مندرجات کا رخ کریں

کنز الایمان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(کنزالایمان سے رجوع مکرر)
کنز الایمان

مصنف احمد رضا خان   ویکی ڈیٹا پر (P50) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اصل زبان اردو   ویکی ڈیٹا پر (P407) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ادبی صنف تفسیر قرآن   ویکی ڈیٹا پر (P136) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ناشر مطبع اہل سنت (مراد آباد)
تاریخ اشاعت 1911  ویکی ڈیٹا پر (P577) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

کنز الایمان امام احمد رضا خان کا اردو ترجمۂ قرآن ہے، جو انھوں نے 1911ء میں مکمل کیا۔ یہ ترجمہ اردو زبان میں سب سے زیادہ پڑھے جانے والے اور مقبول تراجم قرآن میں شمار ہوتا ہے۔ اس کا ترجمہ ہندی، سندھی، انگریزی، ڈچ، گجراتی، پشتو اور بنگلہ سمیت کئی زبانوں میں ہو چکا ہے۔ کنز الایمان پر مختلف جامعات میں متعدد تحقیقی مقالات و مقالہ جات لکھے جا چکے ہیں۔[1]

نام

امام احمدرضاخان کے ترجمۂ قرآن کی ایک اہم خصوصیت اس ترجمہ قرآن کا نام ہے جس کا انھوں نے تاریخی نام کنزالایمان فی ترجمۃ القرآن(1330ھ)رکھا۔جس طرح خداوندِ کریم نے کتابِ الٰہی کانام قرآن رکھا جو نہ صرف نام کی مناسبت سے جامع ہے بلکہ قرآن کے اندرموجود تمام جامعِ رموزکی نشان دہی بھی کرتاہے یعنی یہ وہ کتابِ الٰہی ہے جس کے اندر سب کچھ جمع کر دیا گیا، امام صاحب نے اپنے ترجمہ کا نام کنزالایمان فی ترجمۃ القرآن رکھا یعنی قرآن کا ایسا ترجمہ جس کو پڑھ کرقاری ایمان کا خزانہ پالیتا ہے آپ نے قاری کو پہلے ہی ذہن نشین کرادیا کہ حقیقت میں یہ الکتاب ایسا خزانہ ہے کہ اس سے بڑھ کر دنیا کا کوئی خزانہ ممکن ہی نہیں۔[2]

