اٹک

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
اٹک
Attock Fort in 2007.JPG 

انتظامی تقسیم
ملک Flag of Pakistan.svg پاکستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں ملک (P17) ویکی ڈیٹا پر[1]
منتظم پنجاب  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں انتظامی تقسیم میں مقام (P131) ویکی ڈیٹا پر
جغرافیائی خصوصیات
متناسقات 33°46′00″N 72°22′00″E / 33.766666666667°N 72.366666666667°E / 33.766666666667; 72.366666666667  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں متناسقاتی مقام (P625) ویکی ڈیٹا پر
بلندی 359 میٹر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سطح سمندر سے بلندی (P2044) ویکی ڈیٹا پر
مزید معلومات
رمزِ ڈاک
43600  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں ڈاک رمز (P281) ویکی ڈیٹا پر
باضابطہ ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں باضابطہ ویب سائٹ (P856) ویکی ڈیٹا پر
جیو رمز 8504972  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں جیونیمز شناخت (P1566) ویکی ڈیٹا پر

اٹک صوبہ پنجاب کا ایک شہر اور ضلع اٹک کا صدر مقام ہے۔

ضلع اٹک کی پانچ تحصیلیں ہیں اور ایک ذیلی تحصیل ہے۔ مکمل نام اٹک شہر ہے جبکہ عمومًا لکھتے اور بولتے محض اٹک ہیں کیونکہ یہ ایک قصبہ اٹک خورد کے نام سے دریائے سندھ کے کنارے واقع ہے۔ قلعہ اٹک بنارس وہیں پر ہے۔ موجودہ اٹک شہر کا نام پہلے کیمبل پور تھا جسے برطانوی حکومت نے بطور چھاؤنی آباد کیا تھا۔ بعد میں یہ نام بدل کر اٹک شہر اور اٹک کا اٹک خورد کر دیا گیا۔

ضلع اٹک میں مندرجہ ذیل تحصیلیں ہیں۔

ضلع اٹک کے اہم علاقوں میں حسن ابدال، وادی چھچھ اور فتح جنگ شامل ہیں۔ اٹک ایک تاریخی مقام ہے۔ بادشاہ اکبر نے یہاں ایک قلعہ تعمیر کروایا تھا جو قلعہ اٹک بنارس کے نام سے مشہور ہے اب بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ سکھ مذہب کی عبادت گاہ گردوارہ پنجہ صاحب حسن ابدال میں واقع ہے. یہ ضلع ، پانچ دریائوں کی سرزمین پنجاب کے دوسرے میدانی اضلاع کی نسبت زیادہ خوبصورت ہے۔ یہ ضلع صوبہ پنجاب شمال مغربی کونے میں دریائے سندھ کے کنارے شمالاً جنوباً واقع ہے۔ ضلع کے شمال میں دریائے سندھ 80کلومیڑ تک سرحدی پٹی کے طور پر بہتا ہے اور ضلع اٹک کو صوبہ پختونخوا کے اضلاع سے جدا کرتا ہے۔ یوں یہ ضلع صوبہ پختونخوا اور پنجاب کے سنگم پر واقع ہونے کی بنا پر پنجاب کا آخری ضلع کہلاتا ہے۔شمال میں اس ضلع کا حدود صوبہ پختونخوا کے دو اضلاع ہری پور، اور صوابی سے ملتی ہیں۔ ہری پور کا مشہور سلسلۂ کوہ’’گندگر‘‘ جس سے’’ راجہ رسالو‘‘ کی داستان کا کچھ حصہ وابستہ ہے ضلع اٹک کے شمال میں ہی واقع ہے۔ ضلع اٹک کا سب سے بڑا اور بلند پہاڑی سلسلہ ’’کالاچٹا‘‘ ہے جو تحصیل اٹک کے مغرب میں واقع ہے۔ اس پہاڑی سلسلہ کے شمال میں پتھروں کا رنگ سفید اور جنوب میں گہرا سلیٹی ہے اسی مناسبت سے مقامی بولی میں اس کو’’ کالا چٹا‘‘ یعنی سیاہ و سفید کا نام دیا گیا ہے۔جنوب میں کھیری مورت کا سلسلہ کوہ ہے جب کہ کوہستان نمک کا سلسلہ بھی اس ضلع میں سکیسر کے مقام پر ملتا ہے۔دریائے سندھ کے قریب ہی ضلع کے مغربی علاقہ میں مکھڈجنڈال کی پہاڑیاں واقع ہیں جو کٹی پھٹی ہیں اور زیادہ بلند بھی نہیں۔ ضلع کے مغرب میں دریائے سند ھ کے اس پار صوبہ پختونخوا کے اضلاع نوشہرہ اور کوہاٹ ہیں۔جنوب میں میانوالی، جنوب مشرق میں چکوال اور مشرق میں ضلع راولپنڈی واقع ہیں اس طرح اس ضلع کی حدود سات اضلاع سے ملتی ہیں جن میں سے چار اضلاع کا تعلق صوبہ پختونخوا سے ہے اور باقی تین کا تعلق پنجاب سے۔ ضلع اٹک کا کل رقبہ2638.68مربع میل ہے۔سطح زمین کے حوالے سے ضلع کو چار حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔

