احمد رضا خان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
احمد رضا خان
{{#if:
عالمِ دین
احمد رضا خان
Ahmedraza.png
معروفیت مجدد
پیدائش ہفتہ 10 شوال 1272ھ/ 14 جون 1856ء
وفات جمعہ 25 صفر 1340ھ/ 28 اکتوبر 1921ء
(65 سال 4 ماہ 14 دن شمسی، 67 سال 4 ماہ 16 دن قمری)
نسل مسلم
دور جدید دور
شعبۂ زندگی جنوبی ایشیاء
مذہب اسلام
فقہ حنفی
مکتب فکر سنی
شعبۂ عمل عقیدہ، فقہ، تصوف

مولانا احمد رضا خان، جو اعلیٰ حضرت، امام اہلسنت، حسان الہند جیسے القابات سے بھی جانے جاتے ہیں۔احمد رضا خان 1272ھ -1856ء میں پیدا ہوئے۔امام احمد رضا خان شمالی بھارت کے شہر بریلی کے ایک مشہور عالمِ دین تھے جن کا تعلق فقہ حنفی سے تھا۔ امام احمد رضا خان کی وجہ شہرت میں اہم آپ کی حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے محبت، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں لکھے نعتیہ مجموعے اور آپ کے ہزارہا فتاوی کا ضخیم علمی مجموعہ جو 30 جلدوں پر مشتمل فتاوی رضویہ کے نام سے موسوم ہے۔ برصغیر پاک و ہند میں اہلسنت کی ایک بڑی تعداد آپ ہی کی نسبت سے بریلوی کہلاتے ہیں۔[1]

دینی علوم کی تکمیل گھر پر اپنے والد مولوی نقی علی خان سے کی۔ دو مرتبہ حج بیت اللہ سے مشرف ہوئے۔ درس و تدریس کے علاوہ مختلف علوم و فنون پر کئی کتابیں اور رسائل تصنیف و تالیف کیے۔ قرآن کا اردو ترجمہ بھی کیا جو کنز الایمان کے نام سے مشہور ہے۔ علوم ریاضی و جفر میں بھی مہارت رکھتے تھے۔ شعر و شاعری سے بھی لگاؤ تھا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی شان میں بہت سی نعتیں اور سلام لکھے ہیں۔ انہوں نے عربی، فارسی اور اردو میں ایک ہزار کے قریب کتابیں تصنیف کیں۔ بعض جگہ ان کتابوں کی تعداد چودہ سو ہے۔ [2][3][4]۔

خاندان

سانچہ:شحرہ نسب احمد رضا خان آپ کا تعلق پٹھانوں کے قبیلہ بڑيچ سے ہے۔ آپ کے جد اعلیٰ سعید اللہ خان قندھار کے پٹھان تہے۔ سلطنت مغلیہ کے عہد میں محمد شاہ کے ہمراہ ہندوستان آئے اور بڑے عہدوں پر فائز رہے۔ لاہور کا شیش محل انہی کے زیر اقتدار تھا۔ آپ کو مغل بادشاہ نے شش ہزاری کے منصف سے سرفراز کیا اور شجاعت جنگ کا خطاب دیا۔

سعادت یار خان

سعید اللہ کے فرزند، آپ کو مغلیہ حکومت نے روہیل کھنڈ کی جنگی مہم پر بھیجا، جس میں کامیابی پر آّ کو بریلی کا صوبہ دار منتخب کیا گیا۔ بدایوں و روہیل کھنڈ کس متعدد مواضع جاگیر میں ديئے گئے۔

محمد اعطم خان

سعادت یار کے بیٹے، آپ کا مزاج مذہبی تھا، علوم و فنون سے گہری دلچسپی تھی۔ سلطنت مغلیہ میں بریلی میں وزارت ملی ہوغي تھی، لیکن مذہب سے شدید وابستگی نے اس عہدہ سکبدوش کرا دیا۔