خصوصیات

  • تفاسیر کا خلاصہ۔ یہ بے مثال ترجمۂ قرآن کسی کرامت سے کم نہیں ہے ۔ یہ ظاہِر میں صِرْف ترجمہ ہے لیکن حقیقت  میں دیکھا جائے تو قرآن ، حدیث اور 14 صدیوں میں لکھی گئی بڑی بڑی تفاسیر کا خُلاصہ ہے۔   آپ بڑی بڑی تفاسیر پڑھیے۔ وہ علمی تحقیقات جو عُلَمائے کرام نے عربی میں سینکڑوں صفحات پر لکھی تھیں ، اعلیٰ حضرت رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ نے ترجمہ کرتے ہوئے ان سینکڑوں صفحات کی تحقیقات کو ایک ایک لفظ میں بیان کر دیا ہے۔[3]
  • مناسب الفاظ۔ اس میں لفظوں کا چُناؤ شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے ، نہایت احتیاط  اور خوبصُورتی کے ساتھ کیا گیا ہے۔[4] آپ سُوْرۂ فَاتِحَہ سے لے کر سُوْرَۂ وَالنَّاس تک پُورے کا پُورا ترجمہ پڑھ لیجئے، کہیں ایک بھی لفظ ایسا نظر نہیں آئے گا جس میں کسی طرح بے ادبی کا شُبہ بھی نکلتا ہو۔[5] یہ وہ عظیم الشان ترجمہ ہے کہ اس میں ایک ایک لفظ اپنی جگہ پر بہت حُسْن اور خوبصورتی کے ساتھ سجایا گیا ہے۔ جہاں اللہ پاک کا ذِکْر آیا، وہاں ایسے لفظوں کا انتخاب کیا گہا ہے جن سے اللہ پاک کی شان و عظمت کا اِظْہار ہو۔ جہاں رسولِ ذیشان صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کا ذِکْر آیا ، وہاں آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی شان و عظمت کا لحاظ رکھ کر بہت باادب الفاظ استعمال کیے گئے۔ جہاں دوسرے نبیوں کا ذِکْر آیا ، وہاں ان کی شان و عظمت کا لحاظ رکھا گیا ۔ غرض کہ آپ پُورے ترجمہ کنز الایمان کو پڑھیے، اس میں شروع سے آخر تک آپ کو ادب ہی ادب نظر آئے گا ۔[3]
  • ادب و احترام کا لحاظ۔ محدثِ اعظم ہند سید محمد محدث کچھوچھوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں، ’’علم ِقرآن کا اندازہ صر ف اعلیٰ حضرت کے اس اردو ترجمہ سے کیجئے جو اکثر گھروں میں موجود ہے اور جس کی مثال ِسابق نہ عربی میں ہے، نہ فارسی میں ہے ، نہ اردو زبان میں ہے اور جس کا ایک ایک لفظ اپنے مقام پر ایسا ہے کہ دوسرا لفظ اُس جگہ لایا نہیں جا سکتا جو بظاہر محض ترجمہ ہے مگر در حقیقت وہ قرآن کی صحیح تفسیر اور اردو زبان میں قرآن(کی روح)ہے۔[6]
  • اصل اسلوب سے قریب تر۔ شروع میں اردو تراجمِ قرآن میں مترجمین نے زبان کی سلاست، محاورات اور انشاءپردازی پر زور دیا، جبکہ بعد کے تراجم میں تشریحی انداز اپنایا گیا، جس سے قرآن کے اصل اسلوب سے دوری پیدا ہوئی۔ قرآن کا اسلوب نہ خالص لفظی ہے، نہ محاوراتی، نہ تقریری اور نہ تحریری، بلکہ ایک منفرد اور جامع طرزِ بیان رکھتا ہے۔ بعض مترجمین نے قرآن کو تقریری اسلوب میں سمجھنے کی کوشش کی، لیکن اصل ضرورت یہ ہے کہ ترجمہ موقع و محل کے لحاظ سے ہو، کبھی لفظی، کبھی محاوراتی، تاکہ نہ وہ محض تحریری لگے نہ تقریری۔ ترجمہ کنزالایمان ایک ایسا ترجمہ ہے جو الفاظ کے محتاط انتخاب کی وجہ سے قرآن کے اصل اسلوب سے قریب تر ہے، کیونکہ اس میں ترجمہ بیک وقت لفظی بھی محسوس ہوتا ہے اور بامحاورہ بھی اور تسلسل بھی برقرار رہتا ہے۔[7]
  • خامیوں سے مبرا ۔ کنز الایمان سے پہلے بھی قرآنِ کریم کے کئی ترجمے لکھے جا چکے تھے، مگر ان میں کسی نہ کسی اعتبار سے کچھ نہ کچھ کمیاں موجود تھیں۔ تاہم، کنز الایمان شریف قرآن کریم کا واحِد اُرْدُو ترجمہ ہے کہ جب سے لکھا گیا ہے ، اس وقت سے لے کر آج تک عُلَمائے کرام اس کی خُوبیوں پر کتابیں لکھ رہے ہیں۔ ترجمۂ کنز الایمان پر پی ایچ ڈی ہو رہی ہے ؛ لوگ اس مبارک ترجمے پر مَقالے لکھ کر ڈاکٹریت کی ڈگری حاصِل کرتے ہیں ۔ الحمد للہ ، 100 سال سے زیادہ عرصہ گذر چکا ہے، جس نے بھی صاف ذِہن رکھ کر کنز الایمان شریف پڑھا ہے یا اس کے متعلق تحقیقات کی ہیں ،  آخر اس نے یہی کہا ہے کہ کنزالایمان نے ترجمے کا حق ادا کر دیا ہے۔ اپنے تو اپنے مُخالِف بھی اس بات کا اِقرار کرتے ہیں کہ ترجمہ کنزالایمان کا ایک ایک لفظ عین شریعت کے مطابق اور رُوحِ قرآن کی دُرُست عکّاسی کرتا ہے۔[3]
  • سلاست و روانگی۔ ترجمہ کا اسلوب سادہ اور عام فہم ہے۔[8]زبان و بیان میں سلاست و صحت پائی جاتی ہے۔ عبارت میں کسی قسم کا بوجھ یا ثقل محسوس نہیں ہوتا۔

