مندرجات کا رخ کریں

تونس

متناسقات: 34°N 9°E / 34°N 9°E / 34; 9
آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
جمہوریہ تونس
Republic of Tunisia
الجمهورية التونسية (عربی)
al-Jumhūrīyah at-Tūnisīyah
پرچم Tunisia
شعار: 
ترانہ: 
محل وقوع تونس (گہرا نیلا) – افریقا میں (ہلکا نیلا & گہرا سرمئی) – افریقی اتحاد (ہلکا نیلا)
محل وقوع تونس (گہرا نیلا)

– افریقا میں (ہلکا نیلا & گہرا سرمئی)
– افریقی اتحاد (ہلکا نیلا)

Location of Tunisia
دار الحکومت
and largest city
تونس شہر
36°50′N 10°9′E / 36.833°N 10.150°E / 36.833; 10.150
سرکاری زبانیںعربی زبان[2]
نسلی گروہ
مذہب
اسلام
آبادی کا نامتونسی
حکومتوحدانی نیم صدارتی جمہوریہ[9][10]
• صدر
باجی قائد السبسی
یوسف شاہد
مقننہعوامی نمائندگان کی اسمبلی
قیام
• حسینی خاندان کی حکومت
15 جولائی 1705
• فرانس سے آزادی
20 مارچ 1956
25 جولائی 1957
14 جنوری 2011
رقبہ
• کل
163,610 کلومیٹر2 (63,170 مربع میل) (93 واں)
• پانی (%)
5.0
آبادی
• 2014 تخمینہ
10,982,754[11] (79 واں)
• کثافت
63/کلو میٹر2 (163.2/مربع میل) (133 واں)
جی ڈی پی (پی پی پی)2017 تخمینہ
• کل
$136.797 بلین[12]
• فی کس
$12,065[12]
جی ڈی پی (برائے نام)2017 تخمینہ
• کل
$40.289 بلین[12]
• فی کس
$3,553[12]
جینی (2010)36.1[13]
میڈیم
ایچ ڈی آئی (2016)Increase 0.725[14]
ہائی · 97 واں
کرنسیتونسی دینار (TND)
منطقۂ وقتیو ٹی سی+1 (مرکزی یورپی وقت)
ڈرائیونگ سائیڈدائیں ہاتھ
کالنگ کوڈ+216
آیزو 3166 کوڈTN
انٹرنیٹ ایل ٹی ڈی

تونس (عربی: تونس، فرانسیسی: Tunisie)، سرکاری نام جمہوریۂ تونس (عربی: الجمهورية التونسيةشمالی افریقہ میں بحیرہ روم کے ساحل پر واقع ایک ملک ہے۔ یہ اُن ممالک میں شمار کیا جاتا ہے جو کوہ اطلس کے گرد و نواح میں واقع ہیں۔ اس کی سرحدیں مغرب میں الجزائر اور جنوب مشرق میں لیبیا سے ملتی ہیں۔ ملک کا تقریباً چالیس (%40) فی صد حصہ صحرائے اعظم پر مشتمل ہے جبکہ زیادہ تر باقی ماندہ علاقہ زرخیز زمینوں اور اس کے علاوہ تقریباً (1300) تیرہ سو کلومیٹر طویل ساحلی علاقوں پر مشتمل ہے۔ اردو میں انگریزی کے زیر اثر اسے تیونس کہہ دیا جاتا ہے جو غلط ہے، ملک کا اصل نام تونس ہے۔

تاریخ

[ترمیم]

قبلِ اسلام

[ترمیم]

تاریخی حقائق کے مطابق تونس کی ابتدا بربر قبائل سے ہوئی۔ تقریباً دس (10) صدی قبلِ مسیح تونس کی بندرگاہ کی دریافت و آغاز کا سہرا فونیقی باشندوں کو جاتا ہے جبکہ صور کے باشندوں نے تقریباً نو (9) صدی قبلِ مسیح شہر قرطاج (انگریزی: Carthage) کی بنیاد رکھی۔ کچھ مورخین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ملکہ ایلیزا نے تقریباً ً آٹھ سو چودہ سال (814) قبل ِ مسیح اس شہر کی بنیادرکھی تھی۔ یونان کے زیرِ قبضہ سسلی سے جنگوں کے ایک طویل سلسلے کے بعد تقریباً پانچ صدی (5) قبلِ مسیح میں قرطاج کو بالآخر فتح حاصل ہوئی اور یوں مغربی بحیرہ روم میں قرطاج کی تہذیب مربوط انداز میں سامنے آئی۔ قرطاج کے لوگ بتوں کے پجاری تھے، ان بتوں میں مشرق وسطیٰ کے اُس کے زمانے کے بت بعل اورتانیث کی بھی پوجا کی جاتی تھی۔ تانیث ایک لمبے ہاتھوں اور لمبے لباس والی دیوی تھی، جو ایک مشہور نشان یا علامت کے طور پر اب بھی قدیم جگہوں پر پائی جاتی ہے۔ قرطاج بنانے والوں نے ٹوپھیٹ بھی بنایا جس کو رومیوں نے بدل ڈالا۔

