بھکر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
بھکر
Thal Canal.JPG 

انتظامی تقسیم
ملک Flag of Pakistan.svg پاکستان  ویکی ڈیٹا پر ملک (P17) کی خاصیت میں تبدیلی کریں[1]
دارالحکومت برائے
تقسیم اعلیٰ ضلع بھکر  ویکی ڈیٹا پر انتظامی تقسیم میں مقام (P131) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جغرافیائی خصوصیات
متناسقات 31°38′00″N 71°04′00″E / 31.633333333333°N 71.066666666667°E / 31.633333333333; 71.066666666667  ویکی ڈیٹا پر متناسقاتی مقام (P625) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
بلندی 159 میٹر  ویکی ڈیٹا پر سطح سمندر سے بلندی (P2044) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
آبادی
کل آبادی 88472 (2017)  ویکی ڈیٹا پر آبادی (P1082) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مزید معلومات
باضابطہ ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ  ویکی ڈیٹا پر باضابطہ ویب سائٹ (P856) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جیو رمز {{#اگرخطا:1182815  ویکی ڈیٹا پر جیونیمز شناخت (P1566) کی خاصیت میں تبدیلی کریں|}}
نحوی غلطی

بھکر (اردو: بھکر، سرائیکی:بکھر) ضلع بھکر، پنجاب، پاکستان کا بنیادی شہر ہے۔ یہ دریائے سندھ کے بائیں کنارے پر واقع ہے۔ سن 2017 کی مردم شماری کے مطابق ضلع بھکر کی کل آبادی ساڑھے سولہ لاکھ نفوس سے کچھ زیادہ ہے۔ بھکر کو ضلع درجہ 1981ء میں دیا گیا۔ ضلع بھکر پنجاب اور خیبر پختونخوا کے سنگم پر واقع ہے۔ اس کا مرکزی شہر بھکر ہے۔ مشہور شہروں میں بھکر, ّّْْْٗٗمنکیرہ اور درِیا خان شامل ہیں۔ جغرافیائی اعتبار سے یہ صحرائے تھل اور ساتھ ہی ساتھ صوبہ پنجاب کی بھی مغربی اختتامی پٹی پر واقع ہے جہاں سے دریائے سندھ کا ڈیلٹا شروع ہو جاتا ہے۔ سن 1980 تک دریائے سندھ کا ایک قابلِ ذکر ذیلی دریا ایک چھوٹی شاخ کی صورت میں بھکر شہر کے عین بغل میں بہتا تھا۔ اس دریا کی موجودگی اس صحرائی شہر کے باسیوں کے لیئے قدرت کا حسین اور شاندار تحفہ تھا۔ اسی دریا کے پانیوں نے جہاں سندھ کے ڈیلٹا میں رہنے والے یہاں کے باسیوں کو خوشحالی دی وہیں یہ دریا صدیوں دریائے سندھ کی ھیبت و وسعت کا ترجمان بھی رہا ۔ بھکر شہر سمیت صحرائے تھل کو ہزاروں سال سینچنے والا یہ خوبصورت دریا، جس کا اپنا منفرد ایکو سسٹم تھا اور یہ دریا صحرا کے دامن میں بہنے والے دنیا کے محض چند دریاؤں میں سے ایک تھا۔ سن اُنیساسو تراسی میں بننے والے ایک جدید پُل سے اِس دریا کی بربادیوں کی کہانی شروع ہوئی، اس دریا کو ڈیرہ اسماعیل خان اور بھکر کے درمیان بننے والے جدید پل کی نظر کر دیا گیا۔ افسوس کہ اس وقت کسی بھی شخص یا طبقے نے اس دریا کو ختم کرنے کی مخالفت یا کوشش نہیں کی ۔ افسوس کہ دریا کا راستہ اس نئے پل اور اسکے حفاظتی پشتے و حفاظتی بند بنانے کی خاطر مکمل طور پر خشک کر دیا گیا لیکن دریا کا راستہ صدیوں تک بہتے رہنے کے باعث چونکہ آج بھی موجود ہے لہذا اگر بھکر کے باسی کوشش کریں تو اس دریا کو ایک مرتبہ پھر سے رواں دواں کیا جاسکتا ہے۔ یہ دریا جسے کل کے لیئے محفوظ کیا جانا چاہیے تھا تاکہ آج کی نسلیں اس دریا کی خوبصورتی اور رعنائی سے مستفید ہوتیں اس کا بے دردی سے قتل کر دیا گیا۔

