کنز الایمان
| کنز الایمان | |
|---|---|
| مصنف | احمد رضا خان |
| اصل زبان | اردو |
| ادبی صنف | تفسیر قرآن |
| ناشر | مطبع اہل سنت (مراد آباد) |
| تاریخ اشاعت | 1911 |
| درستی - ترمیم | |
کنز الایمان امام احمد رضا خان کا اردو ترجمۂ قرآن ہے، جو انھوں نے 1911ء میں مکمل کیا۔ یہ ترجمہ اردو زبان میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے اور مقبول تراجم قرآن میں شمار ہوتا ہے۔ اس کا ترجمہ ہندی، سندھی، انگریزی، ڈچ، گجراتی، پشتو اور بنگلہ سمیت کئی زبانوں میں ہو چکا ہے۔ کنز الایمان پر مختلف جامعات میں متعدد تحقیقی مقالات و مقالہ جات لکھے جا چکے ہیں۔[1]
نام
امام احمدرضاخان کے ترجمۂ قرآن کی ایک اہم خصوصیت اس ترجمہ قرآن کا نام ہے جس کا انھوں نے تاریخی نام کنزالایمان فی ترجمۃ القرآن(1330ھ)رکھا۔جس طرح خداوندِ کریم نے کتابِ الٰہی کانام قرآن رکھا جو نہ صرف نام کی مناسبت سے جامع ہے بلکہ قرآن کے اندرموجود تمام جامعِ رموزکی نشان دہی بھی کرتاہے یعنی یہ وہ کتابِ الٰہی ہے جس کے اندر سب کچھ جمع کر دیا گیا، امام صاحب نے اپنے ترجمہ کا نام کنزالایمان فی ترجمۃ القرآن رکھا یعنی قرآن کا ایسا ترجمہ جس کو پڑھ کرقاری ایمان کا خزانہ پالیتا ہے آپ نے قاری کو پہلے ہی ذہن نشین کرادیا کہ حقیقت میں یہ الکتاب ایسا خزانہ ہے کہ اس سے بڑھ کر دنیا کا کوئی خزانہ ممکن ہی نہیں۔[2]
خصوصیات
- تفاسیر کا خلاصہ۔ یہ بے مثال ترجمۂ قرآن کسی کرامت سے کم نہیں ہے ۔ یہ ظاہِر میں صِرْف ترجمہ ہے لیکن حقیقت میں دیکھا جائے تو قرآن ، حدیث اور 14 صدیوں میں لکھی گئی بڑی بڑی تفاسیر کا خُلاصہ ہے۔ آپ بڑی بڑی تفاسیر پڑھیے۔ وہ علمی تحقیقات جو عُلَمائے کرام نے عربی میں سینکڑوں صفحات پر لکھی تھیں ، اعلیٰ حضرت رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ نے ترجمہ کرتے ہوئے ان سینکڑوں صفحات کی تحقیقات کو ایک ایک لفظ میں بیان کر دیا ہے۔[3]
- مناسب الفاظ۔ اس میں لفظوں کا چُناؤ شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے ، نہایت احتیاط اور خوبصُورتی کے ساتھ کیا گیا ہے۔[4] آپ سُوْرۂ فَاتِحَہ سے لے کر سُوْرَۂ وَالنَّاس تک پُورے کا پُورا ترجمہ پڑھ لیجئے، کہیں ایک بھی لفظ ایسا نظر نہیں آئے گا جس میں کسی طرح بے ادبی کا شُبہ بھی نکلتا ہو۔[5] یہ وہ عظیم الشان ترجمہ ہے کہ اس میں ایک ایک لفظ اپنی جگہ پر بہت حُسْن اور خوبصورتی کے ساتھ سجایا گیا ہے۔ جہاں اللہ پاک کا ذِکْر آیا، وہاں ایسے لفظوں کا انتخاب کیا گہا ہے جن سے اللہ پاک کی شان و عظمت کا اِظْہار ہو۔ جہاں رسولِ ذیشان صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کا ذِکْر آیا ، وہاں آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی شان و عظمت کا لحاظ رکھ کر بہت باادب الفاظ استعمال کیے گئے۔ جہاں دوسرے نبیوں کا ذِکْر آیا ، وہاں ان کی شان و عظمت کا لحاظ رکھا گیا ۔ غرض کہ آپ پُورے ترجمہ کنز الایمان کو پڑھیے، اس میں شروع سے آخر تک آپ کو ادب ہی ادب نظر آئے گا ۔[3]
- ادب و احترام کا لحاظ۔ محدثِ اعظم ہند سید محمد محدث کچھوچھوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں، ’’علم ِقرآن کا اندازہ صر ف اعلیٰ حضرت کے اس اردو ترجمہ سے کیجئے جو اکثر گھروں میں موجود ہے اور جس کی مثال ِسابق نہ عربی میں ہے، نہ فارسی میں ہے ، نہ اردو زبان میں ہے اور جس کا ایک ایک لفظ اپنے مقام پر ایسا ہے کہ دوسرا لفظ اُس جگہ لایا نہیں جا سکتا جو بظاہر محض ترجمہ ہے مگر در حقیقت وہ قرآن کی صحیح تفسیر اور اردو زبان میں قرآن(کی روح)ہے۔[6]
- اصل اسلوب سے قریب تر۔ شروع میں اردو تراجمِ قرآن میں مترجمین نے زبان کی سلاست، محاورات اور انشاءپردازی پر زور دیا، جبکہ بعد کے تراجم میں تشریحی انداز اپنایا گیا، جس سے قرآن کے اصل اسلوب سے دوری پیدا ہوئی۔ قرآن کا اسلوب نہ خالص لفظی ہے، نہ محاوراتی، نہ تقریری اور نہ تحریری، بلکہ ایک منفرد اور جامع طرزِ بیان رکھتا ہے۔ بعض مترجمین نے قرآن کو تقریری اسلوب میں سمجھنے کی کوشش کی، لیکن اصل ضرورت یہ ہے کہ ترجمہ موقع و محل کے لحاظ سے ہو، کبھی لفظی، کبھی محاوراتی، تاکہ نہ وہ محض تحریری لگے نہ تقریری۔ ترجمہ کنزالایمان ایک ایسا ترجمہ ہے جو الفاظ کے محتاط انتخاب کی وجہ سے قرآن کے اصل اسلوب سے قریب تر ہے، کیونکہ اس میں ترجمہ بیک وقت لفظی بھی محسوس ہوتا ہے اور بامحاورہ بھی اور تسلسل بھی برقرار رہتا ہے۔[7]
- خامیوں سے مبرا ۔ کنز الایمان سے پہلے بھی قرآنِ کریم کے کئی ترجمے لکھے جا چکے تھے، مگر ان میں کسی نہ کسی اعتبار سے کچھ نہ کچھ کمیاں موجود تھیں۔ تاہم، کنز الایمان شریف قرآن کریم کا واحِد اُرْدُو ترجمہ ہے کہ جب سے لکھا گیا ہے ، اس وقت سے لے کر آج تک عُلَمائے کرام اس کی خُوبیوں پر کتابیں لکھ رہے ہیں۔ ترجمۂ کنز الایمان پر پی ایچ ڈی ہو رہی ہے ؛ لوگ اس مبارک ترجمے پر مَقالے لکھ کر ڈاکٹریت کی ڈگری حاصِل کرتے ہیں ۔ الحمد للہ ، 100 سال سے زیادہ عرصہ گذر چکا ہے، جس نے بھی صاف ذِہن رکھ کر کنز الایمان شریف پڑھا ہے یا اس کے متعلق تحقیقات کی ہیں ، آخر اس نے یہی کہا ہے کہ کنزالایمان نے ترجمے کا حق ادا کر دیا ہے۔ اپنے تو اپنے مُخالِف بھی اس بات کا اِقرار کرتے ہیں کہ ترجمہ کنزالایمان کا ایک ایک لفظ عین شریعت کے مطابق اور رُوحِ قرآن کی دُرُست عکّاسی کرتا ہے۔[3]