کاطم علی خان

بدایوں کے تحصیل دار تہے، آپ کو اٹھ گاؤں جاگیر میں ملے ہوئے تہے۔ آپ سے متعدد کرامات مشہور ہیں۔

رضا علی خان

جنگ آزادی ہند 1857ء میں حصہ لیا، جنرل ہڈسن نے آپ کے سر کی قیمت پانچ سو روپے مقرر کی تھی۔ آپ تصوف کی مائل تہے۔ وفات 1865ء میں ہوئی۔

نقی علی خان

آپ صاحب تصانیف بزرگ ہیں۔ آپ نے زندگی بھر دینی تعلیم کی تدریس کی۔

بچپن

مولانا نے چار برس کی ننھی عمر میں قرآن مجید ناظرہ کیا اور چھ سال کی عمر میں منبر پر مجمع کے سامنے میلاد شریف پڑھا۔ اردو، فارسی اور عربی پڑھنے کے بعد مولانا نے اپنے والد مولانا نقی علی خان سے عربی زبان میں دین کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی اور تیرہ برس دس مہینے کی عمر میں ایک عالم دین ہوگئے۔ 14 شعبان 1286ھ مطابق 19 نومبر 1869ء میں مولانا کو عالم دین کی سند دی گئی اور اسی دن والد نے مولانا کے علمی کمال اور پختگی کو دیکھ کر فتویٰ نویسی کی خدمت ان کے سپرد کی۔ جسے مولانا نے 1340ھ مطابق 1921ء اپنی وفات کے وقت تک جاری رکھا۔

سلسلہ تعلیم

رسم بسم اللہ خوانی کے بعد ان کی تعلیم کا سلسلہ جاری ہوگیا۔ آپ نے اپنی چار برس کی ننھی سی عمر میں جب کہ عموما دو سرے بچے اس عمر میں اپنے وجود سے بھی بے خبر رہتے ہیں قرآن مجید ناظرہ ختم کرلیا۔ چھ سال کی عمر میں ماہ مبارک ربیع الاول شریف کی تقریب میں منبر پر رونق افروز ہوکر بہت بڑے مجمع کی موجودگی میں ذکر میلاد شریف پڑھا۔ اردو فارسی کی کتابیں پڑھنے کے بعد مرزا غلام قادر بیگ سے میزان منشعب وغیرہ کی تعلیم حاصل کی، پھر آپ نے اپنے والد نقی علی خان سے مندرجہ ذیل اکیس علوم پڑھے: علم قرآن، علم تفسیر، علم حدیث، اصول حدیث، کتب فقہ حنفی، کتب فقہ شافعی و مالکی و حنبلی، اصول فقہ، جدل مہذب، علم العقائد و الکلام، علم نجوم، علم صرف، علم معانی، علم بیان، علم بدیع، علم منطق، علم مناظرہ ، علم فلسفہ مدلسہ، ابتدائی علم تکحیہ ، ابتدائی علم ہیئت، علم حساب تا جمع، تفریق، ضرب، تقسیم، ابتدائی علم ہندسہ۔ تیرہ برس دس مہینے پانچ دن کی عمر شریف میں 14 شعبان 1286 ھ مطابق 19 نومبر 1869ء کو آپ فارغ التحصیل ہوئے اور دستار فضیلت سے نوازے گئے۔ اسی دن مسئلہ رضاعت سے متعلق ایک فتوی لکھ کر اپنے والد ماجد کی خدمت میں پیش کیا۔ جواب بالکل صحیح تھا۔ والد ماجد نے ذہن نقاد و طبع وقاد دیکھ کر اسی وقت سے فتوی نویسی کی جلیل الشان خدمت آپ کے سپرد کردی۔ آپ نے تعلیم و طریقت سید آل رسول مارہروی سے حاصل کی۔ مرشد کے وصال کے بعد بعض تعلیم طریقت نیز ابتدائی علم تکسیر و ابتدائی علم جفر و غیرہ سید ابو الحسین احمد نوری مارہروی سے حاصل فرمایا۔ شرح چغمینی کا بعض حصہ عبد العلی رامپوری سے پڑھا، پھر آپ نے کسی استاذ سے بغیر پڑھے محض خدا داد بصیرت نورانی سے حسب ذیل علوم و فنون میں دسترس حاصل کی اور ان کے شیخ و امام ہوئے: قراءت، تجوید، تصوف، سلوک، علم اخلاق، اسماء الرجال، سیر، تواریخ، لغت، ادب، مع جملہ فنون، ارثما طیقی، جبرو مقابلہ، حساب ستیسنی، لوغارثمات یعنی لوگاریتہم، علم التوقیت، مناظرہ، علم الاکر، زیجات، مثلث کروی، مثلث مسطح، ہیئت جدیدہ یعنی انگریزی فلسفہ، مربعات، منتہی علم جفر، علم زائچہ، علم فرائض، نظم عربی، نظم فارسی، نظم ہندی، انشاء نثر عربی، انشاء نثر فارسی، انشاء نثر ہندی، خط نسخ، خط نستعلیق، منتہی علم حساب، منتہی علم ہیئت، منتہی علم ہندسہ، منتہی علم تکسیر، علم رسم خط قرآن مجید۔ حاصل کلام یہ ہے کہ مولانا کے اساتذہ کی فہرست تو بہت مختصر ہے لیکن مولانا نے بہت سے فنون میں کتابیں لکھیں سید ظفر الدین بہاری نے 1327ھ مطابق 1909ء میں مولانا کی تصانیف کی ایک فہرست بنام المجمل المعدد لتالیفات المجدد مرتب فرمائی اور آخر میں ایک جدول پیش کی جس میں ان سبھی علوم و فنون کا نام ہے جن میں 1327ء تک مولانا کتابیں تصنیف کیں۔ [5]