گوکہ رومیوں کے حوالے سے نیا شہر قرطاج فونیق یا فونیقی طرز میں بڑھتا چلا گیا تاہم قرطاج کے اطراف میں قائم ہونے والی سلطنت فونیقی بستیوں کے مقابلے میں ایک آزاد سیاسی حیثیت کی حامل تھی۔ قرطاجیوں کی جانب سے ہنابیل کی زیرِقیادت اطالیہ پر حملوں کے آغاز میں دوسری فونیقی جنگ کے دوران میں رومی سلطنت کے بڑھتے ہوئے قدموں کو روک کر دیا۔ قرطاج کو روم نے دوسری صدی قبلِ مسیح میں فتح کر لیا، جس کی بدولت اس خطہ کی تہذیب میں ایک اہم موڑ آیا اور بحیرہ روم کی تہذیب و تمدن یورپ زدہ ہو گئی۔ رومیوں کی فتح کے بعد یہ علاقہ روم کے لیے اناج کی گودیوں کا مرکز بن گیا اور مکمل طور پر لاطینی اور مسیحی اثر میں آ گیا۔ تقریباً پانچویں صدی عیسوی میں اس کو وینڈلز نامی جنگجوؤں نے فتح کر لیا تاہم چھٹی صدی میں اس کو بازنطینی حکمراں جسٹینین نے فتح کر لیا۔

اسلام کے زیر اثر

[ترمیم]
مسجدِ زیتونیہ کے مینار

ساتویں صدی عیسوی میں عرب مسلمانوں کے بڑھتے ہوئے قدموں نے اس خطے کو بھی فتح کرلیااور یہاں پر قیروان کی بنیاد رکھی۔یہ علاقہ خلافت امویہ کے دور میں مشہور جرنیل عقبہ بن نافع نے فتح کیا۔ نویں صدی عیسوی میں یہاں پر اغالبہ حکومت کی بنیاد پڑی جو 972ء سے زیریوں کے ہاتھ میں آگئی، اس دور میں فاطمی کے پیروکاروں کو کافی مالی آسودگی حاصل ہوئی۔ جب 1050ء میں زیریوں اور فاطمیوں میں اختلافات ہوئے تو بنو ہلال کوایک خط بھیجا گیا جس میں تونس کو غارت گری کا نشانہ بنانے کی دھمکی دی گئی۔

بارہویں صدی عیسوی میں ساحلی علاقوں پر ایک بار پھر سسلی نے قبضہ کر لیا، جس کومسلم عربوں نے دوبارہ فتح کیا، نتیجتاً مسیحی تونس سے بالکل غائب ہو گئے۔

1159ءمیں تونس کو موحدین نے فتح کر لیا، 1230ء بنو حفص نے اس خطے پر اپناجھنڈا لہرایا، جن کے زیرِاثر1230ء سے 1574ءتک اس خطے نے خوب ترقی کی۔

سولہویں صدی عیسوی میں بنو حفص کے زوال کے باعث ساحلی علاقے بحری قزاقوں کا مضبوط گڑھ بن گئے۔ بنو حفص کے اختتامی سالوں میں اسپین نے کئی ساحلی شہروں کوفتح کر لیا جو خلافت عثمانیہ نے واپس لے لیے۔ ترک حکمرانوں کے دورِ حکومت میں تونس کو خود مختاری حاصل ہو گئی۔ اس طرح پشت درپشت چلنے والی حکومت جو 1705ء میں قائم ہوئی تھی، 1957ء تک قائم رہی۔