- سلاست و روانگی۔ ترجمہ کا اسلوب سادہ اور عام فہم ہے۔[8]زبان و بیان میں سلاست و صحت پائی جاتی ہے۔ عبارت میں کسی قسم کا بوجھ یا ثقل محسوس نہیں ہوتا۔
کنزالایمان کے فنی محاسن پر لکھی گئی کتب و رسائل
| مصنف | عنوان | ناشر / مقام | سن اشاعت | کل صفحات |
|---|---|---|---|---|
| ملک شیر محمد | محاسن کنزالایمان | کنزالایمان سوسائٹی: آزاد کشمیر | 1974ء | 80 |
| مولانا خواجہ غلام حمید الدین سیالوی | کنزالایمان پر اعتراضات کا علمی محاسبہ | رضا اکیڈمی: لاہور | 1983ء | 93 |
| مولانا محمد احسان الحق | تنزیہ کنزالایمان عن خرافات اہل الطغیان | بزم محدث اعظم پاکستان: فیصل آباد | [1984ء] 1405ھ | 70 |
| مولانا عبد الرزاق بتھرالوی حطاروی | تسکین الجنان فی محاسن کنزالایمان | مکتبہ ضیائیہ: راولپنڈی | 1987 | 333 |
| علامہ عبد الحکیم خان اختر شاہجہانپوری | خصائص کنزالایمان | جماعت اہلسنت: لاہور | 1988ء | 58 |
| ڈاکٹر طاہر القادری | کنزالایمان کی فنی حیثیت | منہاج القرآن: لاہور | 2004ء | — |
| ڈاکٹر مجیداللہ قادری | اردو تراجم قرآن کا تقابلی مطالعہ | اداردہ تحقیقات امام احمد رضا انٹرنیشنل: کراچی | 2007ء | 66 |
| علامہ نسیم احمد صدیقی نوری | ضیاے کنزالایمان | انجمن ضیاء طیبہ: کراچی | 2008ء | 25 |
| ڈاکٹر امجد رضا امجد مرتب | رضا بک ریویو کا کنزالایمان نمبر | رضا بک ریویو: پٹنہ | 2009ء | 787 |
| ڈاکٹر صابر سنبھلی | ترجمہ کنزالایمان کا لسانی جائزہ | فیض گنج بخش بک سنٹر: لاہور | 2011ء | 310 |
| مولانا اختر رضا خان قادری ازہری | دفاع کنزالایمان | جماعت رضاے مصطفیٰ: مہاراشٹر | 2015ء | 147 |
| محمد ممتاز تیمور قادری | کنزالایمان اور مخالفین مع داستان فرار پہ ایک نظر | جماعت رضاے مصطفیٰ: مہاراشٹر | 2017ء | 521 |
| محمد ممتاز تیمور قادری | کنزالایمان اور مخالفین مع داستان فرار پہ ایک نظر | بزم تحفظ عقائد اہلسنت و جماعت | 2018ء | 474 |
| میثم عباس قادری رضوی | ترجمہ کنزالایمان پر دیوبندی اعتراضات کا محاسبہ | رضا اکیڈمی: ممبئی | 2018ء | 89 |
| ملک شیر محمد | محاسن کنزالایمان تفاسیر کی روشنی میں | رضا اکیڈمی: لاہور | — | 66 |