معلمین

ان حضرات کے اسماء جن سے امام احمد رضا نے اکتساب علم و فیض حاصل فرمایا[6]

  • مرزا غلام قادر بیگ بریلوی م 1898ء
  • والد ماجد مولانا محمد نقی علی خان بریلوی م 1297ھ 1880ء
  • مولانا عبد العلی خان رامپوری م 1303ھ 1885ء تلمیذ علامہ فضل حق خیرآبادی م 1278ھ 1861ء
  • شاہ ابو الحسین احمد نوری مارہروی م 1324 ھ 1906ء مولانا نور احمد بدایونی م 1301ھ
  • شاہ آل رسول مارہروی م 1297ھ 1879ء تلمیذ شاہ عبد العزیز محدث دہلوی م 1239ھ۔
  • امام شافعیہ شیخ حسین صالح م 1306ھ 1884ء
  • مفتی حنفیہ شیخ عبد الرحمٰن سراج م 1301ھ 1883ء
  • مفتی شافعیہ شیخ احمد بن زین دحلان م 1299ھ 1881ء قاضی القضاۃ حرم محترم۔

بیعت و خلافت

فاضل بریلوی 1294ھ،1877ء میں اپنے والد نقی علی خان کے ہمراہ حضرت شاہ آل (م 1878ء ) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سلسلہ قادریہ میں بیعت سے مشرف ہو کر اجازت و خلافت سے بھی نوازے گئے-فاضل بریلوی نے اپنے دیوان میں اپنے مرشد کی شان میں ایک منقبت لکھی جس کا مطلع ہے

خوشا دلے کہ دہندش ولائے آل رسول

خوشا مردے کہ کنندش فدائے آل رسول

فاضل بریلوی مندرجہ ذیل سلسلوں میں اجازت بیعت حاصل تھی:-قادریہ برکاتیہ جدیدہ ، قادریہ آبائیہ قدیمہ ، قادرہ رزاقیہ ، قادریہ منوریہ ، چشتیہ نظامیہ قدیمہ ، قادرہ اہدلیہ ،چشتیہ محبوبیہ جدیدہ ، سہروردیہ فضیلہ ، نقشبندیہ علائیہ صدیقیہ ، نقشبندیہ علائیہ علویہ ، بدیعیہ ، علویہ منامیہ وغیرہ- مندرجہ بالا سلاسل میں اجازت کے علاوہ فاضل بریلوی کو مصافحات اربعہ (مصا حفۃ الحسنیہ ،مصاحفۃ العمریہ، مصاحفۃ،الخضریہ، مصافحۃ المنانیہ) کی سند بھی ملی۔

