احمد شاہ ابدالی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
احمد شاہ ابدالی
Portrait of Ahmad Shah Durrani.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1722  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ہرات  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 16 اکتوبر 1772 (49–50 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
قندھار  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن قندھار  ویکی ڈیٹا پر مقام دفن (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت درانی سلطنت  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
زوجہ حضرت بیگم  ویکی ڈیٹا پر شریک حیات (P26) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اولاد تیمور شاہ درانی  ویکی ڈیٹا پر اولاد (P40) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
خاندان درانی  ویکی ڈیٹا پر خاندان (P53) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مناصب
شہنشاہ   ویکی ڈیٹا پر منصب (P39) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دفتر میں
1 اکتوبر 1747  – 16 اکتوبر 1772 
عملی زندگی
پیشہ بادشاہ، شاعر  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عسکری خدمات
عہدہ جرنیل  ویکی ڈیٹا پر عسکری رتبہ (P410) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

احمد شاہ ابدالی (پیدائش: 1722ء— وفات: 16 اکتوبر 1772ء) درانی سلطنت کا بانی تھا جو 1747ء سے لے کر 1772ء تک افغانستان، ایران اور ہندوستان کے ایک بڑھے رقبے کا حکمران رہا۔

سوانح[ترمیم]

نادر شاہ والئ ایران کا جنرل۔ افغانوں کے ابدالی قبیلے کا سردار اور افغانستان میں ابدالی سلطنت کا بانی۔ ایک بہادر پشتون تھا۔ اور نادر شاہ کے قتل 1747ء کے بعد افغانستان کا بادشاہ بنا۔ ہرات اور مشہد پر قبضہ کیا اورسلطنت افغانستان کا اعلان کیا اس نے 1748ء تا 1767ء ہندوستان پر کئی حملے کیے۔ پہلا معرکہ پنجاب کے حاکم میر معین الملک عرف میر منو کے ساتھ ہو اجس نے بہادری اور دلیری کی داستان رقم کی مان پور میں ہندوستانیوں کا بہادر جرنیل ڈٹا رہا آخرکار ابدالی فوج کو شکست ہوئی یہ مغل سلطنت کی آخری فتح تھی اس کے بعد مغلوں نے پنجاب کو اس کے حال پر چھوڑ دیا۔ احمدشاہ ابدالی کے ہندوستان پر حملوں میں سے سب سے مشہور حملہ 1761ء میں ہوا۔ اس حملے میں اس نے مرہٹوں کو پانی پت کی تیسری لڑائی میں شکست فاش دی۔ کابل، قندھار اور پشاور پر قبضہ کرنے کے بعد احمد شاہ ابدالی نے پنجاب کا رخ کیا اور سر ہند تک کا سارا علاقہ اپنی سلطنت میں شامل کر لیا۔ 1756ء میں دہلی کو تاخت و تاراج کیا اور بہت سا مال غنیمت لے کر واپس چلا گیا۔ ان حملوں نے مغلیہ سلطنت کی رہی سہی طاقت بھی ختم کردی۔ پنجاب میں سکھوں کے فروغ کا ایک سبب احمد شاہ کے پے در پے حملے بھی ہیں۔

بلوچستان[ترمیم]

دور حکومت 1747ء تا 1773ء

افغانستان کے بادشاہ نادر شاہ کے قتل کے بعد احمد شاہ ابدالی جو نادر شاہ کے فوج کے سالار تھے لویہ جرگہ کے ذریعے بادشاہ منتخب ہوئے، یہ جرگہ شیر سرخ بابا کے مزار پر منعقد ہوا تھا، اسی دوران صابر شاہ ملنگ نے ایک گندم کا خوشہ ان کے سر پر بطور تاج کے لگایا اور احمد شاہ کو بطور بادشاہ تسلیم کر لیا گیا، احمد شاہ ابدالی کو بجا طور پر افغانستان کا بانی کہا جا سکتا ہے۔ اس وقت سلطنت اٹک سے کابل، کوئٹہ، مستونگ، قلات، سبی، جیکب آباد، شکارپور، سندھ، پشین، ڈیرہ اسماعیل خان، ضلع لورالائی اور تمام پنجاب پر مشتمل تھی، شال کوٹ کوہٹہ قندھار کا ایک ضلع تھا، ابدالی سلطنت ( 1747ء سے 1823ء) تک افغانستان پر رہی۔ 1765ء کا زمانہ آیا سکھوں نے پنجاب میں قتل و غارت گری کا بازار گرم کیا ہوا تھا۔ 1772ء تک احمد شاہ ابدالی اور اس کے بعد اس کی اولاد کی حکومت رہی۔ اس کی اولاد میں ایوب شاہ کو 1823ء میں قتل کر دیا گیا۔ احمد شاہ ابدالی کی ہمشیرہ کا مزار بھی خواجہ ولی مودودی چستی کرانی کی درگاہ کے احاطہ کے اندر کرانی، کوئٹہ کے مقام پر واقع ہے۔

