منہاج سراج جوزجانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
منہاج سراج جوزجانی
معلومات شخصیت
پیدائش 589ھ/ 1193ء
صوبہ غور  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات غالباً 658ھ/ 1260ء کے بعد
رہائش فیروزکوہ، غور، سیستان، لاہور، لکھنؤ، دہلی
دیگر نام ابو عمر منہاج الدین عثمان بن سراج الدین محمد
عملی زندگی
پیشہ مؤرخ ہندوستان
ملازمت خاندان غلاماں  ویکی ڈیٹا پر نوکری (P108) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

قاضیمنہاج سراج جوزجانی (پیدائش: 1193ء/وفات: غالباً 658ھ/ 1260ء کے بعد) تیرہویں صدی کے فارسی مورخ جن کا تعلق غوریوں کے دار الحکومت فیروزکوہ سے تھا۔ مورخین کی نظر میں عموماً علامہ منہاج السراج کے لقب سے مشہور ہیں۔ نسلاً وہ افغانی تھے مگر ہندوستان آمد سے اُن کی وجہ شہرت تاریخ بنی۔ وہ سلطنت دلی کے خاندان غلاماں کے اہم مورخ ہیں۔ نیز انہوں نے سلطان ناصر الدین محمود کے لیے طبقات ناصری بھی تحریر کی تھی جو ان کی شہرت کا باعث بنی۔ سلطان ناصر الدین محمود کے عہد حکومت میں وہ دربار شاہی کے اہم اور بااثر افراد میں سے ایک تھے۔ دہلی سلطنت کے عہد میں وہ بلند مراتب پر فائز رہے اور سلاطین دہلی سے اُن کے تعلقات بہت وسیع تھے۔ اُنہیں ہندوستان میں اسلامی حکومت کے قیام کے بعد اولین مسلم مؤرخین میں شمار کیا جاتا ہے۔

ولادت اور والدین[ترمیم]

منہاج سراج کا نام ابو عمرو منہاج الدین عثمان ہے جبکہ وہ مولانا منہاج سراج کے نام سے مشہور ہیں۔ منہاج کے والد بزرگوار سراج الدین محمد کو افصح العجم اور اعجوبۃ الزمان کہا جاتا تھا۔ منہاج کے دادا کا نام بھی مولانا منہاج الدین عثمان بن ابراہیم بن امام عبد الخالق الجوزجانی تھا۔[1] طبقات ناصری کی متعدد شہادتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ منہاج کے اعزہ و اقرباء بہت تھے، لیکن اُن کا ایک ہی بھائی تھا جو 617ھ/1220ء میں قلعہ تُولک ہرات میں تاتاریوں کے حملوں کے خلاف جنگوں میں منہاج کے ہمراہ شریک رہا۔ اِسی طرح اُن کی ایک بہن کا بھی پتہ چلتا ہے جس کا ایک خط ماہِ شعبان 647ھ/نومبر 1249ء میں خراسان سے آیا تھا اور منہاج اُس سے ملاقات کو خراسان بھی گئے۔ مولانا منہاج کے بیٹے متعدد تھے جن میں سے ایک کا نام عمر تھا جس سے مولانا نے اپنی کنیت ابوعمر رکھی تھی۔

ولادت اور وطن[ترمیم]

منہاج 589ھ/ 1193ء میں فیروزکوہ میں پیدا ہوئے جو اُس وقت غوری خاندان سلطنت کا پایہ تخت تھا۔ فیروزکوہ کا موجودہ مقام شاید افغانستان کے صوبہ غور میں ہے کیونکہ یہ شہر 1220ء کے ابتدائی سالوں میں منگول سلطنت کے دوسرے خاقان اوغدائی خان کے ہاتھوں تباہ ہو گیا تھا۔ موجودہ زمانہ میں فیروزکوہ کے صحیح مقام کا تعین نہیں کیا جاسکا۔ منہاج خود لکھتے ہیں کہ جب اُس نے 607ھ/ 1211ء میں ملک رکن الدین محمود کو بمقام فیروزکوہ قتل ہوتے دیکھا تو اُس کی عمر 18 سال تھی،[2] اِس اعتبار سے منہاج کی ولادت 589ھ میں ہوئی۔

مولانا منہاج اپنی نسبت جوزجانی لکھتے ہیں حالانکہ اُنہوں نے کبھی بھی جوزجان میں سکونت اختیار نہیں کی اور نہ ہی وہاں زندگی گزاری۔ منہاج محض اصل وطن کی نسبت سے خود کو جوزجانی لکھتے ہیں۔ مستشرقین میں سے Raverty نے رائے مہملہ کی نسبت سے جرجانی لکھا ہے جو غلط ہے۔ شیخ محمد اکرام نے اپنی تصنیف آب کوثر میں بھی اِسی کی تقلید کی ہے مگر یہ بھی درست نہیں۔ آقائے عبد الحئی حبیبی نے جوزجانی کو معتبر کہا ہے جو خود مولانا منہاج نے اپنے نام کے ساتھ لکھا ہے بلکہ عبد الحئی حبیبی کے فارسی ترجمہ طبقات ناصری کے سرورق پر منہاج الدین عثمان بن سراج الدین المعروف بہ قاضی منہاج سراج جوزجانی لکھا ہے۔[3] بہرحال مولانا منہاج کے آباؤ اجداد جوزجان کے رہنے والے تھے۔ جوزجان قدیمی بلخ کے نواح میں واقع غوری خاندان سلطنت کے ماتحت تھا اور یہ خراسان کے بڑے شہروں میں شمار ہوتا تھا۔ مقدسی نے اِسے ولایت بلخ کا ایک حصہ قرار دیا ہے۔[4] قدیم جغرافیائی تصنیف حدود العالم (مصنف: نامعلوم الاسم) کے مطابق جوزجان کے شمال میں دریائے جیحون ہے، جنوب میں غور اور بُست اور مشرق میں بامیان، مغرب میں یہ علاقہ گرجستان (غرجستان) سے ملحق ہے۔[5][6][7] حالیہ جوزجان موجودہ افغانستان کا صوبہ جوزجان ہے۔