اس چھوٹے سے دریا کے آثار کو عبور کرتے ہی قدیم بھکر شہر کے آثار آج بھی کسی نہ کسی شکل میں نظر آتے ہیں، پرانا شہر جو دریائے سندھ کے ڈیلٹے میں شامل تھا چونکہ ہر سال سیلاب کی زد میں رہتا تھا شاید اسی لیے اس زمانے کے باسیوں نے شہر کو دریا کے مشرقی کنارے پر نئے سرے سے آباد کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہاں یہ کنارہ جو ریت کے اونچے ٹیلوں پر مشتعمل تھا اور ہر طرح کے سیلاب سے بھی محفوظ تھا ۔ بھکر کی زیادہ تر آبادی اجرتی مزدوری اور زراعت سے منسلک رہی ہے۔ معاشی اعتبار سے بھکر ایک پسماندہ ضلع تصور کیا جاتا تھا جس کی بڑی وجوہات مرکز سے دوری، کمزور مواصلاتی نظام، پیشہ ورانہ افرادی قوت کا فقدان اور سب سے بڑھ کر نااہل اور خود غرض سیاسی قیادت رہی ہے جو جب بھی اسمبلیوں میں پہنچے انہوں نے صرف اپنی ترقی اور خوشحالی کیلئے کوششیں کیں ساتھ میں یہاں کی سیاسی اشرافیہ کی ایک تاریخ یہ بھی رہی کہ یہ لوگ ہمیشہ برادری کی بنیادوں پر الیکشن میں حصہ لیتے رہے اور جیت کر حکمران پارٹی کے ساتھ شامل ہوتے رہے۔ ان کا واحد سیاسی نظریہ "جیہڑا جِتے اودھے نال" یعنی جو جیتے اس کے ساتھ شامل ہونا ہی رہا ۔ کسی بھی ممبر پارلیمنٹ نے اس شہر میں کسی بڑی صنعت یا حرفت کو روشناس کروانے کی کبھی کوئی کوشش نہیں کی اور اپنے خاندان و برادری کو سینچتے رہے۔ آج بھکر سے منتخب ہونے والے تمام ایم پی ایز اور ایم این ایز اسلام آباد اور لاہور جیسے شہروں میں بڑے بڑے گھروں کے مالک بن گئے ہیں لیکن ان کے انتخابی علاقوں کے عوام اپنے ان نمائندوں سے کوئی فیض حاصل نہ کر سکے۔

لہذاٰ سوائے عوام کو درجہ چہارم و پنجم کی نچلے درجے کی سرکاری نوکریوں کے کبھی کوئی مناسب حصہ نہ مل سکا۔ اور شاید یہی وجہ تھی کہ آخر عوام نے فیصلہ کیا کہ ان سیاسی گھرانوں کے در پر نوکریوں کی بھیک مانگنے کی بجائے اپنے بچوں کو تعلیم دی جائے اور اپنی مدد آپ کے تحت اپنی دنیا کو آپ ہی بسایا جائے۔ بھکر میں قیام پاکستان کے وقت صرف ایک ہائی اسکول تھا جو کہ انگریزی حکومت کے طفیل بنا تھا۔ پھر جب سن اسی کی دہائی میں یہ شہر ضلع بنا اور پھر ڈیرہ اسماعیل خان بھکر پُل کی تعمیر مکمل ہوئی تو بھکر شہر کی قسمت جاگ اٹھی۔ خاص طور پر ڈیرہ اسماعیل خان کے تعلیمی ادارے بشمول یہاں قائم گومل یونیورسٹی بھکر کے، بھکر کے باسیوں کے لیئے ایک نعمت ثابت ہوئی۔ اب تک بھکر کے ہزاروں طلباو طالبات ڈیرہ کے تعلیمی اداروں بشمول اس یونیورسٹی کے، علم و شعور کی دولت حاصل کر چکے ہیں اور اب آگے کی نسلوں میں یہی دولت منتقل کر رہے ہیں۔

