اسماعیل صفوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
اسماعیل صفوی
Shah Ismail I.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش 17 جولا‎ئی 1487[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
اردبیل[2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 23 مئی 1524 (37 سال)[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
اردبیل[2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
مدفن اردبیل  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام دفن (P119) ویکی ڈیٹا پر
اولاد طہماسپ اول  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں اولاد (P40) ویکی ڈیٹا پر
خاندان صفوی سلطنت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں خاندان (P53) ویکی ڈیٹا پر
مناصب
شاہ   خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں منصب (P39) ویکی ڈیٹا پر
مدتِ منصب
1502  – 23 مئی 1524 
Fleche-defaut-droite-gris-32.png  
طہماسپ اول  Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
دیگر معلومات
پیشہ مقتدر اعلیٰ،شاعر،مصنف  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان فارسی،آذربائیجانی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر

شہنشاہ ایران (پیدائش: 1459ء، وفات: 1524ء)، صفوی خاندان کا بانی۔ 1502ء میں تخت نشین ہوا۔ عربوں کے اقتدار کے بعد پہلی بار ایران آزادانہ حیثیت دی اور شیعیت کو ملکی مذہب قرار دیا۔ ترکی زبان کا صاحب دیوان شاعر بھی تھا، خطائی تخلص رکھتا تھا۔

پس منظر[ترمیم]

تیموریوں کے زوال کے بعد سولہویں صدی کے آغاز میں ایران تقریباً دس چھوٹی چھوٹی حکومتوں میں تقسیم ہو گیا تھا۔ ان میں سب سے طاقتور حکومت آق قویونلو ترکمانوں کی تھی اور تبریز سے دیار بکر تک کا علاقہ ان کے قبضے میں تھا۔ شاہ اسماعیل جس وقت تخت پر بیٹھا تو اس کی عمر اپنے ہمعصر بابر کی طرح صرف تیرہ سال تھی لیکن اس نے کم عمری کے باوجود حالات کا مقابلہ غیر معمولی ذہانت اور شجاعت سے کیا۔ باکو اور شیروان کو فتح کرنے کے بعد شاہ اسماعیل نے 1499ءمیں تبریز پر قبضہ کرکے آق قویونلو حکومت کا خاتمہ کر دیا۔

تخت نشینی و عروج[ترمیم]

1503ء تک اسماعیل نے جنوب میں شیراز اور یزد تک، مشرق میں استرایار تک اور مغرب میں بغداد اور موصل تک اپنی سلطنت کی حدوں کو بڑھالیا۔ ہرات میں تیموری حکمران حسین بائیقرا کے انتقال کے بعد شیبانی خان، ہرات اور خراسان پر قابض ہو گیا تھا۔ 1510ء میں مرو کے قریب طاہر آباد میں شیبائی خان اور اسماعیل میں سخت جنگ ہوئی جس میں ازبکوں کو شکست ہوئی اور شیبائی خان مارا گیا۔ ازبکوں کی شکست کے بعد خراسان بھی اسماعیل کے قبضے میں آگیا۔ اب وہ ایران، عراق اور شیروان کا بلا شرکت غیر ے مالک ہو گیا تھا اور اس کی طاقت اپنے نقطہ عروج پر پہنچ گئی تھی۔

ترکوں کے ہاتھوں شکست[ترمیم]

شاہ اسماعیل کو اس کی فتوحات نے غرورمیں مبتلا کر دیا تھا۔ اس نے ایک عثمانی شہزادے مراد کو پناہ دی اور سلطان سلیم عثمانی کو تخت سے اتار کر شہزادہ مراد کو اس جگہ تخت پر بٹھانے کی تیاریاں شروع کر دیں۔ شاہ اسماعیل کی اس ناعاقبت اندیشی نے اس کو سلطان سلیم سے ٹکرادیا۔ ایران اور ترکی کی موجودہ سرحد پر ترکی کی حدود میں واقع ایک مقام چالدران کے پاس 1514ءمیں دونوں میں خونریز جنگ ہوئی جو تاریخ میں جنگ چالدران کے نام سے مشہور ہے۔ ایرانیوں نے بڑی شجاعت سے ترکوں کا مقابلہ کیا۔ لیکن ترکوں کی کثرت تعداد، توپ اور آتشیں اسلحے اور سلطان سلیم کی برتری فوجی مہارت کے سامنے ایرانی بے بس ہو گئے۔ ان کو شکست فاش ہوئی 25 ہزار ایرانی مارے گئے اور شاہ اسماعیل زخمی ہوکرفرار ہونے پر مجبور ہوا۔ سلطان سلیم نے آگے بڑھ کر دار الحکومت تبریز پر بھی قبضہ کر لیا۔ سلیم کی واپسی پر تبریز اور آذربائیجان تو صفوی سلطنت کو واپس مل گئے لیکن دیار بکر اور مشرقی ایشیائے کوچک کے صوبے ہمیشہ کے لیے صفویوں کے ہاتھ سے نکل گئے ۔