جوزجان 33ھ/653ء/ 654ء میں احنف بن قیس کے ہاتھوں فتح ہوا۔ یحییٰ بن زید بن علی بن حسین ابن علی (رضی اللہ عنہ) بھی جوزجان میں شہید ہوئے تھے۔ معروف عالم دین ابراہیم بن یعقوب ابو اسحاق اسعدی الجوزجانی (متوفی 359ھ/ 970ء) ثقہ حافظ تھے، تعلق جوزجان سے تھا۔ مشہور محدث ابو احمد بن موسیٰ الجوزجانی بھی اِسی خطہ سے تعلق رکھتے تھے۔ دسویں صدی عیسوی کے اوائل عشروں میں آلِ خریغون جوزجان میں حکومت کرتا تھا (منہاج نے اِس خاندان سے متعلق کوئی تاریخی روایت یا تذکرہ اپنی تصنیف طبقات ناصری میں نہیں کیا، جس سے ہم اِس خاندان سلطنت کے متعلق کچھ بھی جاننے سے قاصر ہیں)۔ آل خریغون جوزجان کے حدود و مضافات عذروبست اور ہلمند کے کناروں تک پہنچ چکے تھے۔ آل خریغون کا خاتمہ سلطان محمود غزنوی کے ہاتھوں ہوا۔ سلطان محمود غزنوی نے ولایت جوزجان اپنے فرزند محمد کے سپرد کردی تھی۔[8][9]

مولانا منہاج سراج کا خاندان[ترمیم]

مولانا منہاج کے بزرگوں میں اول جو سب سے پہلے جوزجان سے غزنی وارد ہوئے وہ امام عبد الخالق تھے جن کا زمانہ 451ھ سے 492ھ تک کا تھا۔ اُنہوں نے سلطان ابراہیم غزنوی کی دختر سے نکاح کیا اور اِسی شہزادی سے اُن کے ایک فرزند ابراہیم پیدا ہوئے۔ امام عبد الخالق فقیہ، متقی عالم تھے۔ امام عبد الخالق کی سلاطین غزنی کی طرح سلاطین غور سے بھی خاندانی قرابتداری ہو گئی تھی اور سلاطین غور بھی اِن کے قدردان تھے۔ امام عبد الخالق کا مزار غزنی سے 35 میل جانب مغرب طاہر آباد میں موجود ہے۔ ابراہیم کے فرزند منہاج الدین عثمان (جن کا زمانہ چھٹی صدی ہجری کا نصف اول ہے) تھے۔ اور اِن کے فرزند سراج الدین محمد اعجوبۃ الزمان افصح العجم تھے جو مولانا منہاج سراج کے والد تھے۔ سراج الدین محمد اعجوبۃ الزمان کا زمانہ چھٹی صدی ہجری کا ثلث آخر تھا یعنی غالباً 575ھ کے بعد تک۔ دربار غزنی میں یہ خاندان بڑے احترام کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔ مولانا منہاج کے دادا منہاج الدین عثمان نے خلیفہ عباسی المستضی باللہ کے عہد خلافت (566ھ تا 575ھ) میں سفر حج کو گئے اور اُنہیں دربارِ خلافت بغداد سے خلعت شاہی عطاء ہوئی اور اُنہیں انعامات و نوازشات سے نوازا گیا۔ منہاج الدین عثمان حج و زیارتِ کعبہ کے بعد ملک شمس الدین بن ملک تاج الدین شاہِ سیستان کے دربار میں آئے اور مورد لطف و کرم ہوئے۔ سیستان سے غزنی ہوتے ہوئے لاہور پہنچے اور لاہور میں 572ھ/ 1176ء میں وفات پائی۔ منہاج کے والد سراج الدین محمد افصح العجم کو سلاطین غور کے دربار کے اکابر میں بڑی اہمیت حاصل تھی۔ بقول محمد عوفی اُن کی ولادت لاہور میں ہوئی۔[10][11] جب سلطان معز الدین محمد شہاب الدین غوری نے 582ھ/ 1186ء میں لاہور فتح کیا تو سراج الدین عثمان کو ہندوستان کے لشکر کا قاضی مقرر کر دیا۔[12] چار سال بعد 586ھ/ 1190ء میں سراج الدین عثمان غزنی، فیروزکوہ، غور کے سفر پر روانہ ہوئے۔ 588ھ/ 1192ء میں تخت بامیان پر سلطان بہاؤ الدین سام غوری تخت نشیں ہوا، یہ سلطان منصف و عادل، علم دوست عالموں کا قدردان اور مربی حکمران تھا۔ اِسی سال  سلطان بہاؤ الدین سام نے اپنی خاص انگشتری بھیج کر غزنی سے مولانا سراج الدین منہاج کو بلوایا اور تمام سلطنت کا عہدہ قضاء، سلطنت کا عہدہ خطابت اور شرعی احتساب اور اوقاف و مدارس کا انتظام اِن کے سپرد کیا۔[13] سلطان بہاؤ الدین سام غوری کی دعوت پر اُنہوں نے بلوران و بامیان کی حکومت سنبھال لی اور سلطان بہاؤ الدین سام غوری کی طرف سے تمام مملکت اور لشکر کے قاضی مقرر ہوئے، خطابت اور عام احتساب بھی اِن کے سپرد ہوا۔[14] 590ھ/ 1194ء کے قریب سراج الدین عثمان بامیان سے دربارِ سلطان غیاث الدین میں فیروزکوہ، غور پہنچے۔ بعد ازاں بحیثیتِ سفیر دربارِ سیستان پہنچے۔ اِس کے بعد 592ھ/ 1196ء میں ایک سیاسی معاملہ کی مہم پر بغداد میں عباسی خلیفہ الناصر لدین اللہ کے دربار پہنچے۔ یہ فرائض سفارت اداء کرکے واپس ہوئے تو کرمان کے مقام پر 592ھ/ 1196ء کے آخر میں وفات پائی۔[11] سراج الدین عثمان عالم، شاعر اور صاحب تدبیر و سیاست دان تھے۔ اِن کے اشعار محمد عوفی نے لباب الالباب میں نقل کیے ہیں۔[15] خلافت عباسیہ بغداد اور غوری خاندان سلطنت کی طرف یہ خاندان منصبِ قضاء پر فائز تھا۔

