شیر شاہ سوری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
شیر شاہ سوری
Shershah.jpg

سلطنت سور
دور حکومت 17 مئی 1540 – 22 مئی 1545
(5 سال، 5 دن)
تاج پوشی 1540
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1486  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
سسرام  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 22 مئی 1545 (58–59 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کالنجر قلعہ  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجہ وفات دھماکا  ویکی ڈیٹا پر (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن سسرام  ویکی ڈیٹا پر (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
طرز وفات حادثہ  ویکی ڈیٹا پر (P1196) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of India.svg بھارت[1]  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مذہب اسلام
اولاد اسلام شاہ سوری  ویکی ڈیٹا پر (P40) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
خاندان سلطنت سور
نسل جلال خان
خاندان سلطنت سور
دیگر معلومات
پیشہ بادشاہ[2]  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

شیرشاہ سوری کا اصل نام فرید خان تھا۔ 1486ء میں پیدا ہوئے جو پشتون کی مشہور شاخ اسحاق زئ کا بڑا بیٹا تھا سوری اور۔سام جونپور میں تعلیم پائی۔21 سال والد کی جاگیر کا انتظام چلایا پھر والئ بہار کی ملازمت کی۔ جنوبی بہار کے گورنر بنے۔ کچھ عرصہ شہنشاہ بابر کی ملازمت کی بنگال بہاراور قنوج پر قبضہ کیا مغل شہنشاہ ہمایوں کو شکست دے کر ہندوستان پر اپنی حکمرانی قائم کی۔ اپنی مملکت میں بہت سی اصلاحات نافذ کیں۔ اپنے تعمیری کاموں کی وجہ سے ہندوستان کے نپولین کہلائے سنار گاؤں سے دریائے سندھ تک ایک ہزار پانچ سو کوس لمبی جرنیلی سڑک تعمیر کروائی جو آج تک جی ٹی روڈ کے نام سے موجود ہے۔

شہنشاہ اکبر مملکت کا انتظام چلانے میں شیرشاہ سے بڑا متاثر تھا۔ 22 مئی 1545ء میں بارود خانہ کے اچانک پھٹ جانے سے وفات پائی۔

تاریخ دان شیر شاہ سوری کو برصغیر کی اسلامی تاریخ کا عظیم رہنما، فاتح اور مصلح مانتے ہیں۔ اردو ادب میں شیر شاہ سوری سے متعلق کئی مثالی قصے ملتے ہیں۔

شیر شاہ سوری (1476ء تا 1545ء) ایسا فرماں روا تھا جس کی ستائش نامور مؤرخین اور عالمی مبصرین کرتے رہے ہیں۔ وہ ہندوستان کا پہلا حکمران تھا جس نے عوامی فلاح کی جانب اپنی بھرپور توجہ دی اور ایسے ایسے کارنامے انجام دیے جو تاریخ کی کتب میں سنہرے حروف میں تو لکھے ہی گئے، ان کے نقوش آج تک موجود ہیں۔

ساڑھے پانچ سو سال قبل اس نے زرعی اصلاحات کا کام شروع کروا دیا تھا، جس کی پیروی بعد کے حکمرانوں نے کی۔ شیر شاہ نے سہسرام سے پشاور تک گرینڈ ٹرنک روڈ یعنی جرنیلی سڑک کی تعمیر کروائی تھی اور اس کے کنارے کنارے سایہ دار اور پھل دار اشجار لگوائے، سرائیں تعمیر کروائیں اور سب سے پہلا ڈاک کا نظام نافذ کیا تھا۔

اگرچہ فرید خان سور المعروف شیر شاہ ایک معمولی جاگیردار کا بیٹا تھا۔ اس کے والد حسن خان سور کا خاندان افغانستان سے ہجرت کرکے ہندوستان آئے تھے اور وہ بابر کے معمولی جاگیردار تھے لیکن دلیر پرجوش اور جواں مرد اور اول العزم شیر شاہ نے مغل سلطنت کے بنیاد گزار بابر کے صاحبزادے ہمایوں کو ایک بار نہیں دو دو بار شکست دی۔ پہلی بار چوسہ کے میدان میں اور دوسری بار قنّوج کے میدان میں۔ اُس کے بعد ہمایوں کو برسوں در بدری کی زندگی گزارنی پڑی اس در بدری کے دور میں ہی اکبر کی پیدائش ہوئی تھی جو بعد میں تاریخ کا اکبر اعظم بنا۔

اپنی جدوجہد سے شیر شاہ نے عظیم سلطنت قائم کی تھی۔ لیکن اس نے اپنی آخری آرام گاہ کے طور پر سہسرام کو ہی پسند کیا تھا جو ادھر اس کا قوم سوری کا اکثریت تھا اس لیے اپنی زندگی میں ہی کیمور کی پہاڑی پر مقبرہ تعمیر کروایا تھا جس کے چاروں جانب جھیل پھیلی ہوئی ہے۔ اور سوری پشتنوں کی مشہور شاخ اسحاق زئ کا بڑا بیٹا تھا

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Identifiants et Référentiels — اخذ شدہ بتاریخ: 4 مارچ 2020 — ناشر: Bibliographic Agency for Higher Education
  2. ربط : https://d-nb.info/gnd/120196786  — اخذ شدہ بتاریخ: 2 اپریل 2015 — اجازت نامہ: CC0
  3. محمد عنصر علی , شیر شاہ, بنگلہ پیڈیا: بنگلہ دیش کا قومی دائرۃ المعارف, ایشیائی معاشرہ بنگلہ دیش, ڈھاکہ, Retrieved: 2012-03-17

بیرونی روابط[ترمیم]