عزالدولہ عبدالرشید

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
عزالدولہ عبدالرشید
مناصب
سلطان سلطنت غزنویہ   ویکی ڈیٹا پر منصب (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دفتر میں
1049  – 1052 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png علی غزنوی 
طغرل حاجب  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش سنہ 1024  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات سنہ 1052 (27–28 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد محمود غزنوی  ویکی ڈیٹا پر والد (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

عزالدولہ عبدالرشید غزنوی ابن سلطان محمود غزنوی (پیدائش: 1024ء— وفات: 1052ء) سلطنت غزنویہ کا نواں حکمران سلطان تھا جس نے 1049ء سے 1052ء تک حکومت کی۔

سوانح[ترمیم]

عبدالرشید کے متعلق مؤرخین کا اِختلاف ہے کہ اُس کا باپ کون تھا؟۔ محمد قاسم فرشتہ نے تحقیق سے لکھا ہے کہ وہ سلطان محمود غزنوی کا صلبی پانچواں فرزند تھا۔ وہ غزنی میں 1024ء میں اپنے والد سلطان محمود غزنوی کے دورِ حکومت میں پیدا ہوا۔

عہد حکومت[ترمیم]

سلطان مودود غزنوی نے عبدالرشید کو بست اور اسفرائن کے مابین ایک قلعہ میں قید کروا دیا تھا۔ بہاؤ الدولہ علی بن مسعود غزنوی کے بعد عبدالرزاق بن احمد حسن میمندی نے اثنائے سفر میں سلطان مودود غزنوی کے انتقال کی خبر سنی تو سیستان کی مہم کو ملتوی کرکے مگیاباد کی طرف روانہ ہوا۔ وہاں چند دِن قیام کرکے آخر 443ھ مطابق 1051ء میں میمندی نے خواجہ ابوالفضل، رشید بن التونتاش اور توستگین وغیرہ کے مشورے سے اور سلطان مودود غزنوی کی وصیت کے مطابق عبدالرشید کو قیدخانے سے نکال کر سلطان مقرر کر دیا۔ یہیں سے میمندی نے عبدالرشید اور دوسرے امرا کو ساتھ لیا اور غزنی کا سفر اختیار کیا۔ ابوالحسن نے جب عبدالرشید کی آمد کی خبر سنی تو وہ اِس قدر بدحواس اور خوفزدہ ہوا کہ بغیر کسی جنگ کے تاج و تخت چھوڑ کر بھاگ نکلا۔ عبدالرشید نے میدان خالی پایا اور کسی روک ٹوک کے بغیر ہی تخت نشیں ہوا اور حکمرانی کرنے لگا۔ عنانِ حکومت ہاتھ میں لیتے ہی سب سے پہلے عبدالرشید نے ابوالحسن کو گرفتار کر لیا اور اُسے وندیرود کے قلعہ میں قید کر دیا۔ اُس کے بعد اُس نے علی بن الربیع کو جس نے مکملاً ہندوستان پر قبضہ کررکھا تھا اور سلاطین غزنویہ کے سامنے آنا پسند نہ کرتا تھا، کو اپنے پاس بلالیا اور اطمینان دِلایا۔ علی بن الربیع کے معاملے کو اِس خوش اسلوبی سے نباہ کرکے عبدالرشید نے ہندوستان کی طرف توجہ کی اور توستگین کو سپہ سالار بنا کر ایک زبردست لشکر کے ساتھ لاہور کی طرف روانہ کیا۔

توستگین نے لاہور پہنچ کر نگرکوٹ کے قلعے کی جانب رخ کیا۔ پانچ چھ روز کے محاصرے کے بعد اُسے فتح کر لیا اور لاہور کو سلطنت غزنویہ کا حصہ بنالیا۔ عبدالرشید نے اِسی اثنا میں طغرل کو ایک بڑی فوج دے کر سیستان روانہ کیا۔ طغرل نے سیستان کو مکمل طور پر فتح کر لیا اور وہاں اپنے قدم جمالئے۔ اُس کی اتنی ہمت بڑھ گئی کہ اُس نے حکمرانی کے خواب دیکھتے ہوئے غزنی پر لشکرکشی کردی۔ عبدالرشید کو جب خبر ہوئی تو وہ مجبوراً قلعہ غزنی میں محبوس ہو گیا۔ طغرل نے قلعہ فتح کر لیا اور عبدالرشید سمیت خاندانِ غزنوی کے دیگر نو افراد کو قتل کروا دیا۔[1]

وفات[ترمیم]

طغرل نے عبدالرشید کو قلعہ غزنی میں خاندان کے نو افراد کے سمیت 1052ء میں قتل کروایا۔ اُس وقت عبدالرشید کی عمر 27 یا 28 تھی۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. محمد قاسم فرشتہ: تاریخ فرشتہ، جلد 1، صفحہ 115۔