ان مصافحات و اجازت کے علاوہ مختلف اذکار اشغال و اعمال وغیرہ کی بھی آپ کو اجازت حاصل تھی جیسے خواص القرآن اسماء الٰہیہ،دلائل الخیرات، حصن حصین،حزب البحر،صزب النصر،حرز الامیرین،حرزالیمانی دعاءمغنی،دعا حیدری،دعا عزارائیلی،دعا سریانی،قصیدہ غوثیہ،قصیدہ بردہ وغیرہ وغیرہ-

حج و زیارت

ذوالحجہ 1294ھ مطابق دسمبر 1877ء میں پہلی بار مولانا نے حج کیا پھر ربیع الاول 1324ھ مطابق اپریل 1906ء میں محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و سلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے۔ ایک ماہ تک مدینہ طیبہ میں رہ کر بارگاہ رسالت کی زیارت کرتے رہے۔ مکہ معظمہ اور مدینہ طیبہ کے بڑے بڑے علماء آپ کے علمی کمالات اور دینی خدمات کو دیکھ کر آپ کے نورانی ہاتھوں پر مرید ہوئے اور آپ کو استاد و پیشوا مانا[7][8][9]

اشاعت اسلام

مولانا نے ہوش سنبھالنے کے بعد اپنی ساری زندگی اسلام کے خدمت اور سنیت کی اشاعت میں صرف فرمائی اور تقریباًًً ایک ہزار کتابیں لکھیں جن میں فتوی رضویہ بہت ہی ضخیم کتاب ہے۔ مولانا نے قرآن مجید کا صحیح ترجمہ اردو میں تحریر فرمایا جس کو عالم اسلام کنزالایمان فی ترجمۃ القرآن کہتی ہے۔

مدرسہ منظر اسلام بریلی

نظریات

رد احمدیہ

  1. جزاء اللّٰہ عدوّہ لابائہ ختم النبوۃ
  2. قھرالدیان علی مرتد بقادیان
  3. المبین معنی ختم النبیین
  4. السوء والعقاب علی المسیح الکذاب
  5. الجراز الدیانی علی المرتدالقادیانی

رد شیعیت

رد وہابیت

احمد رضا خان کے زمانے میں کئی مکاتب فکر اور فرقے کے لوگ ظاہر ہوئے تھے جن کے بارے میں ان کا تجزیہ تھا کہ وہ اسلام و سنیت کے خلاف دھوکے کا جال بچھا کر بھولے بھالے مسلمانوں میں خوب گمراہی پھیلا رکھی تھی۔ آپ نے دین و شریعت کی حمایت میں ان مبینہ طور گمراہ گروہوں سے اور حق و باطل کو خوب واضح کر کے پیش کرنے کی کوشش کی۔[10] آپ کے فتاوے اور کتابوں کے ذریعہ اللہ تعالی نے ہزاروں مسلمانوں کو حلقہ بگوش کیا۔ بہت سے وہ علماء جودوسرے مسلکوں کے سیلاب میں بہتے جارہے تھے آپ کی رہنمائی سے متاثر ہوئے۔ جب کچھ دوسرے مسلکوں کے لوگوں نے سرکار محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے شان میں گستاخی اور توہین کتابوں میں لکھ کر شائع کی اور مسلمانوں کو بگاڑنا شروع کیا تو آپ نے اٹل پہاڑ کی طرح جم کر سرکار محمد مصطفیٰ صلی اللہ تعالٰی علیہ و آلہ و سلم کی محبت کا پرچم لہرایا اور مسلمانوں کو سرکار کی محبت و تعظیم کا سبق دیا اور گستاخی کرنے والوں کا حقیقی چہرہ پیش کرنے کی کوشش کی۔[11]

