویں صدی میں انسان نے کرۂ ارضی سے باہر قدم کھا توا پنی ان تمام کامیابیوں کو بجاطور پر ماضی و حال کے عظیم مفکروں’ سائنس دانوں’ ریاضی دانوں’ ہیئت دانوں’ فلسفیوں’ ادیبوں’ فنکاروں اور دانشوروں کی اعلیٰ خدمات کا ثمر مانتے ہوئے’ چاند کی سطح کے مختلف حصوں کے نام ان عظیم علما کے نام پر رکھے۔ چاند کی سطح پر جو گڑھے یا غار نظر آتے ہیں انھیں (crater) کہتے ہیں۔ سیکڑوں کریٹروں کو بیشتر سائنس دانوں کے نام دیے گئے ہیں۔ چنانچہ چاند پر ایک کریٹر کو ‘‘عمرخیام’’ کا نام بھی دیا گیا ہے۔[7]

فٹزجیرالڈ کے ترجمے کے بعد رباعیت کی مغرب کی عیش و عشرت کی دلدادہ اقوام نے خیام کے نام کو خمریات کی علامت بنا دیا۔ چنانچہ مغربی ممالک میں اس کے نام سے شراب خانے’ جواخانے’ نائٹ کلب وغیرہ عام ہیں۔ اس کی طلسماتی شخصیت پر کئی ناول لکھے گئے۔ تین خاموش فلمیں اور ۱۹۵۰ء میں ہالی وڈ کی معروف فلم اس کی زندگی پر تیار کی گئی۔ اس وقت بھی رباعیات کے کم از کم نو مختلف ایڈیشن صرف امریکہ میں دستیاب ہیں۔ حال ہی میں ایک پانچویں فلم The Keeper: The Legend of Omar Khayyamکے نام سے جون ۲۰۰۵ء میں لاس اینجلس میں نمائش کے لیے پیش کی گئی جسے ایرانی نژاد امریکی فلم ساز کیوان مشائخ نے لکھا’ ہدایات دیں اور پروڈیوس کیا۔ نئی فلم میں آسکر ایوارڈ یافتہ ایکٹریس ونیسا ریڈگریو (Vanessa Redgrave)نے مرکزی کردار ادا کیا ہے۔ فلم کے بیشتر مناظر سمرقند اور بخارا میں فلمائے گئے۔ یہ فلم ۲۰۰۵ء کے ماسکو انٹرنیشنل فلم فیسٹیول کے لیے منتخب کی گئی۔فلموں کے علاوہ امریکہ میں عمرخیام کی زندگی اور رباعیات پر متعدد گانے اور ڈرامے لکھے گئے۔ کارٹون Rocky and Bullwinkle جس میں چوہا اور گلہری The Ruby Yacht of Omar Khayyam کی تلاش میں نکلتے ہیں۔ [7]

۱۹۳۴ء میں عالمی تعاون سے عمرخیام کا مقبرہ تعمیر کیا گیا۔ مقبرے کی ساخت ایستادہ خیمے کی شکل میں ہے۔ محراب در محراب بلند و بالا مقبرہ دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ محرابوں پر اس کی رباعیاں کندہ ہیں۔ وہ لحد میں بھی شکوہ کناں تو ہوگا۔

مرا یارانِ غزل خوانی شمردند!

تصانیف[ترمیم]

انسا ئیکلوپیڈیا آف اسلام میں لکھا ہواہے کہ عمر خیام ریاضی میں مہارت رکھتا تھا۔ اس نے عربی زبان میں جبرومقابلہ لکھا ہے جس کے نسخے لیڈن میں موجود ہیں۔ مصادرات پر جو تحقیق عمر خیام نے کی ہے اس کا ترجمہ مختلف زبانوں میں ہوچکا ہے۔ دنیائے عرب میں پہلی مرتبہ خیام کی شہرت اس کی ریاضی دانی ہی کی وجہ سے ہوئی۔ سید سلمان ندوی نے عمر خیام اور اس کے سوانح حیات پر نا قدانہ نظر میں عمر خیام کی ذیل کی کتابوں کا ذکر کیا ہے ۔

  • رسالہ استخراج اضلاع مربعات وکلعبات۔ ش۔ رباعیات خیام
  • رسالہ جبرو مقابلہ ص۔ رسالہ فی کلیات الوجود
  • زیچ ملک شاہی ض۔ رسالہ وصاف ہا رسالہ الوجود
  • رسالہ شرع ہا اشکل ف مصادرات ط۔ غرائس النفائس
  • رسالہ مختصر در طبیعیات ظ۔ نوروز نامہ
  • میزان الحکم ع۔ بعض عرب اشعار
  • رسالہ سکون والتکلیف غ۔ مکالبات خیام فارسی
  • رسالہ موضوع علم کل موجود

مزید دیکھیے[ترمیم]

نگار خانہ[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. https://cs.isabart.org/person/122075 — اخذ شدہ بتاریخ: 1 اپریل 2021
  2. جی این ڈی آئی ڈی: https://d-nb.info/gnd/118736302 — اخذ شدہ بتاریخ: 14 اگست 2022
  3. اثر پرسن آئی ڈی: https://www.digitalarchivioricordi.com/it/people/display/12876 — اخذ شدہ بتاریخ: 3 دسمبر 2020
  4. مکمل کام یہاں دستیاب ہے: https://www.bartleby.com/library/bios/ — عنوان : Library of the World's Best Literature
  5. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb119181488 — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  6. عنوان : Anthology of philosophy in Persia: from Zoroaster to Omar Khayyam
  7. ^ ا ب پ ت ٹ عمر خیام مصنف : پروفیسر خادم علی ہاشمی , سلسلہ : تاریخی شخصیات , شمارہ : فروری 2007
  8. ^ ا ب عمر خیام کی سر گزشت افسر آذر
  9. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ د ڈ ذ عمر خیام: سیرت عمر خیام کی زندگی سے دلچسپ حقائق
  10. ^ ا ب عمر خیام: مختصر سوانح عمری، دلچسپ حقائق، ویڈیو عمر خیام سوانح عمری