ماضی میں تعلیم کے حصول میں مشکلات بھی غربت کی ایک بڑی وجہ تھی لیکن اب آج بھکر کے باسی اپنے بچوں کو بہت شوق سے اسکولوں میں بھیج رہے ہیں اور یہاں پڑھنے پڑھانے کا عمل حیرت انگیز تیزی سے آگے بڑھا ہے۔ یہاں سے لوگ مزدوری اور روز گار کی خاطر پاکستان اور بیرون پاکستان تیزی منتقل ہوتے رہے ہیں جس سے نئی سوچ اور آگے بڑھنے کا شوق دو چند ہوا ہے۔

آج آپ اگر پاکستان کے کسی بھی پروفیشنل تعلیمی ادارے میں جاکر معلوم کریں تو یقیناً آپ کو بہت سے طالب علم مل جائیں گے جن کا تعلق ضلع بھکر سے ہوگا۔ انجنئیرنگ، میڈیکل، قانون دانی، کمپیوٹر انجینئرنگ، زراعت، اٹامک انرجی کمیشن، صحافت غرض ہر ادارے میں بھکر ضلع میں رہنے والے طالبعلم اپنی الگ پہچان اور میٹھی سرائیکی زبان کے ساتھ آپ کو ضرور ملیں گے۔

ذرائع آمد و رفت جو کبھی بھکر کے باسیوں کے لیئے عنقا تھے لیکن آج کے بھکر کو تیزی سے نئے راستے پورے پاکستان کے ساتھ جوڑنے جا رہے ہیں۔ ایک سو چالیس کلومیڑ طویل بھکر جھنگ روڈ جو کبھی دس گھنٹوں میں بھی ناقابلِ عبور تھا، آج اس سڑک پر آپ ایک سو بیس کلومیٹر کی رفتار سے چلتے ہوئے محض ایک گھنٹہ تیس منٹ میں جھنگ سے بھی آگے گوجرہ سے گزرنے والی اسلام آباد کراچی موٹر وے کو جا ملتے ہیں، جہاں سے آگے لاہور کا سفر صرف تین گھنٹے کا رہ جاتا ہے۔ ایسے ہی ملتان اب بھکر سے تین گھنٹے کی مسافت پر رہ گیا ہے۔ ایسے ہی ڈیرہ اسماعیل خان میں سے ہو کر گزرنے والے سی پیک کا نیا روٹ اب بھکر کو کراچی و کوئیٹہ سے مزید قریب کرنے والاہے۔ یہ قربت اہل بھکر کے لیئے نئے وسیلے اور نئی راہیں کھول دیے گی۔


بھکر صوبہ پنجاب میں قابل ذکر اجناس کی پیداوار کی وجہ سے مشہور ہے جن میں چنا، گندم، گنا اور کرنے کا تیل ہیں۔

