احمد شاہ ابدالی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

اصل نام:احمد شاہ ابدالی

والد کانام :محمدزمان خان

والدہ کانام: زرغونہ الکوزئی

تاریخ پیدائش:1722ء

تاریخ وفات:16اکتوبر1772ء

جائے پیدائش: قندھار

جائے وفات: قندھار

تاریخ جانشینی :جون 1747ء


مذہب :اسلام


ملف:Ahmad Shah Baba,Durani.jpeg
احمد شاہ ابدالی

نادر شاہ والئ ایران کا جنرل۔ افغانوں کے ابدالی قبیلے کا سردار اور افغانستان میں ابدالی سلطنت کا بانی۔ایک بہادر پشتون تھا۔اور نادر شاہ کے قتل 1747ء کے بعد افغانستان کا بادشاہ بنا۔ ہرات اور مشہد پر قبضہ کیا اورسلطنت افغانستان کا اعلان کیا اس نے 1748ء تا 1767ء ہندوستان پر کئی حملے کیے۔پہلا معرکہ پنجاب کے حاکم میر معین الملک عرف میر منو کے ساتھ ہو اجس نے بہادری اور دلیری کی داستان رقم کی مان پور میں ہندوستانیوں کا بہادر جرنیل ڈٹا رہا آخرکار ابدالی فوج کو شکست ہوئی یہ مغل سلطنت کی آخری فتح تھی اس کے بعد مغلوں نے پنجاب کو اس کے حال پر چھوڑ دیا۔ احمدشاہ ابدالی کے ہندوستان پر حملوں میں سے سب سے مشہور حملہ 1761ء میں ہوا۔ اس حملے میں اس نے مرہٹوں کو پانی پت کی تیسری لڑائی میں شکست فاش دی۔ کابل ، قندھار ، اور پشاور پر قبضہ کرنے کے بعد احمد شاہ ابدالی نے پنجاب کا رخ کیا اور سر ہند تک کا سارا علاقہ اپنی سلطنت میں شامل کر لیا۔ 1756ء میں دہلی کو تاخت و تاراج کیا اور بہت سا مال غنیمت لے کر واپس چلا گیا۔ ان حملوں نے مغلیہ سلطنت کی رہی سہی طاقت بھی ختم کردی ۔ پنجاب میں سکھوں کے فروغ کا ایک سبب احمد شاہ کے پےدر پے حملے بھی ہیں۔

alt text

بلوچستان[ترمیم]

دور حکومت 1747ء تا 1773ء

رسم تاج پوشی احمد شاہ ابدالی 1747.
احمد شاہ ابدالی کی ہمشیرہ کا مقبرہ احاطہ مزار خواجہ ولی چستی کرانی، کوئٹہ

افغانستان کے بادشاہ نادر شاہ کے قتل کے بعد احمد شاہ ابدالی جوکہ نادر شاہ کے فوج کے سالار تھے لویہ جرگہ کے ذریعے بادشاہ منتخب ہوئے، یہ جرگہ شیر سرخ بابا کے مزار پر منعقد ہوا تھا، اسی دوران صابر شاہ ملنگ نے ایک گندم کا خوشہ ان کے سر پر بطور تاج کے لگایا اور احمد شاہ کو بطور بادشاہ تسلیم کرلیا گیا، احمد شاہ درانی کو بجا طور پر افغانستان کا بانی کہا جا سکتا ہے۔ اس وقت سلطنت اٹک سے کابل، کوئٹہ، مستونگ، قلات ، سبی، جیکب آباد، شکارپور، سندھ، پشین، ڈیرہ اسماعیل خان، ضلع لورالائی اور تمام پنجاب پر مشتمل تھی، شال کوٹ کوہٹہ قندھار کا ایک ضلع تھا، احمد شاہ درانی کا دور سلطنت ( 1747ء سے 1823ء) تک افغانستان پر رہا۔ 1765ء کا زمانہ آیا سکھوں نے پنجاب میں قتل و غارت گری کا بازار گرم کیا ہوا تھا۔ 1772ء تک احمد شاہ درانی اور اس کے بعد اس کی اولاد کی حکومت رہی۔ اس کی اولاد میں ایوب شاہ کو 1823ء میں قتل کر دیا گیا۔ احمد شاہ ابدالی کی ہمشیرہ کا مزار بھی خواجہ ولی مودودی چستی کرانی کی درگاہ کے احاطہ کے اندر کرانی، کوئٹہ کے مقام پر واقع ہے۔

پنجاب کی مہم سے واپسی پر احمد شاہ ابدالی نے میر نصیر خان کو ہڑند اور داجل کے علاقے بطور انعام دیئے۔ اسی زمانے میں جب احمد شاہ کی مشرقی ایران کی مہم سے واپسی ہوئی تو اس نے میر نصیر خان کی والدہ بی بی مریم کو کوئٹہ کا علاقہ یہ کہتے ہوئے دیا کہ یہ آپ کی شال ہے (شال کا مطلب دوپٹہ ہوتا ہے)۔ اسی دن سے کوئٹہ کا نام شال کوٹ پڑ گیا، اور یہ ریاست قلات کا حصہ بن گیا۔ قلعہ میری قلات (قلعہ کوہٹہ) کے قریب خواجہ نقرالدین شال پیر بابا مودودی چشتی کا مزار بھی واقع ہے، شال کوٹ کو جو شاہراہ ہندوستان اور ایران سے ملاتی ہے اُسے شال درہ کہتے تھے۔ آج اُس شاہراہ پر اسی نام سے ایک بہت بڑی آبادی قائم ہے، خواجہ ولی مودودی چستی کرانی کا مزار بھی اسی وادی کے اندر واقع ہے۔