عمر خیام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
عمر خیام
Omar Khayyam Profile.jpg
پیدائش بدھ یکم ذوالحجہ 439ھ/ 18 مئی 1048ء
نیشاپور، حکومت آل بویہ، فارس، خلافت عباسیہ، موجودہ خراسان، ایران
وفات جمعہ 11 محرم الحرام 526ھ/ 4 دسمبر 1131ء
(عمر: 86 سال 1 ماہ 10 دن ، 83 سال 6 ماہ 16 دن شمسی)
نیشاپور، خراسان، (ایران)
قومیت Persian
مکتب فکر Persian mathematics، فارسی ادب، Persian philosophy
شعبہ عمل
ریاضی، فلکیات، فلسفہ، فارسی ادب

عمر خیام:فارسی شاعر اور فلسفی ۔ حکیم ابوالفتح عمر خیام بن ابراہیم ۔

پیدائش[ترمیم]

عمر خیام نیشاپورسال پیدائش 408 ھ یا 410 ھ ہے۔ علوم و فنون کی تحصیل کے بعد ترکستان چلا گیا جہاں

علمی مقام[ترمیم]

فلسفہ میں بوعلی کا ہمسر اور مذہبی علوم میں امام فن تھا۔ علوم نجوم کا تو وہ ماہر مانا گیا تھا۔بادشاہ وقت خاص خاص تقریبات کی تاریخ مقرر کروانے کیلئے عمر خیام ہی کی طرف رجوع کرتا تھا ۔

دربار تک رسائی[ترمیم]

قاضی ابوطاہر نے اس کی تربیت کی اور آخر شمس الملک خاقان بخارا کے دربار میں پہنچا دیا۔ ملک شاہ سلجوقی نے اسے اپنے دربار میں بلا کر صدر خانۂ ملک شاہی کی تعمیر کا کام سپرد کیا۔ یہیں فلکیاتی تحقیق کے سلسلے کا آغاز کیا۔ اور زیچ ملک شاہی لکھی۔ اپنی رباعیات کے لیے بہت مشہور ہے۔

وجہ شہرت[ترمیم]

مختلف علوم میں ماہر ہونے کے باوجود عمر خیام کی شہرت کا سرمایہ اس کی فارسی رباعیات ہیں۔ اس بلند پایہ شاعر کا علمی دنیا سے تعارف کرانے میں اہل یورپ نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔سب سے پہلے روسی پروفیسر ولنتین ژو کو فسکی نے رباعیات عمر خیام کا ترجمعہ کیا ۔پھر فٹنر جیرالڈ نے عمر خیام کی بعض رباعیات کا انگریزی میں ترجمعہ کیا ۔اور بعض اہم مضمون رباعیات کا مفہوم پیش کرکے کچھ ایسے انداز میں اہل یورپ کو عمر خیام سے روشناس کرایا کہ اسے زندہ جاوید بنادیا ۔

رباعیات عمر خیام[ترمیم]

عمر خیام جب نجوم ،ریاضی اور فلسفے کے پیچیدہ مسائل سے فارغ ہوتا تو دل اور دماغ کی تفریحی کے لیے شعر کی طرف مائل ہوتا۔ عمر خیام کی شاعری کا حاصل صرف اس کی فارسی رباعیات ہیں۔ رباعیوں کی زبان بڑی سادی ، سہل اور روان ہے۔لیکن ان میں فلسفیانہ رموزہیں جو اس کے ذاتی تاثرات کی آئینہ دار ہیں ۔سب سے پہلے جو چیز عمر خیام کی رباعیوں میں ہمیں نمایاں نظر آتی ہے وہ انسانی زندگی کے آغاز وانجام پر غور وخوص ہے۔اگر چہ انسانی زندگی مختصر ہے اور اس پر بھروسا نہیں کیا جاسکتا لیکن دریافت اور جستجو کی ایک امنگ ہے جو انسان کو قانع نہیں رہنے دیتی اور اس کی بدولت وہ اپنے آغاز و انجام کے متعلق سوچتا رہتا ہے اس کے کانوں میں رہ رہ کر یہ صدا گونجتی ہے ۔ ماز آغاز و انجام جہاں بی خبر یم اول وآخر این کہنہ کتاب افتاداست

انسان  کی  یہ  بے  خبری، لاعلمی، زندگی کی رفتار اور بے چین روح اسے جستجو اور دریافت  کی راہ  پر لگائے رکھتی ہے ۔
رباعیات کا ترجمہ دنیا کے قریباً سب معروف زبانوں مین ہوچکا ہے۔ علوم نجوم و ریاضی کا بہت بڑا عالم تھا۔ 

تصانیف[ترمیم]

ما الشکل من مصادرات اقلیدس ، زیچ ملک شاہی ، رسالہ مختصر در طبیعیات ، میزان الحکم ، رسالۃ اکلون و التکلیف ، رسالہ موضوع علم کلی وجود ، رسالہ فی کلیات الوجود ، رسالہ اوصاف یا رسالۃ الوجود ، غرانس النفائس ، نوروزنامہ ، رعبایات خیام ، بعض عربی اشعار ، مکاتیب خیام فارسی ’’ جو اب ناپید ہے‘‘۔

مزید دیکھیۓ[ترمیم]

نگار خانہ[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]