آرمینیا
| جَمْہُورِیَۂ آرْمینِیا Հայաստանի Հանրապետություն | |
|---|---|
| ترانہ: میر ہایرینیک | |
| زمین و آبادی | |
| متناسقات | 40°23′00″N 44°57′00″E / 40.383333°N 44.95°E [1] |
| پست مقام | |
| رقبہ | |
| دارالحکومت | یریوان |
| سرکاری زبان | آرمینیائی زبان |
| آبادی | |
|
|
|
|
| حکمران | |
| طرز حکمرانی | جمہوریہ ، وحدانی ریاست ، پارلیمانی نظام |
| سربراہ حکومت | نکول پیشینیان (8 مئی 2018–) |
| مجلس عاملہ | حکومت آرمینیا |
| قیام اور اقتدار | |
| تاریخ | |
| یوم تاسیس | 23 ستمبر 1991 |
| عمر کی حدبندیاں | |
| شادی کی کم از کم عمر | |
| شرح بے روزگاری | |
| دیگر اعداد و شمار | |
| کرنسی | آرمینیائی درام |
| منطقۂ وقت | متناسق عالمی وقت+04:00 [2] |
| ٹریفک سمت | دائیں [3] |
| ڈومین نیم | am. ، .հայ |
| سرکاری ویب سائٹ | باضابطہ ویب سائٹ |
| آیزو 3166-1 الفا-2 | AM |
| بین الاقوامی فون کوڈ | +374 |
| |
| درستی - ترمیم | |
ارمینیا، باقاعدہ طور پر جمہوریہ ارمینیا، ایک زمین بند ملک ہے جو ارمینی سطح مرتفع میں مغربی ایشیا کے خطے میں واقع ہے۔[4][5][ا] یہ قفقاز کے خطے کا حصہ ہے اور اس کی سرحدیں مغرب میں ترکیہ, شمال میں جارجیا, مشرق میں آذربائیجان, اور جنوب میں ایران اور ناخچیوان خود مختار جموریہ سے ملتی ہیں۔[7] یریوان ارمینیا کا دار الحکومت اور سب سے بڑا شہر ہے۔
ارمینی سطح مرتفع قدیم اقوام حیاسا ازی, شوپریا اور نائری کا تاریخی مسکن رہی ہے۔ 600 قبل مسیح تک پروٹو ارمینی زبان، جو ہند یورپی زبانیں خاندان سے تعلق رکھتی ہے، اس خطے میں رائج تھی۔[8][9]
ارمینیا کی پہلی بڑی منظم ریاست اورارتو 860 قبل مسیح میں قائم ہوئی، جسے بعد ازاں چھٹی صدی قبل مسیح میں ارمینیہ کا ستراپی نے بدل دیا۔ مملکت ارمینیا (قدیم دور) نے تگرین اعظم کے دور میں اپنی وسعت کی انتہا حاصل کی۔ 301 عیسوی میں ارمینیا دنیا کی پہلی ریاست بنا جس نے مسیحیت کو اپنا ریاستی مذہب قرار دیا۔[10][11][12][ب]
آج بھی ارمینیا میں ارمینیائی رسولی کلیسیا بنیادی مذہبی ادارے کے طور پر تسلیم کی جاتی ہے، جو دنیا کی قدیم ترین قومی کلیسیا شمار ہوتی ہے۔[13][پ]
پانچویں صدی کے آغاز میں ارمینی ریاست کو بازنطینی سلطنت اور ساسانی سلطنت نے آپس میں تقسیم کر لیا۔ بغراتونی سلسلہ کے دور میں بغراتی ارمینیا نویں صدی میں بحال ہوا مگر 1045 میں ختم ہو گیا۔ ساحلی خطے میں سیلیسیائی ارمینیا 11ویں سے 14ویں صدی تک قائم رہا۔
16ویں سے 19ویں صدی کے دوران تاریخی ارمینی وطن، جس میں مشرقی ارمینیا اور مغربی ارمینیا شامل تھے، باری باری سلطنت عثمانیہ اور ایران کے زیر اثر رہا۔ 19ویں صدی میں روسی سلطنت نے مشرقی خطے پر قبضہ کر لیا جبکہ مغربی خطہ عثمانیوں کے پاس رہا۔ پہلی جنگ عظیم کے دوران تقریباً 15 لاکھ ارمنیوں کو منظم طور پر قتل کیا گیا جسے ارمینیائی قتل عام کہا جاتا ہے۔ انقلاب روس کے بعد 1918 میں جمہوریہ اول ارمینیا نے آزادی حاصل کی، مگر 1920 میں یہ سوویت اتحاد میں شامل ہو کر ارمینیائی سوویت اشتراکی جمہوریہ بن گیا۔ 1991 میں سوویت اتحاد کی تحلیل کے ساتھ جدید ارمینیا ایک آزاد ریاست کے طور پر ابھرا۔