تصنیفات

آپ نے کم و بیش پچاس[12] مختلف علوم فنون پر ایک ہزار کتابیں لکھیں ہیں۔[13] ان میں چند مندرجہ ذیل ہیں:

  • العطايا النبويہ في الفتاوي الرضويہ: یوں تو آپ نے 1286ھ سے 1340ھ تک ہزاروں فتوے لکھے۔ لیکن سب کو نقل نہ کیا جاسکا، جو نقل کر لیے گئے تھے ان کا نام العطا یا النبویہ فی الفتاوی رضویہ رکھا گیا۔ فتاویٰ رضویہ جدید کی 33 جلدیں ہیں جن کے کل صفحات 22 ہزار سے زیادہ کل سوالات مع جوابات 6847 اور کل رسائل 206 ہیں۔ ہر فتوے میں دلائل کا سمندر موجزن ہے۔[14] قرآن و حدیث، فقہ منطق اور کلام وغیرہ میں آپ کی وسعت نظری کا اندازا آپ کے فتاوے کے مطالعے سے ہی ہو سکتا ہے۔
  • نزول آیات فرقان بسکون زمین و آسمان: اس کتاب میں آپ نے قرآنی آیات سے زمین کو ساکن ثابت کیا ہے۔ [15] اور سائنس دانوں کے اس نظریے کا کہ زمین گردش کرتی ہے رد فرمایا ہے۔
  • جد الممتار علی الردالمختار:علامہ ابن عابدین شامی کی ردالمختار شرح درمختار پر عربی حواشی ہیں۔
  • الدولۃ المکیہ بالمادۃ الغیبیہ: دوسری بار جب حج کے لیے مکہ میں تھے، اس وقت کچھ ہندوستانی حضرات نے مسئلہ علم غیب سے متعلق ایک استفتاء پیش کیا۔ قرآن و حدیث کے علاوہ اس کتاب میں منطق، فلسفہ اور ریاضیاتی دلائل پیش کیے گئےاس کتاب پر اس وقت 50 علما حرمین اور 15 دیکر بلاد اسلامیہ کے علما نے تقاریط لکھیں۔[16]
  • کفل الفقیہ الفاہم فی احکام قرطاس الدراہم: (1906ء) کاغذی کرنسی، سے متعلق علمائے حرمین کے سوالات کے جوابات پر مشتمل ہے۔ اس دور میں یہ مسئلہ متنازع تھا اور مگر آپ کے جوابات دیکھ کر علمائے حرمین نے دل کھول کر تعریف کی۔ 1911ء میں ایک ضمیمہ کا اضافہ کیا اور اس کا اردو ترجمہ کیا۔ سید ابو الحسن ندوی نے کفل الفقیہ کا بطور خاص ذکر کیا ہے اور فقاہت میں احمد رضا خان کی مہارت کا شاہد و گواہ قرار دیا۔[17]

نعت گوئی

آپ نے اردو، عربی، فارسی تین زبانوں میں نعت گوئی و منقبت نگاری کی۔

حدائق بخشش

آپ کا نعتیہ دیوان حدائق بخشش تین جلدوں میں ہے، پہلے دو جلدیں آپ کی حیات میں اور تیسری، بعد از وفات جمع کر کے کلام شائع کیا گيا، مگر اس میں رضا کا تخلص رکھنے والے ایک دوسرے عام سے شاعر کا عامیانہ کلام بھی در آیا، جس پر کافی تنقید ہوئی، جس کو تحقیق کے بعد نکال دیا گیا۔حدائق بخشش اردو نعتیہ شاعری کا ایک اہم سنگ میل ثابت ہوئی جس نے اپنے بعد آنے والے تمام نعت گوؤوں کو ایک ادب کا جامہ پہنا دیا، ورنہ اس سے پہلے اردو نعت صرف عقیدت کے طور پر دیواں کے شروع میں شامل نظر آتی، مگر حدائق بخشش کے بعد اردو نعت ادب کا ایک مستقل حصہ بنا، جس کی نعتیں آج بھی مشہور و معروف ہے۔