پنجاب کی مہم سے واپسی پر احمد شاہ ابدالی نے میر نصیر خان کو ہڑنداور داجلکے علاقے بطور انعام دیے۔ اسی زمانے میں جب احمد شاہ کی مشرقی ایران کی مہم سے واپسی ہوئی تو اس نے میر نصیر خان کی والدہ بی بی مریم کو کوئٹہ کا علاقہ یہ کہتے ہوئے دیا کہ یہ آپ کی شال ہے (شال کا مطلب دوپٹہ ہوتا ہے)۔ اسی دن سے کوئٹہ کا نام شال کوٹ پڑ گیا اور یہ ریاست قلات کا حصہ بن گیا۔ قلعہ میری قلات (قلعہ کوہٹہ) کے قریب خواجہ نقرالدین شال پیر بابا مودودی چشتی کا مزار بھی واقع ہے، شال کوٹ کو جو شاہراہ ہندوستان اور ایران سے ملاتی ہے اُسے شال درہ کہتے تھے۔ آج اُس شاہراہ پر اسی نام سے ایک بہت بڑی آبادی قائم ہے، خواجہ ولی مودودی چستی کرانی کا مزار بھی اسی وادی کے اندر واقع ہے۔

سیرت و کردار[ترمیم]

حلیہ[ترمیم]

بوقت عمر 45 سال احمد شاہ کا حلیہ یوں تھا ، قد لمبا، بدن دہر ماٸل فربہی، چہرہ حیرت انگیز حد تک چوڑا، داڑھی بہت کالی بحیثیت مجموعی اس کی ہیٸت نہایت پروقار اور اندرونی طاقت کی مظہر تھی۔ وہ ایک مقناطیسی شخصیت کا انسان تھا اس کے روشن اور متبسم چہرے میں ایسی خوبی تھی جو دیکھنے والے کا دل موہ لیتی تھی۔

خوش مزاج انسان[ترمیم]

احمد شاہ درانی رحمدل انسان تھا اس کی طبیعت میں خوش مزاجی تھی دربار میں اور سرکاری مواقعوں پر نہایت وقار سے رہتا لیکن ذاتی زندگی میں دوستانہ طریقے سے پیش آتا اپنے اہل قبیلہ سے دوستانہ تعلقات رکھتا تھا۔

عیوب سے مبرا[ترمیم]

احمد شاہ درانی ان تمام عیوب سے مبرا تھا جو عموماً مشرقی اقوام کے لوگوں میں پائے جاتے ہیں مثلاً شراب یا افیون کی بدمستی، لالچ، ظلم، تعلقات میں دوغلاپن وغیرہ۔ وہ مذہب کا بڑا حامی تھا اپنی رحمدلی اور فیاضی کی بدولت رعایا کے ہر طبقے میں بے حد مقبول تھا۔

وعدے کا پکا[ترمیم]

احمد شاہ وعدے کا بڑا پکا تھا نادر شاہ نے احمد شاہ سے وعدہ لیا تھا کہ ”جب تم بادشاہ بنو تو تمہارا یہ فرض ہے کہ میری اولاد کے ساتھ زیادہ لطف و مہربانی سے پیش آؤ“ احمد شاہ نے اس وعدے پر پورا پورا عمل کیا اور نادر شاہ کے بیٹوں کی مسلسل احسان فراموشی اور کینہ پروری کے باوجود ان سے اچھا سلوک کیا۔