جدید ارمینیا ایک وحدانی ریاست, کثیر الحزبی اور جمہوری قومی ریاست ہے۔ یہ ایک ترقی پذیر ملک ہے اور 2023 کے انسانی ترقیاتی اشاریہ میں 69 ویں نمبر پر ہے۔[14] اس کی معیشت صنعتی پیداوار اور معدنی وسائل پر انحصار کرتی ہے۔ جغرافیائی طور پر ارمینیا جنوبی قفقاز میں واقع ہے مگر سیاسی طور پر خود کو یورپ کا حصہ تصور کرتا ہے۔[4]
یہ متعدد یورپی اداروں کا رکن ہے جن میں یورپ میں تنظیم برائے سلامتی و تعاون, یورپ کی کونسل, مشرقی شراکت, یوروکنٹرول, یورپی علاقائی اسمبلی اور یورپی بینک برائے تعمیر نو و ترقی شامل ہیں۔
ارمینیا یوریشیا کے اہم علاقائی اداروں کا بھی رکن ہے جن میں ایشیائی ترقیاتی بینک, اجتماعی سلامتی معاہدہ تنظیم[ت], یوریشیائی اقتصادی اتحاد اور یوریشیائی ترقیاتی بینک شامل ہیں۔
ارمینیا نے جمہوریہ آرتساخ (نگورنو کاراباخ) کی طویل عرصے تک حمایت کی تھی، جس نے 1991 میں آذربائیجان سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا۔ تاہم 2023 میں نگورنو کاراباخ محاصرہ اور 2023 آذربائیجانی فوجی کارروائی کے بعد یہ خطہ دوبارہ آذربائیجان میں ضم ہو گیا۔
تاریخ
[ترمیم]قدیم قبل تاریخ
[ترمیم]
آرمینیا میں انسانی موجودگی کے ابتدائی شواہد اچیلین طرز کے اوزاروں کی موجودگی سے ملتے ہیں، جو عموماً آبسیڈین (obsidian) کے ذخائر کے قریب پائے گئے ہیں اور ان کی تاریخ کم از کم دس لاکھ سال قبل تک جاتی ہے۔[15]
اکیسویں صدی کی سب سے اہم اور حالیہ دریافت نور گےغی 1 کے مقام پر ہوئی، جو سنگی دور کا ایک بڑا مقام ہے اور ہرازدان (دریا) کی وادی میں واقع ہے۔[16]
یہاں سے ملنے والے تقریباً 3 لاکھ 25 ہزار سال قدیم ہزاروں آثار قدیمہ اِس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ انسانی ٹیکنالوجی کی یہ ترقی دنیا کے مختلف خطّوں میں بیک وقت وقوع پزیر ہوئی، بجائے اس کے کہ یہ صرف ایک ہی مقام (جیسا کہ روایتی طور پر افریقہ) سے پھیلی ہو۔[17]

آرمینیا میں برنجی دور کی بہت سی ابتدائی آبادیاں قائم تھیں—جیسے وادیِ آرارات، شینگاویت، ہاریچ، کاراز، امیرانیس گورا، مارگاہوِت، گارنی وغیرہ۔ ان میں سے اہم ترین مقامات میں سے ایک شینگاویت ہے، جس کی تاریخ چوتھی اور تیسری ہزار قبل مسیح تک پہنچتی ہے۔[18]
یہ مقام آج کے یریوان—آرمینیا کے موجودہ دار الحکومت—کے اندر واقع ہے۔
قدیم عہد
[ترمیم]
آرمینیا ارارات کے پہاڑی سلسلوں سے گھری ہوئی بلندیوں میں واقع ہے۔ یہاں انسانی تہذیب کے بہت قدیم آثار ملتے ہیں، خصوصاً برنجی دور اور اس سے پہلے کے زمانے کے، جن کی تاریخ تقریباً 4000 قبل مسیح تک جاتی ہے۔
