بھکر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
بھکر
Thal Canal.JPG 

انتظامی تقسیم
ملک Flag of Pakistan.svg پاکستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں ملک (P17) ویکی ڈیٹا پر[1]
منتظم ضلع بھکر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں انتظامی تقسیم میں مقام (P131) ویکی ڈیٹا پر
جغرافیائی خصوصیات
متناسقات 31°38′00″N 71°04′00″E / 31.633333333333°N 71.066666666667°E / 31.633333333333; 71.066666666667  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں متناسقاتی مقام (P625) ویکی ڈیٹا پر
بلندی 159 میٹر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سطح سمندر سے بلندی (P2044) ویکی ڈیٹا پر
آبادی
کل آبادی 88472   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں آبادی (P1082) ویکی ڈیٹا پر
جیو رمز 1182815  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں جیونیمز شناخت (P1566) ویکی ڈیٹا پر

بھکر (اردو: بھکر، سرائیکی:بکھر) ضلع بھکر، پنجاب، پاکستان کا بنیادی شہر ہے۔ یہ دریائے سندھ کے بائیں کنارے پر واقع ہے۔ اس کی آبادی 300,000 کے قریب ہے۔ اس کو ضلع کا درجہ 1981ء میں دیا گیا۔ ضلع بھکر پاکستان کے صوبہ پنجاب کا ایک ضلع ہے۔ ضلع بھکر پنجاب او رخیبر پختونخوا کے سنگم پر واقع ہے۔ اس کا مرکزی شہر بھکر ہے۔ مشہور شہروں میں بھکر اور دریا خان شامل ہیں۔ جغرافیائی اعتبار سے یہ صحرا تھل میں واقع ہے۔ بھکر کی زیادہ ترآبادی اجرتی مزدوری اور زراعت سے منسلک ہے۔ معاشی اعتبار سے بھکر ایک پسماندہ ضلع تصور کیا جاتا ہے جس کی بڑی وجوہات مرکز سے دوری، کمزور مواصلاتی نظام، پیشہ ورانہ افرادی قوت کا فقدان، نااہل قیادت،تعلیم کے حصول میں مشکلات اور بے روزگاری ہے۔ اس کے باوجود بھکر صوبہ پنجاب میں قابل ذکر اجناس کی پیداوار کی وجہ سے مشہور ہے جن میں چنا، گندم، گنا اور کرنے کا تیل ہیں۔

1998ءکی مردم شماری کے مطابق اس کی آبادی کا تخمینہ 10,51,456 تھا۔ ضلع بھکر میں عمومی طور پر سرائیکی (اکثریتی زبان)، اردو، پنجابی وغیرہ بولی جاتی ہیں۔ اس کا رقبہ 8153 مربع کلومیٹر ہے۔ سطح سمندر سے اوسط بلندی 159 میٹر ہے۔ اسے بنیادی طور پر چار تحصیلوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ تحصیل بھکر،تحصیل دریا خان،تحصیل کلورکوٹ اورتحصیل منکیرہ اس کی تحصیلیں ہیں۔ یہاں زیادہ تر سرائیکی زبان بولی جاتی ہے۔ اس کے 56.6 فیصد کوگوں کا ذریعہ معاش زراعت ہے۔ تعلیم کے لیے یہاں سرکاری اور پرائیویٹ سکول وکالج موجود ہیں۔ لیکن بھکر میں کوئی بھی یونیورسٹی موجود نہیں ہے۔ اس کے شہری علاقوں میں شرح خواندگی 55.13 فیصد جبکہ دیہی علاقوں میں 30.07 فیصد ہے۔ صحت کے حوالے سے ضلع بھکر میں ہسپتال اور دیگر صحت کے مراکز موجود ہیں۔ بھکر” کرنہ تیل“ کے حوالے سے بہت مشہور ہے۔ یہ تیل” کرنہ“ نامی پھول سے نکالا جاتا ہے اورمشرقی وسطیٰ میں برآمد کیا جاتاہے۔ یہاں کی مشہور فصل میں چنا شامل ہے۔ صنعتی اعتبار سے بھکر میں ٹیکسٹائل اور شوگر ملز موجود ہیں۔ اس کے علاوہ چھوٹی صنعتیں بھی ہیں۔

تاریخی اعتبار سے بھکر ایک پرانا شہر ہے۔ اس کی تاریخ کے بارے میں بہت سی روایات ملتی ہیں۔ ایک مکتب فکر کا کہنا ہے کہ بھکر کا پرانا نام سکھر تھا جو بعد میں بھکر پڑ گیا۔ بعض کے مطابق اس کا نام ڈیرہ اسمٰعیل خان کے ایک بلوچ سردار کے نام پر رکھا گیا۔ یہاں احمد شاہ ابدالی نے بھی یہاں پڑاﺅ کیا۔