ابتدائی حالات[ترمیم]

مولانا منہاج کی ابتدائی زندگی پر زیادہ تفصیل تو نہیں ملتی مگر یہ بات مؤرخین کے لیے قابل قبول ہے کہ خود منہاج نے طبقات ناصری میں جا بجاء کئی ایسے حوالے دیے ہیں جو اُن کی ذاتی و سفارتی اور سیاسی زندگی کو اُجاگر کرتے ہیں۔ خاندان منہاج ابتدا سے ہی سلاطین سے وابستہ رہا تھا اور اِس حال میں خود منہاج کی تربیت بھی سفارتی و سیاسی انداز میں ہوئی۔ منہاج کی زوجہ قلعہ تُولک ہرات، ولایت قہستان اور جبال و ہرات کے علمی و ذمہ دار خاندان کی خاتون تھیں جو سلاطین غور کے دربار میں معزز و محترم تھا۔ اِس سے بڑھ کر یہ کہ منہاج کی والدہ سلطان غیاث الدین غوری کی دختر ماہ ملک کے محل میں رہا کرتی تھیں۔ منہاج زمانہ بلوغت تک ماہ ملک دختر سلطان غیاث الدین غوری کے محل میں تربیت پاتے رہے۔ سراج الدین عثمان کا نکاح ہرات کے مشہور علمی خاندان کی خاتون قلعہ تُولک سے ہوا، جو سلطان غیاث الدین غزنوی کی شہزادی کی رضاعی بہن اور ہم مکتب تھی۔ تُولک خاتون سے ہی 589ھ/ 1193ء میں منہاج سراج جوزجانی کی ولادت ہوئی۔ سن بلوغت تک منہاج سلاطین فیروزکوہ اور سلاطین غور کے محلات میں تربیت پاتے رہے۔ خود منہاج نے اپنے بچپن اور محل میں تربیت پانے کے حوالہ سے لکھا ہے کہ: اِس ملکہ جہاں نے اِس ضعیف (یعنی خود منہاج) کی پرورش اپنی آغوشِ شاہی میں مثل اپنے فرزندوں کے شاہانہ طریقے پر کی اور میں اُن کی نگرانی میں تربیت پاتا تھا۔[16]

596ھ/ 1200ء میں منہاج کو 7 سال کی عمر میں قرآن کریم حفظ کرنے کے لیے معلم امام علی غزنوی کی خدمت میں بٹھایا گیا۔ اِس عمر میں یادداشت اور قوتِ حافظہ ایسا تھا کہ طبقات ناصری میں مولانا امام علی غزنوی سے شنیدہ واقعات کو اُنہی کے الفاظ میں لکھا ہے۔ 22 سال کی عمر تک یعنی 611ھ/ 1214ء تک منہاج فیروزکوہ میں مقیم رہے۔ تحصیل علم سے فراغت کے بعد منہاج مختلف شہروں کی سیاحت کو گئے۔

613ھ/ 1216ء میں منہاج کو سلاطین غور کی جانب سے دربارِ سیستان (مقام بُست) میں پہلی بار سفیر بنا کر بھیجا گیا۔گویا 24 سال کی عمر تک منہاج سفارتی و سیاسی حیثیت سے اپنے والد سراج الدین عثمان کے جانشین بن چکے تھے۔ 613ھ میں ہی منہاج کی سیاسی و سفارتی عہدوں پر فائز ہونے اور بحیثیتِ سفیر سلاطین کے درباروں تک خاص رسائی کی عملی زندگی کا آغاز ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں یہ کہ 617ھ/ 1220ء تک وہ فیروزکوہ اور ہرات میں مقیم رہے۔ 617ھ/ 1220ء میں جب چنگیز خان کی فوجوں نے ہرات پر حملہ کیا تو منہاج ہرات میں ہی موجود تھے۔618ھ/ 1221ء میں 29 سال کی عمر میں منہاج نے گزیو اور تمران کا سفر کیا اور ہرات کی ایک خاتون سے نکاح کر لیا اور وہیں اقامت اختیار کی۔ اِس زمانہ میں منہاج کی طبیعت شاعری کی طرف مائل تھی اور نہایت عمدہ فارسی اشعار کہا کرتے تھے۔ خود منہاج نے لکھا ہے کہ: میں نے اپنی شادی کا قصہ نظم کرکے گزیو اور تمران کے حکمران ملک ناصر الدین ابوبکر سوری کی خدمت میں پیش کیا تھا۔[17]

منہاج جوانی میں ہی مدبر سیاست دان سمجھے جانے لگے تھے اور بعض اوقات وہ سلاطین و اُمراء کے درمیان چپقلش اور باہمی خصومت کو مٹانے کی کوشش کیا کرتے تھے۔ جیسے کہ 623ھ/ 1226ء میں اُنہوں نے قلعہ خیسارغور کے حکمران ملک رکن الدین مرغنی کی طرف سے دربارِ سیستان اور قہستان کے ملاحدہ فرمانرواء سے کامیاب سفارتکاری کی۔

ہندوستان آمد[ترمیم]

