امین الحسنات پیر آف مانکی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

پیر سید محمد امین الحسنات پیر آف مانکی شریف

خطابات[ترمیم]

ناصرملت،مجاہد اسلام

ولادت[ترمیم]

پیر سید امین الحسنا ت پیر عبد الرؤف 1341ھ بمطابق1923ء مانکی شریف تحصیل نو شہرہ ضلع پشاور میں پیدا ہوئے۔

تعلیم[ترمیم]

گیارہ سال کی عمر میں والد گرامی کے وصال کے بعد سجادہ نشین قرار پائے تعلیم و بیباک،نڈ اور روشن دماغ راہنما تھے، عین و ملت کی محبت نے انہیں پیکر سیماب بنادیا تھا،ان کی انتہائے آرزو تھی کہ اسلامی حکومت ہو، اسلامی آئین نافذ ہو اور مسلمان دینی و سلامی اقدار کو اپنا کر ترقی و کامرنی کے راستہ پر جادہ پیما نظر آئیں، ان ہی جذبات کے تحت 1945ء میں مسلم لیگ میں شامل ہوئے اور تحریک پاکستان میں کا رہائے نمایاں انجام دئے، خان عبد الغفار خاں اور دیگر کا نگر سی لیڈروں کا پوری ہمت سے مقابلہ کیا، یہ ایک نا قابل تر دید حقیقت ہے کہ صوبئہ سر حد ( جسے کا نگر س کا ناقابل شکست گڑھ سمجھا جاتا تھا ) میں مسلم لیگ اور قیام پاکستان کے مطالبہ کو مقبول عام بنانے میں ااپ کا بڑا داخل تھا۔ مانکی شریف نہایت با اثر گدی تھی اور صوبائی سرحد، قبائلی علاقوں اور سرحدی ریاستوں کے ہزار ہا افراد آپ کے مرید تھے، آپ نے سرحد کے غیور پٹھانوں کو پوری کوشش سے نظر یۂ پاکستان کی تائد و حمایت کے لیے تیار کیا۔

سیاسی خدمات[ترمیم]

پیر صاحب مانکی کی دعوت ہی پر قائد اعظم پہل سرحد کا دور کیا اور دورئہ سرحد کے دوران کئی روز تک آپ کے ہاں قیام کیا، اسی طرح آپ ہی کے ایماء پر قائد اعظم نے مجاہدآزادی مولانا عبد الحامد بد ایونی کو صوبۂ سرحد میں بھیجا جنہوں نے طوفانی دورے کر کے نظریۂ پاکستان کو اجاگر کیا، 1945ء میں آپ نے علما کا ایک وفد مولانا محمد گل کی قیادت میں جمہوریت اسلامیہ آل انڈیا سنی کانفرنس کے ناظم اعلیٰ صدر الا فاضل مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی کی خدمت میں بھیجا جس نے صدر الا فاضل سے نظریۂ پاکستان پر تفصیلی گفتگو کی، اپریل1946 میں آپ نے آل انڈیا سنی کانفرنس بنارس میں شرکت کی اور اس جوش ایمانی سے اڑھائی گھنٹے تقریر فرمائی کہ عوام وخواص عش عش کر اٹھے آپ نے دوران تقریر فرمایا:۔

’’ میں نے قائد اعظم سے وعدہ لیا ہے کہ اگر انہوں نے مسلمانوں کو دھوکا دیا یا اسلام کے خلاف کوئی نظام جاری کرنے کی کوشش کی تو آج جس طرح ہم آپ کو دعوت دے رہے ہیں اور آپ کی قیادت کو مان رہے ہیں، کل اسی طرح اس کے بر عکس ہوگا ۔‘‘[1]

آل انڈیا سنی کانفرنس کے علما و مشائخ کے خصوصی اجلاس میں نظریۂ پاکستان کی توثیق وتائید میں نہایت سر گرمی سے قرارداد پاس کرائی۔

پاکستان کے لیے خدمات[ترمیم]

1367ھ/1948ء میں جب صدر الا فاضل مولانا سید محمدنعیم الدین م راد آبادی نے پاکستان کا دورہ فرمایا تو پیر صاحب مانکی شریف ملاقات کے لیے لاہور تشریف لائے، حزب الا حناف، لاہور کے دفتر میں چارگھنٹے تک بند کمرے میں گفتگو ہوتی رہی ،اس گفتگو میں صدر الا فاضل، پیر صاحب مانکی شرف، سید محمد محدث کچھو چھوی، تاج العلماء مولانا مفتی محمد عمر نعیمی، مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا سید ابو البراکت اور مولانا مفتی غلام معین الدین نعیمی، (مدیر سواد اعظم لاہو ر ) شریک ہوئے۔ اس موقع پر پیر صاحب نے صدر الا فاضل پر زور دیا کہ آپ دستور اسلامی کا ایک خاکہ مرتب کر دیں پھر ہم قائد اعظم سے منوا کر رہیں گے لیکن افسوس کہ اس کے تین ماہ بعد صدر الا فاضل کا وصال ہو گیا، ادھر قائد اعظم کی بھی رحلت ہو گئی۔

== کنارہ کشی ==

1955ء میں پیر صاحب مانکی شریف ارباب سیاست کی غیر تسلی بخش روش بنا پر سیاست سے الگ ہو گئے اور ملت اسلامیہ کی روحانی پیشوانی فر ماتے رہے، اس وقت آپ ہم میں نہیں، ہیں، آج قوم کو پھر کسی امین الحسنات کی ضرورت ہے جو قوم کی صحیح راہنمائی کرے اور قو م کی کشتی و گرداب ملا سے باہر نکالے ۔

وفات[ترمیم]

5جنوری 1960ء کو مانکی شریف سے اٹک جاتے ہوئے فتح جنگ کے قریب آپ کی کار حادثہ کا شکار ہو گئی ڈرائیور موقع ہی پر جاں بحق ہو گیا، پیر صاحب کی پسلیاں ٹوٹ گئیں، ملٹری ہسپتال راولپنڈی میں علاج ہوتا رہا لیکن کوئی خاص فائدہ نہ ہو ا، 29 رجب 28 جنوری 1379ھ/1960ء کو مجاہد اسلام پیر صاحب مانکی شریف کا وصال ہو گیا۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ہفت روزہ سواد اعظم لاہور، 12 جنوری 1960ء
  2. تذکرہ اکابرِ اہلسنت،محمد عبد الحکیم شرف قادری،ص96،نوری کتب خانہ لاہور