    کنزالایمان کے فنی محاسن پر لکھی گئی کتب و رسائل

مصنف عنوان ناشر / مقام سن اشاعت کل صفحات
ملک شیر محمد محاسن کنزالایمان کنزالایمان سوسائٹی: آزاد کشمیر 1974ء 80
مولانا خواجہ غلام حمید الدین سیالوی کنزالایمان پر اعتراضات کا علمی محاسبہ رضا اکیڈمی: لاہور 1983ء 93
مولانا محمد احسان الحق تنزیہ کنزالایمان عن خرافات اہل الطغیان بزم محدث اعظم پاکستان: فیصل آباد [1984ء] 1405ھ 70
مولانا عبد الرزاق بتھرالوی حطاروی تسکین الجنان فی محاسن کنزالایمان مکتبہ ضیائیہ: راولپنڈی 1987 333
علامہ عبد الحکیم خان اختر شاہجہانپوری خصائص کنزالایمان جماعت اہلسنت: لاہور 1988ء 58
ڈاکٹر طاہر القادری کنزالایمان کی فنی حیثیت منہاج القرآن: لاہور 2004ء
ڈاکٹر مجیداللہ قادری اردو تراجم قرآن کا تقابلی مطالعہ اداردہ تحقیقات امام احمد رضا انٹرنیشنل: کراچی 2007ء 66
علامہ نسیم احمد صدیقی نوری ضیاے کنزالایمان انجمن ضیاء طیبہ: کراچی 2008ء 25
ڈاکٹر امجد رضا امجد مرتب رضا بک ریویو کا کنزالایمان نمبر رضا بک ریویو: پٹنہ 2009ء 787
ڈاکٹر صابر سنبھلی ترجمہ کنزالایمان کا لسانی جائزہ فیض گنج بخش بک سنٹر: لاہور 2011ء 310
مولانا اختر رضا خان قادری ازہری دفاع کنزالایمان جماعت رضاے مصطفیٰ: مہاراشٹر 2015ء 147
محمد ممتاز تیمور قادری کنزالایمان اور مخالفین مع داستان فرار پہ ایک نظر جماعت رضاے مصطفیٰ: مہاراشٹر 2017ء 521
محمد ممتاز تیمور قادری کنزالایمان اور مخالفین مع داستان فرار پہ ایک نظر بزم تحفظ عقائد اہلسنت و جماعت 2018ء 474
میثم عباس قادری رضوی ترجمہ کنزالایمان پر دیوبندی اعتراضات کا محاسبہ رضا اکیڈمی: ممبئی 2018ء 89
ملک شیر محمد محاسن کنزالایمان تفاسیر کی روشنی میں رضا اکیڈمی: لاہور 66
ڈاکٹر امجد رضا مرتب اور ملک محبوب الرسول قادری مرتب انوار کنزالایمان: انور رضا کا کنزالایمان نمبر انٹرنیشنل غوثیہ فورم: جوہر آباد 937
مفتی محمد تصدق حسین فاضل بریلوی اور کنزالایمان تحریک مطالعہ قرآن: لاہور 114
پروفیسر دلاور خان عصمت انبیا کے تحفظ میں کنزالایمان کا کردار کراچی 18
پروفیسر محمد مسعود احمد کنزالایمان پر پابندی کیوں رضا اکیڈمی: بمبئی 16
ڈاکٹر سید حمید شطاری قرآن مجید کے اردو تراجم و تفاسیر کا تنقیدی مطالعہ 1914ء تک حیدرآباد 287

تراجم

انگریزی تراجم

کنز الایمان کو اب تک پانچ شخصیات نے انگریزی میں ترجمہ کیا ہے۔

  • پروفیسر محمد حنیف اختر فاطمی (کویت یونیورسٹی )[9]
  • پروفیسر شاہ فریدالحق نے 1988ء میں مکمل کیا اور اسے بھارت اور پاکستان میں شائع کیا گیا ہے[9]
  • ڈاکٹر مجیداللہ، لاہور
  • عاقب فرید قادری نے 2002ء کے قریب شائع کیا
  • ڈاکٹر سید جمال الدین اسلم ماہروی، ایٹہ بھارت
  • سید آل رسول حسنین میاں نظمی ماہروی، ایٹہ، بھارت

سندھی تراجم

  • مفتی محمد رحیم سکندری نے سندھی زبان میں ترجمہ کر دیا ہے۔
  • مولانا عبد الوحید سرہندی

ہندی تراجم

کریول ترجمہ

مولانا منصور اور مولانا نجیب (ماریشس) نے کریول زبان میں ترجمہ کیا۔ قرآن کا یہ ترجمہ سب سے پہلے شمیم اشرف ازہری جامع مسجد، ماریشس کے خطیب کی نگرانی میں 17 جنوری 1996ء کو شائع کیا گیا تھا۔ ان کے ساتھ اس اس کام میں دیگر علما اور اہل علم نے مدد کی۔

گجراتی ترجمہ

گجراتی زبان میں مولانا حسن آدم گجراتی نے کنزالایمان مع تفسیر خزائن العرفان کا گجراتی ترجمہ کیا ہے جو گجراتی دان طبقہ میں کافی مقبول ہے۔[10]