2010 اور 2011 میں آرینی-1 غار کے آثار قدیمہ میں کی گئی تحقیقات کے نتیجے میں دنیا کا قدیم ترین چرمی جوتا،[19][20] ایک 5900 سال قدیم دامن (اسکرٹ)،[21] اور دنیا کا قدیم ترین شراب سازی کا کارخانہ دریافت ہوا۔[22]
برنجی دور میں عظیم آرمینیا کے علاقے میں کئی ثقافتیں اور ریاستیں پروان چڑھیں، جیسے تریالیطی-وانادزور ثقافت، ہایاسا-آزّی اور می شیر (جس کا قیام تاریخی آرمینیا کے جنوب مغربی حصے میں تھا)۔ محققین کے مطابق ان میں سے اکثر میں ہند-یورپی نسل کے لوگ آباد تھے۔[23][24][25][26]
قدیم نائری ریاست اور اس کی جانشین سلطنت اورارتو نے بالترتیب آرمینیائی بلندیوں پر اقتدار قائم کیا۔ ان تمام قوموں اور کنفیڈریسیوں نے مل کر جدید نسلِ آرمینیائی کی تشکیل میں کردار ادا کیا۔[27]
یریوان میں دریافت ہونے والی ایک بڑی میخی سنگی تحریر سے ثابت ہوتا ہے کہ موجودہ دار الحکومت کی بنیاد 782 قبل مسیح میں بادشاہ ارجشٹی اول نے رکھی۔ یریوان دنیا کے قدیم ترین مسلسل آباد شہروں میں شمار ہوتا ہے۔ [28]

اورارتو کے زوال (6ویں صدی قبل مسیح کے آغاز) کے بعد آرمینیائی بلندیوں پر کچھ عرصہ تک ماد سلطنت کا غلبہ رہا، جس کے بعد یہ علاقہ ہخامنشی سلطنت کا حصہ بن گیا۔
آرمینیا ہخامنشی سلطنت میں دو ساتراپیوں میں تقسیم تھا:
ساتراپی XIII — مغربی حصہ، دار الحکومت مالاطیہ
ساتراپی XVIII — شمال مشرقی حصہ [29]
6ویں صدی قبل مسیح کے اواخر میں پہلی بار ہمسایہ اقوام نے اس خطے کو “آرمینیا” کہا، جب اروندی خاندان کے تحت آرمینیا کی ابتدائی ساتراپی تشکیل پائی۔[30]

190 قبل مسیح میں بادشاہ آرٹاکسیا اول کے دور میں آرمینیا سلوقی سلطنت کے اثر سے آزاد ہوا اور آرٹاکسیائی خاندان کی حکمرانی کا آغاز ہوا۔ [31]
95 تا 66 قبل مسیح، بادشاہ تگرین اعظم کے دور میں آرمینیا نے اپنی طاقت کی معراج حاصل کی اور رومی جمہوریہ کے مشرق میں اس دور کی سب سے طاقتور سلطنت بن گیا۔[32]
بعد کی صدیوں میں آرمینیا مختلف ادوار میں
کبھی آزاد،
کبھی نیم خود مختار اور کبھی بڑی سلطنتوں کے زیرِ نگیں رہا۔
ان بڑی سلطنتوں میں شامل تھے: اشوریہ، ماد، ہخامنشی سلطنت، یونانی قوم، سلطنت اشکانیان، قدیم روم، ساسانی سلطنت، بازنطینی سلطنت، عرب خلافت، سلجوقی سلطنت، منگول، سلطنت عثمانیہ، صفوی سلطنت، افشاری خاندان، قاجار خاندان اور سلطنت روس۔
قدیم آرمینیا کا مذہب ایرانی عقائد سے جڑا ہوا تھا، جس سے آگے چل کر زرتشتیت وجود میں آئی۔ یہاں مِتھرہ کے علاوہ آرامازد، واہاگن، اناہیت اور استغیک جیسے دیوتاؤں کی پوجا کی جاتی تھی۔ ان کا قدیم آرمینیائی تقویم شمسی تھا اور 12 مہینوں پر مشتمل تھا۔[33]
مسیحیت کا آغاز
مسیحیت پہلی صدی عیسوی میں آرمینیا پہنچی، جب یسوع مسیح کے دو رسول—تدی اور برتلمائی—اس خطے میں آئے۔ [34]
گریگوری روشن گر کی تبلیغ کے نتیجے میں بادشاہ تردادت سوم نے 301ء میں مسیحیت کو ریاستی مذہب قرار دیا،[35] جس سے آرمینیا دنیا کی پہلی مسیحی ریاست بن گیا۔[11]
آرمینیائی تہذیب کا سنگِ بنیاد