طبقات ناصری کی داخلی شہادتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ منہاج 620ھ/ 1223ء تک قلعہ تُولک ہرات میں مقیم تھے۔ یہ زمانہ چنگیز خان کی غارت گری کا تھا جب تاتاری لشکر مسلم سلطنتوں کے مقبوضات میں لوٹ مار مچا رہے تھے۔ منہاج اہل تُولک ہرات کے ساتھ مل کر تاتاری لشکروں کا مقابلہ کرتے رہے۔ منہاج سلاطین غور کے قاصد اور سفیر کی حیثی سے 623ھ/ 1226ء تک متعدد بار فراح و سیستان اور قہستان ملاحدہ کی طرف سفر کیا۔ 623ھ/ 1226ء میں منہاج نے ہندوستان جانے کا قصد کیا۔ منہاج چونکہ مدبر اور ذی وجاہت شخص تھے، اِسی لیے اُس زمانے کے امرا اور حکمرانوں کے مزاج شناس بھی ہوچکے تھے اور ہر حکمران کی نبض حکومت کو دیکھنا اُن کی نظر سے دور نہ تھا، اِس لیے سلاطین غور و خراسان نے اُنہیں متعدد بار سیاسی و سفارتی اُمور کی انجام دہی اور فرائض سفارت سونپے بلکہ ایک بار تو ملک تاج الدین نیالتگین کی طرف سے سفارت کے فرائض کی انجام دہی سے انکار پر اِنہیں کچھ عرصہ قلعہ صفہیدستان میں نظر بند بھی رہنا پڑا لیکن اِس کے بعد وہ چنگیز خان کی تباہ کاریوں سے متاثر ہوکر 623ھ/ 1226ء میں منہاج نے ہندوستان جانے کا قصد کیا۔  اوائل  624ھ/1227ء میں سیستان، خراسان سے براستہ درہ گومل و بنیان (موجودہ بنوں) دریائے سندھ پر پہنچے اور کشتی کے ذریعہ سفر کرکے اوچ چلے گئے جو ناصر الدین قباچہ کا دار الحکومت تھا۔ اِس وقت منہاج کی عمر 35 سال تھی اور معلوم ہوتا تھا کہ اِن کی علمی شہرت اِن سے قبل ہی یہاں پہنچ چکی تھی کیونکہ اِسی سال ناصر الدین قباچہ نے اِنہیں اوچ کے مدرسہ فیروزی کا صدر معلم اور علاؤ الدین بہرام شاہ بن ناصر الدین قباچہ کے لشکر کا عہدہ قضاء اِن کے سپرد کر دیا لیکن چند ماہ بعد 27 جمادی الثانی 625ھ/ 3 جون 1228ء میں سلطان شمس الدین التتمش نے اوچ فتح کر لیا تو اِس کے دامن دولت سے وابستہ ہو گئے اور سلطان کے ساتھ دہلی پہنچ گئے۔

سلطنت دہلی اور دربارِ دہلی سے وابستگی[ترمیم]

مولانا منہاج 629ھ/ 1232ء تک دہلی میں رہے۔ اِس سال سلطان شمس الدین التتمش نے گوالیار کا محاصرہ کیا تو منہاج بھی سلطان کے لشکر کے ہمراہ تھے اور فتح گوالیار کے بعد وہاں ماہِ صفر 630ھ/ نومبر 1232ء کو منہاج کا تقرر کالپور گولیار میں بطور قاضی و خطیب اور محتسب امام اُمور شرعیہ ہوا۔ مولانا 6 سال تک اِس عہدے پر قائم رہے۔[11] سلطان شمس الدین التتمس کے جانشین سلطان رکن الدین فیروز شاہ اور سلطان رضیہ نے بھی اِسی منصب پر قائم رکھا مگر یکم شعبان 635ھ/ 19 مارچ 1238ء کو منہاج دہلی چلے آئے تو سلطان رضیہ نے گوالیار کی قضاء کے علاوہ مدرسہ ناصریہ کے مہتمم اور شیخ الجامع کی ذمہ داریاں اِنہیں تفویض کر دیں۔[18] 637ھ/ 1239ء میں سلطان رضیہ کے بعد سلطان معز الدین بہرام شاہ کو تختِ سلطنت پر فائز کیا گیا تو وہ دہلی میں موجود تھے اور بیعتِ عامہ کے وقت ایک تہنیتی قطعہ بھی اِس کے حضور پیش کیا تو اِن دنوں رعایا اور دربار دونوں میں معزز اور محترم تھے۔ سلطان التتمش کی وفات کے بعد نظامِ سلطنت اور اُمور مملکت میں جو خلل پیدا ہوا تھا، سلطان بہرام شاہ کے دور میں بھی اِس خلل میں کوئی اصلاح کی صورت نظر نہ آتی تھی۔ منہاج نے پرفتن دور میں اصلاحِ احوال اور اُمراء و ملوک اور محلاتی سازشوں کو روکنے میں اپنا کردار پوری دیانتداری سے اداء کیا لیکن کوئی زیادہ کامیابی حاصل نہ ہو سکی البتہ اُنہوں نے یہ ثابت کر دیا کہ اِن میں سیاسی قابلیت اور انتظامی صلاحیت بے پناہ تھی۔ چنانچہ سلطان بہرام شاہ 10 جمادی الاول 639ھ/ 16 نومبر 1241ء کو پوری مملکت کے قضاء کا عہدہ یعنی قاضی حضرت (دہلی) و کل ممالک کے عہدہ پرتفویض کیا۔[19] مولانا نے اپنی طرف سے اصلاحِ احوال اور سلطان بہرام شاہ کے مخالفین کے درمیان صلح کی کوشش جاری رکھی۔ اِسی دوران میں صلح مخالف عناصر اور حاسدین کی طرف سے ایک جمعہ 7 ذیقعد 639ھ/ 9 مئی 1242ء کو جامع مسجد دہلی میں نماز جمعہ کے بعد مولانا پر قاتلانہ حملہ بھی کروایا گیا مگر وہ محفوظ رہے، البتہ جمعہ 14 ذیقعد 639ھ/ 16 مئی 1242ء کو شورش پسندوں نے سلطان بہرام شاہ کو قتل کروا دیا۔ علاؤ الدین مسعود شاہ بن فیروز شاہ کو تخت دہلی پر بٹھایا گیا اور منہاج سراج کو اپنے منصب سے مستعفی ہونا پڑا۔[19] اِس کے بعد منہاج امن و سکون کی تلاش اپنے اہل خانہ کے ہمراہ دہلی سے لکھنوتی (موجودہ مشرقی بنگال) چلے گئے اور 2/3 سال حکمران لکھنوتی طغان خان عز الدین طغرل کے مہمان رہے۔ قریباً دو سال تک کا یہ عرصہ منہاج کا عرصہ گوشہ نشینی ہے (یعنی 640ھ سے ماہِ صفر 643ھ/ جولائی 1245ء[19] 643ھ/ 1245ء میں وہ طغان خان کے ساتھ واپس دہلی آئے اور وہ اُلغ خان (جو بعد میں غیاث الدین بلبن کے نام سے سلطان دہلی بنا) کی کوشش و سفارش سے سلطان علاؤ الدین مسعود نے بروز جمعہ 17 صفر 643ھ/ 14 جولائی 1245ء کو مولانا کو مدرسہ ناصریہ کا مہتمم اور جامع مسجد دہلی کا خطیب مقرر کرنے کے ساتھ ساتھ تولیتِ اوقاف اور قضائے گوالیار کے عہدہ پر فائز کر دیا۔[18][19] ایک سال بعد 23 محرم الحرام 644ھ/ 10 جون 1246ء کو سلطان ناصر الدین محمود ثانی بن سلطان شمس الدین التتمش تخت نشیں ہوا تو مولانا منہاج کا ستارہ پوری درخشانی سے چمکنے لگا۔ سلطان ناصر الدین محمود اور وزیر الممالک اُلغ خان بلبن دونوں اِن کے قدردان تھے اور ہر لمحہ اِن کی عزت افزائی میں اضافہ ہوتا گیا۔ منہاج سلطان ناصر الدین محمود کے ابتدائی سالوں میں ہمیشہ شاہی سواری کے ہمرکاب رہتے۔ اِس کے جلوس کے دوسرے سال قلعہ تلسندہ کی فتح کے وقت بھی لشکر شاہی کے ہمراہ تھے اور جو کچھ اِس سفر میں پیش آیا اُسے اُنہوں نے ایک طویل نظم ناصری نامہ کی صورت میں شرح و بسط سے قلمبند کیا۔[20]