| ڈاکٹر امجد رضا مرتب اور ملک محبوب الرسول قادری مرتب | انوار کنزالایمان: انور رضا کا کنزالایمان نمبر | انٹرنیشنل غوثیہ فورم: جوہر آباد | — | 937 |
| مفتی محمد تصدق حسین | فاضل بریلوی اور کنزالایمان | تحریک مطالعہ قرآن: لاہور | — | 114 |
| پروفیسر دلاور خان | عصمت انبیا کے تحفظ میں کنزالایمان کا کردار | کراچی | — | 18 |
| پروفیسر محمد مسعود احمد | کنزالایمان پر پابندی کیوں | رضا اکیڈمی: بمبئی | — | 16 |
| ڈاکٹر سید حمید شطاری | قرآن مجید کے اردو تراجم و تفاسیر کا تنقیدی مطالعہ 1914ء تک | حیدرآباد | — | 287 |
تراجم
انگریزی تراجم
کنز الایمان کو اب تک پانچ شخصیات نے انگریزی میں ترجمہ کیا ہے۔
- پروفیسر محمد حنیف اختر فاطمی (کویت یونیورسٹی )[9]
- پروفیسر شاہ فریدالحق نے 1988ء میں مکمل کیا اور اسے بھارت اور پاکستان میں شائع کیا گیا ہے[9]
- ڈاکٹر مجیداللہ، لاہور
- عاقب فرید قادری نے 2002ء کے قریب شائع کیا
- ڈاکٹر سید جمال الدین اسلم ماہروی، ایٹہ بھارت
- سید آل رسول حسنین میاں نظمی ماہروی، ایٹہ، بھارت
سندھی تراجم
- مفتی محمد رحیم سکندری نے سندھی زبان میں ترجمہ کر دیا ہے۔
- مولانا عبد الوحید سرہندی
ہندی تراجم
کریول ترجمہ
مولانا منصور اور مولانا نجیب (ماریشس) نے کریول زبان میں ترجمہ کیا۔ قرآن کا یہ ترجمہ سب سے پہلے شمیم اشرف ازہری جامع مسجد، ماریشس کے خطیب کی نگرانی میں 17 جنوری 1996ء کو شائع کیا گیا تھا۔ ان کے ساتھ اس اس کام میں دیگر علما اور اہل علم نے مدد کی۔
گجراتی ترجمہ
گجراتی زبان میں مولانا حسن آدم گجراتی نے کنزالایمان مع تفسیر خزائن العرفان کا گجراتی ترجمہ کیا ہے جو گجراتی دان طبقہ میں کافی مقبول ہے۔[10]
بنگلہ ترجمہ
پشتو ترجمہ
ڈچ ترجمہ
ترکی
سرائیکی
چترالی
تفاسیر
- خزائن العرفان۔ کنز الایمان پر سب سے پہلے مولانا نعیم الدین مرادآبادی نے خزائن العرفان کے نام سے تفسیر لکھی ۔
- نور العرفان۔ نور العرفان، جس کا مکمل نام ہے حاشیۃ القرآن نور العرفان علیٰ کنزالایمان اور المعروف بہ تفسیر نور العرفان، مفتی احمد یار خان نعیمی کا قرآن پاک پر حاشیہ یعنی مختصر تفسیر ہے۔
- تفسیر نعیمی(11 جلدیں)۔ مفتی احمد یار خان نعیمی صاحب نے کنزالایمان پر مختصر حواشی بنام نور العرفان کے علاوہ ایک تفصیلی تفسیر بھی لکھی جس کا نام تفسیر نعیمی ہے اور تاریخی نام اشرف التفاسیر ہے ۔ وہ اس تفسیر کو 11 پاروں اور 11 جلدوں تک ہی لکھ پائے تھے کہ آپ کا وصال ہو گیا۔
تاریخ