اولیاء و علما کرام سے عقیدت[ترمیم]

احمد شاہ سخت مذہبی مزاج کا حامل تھا اسے اولیاء و علما کرام کی صحبت بہت پسند تھی وہ درویشوں اور علما کی بڑی عزت کرتا تھا حضرت صابر شاہ ولیؒ سے اسے گہری عقیدت تھی اس نے بے شمار اولیاء کرام کے مزارات کی زیارت کی ہر جمعرات کو علما و فقراء کو کھانے پر بلاتا ان سے مذہب اور دیگر علوم پر گفتگو کرتا اس کے دربار میں سلطنت کے اعلٰی عہدے دار اور امرا ادب سے کھڑے رہتے لیکن سیدوں اور علماء کو کرسی ملتی تھی۔

دلی خواہش[ترمیم]

اس کی زندگی کی سب سے بڑی خواہش تھی کہ اسے ولی کا مرتبہ حاصل ہو، اکثر موقعوں پر اس نے رب کے حضور التجاء کی جو مقبول ہوٸی۔

شوق[ترمیم]

احمد شاہ کو شہ سواری اور شکار کا بڑا شوق تھا وہ اپنے گھوڑوں کا بڑا شیداٸی تھا جب اس کا پسندیدہ گھوڑا تارلان بیمار ہوا تو احمد شاہ بہت غمگین ہوا۔

لباس[ترمیم]

احمد شاہ سادہ زندگی گزارتا تھا، اس کا لباس بہت ہی سادہ ہوتا تھا حتی کہ امرا اور اس میں فرق محسوس نہیں ہوتا تھا، اس کے سر پر ایک شال دستار کے طور پر بندھی ہوتی تھی، جسم پر سوتی کپڑے کی قمیض اس کے اوپر رنگدار واسکٹ اس کے اوپر چمڑے کا لمبا کوٹ ہوتا تھا، شلوار ڈھیلی ڈھالی ہوتی تھی۔

خوراک[ترمیم]

احمد شاہ کی خوراک بھی سادہ تھی، زیادہ لذیذ کھانوں کا شوقین نہیں تھا، چاول اور مصالحہ دار گوشت کا پلاؤ کھانے کا شوقین تھا، جس میں کبھی کبھی رنگدار پیاز اور انڈے ملے ہوئے ہوتے، گوشت کباب، بھنا ہوا گوشت، پنیر، مکھن، دودھ، سالن، پھل اور شربت بھی پسند کرتا تھا۔

علم سے محبت[ترمیم]

احمد شاہ کے باقاعدہ کسی مکتب سے تعلیم یافتہ ہونے کا دستاویزی ثبوت نہیں ملتا، لیکن یہ حقیقت ہے کہ وہ پڑھا لکھا تھا کیونکہ اسے تمام ملکی زبانوں پر عبور حاصل تھا، احمد شاہ ایک شاعر بھی تھا اس کی شاعری میں سادہ پن اور واٸیت طرز پایا جاتا ہے۔

علم دوستی[ترمیم]

احمد شاہ نے زیادہ تر زندگی جنگی مہمات میں بسر کی، اسے اتنی فرصت ہی نہ مل سکی کہ وہ دیگر امور کی طرف توجہ دے لیکن اس کے باوجود اس نے علم دوستی کا ثبوت دیا، خود شاعر اور تعلیم یافتہ تھا اس لٸے اس نے شاعروں اور ادیبوں کی سرپرستی کی، احمد شاہ بٹالے کے شاعر واقف، سیالکوٹ کے شاعر نظام الدین عشرت اور مرزا مہدی استر آبادی کا بڑا مداح تھا، نظام الدین نے ” شاہ نامہ احمدیہ “ کے نام سے مثنوی لکھی جس میں احمد شاہ کے حالات وفات تک اور تیمور شاہ درانی کی تخت نشینی کے حالات دلچسپ انداز میں منظم کٸے۔

تعمیرات[ترمیم]