سلطان ناصر الدین محمود کے زمانہ میں مولانا پر گوناگوں نوازشات ہوئیں۔ اِسی سلطان کے اعزاز میں منہاج نے طبقات ناصری تصنیف کی۔ یہ زمانہ منہاج کا دہلی دربار سے قرب کا ہے یعنی قربِ سلطانی کا زمانہ۔ قربِ سلطانی کا اندازہ اِس واقعہ سے لگایا جاسکتا ہے کہ ماہِ شعبان 647ھ/ نومبر 1249ء میں اُن کی بہن کا خط خراسان سے آیا تو اُن کی جدائی سے متاثر ہوکر صورت حال اُلغ خان (غیاث الدین بلبن) کو بتائی تو اُس نے خلعت شاہی، زربفت کا جامہ، ایک گھوڑا مع مرصع زین، ایک گاؤں اور ایک ہزار جیتل سے نوازا اور بارگاہِ شاہی سے 40 غلام اور سرخروار کا سامان مولانا کی بہن کے واسطے خراسان بھیجنے کا فرمان صادر ہوا جبکہ دیگر اُمرائے شاہی نے تحائف و ہدایہ سے نوازا۔ 648ھ/ 1250ء میں منہاج سفر خراسان میں ملتان پہنچے۔ خراسان سے واپسی پر منہاج دہلی میں مقیم رہے۔ 649ھ/ 1251ء میں جب قاضی القضاۃ جلال الدین کاشانی کا انتقال ہوا تو اُلغ خان (غیاث الدین بلبن) کی سفارش پر مولانا منہاج کو بروز پیر 10 جمادی الاول 649ھ/ 31 جولائی 1251ء کو کل ہندوستان کا قاضی القضاۃ اور حاکم حضرت دہلی کے عہدہ پر فائز کیا گیا۔ بروز ییر 27 رجب 651ھ/ 22 ستمبر 1253ء تک اِسی عہدے پر فائز رہے۔ اِس کے بعد کچھ عرصہ کے لیے سلطان ناصر الدین محمود کا مزاج سازشوں کی وجہ سے اُلغ خان (غیاث الدین بلبن) سے مکدر ہو گیا اور اُلغ خان کی جگہ نظام الملک جنیدی کو وزیر مقرر کیا گیا۔ مولانا کو بھی منصب سے الگ ہونا پڑا اور اُنہیں مخالفین کے ہاتھوں شدید مصائب و تکالیف کا سامنا کرنا پڑا۔ 652ھ/1254ء میں اُلغ خان (غیاث الدین بلبن) اور سلطان ناصر الدین محمود میں صفائی ہونے اور اُلغ خان کے منصب اور اعزازات کی بحالی کے بعد مولانا بھی مصاحبتِ سلطانی سے سرفراز ہوئے اور اِنہیں بروز اتوار 20 ربیع الاول 651ھ/ 10 مئی 1254ء کو صدرجہاں کا خطاب عطاء ہوا۔ ماہِ ربیع الاول 653ھ/ اپریل 1255ء میں مولانا کو تیسری بار ہندوستان کا قاضی القضاۃ اور قاضی حضرت دہلی مقرر کر دیا گیا۔ اِس تمام عرصہ میں غیاث الدین بلبن منہاج کے مربی خاص رہے۔

آخری ایام اور وفات[ترمیم]