مصطفیٰ جانِ رحمت پے لاکھوں سلام

شمع بزمِ ہدایت پہ لاکھوں سلام

بہت مشہور ہے

عربی کلام

عربی کلام بساتین الغفران کے نام سے موجود ہے۔

فارسی کلام

آپ کا فارسی کلام ارم‏غان رضا کے نام سے، ادارہ تحقیقات امام احمد رضا نے پہلی بار، 1994 میں شائع کیا، اس میں حمدو نعت، قصاہد و مناقب اور رباعیات شامل ہیں۔

یا رب زمن بر شہ ابرار درودی

برسید و مولائی من زار، درودی

بر آبروی آن قبلہ قوسین سلامی

بر چشم خطا پوش، عطا بار، درودی

[18]

کنزالایمان ترجمہ قرآن شریف

آپ نے قرآن مجید کا ترجمہ کیا۔ [19]۔ آپ کے ترجمہ کا نام "کنز الایمان" ہے۔ جس پر آپ کے خلیفہ سید نعیم الدین مراد آبادی نے حاشیہ لکھا ہے۔ اس ترجمہ کو اب تک انگریزی (میں تین بار)، ہندی، سندھی، گجراتی، ڈچ، بنگلہ وغیرہ میں ڈھالا جا چکا ہے۔

وفات و مزار

25 صفر 1340ھ مطابق 1921ء کو جمعہ کے دن ہندوستانی کے وقت کے مطابق 2 بج کر 38 منٹ پر عین اذان کے وقت ادھر موذن نے حی الفلاح کہا اور ادھر امام احمد رضا خان نے داعی اجل کو لبیک کہا۔ آپ کا مزار بریلی شریف میں آج بھی زیارت گاہ خاص و عام بنا ہوا ہے۔ [20]

درگاہ شریف

آپ کا مزار پر انوار بریلی محلہ سوداگران میں آج بھی زیارت گاہ خاص و عام بنا ہوا ہے۔