ترجمہ کے مخطوطے سے اس بات کی واضح نشان دہی ہوتی ہے کہ ترجمہ تقریباً سال، ڈیڑھ سال کے اندر 28 جمادی الآخر 1330ھ کو مکمل ہوا جو جلد ہی مراد آباد کے مطبع اہل سنت سے شائع ہوا۔[11] پہلی بار صرف عربی متن کے ساتھ اردو ترجمہ شائع ہوا۔ بعد میں اس ترجمہ کو بنیاد بنا کر پہلی تفسیر خزائن العرفان لکھی گئی اور پھر بعد میں اس کو بنیاد بنا کر کئی اور تفاسیر لکھی گئی ہیں۔[9]
کتابیات
- 1974ء: ملک شیر محمد۔ محاسن کنزالایمان۔ کنزالایمان سوسائٹی: آزاد کشمیر، کل صفحات 80۔
- 1983ء: مولانا خواجہ غلام حمید الدین سیالوی۔ کنزالایمان پر اعتراضات کا علمی محاسبہ۔ رضا اکیڈمی: لاہور، کل صفحات 93۔
- [1984ء] 1405ھ: مولانا محمد احسان الحق۔ تنزیہ کنزالایمان عن خرافات اہل الطغیان۔ بزم محدث اعظم پاکستان: فیصل آباد، کل صفحات 70۔
- 1987ء: مولانا عبد الرزاق بتھرالوی حطاروی۔ تسکین الجنان فی محاسن کنزالایمان۔ مکتبہ ضیائیہ: راولپنڈی، کل صفحات 333۔
- 1988ء: علامہ عبد الحکیم خان اختر شاہجہانپوری۔ خصائص کنزالایمان۔ جماعت اہلسنت: لاہور، کل صفحات 58۔
- 2004ء: ڈاکٹر طاہر القادری۔ کنزالایمان کی فنی حیثیت۔ منہاج القرآن: لاہور۔
- 2007ء: ڈاکٹر مجیداللہ قادری۔ اردو تراجم قرآن کا تقابلی مطالعہ۔ اداردہ تحقیقات امام احمد رضا انٹرنیشنل: کراچی، کل صفحات 66۔
- 2008ء: علامہ نسیم احمد صدیقی نوری۔ ضیاے کنزالایمان۔ انجمن ضیاء طیبہ: کراچی، کل صفحات 25۔
- 2009ء: ڈاکٹر امجد رضا امجد مرتب۔ رضا بک ریویو کا کنزالایمان نمبر۔ رضا بک ریویو۔ پٹنہ، ج2، شمارہ 7 اور 8، اکتوبر تا دسمبر، کل صفحات 787۔
- 2011ء: ڈاکٹر صابر سنبھلی۔ ترجمہ کنزالایمان کا لسانی جائزہ۔ فیض گنج بخش بک سنٹر: لاہور، کل صفحات 310۔
- 2015ء: مولانا اختر رضا خان قادری ازہری۔ دفاع کنزالایمان۔ جماعت رضاے مصطفیٰ: مہاراشٹر، کل صفحات 147۔
- 2017ء: محمد ممتاز تیمور قادری۔ کنزالایمان اور مخالفین مع داستان فرار پہ ایک نظر۔ جماعت رضاے مصطفیٰ: مہاراشٹر، کل صفحات 521۔
- 2018ء: محمد ممتاز تیمور قادری۔ کنزالایمان اور مخالفین مع داستان فرار پہ ایک نظر۔ بزم تحفظ عقائد اہلسنت و جماعت، کل صفحات 474۔
- 2018ء: میثم عباس قادری رضوی۔ ترجمہ کنزالایمان پر دیوبندی اعتراضات کا محاسبہ۔ رضا اکیڈمی: ممبئی، کل صفحات 89۔
- 2023ء: المدینۃ العلمیہ: اسلامک ریسرچ سنٹر۔ اعلیٰ حضرت اور خِدْمتِ قرآن۔ مکتبۃ المدینہ: کراچی، کل صفحات 35۔
- [تاریخ درج نہیں]: ملک شیر محمد۔ محاسن کنزالایمان تفاسیر کی روشنی میں۔ رضا اکیڈمی: لاہور، کل صفحات 66۔