طبقات ناصری سے معلوم ہوتا ہے کہ منہاج تادمِ آخر اِس عہدہ پر فائز رہے لیکن یہ بات قابل تعجب ہے کہ خود مولانا منہاج نے اپنے آخری ایام کے واقعات کو تحریر نہیں کیا۔ مؤرخین کے نزدیک یہ بات باعث حیرانی ہے کہ اِس نامور عالم کی آخری زندگی اور وفات کے متعلق کوئی تفصیلات نہیں مل سکیں۔ طبقات ناصری میں مولانا منہاج نے 656ھ/ 1258ء کے بعد اپنی زندگی کے حوالے سے کچھ نہیں لکھا۔ صرف اتنا معلوم ہوتا ہے کہ طبقات ناصری کی تکمیل یعنی اواخر 658ھ/ 1260ء میں وہ دہلی میں شاہانہ زندگی بسر کر رہے تھے اور منصبِ قضاء اور حکومت دہلی کے عہدوں پر فائز تھے۔ طبقات ناصری کے بائیسویں طبقہ کی تکمیل ماہِ شوال 658ھ/ ستمبر 1260ء میں ہوئی، اُس وقت منہاج 69 برس کے ہوچکے تھے، اِس کے آخر میں اُنہوں نے تحریر کیا ہے کہ: اگر فرصت ہوگی تو بقیہ حوادث بھی لکھے جائیں گے۔ لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اِس کے بعد بقیہ حوادثِ تاریخ لکھنے کی نوبت نہیں آئی، غالباً یہ خیال کیا جاتا ہے کہ منہاج شوال 658ھ/ ستمبر 1260ء کے بعد کسی عرصہ میں فوت ہوئے۔ سالِ وفات کے متعلق کوئی تاریخ نہیں ملتی، تذکرہ نویس اور سوانح نگار اِس سلسلہ میں خاموش ہیں۔ اگرچہ ایک دو تحریروں میں اُن کا سال وفات 673ھ اور 669ھ بھی لکھا ملتا ہے مگر یہ بھی مصدقہ نہیں اور نہ ہی اِن کی کوئی سند موجود ہے۔ ایک ٹھوس خیال کے مطابق منہاج 664ھ سے قبل فوت ہوچکے تھے کیونکہ سلطان غیاث الدین بلبن کی تخت نشینی 664ھ میں ہوئی اور اگر منہاج اُس زمانہ میں بقیدِ حیات ہوتے تو وہ ضرور اپنے مربی خاص دوست اور سرپرست کے متعلق لکھتے، مگر ایسی کوئی تحریر اُن کی نہیں ملتی۔ اِس سے اِس خیال کو قوت ملتی ہے کہ منہاج 664ھ سے قبل ہی وفات پوچکے تھے۔ عبد الحئی حبیبی نے فارسی ترجمہ طبقات ناصری کے سرورق پر سنہ وفات تخمیناً 658ھ/ 1260ء لکھا ہے لیکن یہ بھی محض اندازہ ہی ہے۔ مدفن کے متعلق بھی کوئی تاریخی روایت موجود نہیں، اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ وہ اپنے اواخر عمر میں دہلی میں موجود تھے اور حکومت دہلی کے عہدہ پر فائز تھے، یعنی آخری عمر دہلی میں گزری تو اُن کا مدفن بھی دہلی میں ہوگا۔

شخصیت و کردار[ترمیم]

منہاج متنوع شخصیت کے مالک تھے، بلند شخصیت و کردار کے مؤرخ تھے۔ عربی زبان اور فارسی زبان اور علوم شرعیہ میں کمال حاصل تھا۔ فارسی زبان میں اُستاد کا درجہ حاصل تھا اور نہایت عمدہ فارسی لکھتے تھے۔ عربی اور فارسی دونوں زبانوں میں اشعار کہا کرتے۔ علمی و ادبی مرتبہ نہایت بلند تھا۔ منہاج کی عام شہرت عموماً بطور مؤرخ و ادیب کی سی ہے لیکن اپنی زندگی میں ایک قاضی، عالم اور معلم تھے۔ دینی و فقہی مسائل پر اگرچہ کوئی تصنیف اُن کی منظر عام پر نہیں آئی یا تو اُنہوں نے ایسی کوئی کتاب ہی تحریر نہیں کی یا پھر دست بردِ زمانہ کی نذر ہو گئی۔ اُس زمانہ میں بعض اختلافی مسائل میں اُن کے نقطہ ہائے نظر کی معاصرانہ شہادتیں موجود ہیں۔ سماع کا مسئلہ ساتویں صدی ہجری کے اختلافی مسائل میں سے ایک ہے، یہ مسئلہ اربابِ شریعت اور صوفیا کے درمیان ایک بنیادی و اخلاقی مسئلہ بن چکا تھا۔ صوفیائے ہند بالخصوص سلسلہ چشت کے صوفیا سماع کے قائل تھے لیکن علمائے شریعت اِس مسئلہ پر معترض تھے۔ منہاج قاضی ممالک اور صدرِ جہاں اہل شریعت کے امام تھے مگر حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء نے اپنی تصنیف فوائد الفواد میں اِن کے متعلق جو کچھ تفصیلات تحریر کی ہیں اُن سے معلوم ہوتا ہے کہ منہاج صاحبِ ذوق تھے، نہ صرف سماع سماعت کرتے بلکہ دورانِ سماع اپنی دستار و جامہ پارہ پارہ کر ڈالتے۔ اِسی لیے کسی آدمی نے مولانا منہاج سے کہا بھی تھا کہ آپ قضاء کے لائق نہیں، البتہ شیخ الاسلام یعنی صوفیا کے گروہ کے سردار بنائے جانے کے قابل ہیں مگر علم و فضل اور قابلیت نے اُنہیں عہدہ قضائے مملکت پر لا بٹھایا تھا۔ مولانا منہاج کی افتاد طبع کا یہ نتیجہ نکلا کہ دارالقضاء کے فیصلوں میں آزادانہ خیالات کو فروغ ملا۔ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء کے بیان کے مطابق دہلی میں سماع کے رائج کرنے کے ذمہ دار حمید الدین ناگوری اور قاضی منہاج سراج تھے کہ سماع کا سکہ حمید الدین ناگوری نے جمایا اور قاضی مولانا منہاج کی خاموش حمایت نے اِس کی ترویج میں بھرپور رواج دیا۔ شیخ عبد الحق محدث دہلوی نے منہاج کو یگانہ روزگار فاضلوں اور اہل وجد و سماع میں شمار کیا ہے۔ مشہور انگریز مستشرق اسپرنگر نے بھی ممتاز صوفی اور اہل ذوق حضرات میں شمار کیا ہے۔ مختصر یہ کہ مولانا منہاج نے عرفان و طریقت کی راہداریوں کی سیر بھی کی تھی۔[21]

