احمد شاہ ابدالی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
احمد شاہ ابدالی
Portrait of Ahmad Shah Durrani.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1722  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ہرات  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 16 اکتوبر 1772 (49–50 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
قندھار  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن قندھار  ویکی ڈیٹا پر مقام دفن (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت درانی سلطنت  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
زوجہ حضرت بیگم  ویکی ڈیٹا پر شریک حیات (P26) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد تیمور شاہ درانی  ویکی ڈیٹا پر اولاد (P40) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
خاندان درانی  ویکی ڈیٹا پر خاندان (P53) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مناصب
شہنشاہ   ویکی ڈیٹا پر منصب (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دفتر میں
1 اکتوبر 1747  – 16 اکتوبر 1772 
عملی زندگی
پیشہ بادشاہ، شاعر  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عسکری خدمات
عہدہ جرنیل  ویکی ڈیٹا پر عسکری رتبہ (P410) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

احمد شاہ ابدالی (پیدائش: 1722ء— وفات: 16 اکتوبر 1772ء) درانی سلطنت کا بانی تھا جس نے 1747ء میں امارت افغانستان کی بنیاد رکھی۔

سوانح[ترمیم]

نادر شاہ والئ ایران کا جنرل۔ افغانوں کے ابدالی قبیلے کا سردار اور افغانستان میں ابدالی سلطنت کا بانی۔ ایک بہادر پشتون تھا۔ اور نادر شاہ کے قتل 1747ء کے بعد افغانستان کا بادشاہ بنا۔ ہرات اور مشہد پر قبضہ کیا اورسلطنت افغانستان کا اعلان کیا اس نے 1748ء تا 1767ء ہندوستان پر کئی حملے کیے۔ پہلا معرکہ پنجاب کے حاکم میر معین الملک عرف میر منو کے ساتھ ہو اجس نے بہادری اور دلیری کی داستان رقم کی مان پور میں ہندوستانیوں کا بہادر جرنیل ڈٹا رہا آخرکار ابدالی فوج کو شکست ہوئی یہ مغل سلطنت کی آخری فتح تھی اس کے بعد مغلوں نے پنجاب کو اس کے حال پر چھوڑ دیا۔ احمدشاہ ابدالی کے ہندوستان پر حملوں میں سے سب سے مشہور حملہ 1761ء میں ہوا۔ اس حملے میں اس نے مرہٹوں کو پانی پت کی تیسری لڑائی میں شکست فاش دی۔ کابل، قندھار اور پشاور پر قبضہ کرنے کے بعد احمد شاہ ابدالی نے پنجاب کا رخ کیا اور سر ہند تک کا سارا علاقہ اپنی سلطنت میں شامل کر لیا۔ 1756ء میں دہلی کو تاخت و تاراج کیا اور بہت سا مال غنیمت لے کر واپس چلا گیا۔ ان حملوں نے مغلیہ سلطنت کی رہی سہی طاقت بھی ختم کردی۔ پنجاب میں سکھوں کے فروغ کا ایک سبب احمد شاہ کے پے در پے حملے بھی ہیں۔

بلوچستان[ترمیم]

دور حکومت 1747ء تا 1773ء

افغانستان کے بادشاہ نادر شاہ کے قتل کے بعد احمد شاہ ابدالی جو نادر شاہ کے فوج کے سالار تھے لویہ جرگہ کے ذریعے بادشاہ منتخب ہوئے، یہ جرگہ شیر سرخ بابا کے مزار پر منعقد ہوا تھا، اسی دوران صابر شاہ ملنگ نے ایک گندم کا خوشہ ان کے سر پر بطور تاج کے لگایا اور احمد شاہ کو بطور بادشاہ تسلیم کر لیا گیا، احمد شاہ ابدالی کو بجا طور پر افغانستان کا بانی کہا جا سکتا ہے۔ اس وقت سلطنت اٹک سے کابل، کوئٹہ، مستونگ، قلات، سبی، جیکب آباد، شکارپور، سندھ، پشین، ڈیرہ اسماعیل خان، ضلع لورالائی اور تمام پنجاب پر مشتمل تھی، شال کوٹ کوہٹہ قندھار کا ایک ضلع تھا، ابدالی سلطنت ( 1747ء سے 1823ء) تک افغانستان پر رہی۔ 1765ء کا زمانہ آیا سکھوں نے پنجاب میں قتل و غارت گری کا بازار گرم کیا ہوا تھا۔ 1772ء تک احمد شاہ ابدالی اور اس کے بعد اس کی اولاد کی حکومت رہی۔ اس کی اولاد میں ایوب شاہ کو 1823ء میں قتل کر دیا گیا۔ احمد شاہ ابدالی کی ہمشیرہ کا مزار بھی خواجہ ولی مودودی چستی کرانی کی درگاہ کے احاطہ کے اندر کرانی، کوئٹہ کے مقام پر واقع ہے۔

پنجاب کی مہم سے واپسی پر احمد شاہ ابدالی نے میر نصیر خان کو ہڑنداور داجلکے علاقے بطور انعام دیے۔ اسی زمانے میں جب احمد شاہ کی مشرقی ایران کی مہم سے واپسی ہوئی تو اس نے میر نصیر خان کی والدہ بی بی مریم کو کوئٹہ کا علاقہ یہ کہتے ہوئے دیا کہ یہ آپ کی شال ہے (شال کا مطلب دوپٹہ ہوتا ہے)۔ اسی دن سے کوئٹہ کا نام شال کوٹ پڑ گیا اور یہ ریاست قلات کا حصہ بن گیا۔ قلعہ میری قلات (قلعہ کوہٹہ) کے قریب خواجہ نقرالدین شال پیر بابا مودودی چشتی کا مزار بھی واقع ہے، شال کوٹ کو جو شاہراہ ہندوستان اور ایران سے ملاتی ہے اُسے شال درہ کہتے تھے۔ آج اُس شاہراہ پر اسی نام سے ایک بہت بڑی آبادی قائم ہے، خواجہ ولی مودودی چستی کرانی کا مزار بھی اسی وادی کے اندر واقع ہے۔

نگار خانہ[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]