1998ءکی مردم شماری کے مطابق اس کی آبادی کا تخمینہ 10,51,456 تھا۔ ضلع بھکر میں عمومی طور پر سرائیکی (اکثریتی زبان)، اردو، پنجابی وغیرہ بولی جاتی ہیں۔ اس کا رقبہ 8153 مربع کلومیٹر ہے۔ سطح سمندر سے اوسط بلندی 159 میٹر ہے۔ اسے بنیادی طور پر چار تحصیلوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ تحصیل بھکر،تحصیل دریا خان،تحصیل کلورکوٹ اورتحصیل منکیرہ اس کی تحصیلیں ہیں۔ یہاں زیادہ تر سرائیکی زبان بولی جاتی ہے۔ اس کے 56.6 فیصد کوگوں کا ذریعہ معاش زراعت ہے۔ تعلیم کے لیے یہاں سرکاری اور پرائیویٹ سکول وکالج موجود ہیں۔ سن 2012 میں یونیورسٹی آف سرگودھا نے بھکر میں اپنا سب کیمپس قائم کیا۔ یہ بھکر کی تاریخ میں پہلا پوسٹ گریجویٹ ادارہ تھا۔ بھکر کا شہری اور دیہاتی طبقے جو اپنی آئندہ نسلوں کو اعلیٰ تعلیم سے روشناس کروانے کے خواہش مند ہیں ان کے لیے یہ ایک بہت قیمتی تحفے کی مانند ہے۔ بھکر کے شہری علاقوں میں شرح خواندگی 55.13 فیصد جبکہ دیہی علاقوں میں 30.07 فیصد ہے اور عوامی شعور میں مسلسل اضافے کے باعث شرح خواندگی میں مسلسل افافہ ہو رہا ہے ۔ صحت کے حوالے سے ضلع بھکر میں ضلعی ھیڈکوارٹر ہسپتال اور دیگر نجی صحت کے مراکز موجود ہیں۔ بھکر شہر کی ایک وجہ شہرت” کرنہ تیل“ بھی تھی لیکن معاشرتی روایات کی تبدیلی کے باعث اب یہ تیل کم ہی شہرت رکھتا ہے لیکن آج سے چالیس یا پچاس سال پہلے جب لوگوں کا سر پر تیل لگانا ان کی ثقافت اور روزانہ کی عادات میں شامل تھا تب یہ تیل بہت مشہور تھا اور سارے ھندوستان میں بیچا جاتا تھا۔ یہ بنیادی طور پر سرسوں کا تیل تھا جس کو ” کرنہ“ نامی پھول کی خشک پتیوں کے ساتھ آگ پر پکایا جاتا تھا اس طرح سرسوں کے تیل میں اس پھول کی خوشبو رچ بس جاتی تھی اور شوقین لوگ اس تیل کو سر پر لگانا یا اس تیل سے مالش کرنا یا کروانا پسند کرتے تھے۔ کبھی یہ تیل مشرقی وسطیٰ میں برآمد بھی کیا جاتا تھا، شاید آج بھی اس تیل کے چند شوقین صحرائے تھل میں مل جائیں۔

بھکر کی مشہور اجناس میں چنا اہم ہے جو کہ صحرائے تھل میں کاشت کیا جاتا ہے، چنا بنیادی طور پر بارانی علاقوں کی فصل ہے جو ستمبر اکتوبر میں کاشت کی جاتی ہے اور پھر مارچ کے مہینے میں گندم سے زرا پہلے کاٹ لی جاتی ہے، پھر اگلے چھ ماہ تک تھل کے ریتلے ٹیلے کسی بھی فصل سے محروم رھتے ہیں۔ اس کے علاوہ گیہوں گنا، گوارا کا شمار اہم فصلوں کے طور پر ہوتا ہے۔ یہاں منکیرہ میں کاشت ہونے والا خربوزہ اپنی خوشبو اور مٹھاس کے لیئے پاکستان بھر میں شہرت رکھتا ہے ۔ آپ کو گرمیوں میں اکثر سڑک پر پھیری والے منکیرہ کے خربوزے کی سدا لگاتے ملیں گے اب خربوزہ چاہے کہیں کا بھی ہو منکیرہ کے نام پر ضرور خریدار کو دعوت شوق دیتا ہے۔

سرگودھا سے ہجرت کر کے آنے والے پنجابی آبادکاروں نے بھکر میں بھی کینو اور مالٹے کے باغات لگائے اور اب بھکر کے ریگستان میں آپ کو کینو مالٹے اور گریپ فروٹ کے باغات کثیر تعداد میں دیکھنے کو ملیں گے۔