شمالی میدان: یہ میدان چھوٹا مگر ہموار ہے اس کی مٹی نرم اور زرخیز ہے اور اس میں کھیتی باڑی خوب ہوتی ہے چھچھ کا خوبصورت اور زرخیز علاقہ اسی میدان میں واقع ہے۔ دریائے سندھ اور تربیلا ڈیم کے نزدیک ہونے کی وجہ سے اس علاقہ کی زمینیں سونا اگلتی ہیں۔

کالا چٹا پہاڑ:شمالی میدان کے جنوب میں کالا چٹا کا سلسلہ ہے جو شرقاً غرباً پھیلا ہوا ہے اس پہاڑی سلسلہ کی چٹانیں اور پتھر دو رنگوں پر مشتمل ہیں سیاہی مائل/ بھورے اور سفید اسی وجہ سے اس کا نام کالا چٹا ہے۔ یہ سلسلہ کوہ گھنے اور پستہ قد درختوں سے ڈھکا ہوا ہے لیکن کہیں کہیں سے بالکل سبزہ سے محروم نظر آتا ہے۔ اس پہاڑ ی سلسلہ میں مختلف درخت پائے جاتے ہیں جن میں سے قابل ذکرگنگھیر یا گنگور کا درخت ہے جس کے ساتھ کالے رنگ کا فالسے کے برابر پھل لگتا ہے جو بے حد لذید ہوتا ہے یہ درخت پاکستان میں اور کہیں نہیں ہوتا۔ یہاں ایک اور درخت ’’ کہو‘‘ بھی پایا جاتا ہے مقامی لوگ اس کے پتوں کی چائے اور قہوہ بنا کر بھی استعمال کرتے ہیں کچھ لوگ اس درخت کا تعلق زیتون کے درخت کے خاندان سے بتاتے ہیں ۔اس سلسلہ کوہ میں مختلف قسم کے جانور پائے جاتے ہیں جن میں ہرن، سانبھر، اڑیال وغیرہ بکثرت پائے جاتے ہیں پرندوں میں میں یہاں تیتر ، چکور اور باز ملتے ہیں۔

وادی سواں:یہ وادی دریائے سواں کے شمال میں واقع ہے۔ اس وادی میں کثیر تعداد میں ندیاں اور نالے بہتے ہیں جو تمام کے تما م دریائے سوان میں شامل ہو جاتے ہیں ان ندی نالوں کی وجہ سے یہاں کی زمین کٹی پھٹی اور نا ہموار ہے۔ ہموار اور قابل کاشت اراضی بہت کم ہے۔

مکھڈ جنڈال پہاڑیاں:دریائے سندھ کے کنارے جنوب مغرب کی جانب مکھڈ جنڈال کی پہاڑیوں کا سلسلہ ہے۔ جو کٹی پھٹی، پستہ قد اور بے بر گ و گیاہ ہونے کی بنا پر زیادہ مفید نہیں ہیں.

اٹک کے مشہور علاقے[ترمیم]

کامرہ کینٹ

اٹک کے مشہور گاؤں[ترمیم]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1.   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں جیونیمز شناخت (P1566) ویکی ڈیٹا پرEmpty citation (معاونت)