منہاج کی اِس افتاد طبع کا یہ اثر ہوا کہ اُن کی وسیع النظری کے باعث دارالقضاء کے طریقہ ہائے کار اور فیصلوں میں آزادانہ روش قائم ہو گئی تھی جو شدید تر مخالفتوں کے باوجود اُن کی فقہی روایات کا عنصر رہی۔ متعدد بااثر مخالفین اُن کے پے درپے رہے، بعض مذہبی حلقے بھی منہاج کے شدید مخالف تھے۔ دہلی کی جامع مسجد میں اُن پر ہونے والے قاتلانہ حملے میں بھی اُس دور کے مخالف وزیر اور ہم پیشہ علما شامل تھے۔ طبقات ناصری میں منہاج نے اپنی شخصیت اور عقائد پر ایک پردہ سا ڈالا ہوا ہے جن سے کئی تاریخی مسائل کے متعلق کچھ بھی جاننے میں دشواری پیش آتی ہے، البتہ اپنے ذاتی عقائد کے متعلق کچھ نہ تحریر کرنا شاید اُن کے منصب کا تقاضا بھی تھا، علاوہ ازیں یہ بھی کہ منہاج نے طبقات ناصری میں کسی صوفی بزرگ کا تذکرہ بھی نہیں کیا لیکن خواجہ نظام الدین اولیاء کی فوائد الفواد میں اِن سے متعلق کافی تفصیلات ملتی ہیں۔ ہندوستان میں اسلامی حکومت کے قیام کے ابتدائی سالوں میں منہاج بااثر شخصیت ہونے کے حامل تو تھے مگر وہ بلند پایہ مؤرخ بھی تھے اور برصغیر میں فقہی روایات کی بنا اُنہوں نے ہی ڈالی تھی مگر پس پردہ اُنہوں نے جو بھی کام کیا، اب قیاس ہی ہمارا رہنما ہو سکتا ہے۔[21]

طبقات ناصری کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ منہاج بااثر خطیب اور واعظ بھی تھے۔ جب سلطان شمس الدین التتمش نے گوالیار کا محاصرہ کیا تو محاصرہ 11 ماہ تک طول پکڑ گیا تو اِس دوران علمائے اسلام بحکم سلطانی واعظ و تذکیر کے ذریعہ سے لشکر اسلامی کو جوش دلاتے تھے، چنانچہ منہاج نے 95 مرتبہ واعظ دیا۔ اندازہ ہوتا ہے کہ خطیبوں میں اُن کا مقام بلند تھا کہ ہفتے میں تین روز اُن کا واعظ ہوتا تھا۔ اِسی طرح سلطان بہرام شاہ بن شمس الدین التتمش کے عہد حکومت میں 1241ء میں جب تاتاریوں (منگولوں) نے لاہور کو تاخت و تاراج کیا اور یہ خبر دہلی پہنچی تو سلطان بہرام شاہ نے اہالیان شہر کو جمع کیا اور قاضی منہاج نے اِس اجتماع میں ایسی ولولہ انگیز پرجوش تقریر کی کہ جو لوگ بادشاہ سے بد دل تھے، اُنہوں نے بھی قومی سلامتی کے مخالف خطرہ کو سمجھتے ہوئے سلطان بہرام شاہ کی بیعت کرلی۔ مرکز حکومت دہلی کی مسند خطابت و قضاء اور جامع مسجد دہلی کا منصبِ امامت کا اُن کے سپرد کیا جانا اِس بات کا ثبوت ہے کہ وہ اپنے عہد کے مؤثر ترین خطیبوں میں سے تھے۔ سلطان المشائخ خواجہ نظام الدین اولیاء منہاج کے بااثر خطیب ہونے کی شہادت دیتے ہیں، علاوہ ازیں فرمایا کرتے کہ: میں ہر پیر کو منہاج کا وعظ سننے جایا کرتا تھا، ایک روز منہاج نے یہ رباعی پڑھی:

لب برلب لعل دلبراں خوش کردن

و آہنگ سر زلفِ مشوش کردن

امروز خوش است لیک فرداخوش نیست

خودرا چوخسی طمعہ آتش کردن

یہ اشعار کچھ اِس طرح پڑھے گئے کہ مجھ پر ایک عجیب سی کیفیت طاری ہو گئی اور بڑی دیر تک میں بے خود رہا۔[22]

بحیثیت مؤرخ و نثرنگار[ترمیم]