ذرائع مواصلات اور بجلی کے بعد شمسی پینلز کی آمد نے تو تھل کو سرسبز بنانے میں درجہِ کمال حاصل کر لیا ہے ۔ اب محنتی کسانوں نے بجلی اور شمسی بجلی سے کام کرنے والے چھوٹے واٹر پمپ لگانے سیکھ لیے ہیں اس لیے اب اگر آج آپ صحرائے تھل سے گزریں تو آپ کو ہریالی کے نخلستان بہت بڑی تعداد میں نظر آتے ہیں جو یہاں کے محنت کش لوگوں کی جانفشانی کا ایک بین ثبوت ہیں۔ صنعتی اعتبار سے بھکر میں پاکستان بننے کے فوری بعد تھل دیولپمنٹ اتھارٹی یعنی TDA قائم کی گئی تھی جس کے تحت یہاں پبلک سیکٹر میں ایک ٹیکسٹائل مل اور ایک شوگر مل لگائی گئی تھیں ٹیکسٹائل مل تو چار دہایوں بعد سن 1998 میں یہاں سے ختم کر دی گئی۔ آج بھی مل کالونی کی شکل میں اس مل کی باقیات آپ دیکھ سکتے ہیں۔ جبکہ فیکٹو شوگر ملز آج بھی موجود ہے۔ اس کے علاوہ چند چھوٹی صنعتیں جیسے دال مل، ایک دو آٹا مل موجود ہیں۔ ابھی کچھ ہی عرصہ پہلے منکیرہ کے قریب قائم ہونے والا چپ بورڈ کا کارخانہ یہاں کے مکینوں کے لیئے ایک نیا اضافہ ہے۔ یہاں اس کارخانے میں بننے والے بورڈ کےلئے صحرائے تھل میں کثیر تعداد میں پایا جانے والا درخت جسے کھگل کہتے ہیں استعمال کیا جارہا ہے۔ اس درخت کی کاشت سے نہ صرف تھل سر سبز ہوتا جا رہا ہے بلکہ یہاں کے باسیوں کو اچھا منافع بھی مل رہا ہے۔

تاریخی اعتبار سے بھکر ایک پرانا شہر ہے۔ اس کی تاریخ کے بارے میں بہت سی روایات ملتی ہیں۔ ایک مکتب فکر کا کہنا ہے کہ بھکر کا پرانا نام سکھر تھا جو بعد میں بھکر پڑ گیا۔ بعض کے مطابق اس کا نام ڈیرہ اسمٰعیل خان کے ایک بلوچ سردار کے نام پر رکھا گیا۔ یہاں احمد شاہ ابدالی نے بھی یہاں پڑاﺅ کیا۔

برطانوی دور حکومت میں قصبہ بھکر،تحصیل بھکر کا ہیڈکوارٹر تھاجو کہ شمال مغرب ریلوے لائن پر واقع تھا۔ بھکر کی تاریخ میں بلوچ قوم کا کردار قابل ذکر ہے۔ بلوچ دو راستوں سے بھکر پر حملہ آور ہوئے۔ وہ بلوچ جو ڈیرہ اسمٰعیل خان سے دریائے سندھ کے راستے بھکر پر حملہ آورہوئے انہیں ہووت بلوچ کہا جاتا ہے۔ ان کے علاوہ رند بلوچ جن میں ممدانی اور جسکانی بلوچ ہیں ،کیچ مکھن اور سبی بلوچستان سے یہاں حملہ آور ہوئے۔ بلوچ خاندان نے یہاں بہت عرصہ حکومت کی۔ قلعہ منکیرہ ہیڈ کوارٹر تھا اور بھکر منکیرہ کے مقابلے میں ایک چھوٹا قلعہ تھا۔ بلوچ خاندان نے اٹھارہوں صدی تک یہاں پر حکمرانی کی۔ عبد الغنی کھلوڑا نے بلوچ خاندان کی حکمرانی ختم کر کے یہاں قبضہ کر لیا۔ اس کے دور ھکومت میں بلوچ بکھر گئے، کچھ بلوچ لیہ،بہاولپور اور کالا موزہ چلے گئے جبکہ بعض نے جنگلوں کا رخ کر لیا۔ اس کے بعد نواب مظفر نے یہاں حکومت کی۔ بعد ازاں بلوچ لیڈر محمد خان نے تمام بلوچوں کو اکٹھا کیا اور دوباریہ بلوچ یہاں قابض ہو گئے۔1821 ءمیں یہاں سکھوں نے حکمرانی کی۔

یہ ضلع تاریخی عمارات کے حوالے سے بھی اہم ہے۔ دل کشا باغ جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ مغلوں کا باغ تھا جو مغل بادشاہ ہمایوں نے تعمیر کروایا تھا۔ تاریخ دان ہینری ریورٹی نے اس بات سے اختلاف کیا اور کہا کہ ہمایوں کبھی یہاں آیا ہی نہیں۔ ہمایوں نے دوسرے بھکر گیا تھا جو صوبہ سندھ میں ہے۔ بھکر کے گردپہلے دیواریں تھی۔ اس کے تین دروازے تھے جن میں تاویلا،امام والا اور کنگ گیٹ شامل ہیں۔ کنگ گیٹ برطانیہ دور حکومت میں تعمیر کروایا گیا اور اس کا نام وہاں کے ڈپٹی کمیشنر مسٹر خان کے نام پر رکھا گیا۔ بعد ازاں اس کا نام جناح گیٹ رکھ دیا گیا۔ شیخ راﺅ پل کے قریب بھکر کے بانی بھکر خان کا مزار موجود ہے۔ بلوچ فورٹریس کی جگہ اب پولیس سٹیشن ہے۔ قلعہ منکیرہ بھی اسی ضلع میں ہے، 1981ءمیں اسے میانوالی سے الگ کر کے ضلع کا درجہ دے دیا گیا تھا۔