برطانوی دور حکومت میں قصبہ بھکر،تحصیل بھکر کا ہیڈکوارٹر تھاجو کہ شمال مغرب ریلوے لائن پر واقع تھا۔ بھکر کی تاریخ مین بلوچ قوم کا کردار قابل ذکر ہے۔ بلوچ دو راستوں سے بھکر پر حملہ آور ہوئے۔ وہ بلوچ جو ڈیرہ اسمٰعیل خان سے دریائے اندس کے راستے بھکر پر حملہ آورہوئے انہیں ہووت بلوچ کہا جاتا ہے۔ ان کے علاوہ رند بلوچ جن میں ممدانی اور جسکانی بلوچ ہیں ،کیچ مکھن اور سبی بلوچستان سے یہاں حملہ آور ہوئے۔ بلوچ خاندان نے یہاں بہت عرصہ حکومت کی۔ قلعہ منکیرہ ہیڈ کوارٹر تھا اور بھکر منکیرہ کے مقابلے میں ایک چھوٹا قلعہ تھا۔ بلوچ خاندان نے اٹھارہوں صدی تک یہاں پر حکمرانی کی۔ عبد الغنی کھلوڑا نے بلوچ خاندان کی حکمرانی ختم کر کے یہاں قبضہ کر لیا۔ اس کے دور ھکومت میں بلوچ بکھر گئے، کچھ بلوچ لیہ،بہاولپور اور کالا موزہ چلے گئے جبکہ بعض نے جنگلوں کا رخ کر لیا۔ اس کے بعد نواب مظفر نے یہاں حکومت کی۔ بعد ازاں بلوچ لیڈر محمد خان نے تمام بلوچوں کو اکٹھا کیا اور دوباریہ بلوچ یہاں قابض ہو گئے۔1821 ءمیں یہاں سکھوں نے حکمرانی کی۔

یہ ضلع تاریخی عمارات کے حوالے سے بھی اہم ہے۔ دل کشا باغ جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ مغلوں کا باغ تھا جو مغل بادشاہ ہمایوں نے تعمیر کروایا تھا۔ تاریخ دان ہینری ریورٹی نے اس بات سے اختلاف کیا اور کہا کہ ہمایوں کبھی یہاں آیا ہی نہیں۔ ہمایوں نے دوسرے بھکر گیا تھا جو صوبہ سندھ میں ہے۔ بھکر کے گردپہلے دیواریں تھی۔ اس کے تین دروازے تھے جن میں تاویلا،امام والا اور کنگ گیٹ شامل ہیں۔ کنگ گیٹ برطانیہ دور حکومت میں تعمیر کروایا گیا اور اس کا نام وہاں کے ڈپٹی کمیشنر مسٹر خان کے نام پر رکھا گیا۔ بعد ازاں اس کا نام جناح گیٹ رکھ دیا گیا۔ شیخ راﺅ پل کے قریب بھکر کے بانی بھکر خان کا مزار موجود ہے۔ بلوچ فورٹریس کی جگہ اب پولیس سٹیشن ہے۔ 1981ءمیں اسے میانوالی سے الگ کر کے ضلع کا درجہ دے دیا گیا تھا۔

یہاں کی مشہور برادریوں میں عباسی، آنگرہ، انصاری، آرائیں، اعوان، بلوچ، بھٹی، چدھڑ، چھپ، چھڈو، چوہدری، کمبوہ، ڈھنڈھلا، گورچہ، کھوکھر، لودھی، قریشی، رانا،سید، نیازی اور سیال شامل ہیں۔ مشہور شخصیات میں قاری وقار احمداور نعیم اللہ شاہانی ہیں۔ اس ضلع کے مشہور سیاسی خاندان شاہانی،ڈھنڈلا اور خان خیل ہیں۔

اس ضلع میں قومی اسمبلی کے دوحلقے اورصوبائی اسمبلی کے چار حلقے شامل ہیں۔ اس کے قومی اسمبلی کے حلقوں میں این اے73 اور این اے74 ہیں جبکہ صوبائی اسمبلی کے حلقوں میں پی پی47،پی پی48،پی پی49 اورپی پی50 شامل ہیں۔

اس ضلع کے ووٹرز کی تعداد 711924ہے جن میں مرد ووٹرز کی تعداد398581 اور خواتین ووٹرز کی تعداد 313343ہے۔ ضلع بھکر کے پولنگ سٹے شنوں کی تعداد 617ہے۔ اس ضلع55پولنگ سے ٹشنوں کو انتہائی حساس قرار دے دیا گیا ہے۔ ماضی میں یہاں سے چوہدری شجاعت حسین،ملک غلام سرور، عبد المجید خان خیل،علی اصغر،محمد ثناءاللہ خان مستی خیل،محمد طارق خان نیازی،حفیظ اللہ خان ایڈوکیٹ،محمد افضل خان ڈھنڈلا،رشید اکبر خان،مرید حسین شاہ،مولانا محمد سفی اللہ،عامر محمد خان،محمد ارشد فاقر،سعید اکبر خان،ملک عادل حسین،مرید حسین شاہ و دیگر نے انتخابات میں حصہ لیا۔

انتظام[ترمیم]

بھکر شہر ضلع کی چار تحصیلوں میں سے ایک تحصیل بھکر کا انتظامی مرکز ہے۔ بھکر تحصیل کو 17 یونین کونسل میں تقسیم کیا گیا ہے، جن میں سے تین کا تعلق بھکر شہر سے ہے۔ بھکر جغرافیائی اعتبار سے صحرائے تھل میں واقع ہے۔ بھکر کی زیادہ تر ٱبادی اجرتی مزدوری اور زراعت سے منسلک ہے۔ معاشی اعتبار سے بھکر ایک پسماندہ ضلع تصورکیا جاتا ہے۔ اس کے باوجود بھکر صوبہ پنجاب میں قابل ذکر اجناس کی پیداوار کی وجہ سے مشہور ہے جن مین چنا، گندم، گنا اور کرنے کا تیل ہیں۔

ضلع بھکر کی تحصیلوں میں تحصیل بھکر،تحصیل منکیرہ،تحصیل کلورٹ اورتحصیل دریاخان ہیں۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1.   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں جیونیمز شناخت (P1566) ویکی ڈیٹا پر"صفحہ بھکر في GeoNames ID"۔ GeoNames ID۔ اخذ کردہ بتاریخ 25 مئی 2018۔ 
  2. http://www.pakpost.gov.pk/postcode/postcode.html پاکستان پوسٹ آفس کی سرکاری ویب سائٹ، فہرست پوسٹل کوڈ