احمد شاہ تعمیرات کا بھی شوقین تھا پانی پت کی فتح کے بعد اس نے قندھار احمد شاہی کے نام سے ایک شہر کی بنیاد رکھی، اس شہر میں دو عمارات سب سے خوبصورت تھیں ایک وہ یادگار عمارت تھی جس میں رسول اللہ ﷺ کا خرقہ مبارک لوگوں کی زیارت کے لٸے رکھا گیا تھا، دوسری عمارت احمد شاہ کا مقبرہ تھی۔ 1753ء میں کابل شہر کے ارد گرد شہر پناہ تعمیر کراٸی۔ 1769ء میں اس نے شاہ اسحٰق المعروف شاہ شہید کا مزار قلعہ بالاحصار کے نزدیک بنوایا۔ 1756-57 میں احمد شاہ نے مکہ میں افغان زاٸرین کے لٸے قیام گاہ بنواٸی۔ مزار شریف کے قریب تاشقر خان کا قصبہ احمد شاہ نے تعمیر کروایا تھا۔ احمد شاہ معماروں اور کاریگروں خصوصاً لکڑی کا کام کرنے والوں کی سرپرستی کرتا تھا۔

مذہبی پالیسی[ترمیم]

افغانستان میں مسلمانوں کی اکثریت تھی لیکن دیہات میں ہندو اور سکھ بھی آباد تھے مگر ان کی تعداد کم تھی شہروں میں ہندوؤں اور سکھوں کی اچھی خاصی تعداد آباد تھی۔ جارج فوسٹر نے 1783 میں افغانستان میں سفر کے دوران جو دیکھا اس کے متعلق وہ لکھتا ہے ہندو تاجروں کی دکانوں کی تعداد اور ان کے آسودہ حال چہروں کو دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ قندہار میں انہیں بڑی آزادی اور تحفظ حاصل ہے۔ جارج فوسٹر کا یہ بیان احمد شاہ کی مذہبی رواداری کا بہت بڑا ثبوت ہے۔

معاشرتی اصلاحات[ترمیم]

یوں تو احمد شاہ کی زیادہ تر زندگی جنگی مہمات میں گزری لیکن پھر بھی اس نے اہم معاشرتی اصلاحات کی۔ اس نے عورتوں کے مرتبے کو بلند کیا، طلاق پر پابندی لگاٸی، بیوہ عورتوں کی دوبارہ شادی کی پرزور تحریک شروع کی، اس نے حکم دیا کہ کسی شخص کے مرنے کے بعد اس کی بیوہ کسی نزدیک رشتے دار سوائے باپ، بیٹے یا بھاٸی سے شادی کرے اور اگر نزدیکی رشتہ دار موجود نہ ہو تو بیوہ اپنے شوہر کے گھر رہے گی اور پوری زندگی اس کی جاٸیداد سے گزارہ کرے گی۔

فوجی نظام[ترمیم]

احمد شاہ ایک سپاہی تھا اس لٸے اس کی زیادہ تر توجہ فوج کی طرف ہی رہی، کیونکہ وہ جانتا تھا کہ فوج کی وجہ سے ہی سیاسی قوت اس کے پاس ہے، احمد شاہ لالچی نہیں تھا اس نے غیر ملکی مہمات سے بے شمار دولت اکٹھی کی لیکن یہ ساری دولت اس کے ذاتی خزانے میں نہیں جاتی تھی بلکہ وہ کھلے ہاتھوں سے اپنے سپاہیوں میں مال غنیمت تقسیم کرتا تھا، جو خزانہ 300 اونٹوں پر ہندوستان سے نادر شاہ کی خدمت میں جارہا تھا وہ احمد شاہ کی فتح قندہار سے ایک دن پہلے قندہار پہنچا، یہ خزانہ احمد شاہ کے ہاتھ آگیا، اس نے 2 کروڑ روپے کا یہ خزانہ فوج کے سرداروں، سالاروں اور سپاہیوں میں تقسیم کر دیا۔ احمد شاہ کی فوج ایک لاکھ بیس ہزار سواروں پر مشتمل تھی، جس میں قباٸلی سرداروں اور دوسرے حلیفوں کے دستے بھی شامل تھے۔ اس نے اپنی فوج کو مہمات میں مصروف رکھا، تاکہ فوج آرام طلب نہ ہو جائے، مہمات سے فوج کا نظم و ضبط بھی درست رہتا اور مال و دولت بھی ہاتھ آتا۔ فوج کا افسرِ اعلٰی سپاہ سالار تھا جو وزیرِ جنگ اور وزیرِ دفاع بھی تھا، اس کی حیثیت شاہ کے بعد دوسرے درجہ پر تھی، امن کے زمانہ میں وہ فوجوں کی تنظیم اور تربیب کا ذمہ دار ہوتا اور جنگ میں فوجیوں کی نقل و حرکت اور انہیں لڑانے کا ذمہ دار بھی ہوتا تھا۔ فوج 2 حصوں میں تقسیم تھی: (1) با قاعدہ فوج (2) بے قاعدہ فوج

