جھنگ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
جھنگ
Jhang distt coouncil.jpg
عمومی معلومات
صوبہ پنجاب، پاکستان
رقبہ 8,809 مربع کلومیٹر
آبادی 3,870,417
کالنگ کوڈ 0477
منطقۂ وقت پاکستان کا معیاری وقت (UTC+5)
حکومت
ناظم صاحبزادہ حمید سلطان
یونين کونسلیں 128
علامت
Img1.gif


جھنگ دریائے چناب کے کنارے آباد وسطی پنجاب، پاکستان کا ایک شہر ہے، جس کی آبادی اڑتیس لاکھ ستر ہزار چار سو سترہ نفوس پر مشتمل ہے۔ یہ ضلع جھنگ میں شامل ہے۔ جھنگ کی سرحدیں شمال میں ضلع سرگودھا، شمال مشرق میں گوجرہ، مشرق میں فیصل آباد اور ٹوبہ ٹیک سنگھ، جنوب میں مظفر گڑھ اور خانیوال، مغرب میں لیہ اور بھکر اور شمال مغرب میں خوشاب سے ملتی ہیں۔

شخصیات[ترمیم]

 [حکمت ادیب]

جغرافیہ[ترمیم]

تقریبا تمام علاقہ میدانی ہے، ماسوائے شمال کے جہاں ربوہ کے قریب دریائے چناب کے کنارے کیرانا پہاڑیوں کا سلسلہ ہے، جو آراولی سلسلوں سے تعلق رکھتی ہیں۔ مغرب میں تھل کا صحرائی علاقہ ہے جو دریائے جہلم کے کنارے سے شروع ہوتا ہوا خوشاب اور بھکر کے اضلاع تک جاتا ہے۔گوجرہ کے قریب پبانوالا سے بنجر زمین شروع ہوتی ہے جہاں سے زمین کی سطح 10 فٹ (3 میٹر) بلند ہوتی ہے اور آگے بڑھتی ہوئی 30 فٹ (9 میٹر) تک پہنچ جاتی ہے۔ یہ علاقہ جنوب میں 87 کلومیٹر تک اور چوڑائی میں تقریباّ 30 سے 40 کلومیٹر تک ہے۔ اس علاقہ میں ماضی میں جنگلات تھے اور یہ علاقہ کسی بھی قسم کی کاشت کے لیے موزوں نہیں تھا۔ انگریزی دور حکومت میں یہاں نہری نظام بنایا گیا اور 975 ایکڑ اراضی پر لائل پور (موجودہ فیصل آباد) کی بنیاد رکھی گئی، جو آج ٹیکسٹائل کے شعبہ میں پاکستان کا سب سے بڑا صنعتی شہر ہے۔ اس کے علاوہ دریائے چناب اور دریائے جہلم کے درمیان واقع کیرانا کا علاقہ جو گھوڑی والا تک پھیلا ہوا ہے، بھی ضلع جھنگ میں شامل ہے۔ دریاؤں کا قریبی نشیبی علاقہ جو سیلاب کی صورت میں زیر آب آ جاتا ہے ہتھر کہلاتا ہے جبکہ دریاؤں کے درمیان اونچائی والا علاقہ جو زیر آب نہیں آتا اتر کہلاتا ہے۔

نباتات[ترمیم]

جھنگ

غیر زرعی رقبہ پر جھنڈ، کریر، وان، کیکر، ٹہلی اور بوہڑ کے درخت بکثرت پائے جاتے ہیں، اس کے علاوہ ہرمل، اکڑہ اور باتھو وغیرہ کی جھاڑیاں بھی پائی جاتی ہیں۔

تاریخ[ترمیم]

جھنگ کا پہلا شہر، ایک قبیلہ سردار رائے سیال نے 1288ء میں اپنے پیر و مرشد حضرت شاہ جلال بخاری کے کہنے پر آباد کیا۔ جھنگ کے پہلے حکمران مل خان 1462ء میں ہوئے۔ سیال قبائل نے جھنگ پر 360 سال حکومت کی اور آخری سیال حکمران احمد خان تھے، جنھوں نے 181 سے 1822ء تک حکومت کی، جن کے بعد حکومت سکھوں کے ہاتھ آئی اور پھر ان سے انگریزوں کے قبضہ میں گئی۔قیام پاکستان کے بعد سے اب تک جھنگ کوئی قابل ذکر ترقی نہیں کر سکا ہے ۔ خستہ حالی کا شکار سنگل روڈز بے ہنگم ٹریفک اور بوسید سیوریج سسٹم کے ساتھ ساتھ انتہائی تیزی سے بڑھتی ہوئی اس شہر کی آبادی جس کی وجہ سے بے روزگاری اور جاگیر دارانہ نظام نے اس شہر کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔سڑکوں پر میونسپل کارپوریشن کی ناکامی اور کرپشن کی وجہ سے شہری سانسوں کے ذریعے دھول مٹی اپنے پھیپڑوں میں جھونک رہے ہیں جس کی وجہ سے لنگز فیلئرز ہارٹ اٹیک اور ہیپا ٹائٹس،شوگر جیسی موذی وبائیں یہاں ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں۔ نوجوانوں کے لیے کھیلوں کے میدان اور شہریوں کےلئے تفریحی مقامات کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ا ب یہ ایک فضول شہر بن چکا ہے ، یہاں صرف سیاست دان ووٹ لینے آتے ہیں ،

آب و ہوا[ترمیم]

