حشمت علی خان قادری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

شیر بیشہ اہلسنت محمد حشمت علی خان صاحب قادری رضوی ایک سنی حنفی عالم دین تھے۔

نام[ترمیم]

مولانا سید شاہ محمد ہدایت رسول قادری برکاتی نے آپ کا نام محمد صدیق رکھا اور والد محمد نواب علی خاں قادری برکاتی نے محمد حشمت علی کے نام سے یاد کیا۔

ابتدائی تعلیم[ترمیم]

قرآن مجید قاری غلام طٰہ صاحب ٹونکی سے پڑھا اور حفظ قرآن عظیم مدرسہ فرقانیہ لکھنؤ میں حافظ عبد الغفار سے پڑھا اور تجوید و قرأت کے بعد فارسی آمد نامہ مصدر فیوض سکندر نامہ ابوالفضل میزان الصرف تک لکھنؤ میں پڑھیں۔ سیدنا مجدد اعظم اعلیٰ حضرت احمد رضا خان کی شہرہ آفاق کتاب تمہید ایمان آپ نے دیکھی اور پڑھی تو دل کی دنیا بدل گئی۔

بیعت و خلافت[ترمیم]

1335ھ احمد رضا خان کے بیٹے مولانا شاہ محمد حامد رضا خان بریلوی و خلیفہ احمد رضا خان محمد امجد علی اعظمی رضوی مصنف بہار شریعت لکھنؤ آئے تو آپ ان کی قیام گاہ پر حاضر ہوئے اور احمد رضا خان سے بیعت کی تمنا ظاہر کی۔ 1326ھ میں آپ نے بریلی جا کر کر احمد رضا خان سے بیعت کی۔

تحصیل علم[ترمیم]

دار العلوم جامعہ رضویہ منظر اسلام میں داخل ہوکر درس نظامی کی تعلیم کا آغاز فرمایا۔ آپ کے اساتذہ میں علامہ محمد امجد علی اعظمی نعیم الدین مراد آبادی مفتی اعظم مولانا مصطفے رضا خان، علامہ رحم الٰہی مولانا نور الحسن رامپوری، مولانا ظہور الحسن رامپوری جیسے عبقری مدرسین شامل ہیں۔ 1340ھ شعبان المعظم میں آپ جملہ علوم و فنون سے فارغ التحصیل ہوئے دار العلوم جامعہ رضویہ منظر اسلام کے جلسہ دستار فضیلت میں آپ کی دستار بندی ہوئی۔ مولانا محمد حامد رضا خان بریلوی اور مفتی امجد علی اعظمی سے اجازت و خلافت حاصل ہے۔

خدمات[ترمیم]

احمد رضا خان کے خطبات کا مجموعہ خطبات رضویہ بھی آپ کا مرتب کردہ ہے۔ آپ جماعت رضائے مصطفے کے مفتی و مرکزی مبلغ اور دار العلوم جامعہ رضویہ منظر اسلام بریلی شریف کے نہایت کامیاب مدرس بھی رہے۔

مناظرے[ترمیم]

آپ نے ہندوؤں، مسیحیوں اور رافضیوں، خارجیوں، دیوبندیوں اور احمدیوں سے متعددمناظرے کیے۔[حوالہ درکار]

وفات[ترمیم]

آپ کی وفات محرم الحرام کی 8 تاریخ کو ہوئی۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]