با قاعدہ فوج[ترمیم]

باقاعدہ فوج ساری فوج کا ایک حصہ تھی، اس کے تین حصے تھے: (ا) پیادہ (ب) سوار (ج) توپ خانہ غیر منظم فوج زیادہ تر سواروں پر مشتمل ہوتی تھی، اس میں پیادہ سپاہی بہت کم ہوتے تھے۔

دفترِ نظام[ترمیم]

فوجی دفتر کو دفترِ نظام کہتے تھے اس کے کٸی شعبے تھے اسلحہ سازی، بارود، کپڑوں اور خوراک کی فراہمی، تنخواہوں کی آداٸیگی اور حسابات کا رکھنا دفترِ نظام کے ذمے تھا، سپہ سالار کے ماتحت کٸی افسر کام کرتے تھے جو مختلف شعبوں کی نگرانی کرتے تھے۔

فوج کے عہدے دار[ترمیم]

اردو باش (لشکر کا سردار) امیر لشکر (جنرل) دہ باشی (10 سپاہیوں کا افسر) شاہنکچی باشی (افواجِ خاصہ کا کماندار) قلعہ اتاسی (فوج کا کماندار) یوز پاشی (100 سپاہیوں کا افسر)

ذراٸع نقل و حمل[ترمیم]

ذراٸع نقل و حمل کے لٸے گھوڑوں، خچروں، اونٹوں، بیلوں اور ہاتھیوں کو استعمال کیا جاتا تھا۔

فوجیوں کی تنخواہ[ترمیم]

اس بات کا تاریخی ثبوت نہیں کہ سپاہیوں او افسروں کو کیا تنخواہ دی جاتی تھی، ایک واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ سوار کو 12 روپے ماہوار اور پیادہ کو 6 روپے ماہوار ملتے تھے، شاہ سپاہیوں کو تنخواہ دیتے وقت موجود ہوتا بعض اوقات انہیں اپنے ہاتھ سے تنخواہ دیتا تھا۔ منظم فوج میں بھرتی رضاکارانہ طور پر ہوتی تھی، اسے باقاعدہ تنخواہ ملتی تھی جو جنس اور نقد کی صورت میں ہوتی تھی۔ اسلحہ،گھوڑا اور دیگر اشیاء حکومت کی طرف سے دی جاتی تھیں۔ گھوڑے کی قیمت معمولی قسطوں میں لی جاتی تھی، گھوڑے کی خوراک وغیرہ کا انتظام اسے خود کرنا پڑھتا تھا، اسے زمانہ جنگ کے سوا 3 ماہ کی رخصت ملتی تھی، باقاعدہ فوج کا زیادہ تر حصہ دار السلطنت رہتا، تھوڑا سا حصہ صوبوں اور صوباٸی کے شہروں میں مقرر کیا جاتا تھا۔

بے قاعدہ فوج[ترمیم]

بے قاعدہ فوج کا زیادہتر حصہ سواروں پر مشتمل ہوتا، پیادہ بہت کم ہوتے تھے۔ یہ ساری فوج کا 2 تہاٸی تھی، مختلف قباٸل کے افراد اس میں شامل ہوتے اس فوج کا تین چوتھاٸی حصہ سرداروں پر مشتمل ہوتا۔

توپ خانہ[ترمیم]