آرمینیائی حروف تہجی کی ایجاد بھی آرمینیا کی تاریخ میں ایک سنگِ میل ہے، جسے مسرپ ماشتوتس نے تقریباً 405ء میں وضع کیا۔ [34]
428ء میں آرمینیائی آرساسید سلطنت کے خاتمے کے بعد آرمینیا کا بڑا حصہ ساسانی آرمینیا کے طور پر ساسانی سلطنت میں شامل ہو گیا۔[36] 451ء میں جنگ آوارایر کے باوجود مسیحی آرمینیائیوں نے اپنا مذہب برقرار رکھا اور 484ء کے معاہدہ نوارساک کے بعد انھیں داخلی خود مختاری بھی مل گئی۔ [37]
نگارخانہ
[ترمیم]فہرست متعلقہ مضامین آرمینیا
[ترمیم]| ویکی ذخائر پر آرمینیا سے متعلق سمعی و بصری مواد ملاحظہ کریں۔ |
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ "صفحہ آرمینیا في خريطة الشارع المفتوحة"۔ OpenStreetMap۔ اخذ شدہ بتاریخ 13 اپریل 2026ء
{{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في:|accessdate=(معاونت) و|accessdate=میں 15 کی جگہ line feed character (معاونت) - ↑ http://lenta.ru/news/2012/02/09/armenia/
- ↑ http://chartsbin.com/view/edr
- ^ ا ب
- ↑ "Armenia". Oxford Reference (بزبان انگریزی). Retrieved 2025-03-29.
- ↑
- ↑ The Oxford Encyclopedia of Economic History۔ Oxford University Press۔ 2003۔ ص 156۔ ISBN:978-0-19-510507-0
- ↑ J. P. Mallory؛ Douglas Q. Adams (1997)۔ Encyclopedia of Indo-European culture۔ Fitzroy Dearborn۔ ص 30۔ ISBN:978-1-884964-98-5
- ↑ Robert Drews (2017). Militarism and the Indo-Europeanizing of Europe. Routledge. p. 228.
- ↑ Nina G. Garsoïan (1997)۔ The Armenian People from Ancient to Modern Times۔ St. Martin's Press۔ ص 81
- ^ ا ب Martin D. Stringer (2005)۔ A Sociological History of Christian Worship۔ Cambridge University Press۔ ص 92
- ↑ Rene Grousset (1984)۔ Histoire de l'Armenie۔ ص 122
- ↑ "Constitution of Armenia"۔ اخذ شدہ بتاریخ 2020-03-07
{{حوالہ ویب}}:|عنوان=میں 13 کی جگہ line feed character (معاونت) - ↑
- ↑ Pavel Dolukhanov؛ Stepan Aslanian؛ Evgeny Kolpakov؛ Elena Belyaeva (2004)۔ "Prehistoric Sites in Northern Armenia"۔ Antiquity۔ ج 78 شمارہ 301۔ 29 May 2017 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 26
March 2024
{{حوالہ رسالہ}}: تحقق من التاريخ في:|تاریخ رسائی=(معاونت) و|تاریخ رسائی=میں 3 کی جگہ line feed character (معاونت) - ↑ D. S. Adler; K. N. Wilkinson; S. Blockley; D. F. Mark; R. Pinhasi; B. A. Schmidt-Magee; S. Nahapetyan; C. Mallol; F. Berna (26 Sep 2014). "Early Levallois technology and the Lower to Middle Paleolithic transition in the Southern Caucasus". Science (بزبان انگریزی). 345 (6204): 1609–1613. Bibcode:2014Sci...345.1609A. DOI:10.1126/science.1256484. ISSN:0036-8075. PMID:25258079. S2CID:10266660.