بنگلہ ترجمہ

پشتو ترجمہ

ڈچ ترجمہ

ترکی

سرائیکی

چترالی

تفاسیر

  • خزائن العرفان۔ کنز الایمان پر سب سے پہلے مولانا نعیم الدین مرادآبادی نے خزائن العرفان کے نام سے تفسیر لکھی ۔
  • نور العرفان۔ نور العرفان، جس کا مکمل نام ہے حاشیۃ القرآن نور العرفان علیٰ کنزالایمان اور المعروف بہ تفسیر نور العرفان، مفتی احمد یار خان نعیمی کا قرآن پاک پر حاشیہ یعنی مختصر تفسیر ہے۔
  • تفسیر نعیمی(11 جلدیں)۔ مفتی احمد یار خان نعیمی صاحب نے کنزالایمان پر مختصر حواشی بنام نور العرفان کے علاوہ ایک تفصیلی تفسیر بھی لکھی جس کا نام تفسیر نعیمی ہے اور تاریخی نام اشرف التفاسیر ہے ۔ وہ اس تفسیر کو 11 پاروں اور 11 جلدوں تک ہی لکھ پائے تھے کہ آپ کا وصال ہو گیا۔

تاریخ

ترجمہ کے مخطوطے سے اس بات کی واضح نشان دہی ہوتی ہے کہ ترجمہ تقریباً سال، ڈیڑھ سال کے اندر 28 جمادی الآخر 1330ھ کو مکمل ہوا جو جلد ہی مراد آباد کے مطبع اہل سنت سے شائع ہوا۔[11] پہلی بار صرف عربی متن کے ساتھ اردو ترجمہ شائع ہوا۔ بعد میں اس ترجمہ کو بنیاد بنا کر پہلی تفسیر خزائن العرفان لکھی گئی اور پھر بعد میں اس کو بنیاد بنا کر کئی اور تفاسیر لکھی گئی ہیں۔[9]

کتابیات

  • 1988ء: علامہ عبد الحکیم خان اختر شاہجہانپوری۔ خصائص کنزالایمان۔ جماعت اہلسنت: لاہور، کل صفحات 58۔
  • 2015ء: مولانا اختر رضا خان قادری ازہری۔ دفاع کنزالایمان۔ جماعت رضاے مصطفیٰ: مہاراشٹر، کل صفحات 147۔

بیرونی روابط

حوالہ جات

  1. معارف رضا، خاص نمبر کنزالایمان کے سو سال، 2009، صفجہ 108-109۔
  2. ممتاز ثقفی۔ "کنزالایمان کی امتیازی خصوصیات۔" مائی اسلامک انفو (میری اسلامی معلومات): 26 جنوری 2022ء۔
  3. ^ ا ب پ المدینۃ العلمیہ: اسلامک ریسرچ سنٹر۔ اعلیٰ حضرت اور خِدْمتِ قرآن۔ مکتبۃ المدینہ: کراچی، 2023، صفحہ 16 تا 17۔
  4. علامہ عبد الحکیم شرف قادری۔ "اصول ترجمۂ قرآن کریم۔" رضا بک ریویو--القلم فاؤنڈیشن: پٹنہ، اکتوبر تا دسمبر 2009ء، ج2، شمارہ 7 اور 8، صفحہ 25 تا صفحہ 27۔
  5. اشرف جہانگیر۔ "فتاویٰ رضویہ کی روشنی میں ترجمہ قرآن کی شرائط۔" رضا بک ریویو--القلم فاؤنڈیشن: پٹنہ، اکتوبر تا دسمبر 2009ء، ج2، شمارہ 7 اور 8، صفحہ 25 تا صفحہ 36۔
  6. مولانا حنیف خان رضوی۔ جامع الاحادیث: جلد 8۔ شبیر برادرز: لاہور، صفحہ 101۔
  7. ممتاز ثقفی۔ "کنزالایمان کی امتیازی خصوصیات۔" مائی اسلامک انفو (میری اسلامی معلومات): 26 جنوری 2022ء۔
  8. جاوید اختر قاسمی۔ "بر صغیر کے علماء کی قرآن وحدیث کی خدمات"۔ جامعہ فاروقیہ، کراچی۔ 2017-01-03 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2016-03-19۔
  9. ^ ا ب پ ت ٹ ث ج چ ح خ د ڈاکٹر مجید اللہ قادری۔ "امام احمد رضا کا ترجمہ قرآن، کنزالایمان تاریخ کے آئینے میں"۔ معارف رضا: 2009ء، جلد 29، شمارہ 3، صفحہ 116۔
  10. سالنامہ معارف رضا، غلام مصطفا رضوی:حسن آدم گجراتی کا وصال، صفحہ374۔
  11. مولانا محمد عبدالمبین نعمانی قادری۔ "ترجمہ کنزالایمان کی اشاعت۔" رضا بک ریویو--القلم فاؤنڈیشن: پٹنہ، اکتوبر تا دسمبر 2009ء، ج2، شمارہ 7 اور 8، صفحہ 71۔