احمد شاہ کا توپ خانہ بہت اچھا تھا گھوڑے باری توپیں کھینچتے، ہاتھی بھی توپیں اٹھاتے تھے جبکہ ہلکی توپیں ایک یا دو اونٹ کھینچتے۔ توپ خانے کا اعلٰی افسر توپچی باشی کہلاتا تھا۔ اس عہدے پر رحمان خان بارک زٸی فاٸز تھا۔

ابدالی کی شخصیت[ترمیم]

احمد شاہ کی ظاہری شخصیت شاندار، پر اثر، غیر معمولی پر وقار اور بارعب تھی، اس کی آنکھوں میں بلا کی ذہانت تھی، اس کے روشن اور پر اثر چہرے پر ایسی کشش تھی کہ تمام افغان اسے بے پناہ چاہتے اور اس کا عزت و احترام کرتے تھے، یہ اس کی غیر معمولی شخصیت کا ہی اثر تھا کہ جب آصف جاہ نظام الملک نے 1739ء میں جب دیوان عام کے باہر لال قلعہ دہلی میں احمد شاہ ابدالی کو پہلی بار دیکھا تو اسے احمد شاہ کے چہرے پر ایک حکمران کی سی چمک اور جلال نظر آیا، تو اس نے فوراً نادر شاہ سے پوچھا ”یہ نوجوان جو باہر ڈیوٹی پر کھڑا ہے کون ہے؟“ نادر شاہ نے اسے جواب دیتے ہوئے کہا ”یہ احمد خان ہے“ نظام الملک نے کہا ”مجھے اس میں ایک حکمران کی شخصیت نظر آٸی ہے“ احمد شاہ نے لڑکپن ہی میں اپنی غیر معمولی شخصیت اور ذہانت کی وجہ سے نادر شاہ کی توجہ اپنی طرف مبذول کرالی، نادر شاہ نے ہمیشہ اس کے لٸے تعریفی کلمات استعمال کٸے، ایک بار نادر شاہ نے اپنے درباریوں کو کہا کہ ”میں نے ایران، توران اور ہندوستان میں ایسا ذہین شخص نہیں دیکھا جتنا کہ احمد خان ہے“ نادر شاہ کو تو آخری عمر میں یہ پوری طرح احساس ہو گیا تھا کہ احمد خان ہی اس کے بعد حکمران بنے گا، حتٰی کہ جب پیر صابر شاہ صاحب ؒ نے احمد خان کو پہلی بار دیکھا تو فوراً کہہ اٹھے کہ تم ایک دن حاکم بنوگے۔ یہ احمد خان کی بلند کرداری تھی کہ اس کے باوجود اس کی نادر شاہ سے وفاداری میں کوٸی تبدیلی نہیں آٸی اور اس کا اپنے افغان سرداروں کے ساتھ سلوک بھی تبدیل نہ ہوا۔ احمد شاہ لالچ و حرص سے پاک تھا، جب نادر شاہ کے قتل کے بعد احمد سعید خان جو والٸ لاہور محمد زکریا خان اور والٸ کابل نصیر خان کا نماٸندہ تھا 2 کروڑ روپے کا خزانہ جس میں زر نقد اور بے شمار ہیرے جواہرات اور شالیں شامل تھیں، قندہار لے کر آیا تو احمد شاہ نے خزانے پر قبضہ کر لیا، سارے کا سارا اپنی فوج کے سرداروں، سالاروں، سپاہیوں، حکومتی عہدے داروں اور ملازموں میں تقسیم کرکے عالی ظرفی اور دریا دلی کا مظاہرہ کیا۔ ایک بار احمد شاہ کی فوج کو رقم کی ضرورت پڑی تو انہوں نے شاہی خزانہ لوٹ لیا، جب خزانچی نے احمد شاہ کو اطلاع دی تو اس نے خزانچی کو ڈانٹ کر کہا کہ ”تمہیں معلوم نہیں کہ اس حکومت میں وہ سب میرے برابر کے حصہ دار ہیں یہ سب رقم ان کے لٸے رکھی ہوٸی ہیں“ احمد شاہ سارا مال غنیمت فوج میں برابر تقسیم کر دیا کرتا تھا اس کے دل میں اپنی ذات کے لٸے مال و دولت کا لالچ کبھی پیدا نہیں ہوا۔ احمد شاہ کا بحیثیت انسان مقام اتنا بلند ہے کہ اس کے سامنے سونا، چاندی، ہیرے جواہرات کی کوٸی حیثیت نہیں تھی اس نے مال و دولت سے کبھی محبت نہیں کی۔ 1761ء میں جب احمد شاہ نے پانی پت کے تاریخی میدان میں مرہٹوں کو شکست دی اور دہلی پر قبضہ کر لیا، تو احمد شاہ نے تاج و تخت عالمگیر ثانی کے پاس رہنے دیا، اگر احمد شاہ چاہتا تو خو ہندوستان کا بادشاہ بن سکتا تھا، مگر اس کے دل میں ایسی کوٸی خواہش جنم نہیں لے رہی تھی، اس سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ احمد شاہ کا مقصد صرف جہاد تھا تاج و تخت یا دولت نہیں تھی۔ احمد شاہ ابدالی انسانیت کا کس قدر احترام کرتا تھا اس کا ثبوت یہ ہے کہ جب پانی پت کی جنگ میں وسواس راؤ قتل ہوا تو احمد شاہ کے سپاہی اس کی لاش میں بھس بھر کر بطورِ یادگار افغانستان لے جانا چاہتے تھے، مگر احمد شاہ نے انہیں ایسا کرنے سے روک دیا، اس نے پنڈت بلوائے اور شجاع الدولہ کی زیر نگرانی لاش باعزت طریقے سے جلاٸی اور راکھ سونے کے برتن میں ڈال کر پیشوا بالاجی باجی راؤ ثانی کو بھجواٸی گٸی، سارے اخراجات احمد شاہ نے برداشت کٸے، بھاؤ کی لاش کو بھی تلاش کیا گیا، لاش ملی تو سر کے بغیر تھی، سر ایک سپاہی کے پاس تھا، اس کا منہ دھویا گیا، لاش برہمنوں کے سہرد کی گٸی اور باعزت طور پر جلاٸی گٸی، اس کی راکھ بھی سونے کے برتن میں ڈال کر پیشوا کو بھجوا دی گٸی، ان واقعات سے احمد شاہ کی عظمت کا پتہ چلتا ہے۔ الفنسٹن لکھتا ہے کہ احمد شاہ ہنس مکھ، شیریں زباں، ملنسار اور خوش مزاج تھا، حکومتی معاملات میں اپنی الگ شخصیت اور وقار قاٸم رکھتا تھا، مگر عام حالات میں اس کا رویہ عمدہ اور سادہ ہوتا تھا۔احمد شاہ صوم و صلٰوة کا پابند تھا، علما و درویشوں کی عزت کرتا، جہاں بھی جاتا بزرگوں کے مزار پر فاتحہ ضرور پڑھتا، پانی پت کی فتح کے بعد حضرت بو علی قلندر اور حضرت نظام الدین اولیاء کے مزار شریف پر حاضری دی، حضرت صابر شاہ کا گہرہ عقیدت مند تھا، حضرت خواجہ سعد کا بھی بے حد احترام کرتا تھا، کابل سے پنجاب جاتے ہوئے پشاور کے قریب ہمیشہ شیخ عمر چمکانی کی زیارت کو جاتا تھا، احمد شاہ رحمدل اور سخی بادشاہ تھا، جو کچھ اس کے پاس ہوتا لوگوں میں بانٹ دیتا، مشرق کے حکمرانوں کی طرح ظالم نہ تھا، اس نے پانی پت کی جنگ سے پہلے یہ اعلان کیا کہ”افغانستان کے آدمیوں میں سے کوٸی ہندوستان کے ہندوؤں کے خلاف تعصب کا اظہار نہیں کرے گا، کمزوروں پر ظلم و ستم نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی کسی کی مذہبی اور معاشرتی رسوم پر اعتراض کریں گے۔“ احمد شاہ خدا پرست تھا اس لٸے اس نے کورنش بجالانے یا اپنے سامنے جھکنے سے منع کر دیا۔

نگار خانہ[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]