- [تاریخ درج نہیں]: ڈاکٹر امجد رضا مرتب اور ملک محبوب الرسول قادری مرتب۔ انوار کنزالایمان: انور رضا کا کنزالایمان نمبر۔ انٹرنیشنل غوثیہ فورم، جوہر آباد [پنجاب، پاکستان]، ج4، شمارہ 1 اور 2، کل صفحات 937۔
- [تاریخ درج نہیں]: مفتی محمد تصدق حسین۔ فاضل بریلوی اور کنزالایمان۔ تحریک مطالعہ قرآن: لاہور، کل صفحات 114۔
- [تاریخ درج نہیں]: پروفیسر دلاور خان۔ عصمت انبیا کے تحفظ میں کنزالایمان کا کردار۔ کراچی، کل صفحات 18۔
- [تاریخ درج نہیں]: پروفیسر محمد مسعود احمد۔ کنزالایمان پر پابندی کیوں۔ رضا اکیڈمی: بمبئی، کل صفحات 16۔
- [تاریخ درج نہیں]: ڈاکٹر سید حمید شطاری۔ قرآن مجید کے اردو تراجم و تفاسیر کا تنقیدی مطالعہ 1914ء تک۔ حیدرآباد، کل صفحات 287۔
بیرونی روابط
- کنزالایمان – پی ڈی ایف دعوتِ اسلامی ڈاٹ کام پر
- کنزالایمان – پی ڈی ایف اعلیٰحضرت ڈاٹ کام پر
- کنز الایمان – پی ڈی ایف آرکائیو ڈاٹ کام پر
حوالہ جات
- ↑ معارف رضا، خاص نمبر کنزالایمان کے سو سال، 2009، صفجہ 108-109۔
- ↑ ممتاز ثقفی۔ "کنزالایمان کی امتیازی خصوصیات۔" مائی اسلامک انفو (میری اسلامی معلومات): 26 جنوری 2022ء۔
- ^ ا ب پ المدینۃ العلمیہ: اسلامک ریسرچ سنٹر۔ اعلیٰ حضرت اور خِدْمتِ قرآن۔ مکتبۃ المدینہ: کراچی، 2023، صفحہ 16 تا 17۔
- ↑ علامہ عبد الحکیم شرف قادری۔ "اصول ترجمۂ قرآن کریم۔" رضا بک ریویو--القلم فاؤنڈیشن: پٹنہ، اکتوبر تا دسمبر 2009ء، ج2، شمارہ 7 اور 8، صفحہ 25 تا صفحہ 27۔
- ↑ اشرف جہانگیر۔ "فتاویٰ رضویہ کی روشنی میں ترجمہ قرآن کی شرائط۔" رضا بک ریویو--القلم فاؤنڈیشن: پٹنہ، اکتوبر تا دسمبر 2009ء، ج2، شمارہ 7 اور 8، صفحہ 25 تا صفحہ 36۔
- ↑ مولانا حنیف خان رضوی۔ جامع الاحادیث: جلد 8۔ شبیر برادرز: لاہور، صفحہ 101۔
- ↑ ممتاز ثقفی۔ "کنزالایمان کی امتیازی خصوصیات۔" مائی اسلامک انفو (میری اسلامی معلومات): 26 جنوری 2022ء۔
- ↑ جاوید اختر قاسمی۔ "بر صغیر کے علماء کی قرآن وحدیث کی خدمات"۔ جامعہ فاروقیہ، کراچی۔ 2017-01-03 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2016-03-19۔
- ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ د ڈاکٹر مجید اللہ قادری۔ "امام احمد رضا کا ترجمہ قرآن، کنزالایمان تاریخ کے آئینے میں"۔ معارف رضا: 2009ء، جلد 29، شمارہ 3، صفحہ 116۔
- ↑ سالنامہ معارف رضا، غلام مصطفا رضوی:حسن آدم گجراتی کا وصال، صفحہ374۔
- ↑ مولانا محمد عبدالمبین نعمانی قادری۔ "ترجمہ کنزالایمان کی اشاعت۔" رضا بک ریویو--القلم فاؤنڈیشن: پٹنہ، اکتوبر تا دسمبر 2009ء، ج2، شمارہ 7 اور 8، صفحہ 71۔