ایران میں نئے دور کا آغاز[ترمیم]

اسماعیل صفوی سے ایران کے ایک نئے دور کا آغاز ہوتا ہے جسے ایران کا شیعی دور کہا جاسکتا ہے۔ اس سے قبل ایران کے بعض حصوں پر شیعہ خاندان کبھی کبھی حکمران رہے ہیں۔ ایران کے بعض بادشاہ بھی ایسے ہوئے ہیں جو شیعہ عقائد رکھتے تھے جیسے غازان خان اور الجائیتو خدا بندہ، لیکن ایران میں اکثریت سنی حکمران خاندانوں کی رہی تھی اور سرکاری مذہب بھی اہل سنت کا تھا لیکن شاہ اسماعیل نے تبریز پر قبضہ کرنے کے بعد شیعیت کو ایران کا سرکاری مذہب قرار دیا اور اصحاب رسول پر تبرا کرنا شروع کر دیا۔ اس وقت تبریز کی دو تہائی آبادی سنی تھی اور شیعہ اقلیت میں تھے۔ خود شیعی علما نے اس اقدام کی مخالفت کی لیکن کچھ نوجوانی کا گرم خون اور کچھ عقیدے کی محبت، شاہ اسماعیل نے ان مشوروں کو رد کرکے تلوار ہی کو سب سے بڑی مصلحت قرار دیا۔

شاہ اسماعیل صفوی نے صرف یہی نہیں کیا کہ شیعیت کو ایران کا سرکاری مذہب قرار دیا بلکہ اس نے شیعیت کو پھیلانے میں تشدد اور بدترین تعصب کا بھی ثبوت دیا۔ لوگوں کو شیعیت قبول کرنے پرمجبور کیا گیا، بکثرت علما قتل کردیے گئے جس کی وجہ سے ہزار ہا لوگوں نے ایران چھوڑدیا۔

شاہ اسماعیل کی فوج "قزلباش" کہلاتی تھی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اسماعیل کے باپ حیدر نے اپنے پیروؤں کے لیے سرخ رنگ کی ایک مخصوص ٹوپی مقرر کی تھی جس میں 12 اماموں کی نسبت سے 12 کنگورے تھے۔ ٹوپی کا رنگ چونکہ سرخ تھا اس لیے ترکی میں ان کو قزلباش یعنی سرخ ٹوپی والے کہا گیا۔

ایران کی زبان اگرچہ فارسی تھی لیکن آذربائیجان کی اکثریت ترکی بولتی ہے چنانچہ شاہ اسماعیل کی زبان بھی ترکی تھی۔ وہ ترکی زبان کا شاعر بھی تھا اور خطائی تخلص رکھتا تھا۔ اس کے اشعار میں تصوف کا رنگ اور اہل بیت کی محبت پائی جاتی ہے اور ترکی زبان کی صوفیانہ شاعری میں اس کو اہم مقام حاصل ہے۔ استنبول سے اس کا ترکی دیوان بھی شائع ہوا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ 1.0 1.1 دائرۃ المعارف بریطانیکا آن لائن آئی ڈی: https://www.britannica.com/biography/Ismail-I-shah-of-Iran — بنام: Isma'il I — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — عنوان : Encyclopædia Britannica
  2. ^ 2.0 2.1 مدیر: الیکزینڈر پروکورو — عنوان : Большая советская энциклопедия — اشاعت سوم — باب: Исмаил I — ناشر: Great Russian Entsiklopedia, JSC
پیشرو:
-
صفوی سلطنت حکمران
1502ء تا 1524ء
جانشیں :
طہماسپ اول