جامعاتی تحقیق

حوالہ جات

  1. ابتدائی حالاتِ زندگی
  2. الکوکبۃ الشہابیۃ فی کفریات ابی الوہابیۃ ،1312ھ، مطبع اہلسنت بریلی و رضا اکیڈمی ممبئی (ستروجہ سے امام وہابیہ دہلوی پر لزوم کفر
  3. فتاوی الحرمین برجف ندوۃالمین 1317ھ، (عربی)، مطبع گلزار حسینی ومکتبہ ایایشیق استنبول (ندوۃ العلماء والوں کے عقائد اور ان پر فتاوائے حرمین
  4. الدولۃ المکیۃ بالمادۃ الغیبیۃ 1323ھ(عربی) ، مطبح اہلسنت وجاعت بریلی، (الدولۃ والمکیۃ پر مصنف کا مبسوط حاشیہ فرقہ نیچریہ کا رد۔ یہ کتاب اعلیٰ حضرت نے مکہ مکرمہ میں اس وقت لکھی جب آپ سے علم غیب رسول کے بارے میں سوال کیا گیا بغیر کسی کتاب کی مدد کے زبانی طور پر یہ کتاب چند گھنٹوں میں تحریر ہوئی اور اس پر علمائے حرمین شریفین یعنی علمائے مکہ و مدینہ نے تصدیقات رقم کیں، یہ کتاب اردو ترجمہ کے ساتھ بھی متعدد بار طبع ہوئی ہے۔
  5. سوانح اعلیٰ حضرت امام احمد رضا رضی اللہ تعالیٰ عنہ، مرتبہ بدر الدین احمد قادری ، ناشر قادری مشن بریلی شریف
  6. امام احمد رضا کی فقہی بصیرت مرتبہ محمد یٰس اختر مصباحی، ناشر رضوی کتاب گھر دہلی
  7. الدولۃ المکیہ بالمادۃ الغیبیۃ 1323ھ(عربی) ، مطبح اہلسنت وجاعت بریلی، (الدولۃ والمکیۃ پر مصنف کا مبسوط حاشیہ فرقہ نیچریہ کا رد۔ یہ کتاب اعلیحضرت نے مکہ مکرمہ میں اس وقت لکھا جب آپ سے علم غیب رسول کے بارے میں سوال کیا گیا بغیر کسی کتاب کی مدد کے زبانی طور پر یہ کتاب چند گھنٹوں میں تحریر ہوئی اور اس پر علمائے حرمیں شریفین یعنی علمائے مکہ و مدینہ نے تصدیقات رقم کیں، یہ کتاب اردو ترجمہ کے ساتھ بھی متعدد بار طبع ہوئی ہے۔
  8. الاجازۃ الرضویہ لمجبل مکۃ البہیۃ ، 1323ھ (عربی) مکتبہ قادریہ لوہاری گیٹ لاہور (اجازت نامے جو اعلیٰ حضرت نے علمائے مکہ کو دئیے
  9. الاجازات المتینۃ لعلماء بکۃ و المدینۃ ، 1324 ھ (عربی) مکتبہ قادریہ لوہاری گیٹ لاہور و رضا اکیڈمی ممبئی وغیرہ جس میں علمائے مکہ و مدینہ کی عطا کردہ اجازتیں ہیں ، مرتبہ حضرت حجۃ الاسلام مولانا حامد رضا خلیف اکبر اعلیٰ حضرت علیہما الرحمہ
  10. Historic Judgment of Session Judge, Fyzabad,UP, India 30. اپریل 1949.
  11. العطا یا النبویۃ فی الفتاوی الرضویۃ ، مطبع اہلسنت وجماعت بریلی و رضا اکیڈمی ممبئی و کتب خانہ سمنانی، میرٹھ، و سنی دار الاشاعت مبارکپور و لائلپور
  12. محمد ظفر الدین بہاری، المجمل المعدد لتالیفات المجدد، مطبوعہ پٹہ
  13. عبد الحی ندوی، نزھتہ الخواطر، جلد8، صفحہ 40، مطبوعہ کراچی
  14. فتاویٰ رضویہ جدید، ج 30، ص 10، رضا فائونڈیشن مرکز الاولیاء لاہور۔
  15. امام احمد رضا اور حرکتِ زمین از پروفیسر ڈاکٹر محمد مسعود احمد مطبع ادارہ تحقیقات امام احمد رضا ، کراچیز
  16. پروفیسر محمد مسعود احمد، فاضل بریلوی علمائے حجاز کی نظر میں، مطبوعہ لاہور، 1973ء
  17. عبد الحی ندوی، نزھتہ الخواطر، جلد8، صفحہ 41، مطبوعہ کراچی
  18. ارمغان رضا، امام احمد رضا خان بریلوی، مرتبہ پروفیسر ڈاکٹر مسعود احمد رضوی، ادارہ تحقیقات رضا، کراچی، پاکستان- 1994، صفحہ 23
  19. سوانح امام احمد رضا، ص 373، مکتبہ نوریہ، رضویہ سکھر
  20. سوانح امام احمد رضا، ص 391، مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر
  • سوانح امام احمد رضا، ص 391، مکتبہ نوریہ رضویہ سکھر ۔
  • الملفوظ، حصہ اول، ص 3، مشتاق بک کارنر مرکز اولیاء لاہور۔
  • حیاتِ اعلیٰ حضرت، ج1، ص 58، مکتبۃ المدینہ، باب المدینہ، کراچی۔
  • فتاویٰ رضویہ جدید، ج 30، ص 10، رضا فاؤنڈیشن مرکز الاولیاء لاہور۔
  • حدائق بخشش، رضا اکیڈمی، ممبئی، الہند۔

بیرونی روابط