محمود غزنوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
یمین الدولہ ابو القاسم محمود بن سبکتگین۔
سلطان سلطنت غزنویہ
Sarayi Album 10a.jpg
"سلطان محمود غزنوی"
دور حکومت

997–1030

القابات:یمین الدولہ ۔امین الملت (خلیفہ عراق کی طرف سے عطا کئے گئے،)

والد کانام : امیر سبکتگین والئ غزنی۔
پیشرو اسماعیل غزنوی
جانشین مسعود غزنوی
خاندان سلطنت غزنوی
پیدائش 2 نومبر 971 (971-11-02)
غزنی,[1] (modern day Afghanistan)
وفات 30اپریل 1030
غزنی, (افغانستان)
تدفین غزنی
مذہب سنی
سومنات کی فتح مشہور مصور آفتاب ظفر کی نظر میں

یمین الدولہ محمود (مکمل نام: یمین الدولہ ابو القاسم محمود ابن سبکتگین) المعروف محمود غزنوی (پیدائش بروزمنگل 2نومبر 971ء ، انتقال 30 اپریل 1030ء ) 997ء سے اپنے انتقال تک سلطنت غزنویہ کا حکمران تھے۔ وه دسویں صدی عیسوی میں غزنی کے مسلمان بهت بهادر اور عاشق رسول صلی الله علیه وآلیه وسلم بادشاه گزرے هیں انہوں نے غزنی شہر کو دنیا کے دولت مند ترین شہروں میں تبدیل کردیا اور اس کی وسیع سلطنت میں موجودہ مکمل افغانستان، ایران اور پاکستان کے کئی حصے اور شمال مغربی بھارت شامل تھا۔ وہ تاریخ اسلامیہ کے پہلے حکمران تھے جنہوں نے سلطان کا لقب اختیار کیا۔

وہ پہلے مسلمان حکمران تھے جنہوں نے ہندوستان پر 22 حملے کئے اور ہر حملے میں فتح حاصل کی ۔اس عظیم مجاہد کے گھوڑوں کی ٹاپوں سے ہندوستان کے بت کدے لرز اٹھتے تھے ۔

محمود غزنوی کے زبردست عاشق رسول هونے کے کئی ثبوتوں میں سے ایک یه بهی ہے:

حضرت محمود غزنوی عليه الرحمة الله القوي کی خدمت میں ایک شخص حاضر هوا اور عرض کی که میں مدت سے حضور صلى الله عليه وسلم کے دیدار کا طلبگار تها قسمت سے گزشته رات مجهے آپ صلى الله عليه وسلم کا دیدار کرنے کی سعادت ملی حضور صلى الله عليه وسلم سے میں نے عرض کی يا رسول الله صلی الله عليه وسلم میں ایک ہزار درهم کا مقروض ہوں, اس کی ادائگی سے عاجز ہوں اور ڈرتا ہوں که اگر اسی حالت میں مر گیا تو قرض کا بوجه میری گردن پر هوگا (اس وجه سے بروز قیامت میں پهنس جاؤں) رحمت عالم, صلي الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا :"محمود سبکتگین کے پاس جاؤ وه تمهارا قرض اتاردے گا. میں نے عرض کی,وه کیسے اعتماد کریں گے? اگر ان کے لئے کوئی نشانی عنایت فرمادی جا تو کرم بالا کرم (یعنی:کرم پر کرم) هوجاۓ گا. آپ صلي الله عليه وسلم نے فرمایا,جا کر اس سے کهو, "اے محمود! تم رات کے اول حصے میں تیس ہزار (30000) بار درود پڑهتے هو اور پهر بیدار هو کر رات کے آخری حصے میں مزید تیس ہزار (30000) بار پڑهتے هو. اس نشانی کے بتانے سے (انشآالله عزوجل) وه تمهارا قرض اتار دے گا". سلطان محمود عليه رحمة الله عليه نے جب شاه خير انام صلي الله عليه وسلم کا رحمتوں بهرا پیغام سنا تو رونے لگے اور تصدیق کرتے هوۓ اس کا قرض اتار دیا اور ایک ہزار درهم مزید پیش کۓ. وزراء وغیره متعجب هو کر عرض گزار هوۓ! عالیجاه! اس شخص نے ایک ناممکن سی بات بتائ ہے اور آپ نے کبهی اتنی تعداد میں درود شریف پڑها ہی نهیں اور نه ہی کوئی آدمی رات بهر میں ساٹھ ہزار بار درود شریف پڑھ سکتا ہے. سلطان محمود عليه رحمة الله الودود نے فرمایا! تم سچ کہتے هو لیکن میں نے علماۓ کرام سے سنا ہے که جو شخص دس هزاری درود شریف ایک بار پڑھ لے اس نے گویا دس ہزار بار درودشریف پڑهے. میں تین بار اول شب میں اور تین مرتبه آخر شب میں دس هزاری درود پاک پڑھ لیتا ہوں. اس طرح سے میرا گمان تھا که میں هر رات ساٹھ ہزار بار درود شریف پڑھتا ہوں. جب اس خوش نصیب عاشق رسول صلي الله عليه وسلم نے شاه خير الانام صلي الله عليه وسلم کا رحمتوں بهرا پیغام پہنچایا, مجھے اس دس هزاری درود شریف کی تصدیق هوگئ, اور گریه کرنا (یعنی:رونا) اس خوشی سے تھا که علماۓ کرام کا فرمان صحیح ثابت هوا که رسول غیب دان,رحمت عامیان صلي الله عليه وسلم نے اس کی گواهی دی.

فیضان سنت باب:فیضان بسم الله ص166. بحواله (تفسیر روح البیان ج٧ صفحه ٢٣٤ مكتبه عثمانيه كؤٹه)

متعلقہ مضامین[ترمیم]

سلطنت غزنویہزمر ہ:غزنوی حکمران

  1. Mahmud of Ghazni, The Great Events by Famous Historians: Indexes, Vol. XX, Ed. John Rudd, Charles F. Horne and Rossiter Johnson, (1905), 141.