- ↑ "325,000 Year Old Stone Age Site In Armenia Leads To Human Technology Rethink"۔ 28 ستمبر 2014۔ 2021-03-06 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2024-03-26
- ↑ "A View from the Highlands: The History of Shengavit, Armenia in the 4th and 3rd Millennia BCE"۔ The Shelby White and Leon Levy Program for Archaeological Publications۔ 2024-05-11 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2024-05-11
- ↑ "10 World's Oldest Things from Armenia"۔ 17 دسمبر 2014
- ↑ "Armenian cave yields what may be world's oldest leather shoe"۔ سی این این۔ 9 جون 2010۔ 2018-01-28 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2018-01-28
- ↑ "5,900-year-old women's skirt discovered in Armenian cave"۔ News Armenia۔ 13 ستمبر 2011۔ 2017-10-10 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2011-09-14
- ↑ "Earliest Known Winery Found in Armenian Cave"۔ نیشنل جیوگرافک سوسائٹی۔ 12
January 2011۔ 8
January 2018 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 28 January 2018
{{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في:|تاریخ=و|آرکائیو تاریخ=(معاونت)،|آرکائیو تاریخ=میں 2 کی جگہ line feed character (معاونت)، و|تاریخ=میں 3 کی جگہ line feed character (معاونت) - ↑ John A. C. Greppin؛ I. M. Diakonoff (1991)۔ "Some Effects of the Hurro-Urartian People and Their Languages upon the Earliest Armenians"۔ Journal of the American Oriental Society۔ ج 111 شمارہ 4: 720–730۔ DOI:10.2307/603403۔ ISSN:0003-0279۔ JSTOR:603403
- ↑ Joan Aruz, Kim Benzel, Jean M. Evans, Beyond Babylon: Art, Trade, and Diplomacy in the Second Millennium B.C. Metropolitan Museum of Art (New York, N.Y.)[https://archive.org/details/bub_gb_gr5BgOwEJicC/page/n179 ] (2008) pp. 92
- ↑ Aram V. Kossian (1997)، The Mushki Problem Reconsidered، 2019-08-29 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا، اخذ شدہ بتاریخ 2019-08-31
{{حوالہ}}:|عنوان=میں 4 کی جگہ line feed character (معاونت) pp. 254 - ↑ Peter I. Bogucki and Pam J. Crabtree [http://lukashevichus.info/knigi/ancient_europe_encycl_bogucki_crabtree_1.pdf Ancient Europe, 8000 B.C. to A.D. 1000] آرکائیو شدہ 9 جنوری 2016 بذریعہ وے بیک مشین, 2004
- ↑ Vahan Kurkjian (1958)۔ History of Armenia (1964 ایڈیشن)۔ Michigan: Armenian General Benevolent Union۔ 27
May 2012 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 22
July 2009
{{حوالہ کتاب}}: تحقق من التاريخ في:|تاریخ رسائی=و|آرکائیو تاریخ=(معاونت)،|آرکائیو تاریخ=میں 3 کی جگہ line feed character (معاونت)، و|تاریخ رسائی=میں 3 کی جگہ line feed character (معاونت) - ↑ Bournoutian 2006, p. 12
- ↑ …
- ↑ …
- ↑ Hewsen 2001, p. 34
- ↑ …
- ↑ …
- ^ ا ب Hacikyan …
- ↑ …
- ↑ …
- ↑ Panossian …
- آرمینیا
- آرمینیائی زبان بولنے والے ممالک اور علاقہ جات
- آزاد خیال جمہوریتیں
- آزاد ریاستوں کی دولت مشترکہ کے ارکان
- اراکین غیر نمائندہ اقوام اور عوامی تنظیم
- اقوام متحدہ کے رکن ممالک
- ایشیا میں 1918ء کی تاسیسات
- ایشیا میں 1991ء کی تاسیسات
- ایشیائی ممالک
- جمہوریتیں
- دو براعظموں میں واقع ممالک
- روسی زبان بولنے والے ممالک اور علاقہ جات
- زمین بند ممالک
- سوویت اتحاد کی جمہوریتیں
- قریب مشرقی ممالک
- قفقاز
- مجلس یورپ کے رکن ممالک
- مسیحی ریاستیں
- مشرقی یورپ
- مشرقی یورپی ممالک
- مغربی ایشیا
- مغربی ایشیائی ممالک
- یورپ میں 1918ء کی تاسیسات
- یورپ میں 1991ء کی تاسیسات
- یورپی ممالک
- 1918ء میں قائم ہونے والے ممالک اور علاقے
- 1920ء کی ایشیا میں تحلیلات
- 1920ء کی یورپ میں تحلیلات
- 1920ء میں تحلیل ہونے والی ریاستیں اور عملداریاں
- 1991ء میں قائم ہونے والے ممالک اور علاقے