جھنگ کی آب و ہوا شدید نوعیت کی ہے، جس کا مطلب سردیوں میں شدید سردی اور گرمیوں میں شدید گرمی ہے۔ موسم گرما، سرما کے مقابلہ میں زیادہ لمبا ہے اور گرمی کا عمومی درجہ حرارت 35 ڈگری سینٹی گریڈ تک ہے۔ اب تک زیادہ سے زیادہ درجہء حرارت 43 درجے سینٹی گریڈ تک دیکھا گیا ہے۔ جبکہ سردی میں 12 ڈگرمی سینٹی گریڈ تک گر جاتا ہے۔ موسم گرما میں مون سون کی ہوائیں بارش لاتی ہیں، جن کی شدت جھنگ تک پہنچتے پہنچتے کافی کم ہو چکی ہوتی ہے۔ گرمیوں میں اوسط بارش 7 سے 10 انچ (180 ملی میٹر) ہوتی ہے، جبکہ سردیوں میں بھی کبھی کبھی بار‎ش ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ آندھیاں اور طوفان بھی چلتے ہیں۔ سال کا بہترین وقت فروری سے وسط اپریل تک کا ہے، جو موسم بہار ہے۔ موسم بہار خوشگوار ہے جو نہ تو زیادہ گرم ہوتا ہے اور نہ ہی زیادہ سرد۔ شہر کے گرد و نواح میں ہریالی ہی ہریالی ہوتی ہے اور سرسوں کے پیلے پھول دلفریب نظارہ پیش کرتے ہیں۔ درختوں پر نئے پتے نکلتے ہیں، پھول اور پھل کھلتے ہیں اور یہی وقت جھنگ کی تہواروں اور میلوں مثلاّ "جھنگ کمیٹی شو" کا ہے۔

تہذیب و تمدن[ترمیم]

ربوہ، جھنگ

جھنگ کی اکثریتی آبادی کی مادری زبان پنجابی ہے۔ اور بعض علاقوں میں سرائیکی بھی بولی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ اردو بھی عام بولی جاتی ہے۔ ویسے یہاں کی پنجابی کا خاص لہجہ جھنگوی کہلاتا ہے۔ اسی علاقے سے ہیر رانجھا اور مرزا صاحباں جیسی رومانوی داستانوں کا جنم ہوا۔

علاقائی کھیل
شادی کی تقاریب

مزید پڑھیے[ترمیم]

فہرست گنجان شہر بلحاظ آبادی[ترمیم]

Rawalpindi
درجہ شہر آبادی
(مردم شماری 2017ء)[1][2][3]
آبادی
(1998 کی مردم شماری)[1][4][3]
تبدیلی صوبہ
1 کراچی 14,916,456 9,339,023 &10000000000000059721803+59.72% Flag of Sindh.svg سندھ
2 لاہور 11,126,285 5,209,088 &10000000000000113593723+113.59% Flag of Punjab.svg پنجاب، پاکستان
3 فیصل آباد 3,204,726 2,008,861 &10000000000000059529504+59.53% Flag of Punjab.svg پنجاب، پاکستان
4 راولپنڈی 2,098,231 1,409,768 &10000000000000048835198+48.84% Flag of Punjab.svg پنجاب، پاکستان
5 گوجرانوالہ 2,027,001 1,132,509 &10000000000000078983213+78.98% Flag of Punjab.svg پنجاب، پاکستان
6 پشاور 1,970,042 982,816 &10000000000000100448710+100.45% Flag of Khyber Pakhtunkhwa.svg خیبر پختونخوا
7 ملتان 1,871,843 1,197,384 &10000000000000056327711+56.33% Flag of Punjab.svg پنجاب، پاکستان
8 حیدرآباد 1,734,309 1,166,894 &10000000000000048626096+48.63% Flag of Sindh.svg سندھ
9 اسلام آباد 1,009,832 529,180 &10000000000000090829585+90.83% Proposed Flag of Islamabad Capital Territory.svg وفاقی دارالحکومت،اسلام آباد
10 کوئٹہ 1,001,205 565,137 &10000000000000077161467+77.16% Flag of Balochistan.svg بلوچستان
11 بہاولپور 762,111 408,395 &10000000000000086611246+86.61% Flag of Punjab.svg پنجاب، پاکستان
12 سرگودھا 659,862 458,440 &10000000000000043936392+43.94% Flag of Punjab.svg پنجاب، پاکستان
13 سیالکوٹ 655,852 421,502 &10000000000000055598787+55.60% Flag of Punjab.svg پنجاب، پاکستان
14 سکھر 499,900 335,551 &10000000000000048978843+48.98% Flag of Sindh.svg سندھ
15 لاڑکانہ 490,508 270,283 &10000000000000081479412+81.48% Flag of Sindh.svg سندھ
16 شیخوپورہ 473,129 280,263 &10000000000000068816076+68.82% Flag of Punjab.svg پنجاب، پاکستان
17 رحیم یار خان 420,419 233,537 &10000000000000080224370+80.02% Flag of Punjab.svg پنجاب، پاکستان
18 جھنگ 414,131 293,366 &10000000000000041165302+41.17% Flag of Punjab.svg پنجاب، پاکستان
19 ڈیرہ غازی خان 399,064 190,542 &10000000000000109436239+109.44% Flag of Punjab.svg پنجاب، پاکستان
20 گجرات 390,533 251,792 &10000000000000055101432+55.10% Flag of Punjab.svg پنجاب، پاکستان

بیرونی روابط[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب
  2. ^ ا ب "PAKISTAN: Provinces and Major Cities". PAKISTAN: Provinces and Major Cities. citypopulation.de. اخذ شدہ بتاریخ 04 مئی 2020. 
  3. "AZAD JAMMU & KASHMIR AT A GLANCE 2014" (PDF). AJK at a glance 2014.pdf. AZAD GOVERNMENT OF THE STATE OF JAMMU & KASHMIR. 11 February 2017. 30 جون 2020 میں اصل (PDF) سے آرکائیو شدہ. اخذ شدہ بتاریخ 30 جون 2020.