یہاں کی مشہور برادریوں میں عباسی، آنگرہ، انصاری، آرائیں، اعوان، بلوچ، بھٹی، چدھڑ، چھپ، چھڈو، چوہدری، کمبوہ، ڈھنڈھلا، گورچہ، کھوکھر، لودھی، قریشی، رانا،سید، نیازی سیال اور آخر میں بھڈوال شامل ہیں۔ مشہور شخصیات میں اصغر خان نوانی مرحوم اور قاری وقار احمد ہیں۔ اس ضلع کے سیاسی خاندانوادے جنہوں نے اس علاقے کے لیئے کبھی کچھ نہیں کیا ان میں شاہانی، ڈھانڈلا اور خان خیل شامل ہیں۔

اس ضلع میں قومی اسمبلی کے دوحلقے اورصوبائی اسمبلی کے چار حلقے شامل ہیں۔ اس کے قومی اسمبلی کے حلقوں میں این اے73 اور این اے74 ہیں جبکہ صوبائی اسمبلی کے حلقوں میں پی پی47،پی پی48،پی پی49 اورپی پی50 شامل ہیں۔

اس ضلع کے ووٹرز کی تعداد 711924ہے جن میں مرد ووٹرز کی تعداد398581 اور خواتین ووٹرز کی تعداد 313343ہے۔ ضلع بھکر کے پولنگ سٹیشنوں کی تعداد 617ہے۔

ماضی میں یہاں سے سابق وزیراعلی پنجاب شہباز شریف، چوہدری شجاعت حسین، ملک غلام سرور، عبد المجید خان خیل، علی اصغر، محمد ثناءاللہ خان مستی خیل، محمد طارق خان نیازی، حفیظ اللہ خان ایڈوکیٹ، محمد افضل خان ڈھانڈلا، رشید اکبر خان، مرید حسین شاہ، مولانا محمد سفی اللہ، عامر محمد خان، محمد ارشد فاقر، سعید اکبر خان، ملک عادل حسین، مرید حسین شاہ و دیگر انتخابات میں حصہ لیتے رہے۔

انتظام[ترمیم]

بھکر شہر ضلع کی چار تحصیلوں میں سے ایک تحصیل بھکر کا انتظامی مرکز ہے۔ بھکر تحصیل کو 17 یونین کونسل میں تقسیم کیا گیا ہے، جن میں سے تین کا تعلق بھکر شہر سے ہے۔ بھکر جغرافیائی اعتبار سے صحرائے تھل میں واقع ہے۔ بھکر کی زیادہ تر ٱبادی اجرتی مزدوری اور زراعت سے منسلک ہے۔ معاشی اعتبار سے بھکر ایک پسماندہ ضلع تصورکیا جاتا ہے۔ اس کے باوجود بھکر صوبہ پنجاب میں قابل ذکر اجناس کی پیداوار کی وجہ سے مشہور ہے جن مین چنا، گندم، گنا اور کرنے کا تیل ہیں۔

ضلع بھکر کی تحصیلوں میں تحصیل بھکر،تحصیل منکیرہ،تحصیل کلورٹ اورتحصیل دریاخان ہیں۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1.   ویکی ڈیٹا پر جیونیمز شناخت (P1566) کی خاصیت میں تبدیلی کریں"صفحہ بھکر في GeoNames ID"۔ GeoNames ID۔ اخذ شدہ بتاریخ 29 نومبر 2019۔
  2. http://www.pakpost.gov.pk/postcode/postcode.html پاکستان پوسٹ آفس کی سرکاری ویب سائٹ، فہرست پوسٹل کوڈ