طبقات ناصری منہاج کی بحیثیت مؤرخ واحد تصنیف ہے جو امتدادِ زمانہ کے ہاتھوں محفوظ رہی اور ہم تک پہنچی ہے۔ طبقات ناصری تکملۃ اللطائف، سلامی، تاریخ بیہقی، احداث الزمان، تاریخ المقدسی، تاریخ یمینی، قانون المسعودی، تاریخ مُجَدْوَل، منتخب تاریخ ناصری، نسب نامہ غوریاں، تاریخ ابن الہیضم النابی، الموصلی کی الاغانی الکبیر اور التاجی جیسی قدیم تواریخی کتب کے حوالہ جات سے تیار کی گئی ہے۔ علاوہ ازیں اِس میں وہ روایات بھی شامل کرلی گئی ہیں جو منہاج نے اپنی شنیدہ واقعات سے اخذ کی ہیں یا مشاہدات کی بنا پر ہیں۔ اِس کتاب میں فارس و یمن اور عرب کے قدیم بادشاہوں اور سلطنتوں کے حالات اور انبیائے کرام علیہم السلام کی تاریخ اور پھر ظہور اسلام سے لے کر 658ھ/ 1260ء تک کے تاریخی حالات و واقعات درج ہیں۔[19] انسائیکلوپیڈیا آف اسلام کے مقالہ نگار نے مختلف کتب ہائے تواریخ سے حالات و واقعات کو اخذ کرکے نئی کتاب کی تشکیل پر منہاج کو محض نثرنگار سمجھا ہے جو صریحاً غلطی ہے۔ منہاج کی تقاریر خشک و دقیق نہیں ہوتی تھیں بلکہ سامعین کو اپنے اندر جذب کر لیا کرتی تھیں۔ منہاج کی تقاریر، خطبے اور تحاریر فصیح اور شگفتہ ہوا کرتی تھیں۔ اُن کے اشعار عوام میں مقبول عام ہوجاتے تھے، البتہ اُن کے زیادہ اشعار ہم تک نہیں پہنچ سکے، اگر اُن کے اشعار کی کثیر تعداد ہم تک پہنچتی تو اُن کے فارسی درجہ کمال کا اندازاہ ہو سکتا تھا۔ اب بعض قطعات اور قصائد ہی طبقات ناصری میں جابجاء بکھرے نظر آتے ہیں جو اُن کے ذوق شاعر کا حسن ہیں۔ اِن اشعار سے معلوم پڑتا ہے کہ منہاج عربی اور فارسی اشعار نظم کرنے میں کسی بھی کوشش یا تگ و دو سے مبرا تھے، علاوہ ازیں وہ اِن دونوں زبانوں میں لکھنے پر قادر تھے۔ اِن کے اشعار فصاحت و بلاغت میں اِن کی تحریر کردہ نثر کے پائے کے نہیں۔ اشعار میں متانت و پختگی تو ہے مگر کوئی ادبی سقم یا سہو نظر نہیں آتا۔[21] طبقات ناصری کے علاوہ ایک اور کتاب ناصری نامہ کا ذکر بھی ملتا ہے مگر اِس کتاب کا کوئی سراغ نہیں مل سکا، اگر یہ کتاب سامنے ہوتی تو منہاج کی شاعری کھل کر منظرعام پر آسکتی تھی۔ طبقات ناصری میں جو اشعار ملتے ہیں اُن میں متانت و پختگی فن اور بے ساختگی اور روانی یوں نثر سے ملحق ہے کہ اُنہیں نثر سے الگ نہیں کیا جاسکتا۔ قصائد میں سادگی پائی جاتی ہے۔ بعض قصائد قدماء کے قصائد کی مانن پیچیدہ اور گنجلک ہیں بلکہ اِن کی طوالت کتاب میں جابجاء پائی جاتی ہے۔ آقائے عبد الحئی حبیبی کی رائے میں " مولانا کا پیشہ ہرگز شعر گوئی یا قصیدہ گوئی نہ تھا، بلکہ اُن کی شاعری حسبِ ضرورت اور وقتی ہوا کرتی تھی۔" [23] منہاج کی فارسی تحریر میں روانی، سلامت اور بندش کی چستی پائی جاتی ہے؛ البتہ تاریخ نگاری میں قصیدہ گوئی کا رنگ بھی موجود ہے، اِس کا اندازہ طبقات ناصری کے نسخوں سے لگایا جاسکتا ہے۔[24]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. دائرۃ المعارف الاسلامیہ: جلد 7، ص 505۔ مطبوعہ لاہور 1391ھ/ 1971ء۔
  2. منہاج سراج: طبقات ناصری، ص7، طبع لاہور۔
  3. آقائے عبد الحئی حبیبی: فارسی ترجمہ طبقات ناصری، دیباچہ۔ مطبوعہ کابل جنوری ماہِ جدی 1341 شمسی/ جنوری 1947ء
  4. المقدسی:  احسن التقاسیم فی معرفۃ الاقالم۔ مطبوعہ لائیڈن 1877ء
  5. حدود العالم: مترجم: منورسکی، ص 4 تا 5۔  مطبوعہ لندن 1937ء۔
  6. حدود العالم: ص 2، 11، 19، 59، 60، 61، 64۔ مطبوعہ تہران، ایران۔
  7. یاقوت الحموی: معجم البلدان، جلد 3، ص 167۔ مطبوعہ لائپزگ، 1866ء۔
  8. منہاج سراج: طبقات ناصری، ص21/22، طبع لاہور۔
  9. جغرافیائے تاریخ ایران: ص 82 تا 84۔ مطبوعہ تہران۔
  10. محمد عوفی: لباب الالباب، جلد 1، ص 282۔ مطبوعہ لائیڈن 1903ء۔
  11. ^ ا ب پ دائرۃ المعارف الاسلامیہ: جلد 7، ص 506۔ مطبوعہ لاہور 1391ھ/ 1971ء۔
  12. منہاج سراج: طبقات ناصری، طبقہ 19، ص 165،  طبع لاہور۔
  13. منہاج سراج: طبقات ناصری، طبقہ 18، ص 161، طبع لاہور۔
  14. منہاج سراج: طبقات ناصری، طبقہ 19، ص 167،  طبع لاہور۔
  15. محمد عوفی: لباب الالباب، جلد 1، ص 284۔ مطبوعہ لائیڈن 1903ء۔
  16. منہاج سراج: طبقات ناصری، طبقہ 17، ص 144، طبع لاہور۔
  17. منہاج سراج: طبقات ناصری، طبقہ آغاز 17، ص 144، طبع لاہور۔
  18. ^ ا ب منہاج سراج: طبقات ناصری، طبقہ 17، ص 184/185،  طبع لاہور۔
  19. ^ ا ب پ ت ٹ دائرۃ المعارف الاسلامیہ: جلد 7، ص 507۔ مطبوعہ لاہور 1391ھ/ 1971ء۔
  20. منہاج سراج: طبقات ناصری، ص 10/11،  طبع لاہور۔
  21. ^ ا ب پ منہاج سراج: طبقات ناصری، ص 14/15 تذکرہ شخصیت قاضی منہاج سراج۔ مطبوعہ لاہور۔
  22. خواجہ نظام الدین اولیاء: اخبار الاخیار فی اسرار الابرار۔
  23. منہاج سراج: طبقات ناصری، ص 15/16 تذکرہ شخصیت قاضی منہاج سراج۔ مطبوعہ لاہور۔
  24. دائرۃ المعارف الاسلامیہ: جلد 7، ص 508۔ مطبوعہ لاہور 1391ھ/ 1971ء۔