فرانسیسی تسلط

[ترمیم]
چرچ سینٹ کیتھیڈرل ڈی پال، تونس

اٹھارویں صدی کے وسط میں جب بے سیورلے تونس کا حکمراں تھا، کئی ایسے متنازع معاشی فیصلے کیے گئے، جس کے نتیجے میں تونس دیوالیہ ہو گیا۔ایسے میں جب بے سیورلے نے فرانس سے ایک خطیر رقم بطور قرض حاصل کی تاکہ ملک کو مغرب زدہ یامغربی ترقی کی راہ پر ڈالا جائے تواس موقع کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے فرانس نے تونس پر قبضہ کے لیے منصوبہ بندی شروع کردی۔ایک ناکام ریاست کو دیکھتے ہوئے الجزائر نے بھی کئی حملے کیے تاکہ تونس پر قبضہ کیاجاسکے۔کمزور بے سیورلے اس موقع پر ان حملوں کے سامنے بے بس ہو گیااوریورپی ریشہ دوانیوں کے سامنے بھی کوئی مزاحمت نہ کرسکا۔

1878ء میں برطانیہ اورفرانس کے درمیان میں ایک خفیہ معاہدہ ہوا، جس میں شمالی افریقہ کے اس ملک کے مستقبل کا تعین کیا گیا۔مشروط معاہدہ کے تحت اگر فرانس قبرص پر برطانیہ کے قبضے کو تسلیم کرلیتاہے تو برطانیہ بھی تونس پر فرانس کا قبضہ تسلیم کر لے گا۔اس معاہدہ پر دونوں فریق راضی ہو گئے اور اس طرح تونس 12 مئی 1881ء کو تونس باقاعدہ طور پر فرانس کے زیرِ اثر آگیا۔

جنگ عظیم دوم

[ترمیم]

1942-1943ء میں دوسرے جنگِ عظیم کے دوران میں تونس فسطائی قوتوں (اطالیہ اور نازی جرمنی) کے خلاف اتحادی قوتوں (برطانیہ اور امریکا) کے پہلے مضبوط گڑھ کی صورت میں سامنے آیا۔ برطانوی افواج کا مرکزی دستہ جو علمین کی جنگ اور پھر فتح کے تجربہ سے لیس تھے، فیلڈ مارشل برنارڈ منٹگمری کی زیرِ قیادت جنوب سے تونس میں داخل ہوئے جبکہ امریکی و دیگر اتحادی افواج نے مغرب سے حملوں کا آغاز کرتے ہوئے الجزائر اور مراکش کے “آپریشن ٹارچ” کا آغاز کیا۔

شمالی افریقہ میں نازی افواج کے کمانڈر میں جنرل ایرون رومل جو 1940ء میں فرانس کی جنگ میں فتح کے بعد بہت پر امید تھے کہ اتحادی افواج کو بھی فرانس کی طرح شکست سے دوچارکریں گے۔ تونس کی جنگ سے قبل ناتجربہ کاراتحادی افواج، جرمنی کے ابتدائی جنگی حملوں کا سامنا کرنے کے بھی قابل نہ تھیں اور نہ کوئی باہمی جنگی حکمتِ عملی ان کے پاس تھی۔ اس طرح تونس کی یہ جنگ اتحادی افواج کے لیے بھی ایک بڑی آزمائش تھی۔

اس لیے اتحادی افواج نے اس کمی کو محسوس کرتے ہوئے یہ طے کیا کہ نازی افواج کوشکست دینے کے لیے ضروری ہے کہ تمام تر جنگی حملوں میں مکمل باہمی ربط و ضبط رکھا جائے اور تجربہ کار جرمنی اور اٹلی کی افواج کو ہر محاذ پربھرپور طاقت کے ساتھ جواب دیا جائے۔

19 فروری، 1943ء کونازی جنرل رومل نے مغربی تونس میں واقع درۂ قصرین کے علاقے میں امریکی افواج پر حملہ کیا، جنرل رومل کو اُمید تھی کہ اس حملے کے نتیجے میں اتحادی افواج کاحوصلہ ٹوٹ جائیگا اور اتحاد پارہ پارہ ہوجائیگا، جس طرح جرمنی نے پولینڈ اور فرانس کو شکست دی تھی۔ حملے کے ابتدائی نتائج واقعی امریکی افواج کے لیے بڑے تباہ کن تھے۔اُس وقت درۂقصرین کے مضافات میں امریکی افواج کے کئی قبرستان بن گئے، جنہیں جنگی قبریں بھی کہا جاتا ہے۔

تاہم آخرکار امریکی افواج نے بھی جواباً جارحانہ انداز اختیارکرہی لیا۔آخرکاراتحادی افواج نے 8 اپریل کو جنگی حکمت عملی میں تبدیلی لاتے ہوئے از سر نو صف بندی کی اور 2 مئی، 1943ء کو جرمنی اور اطالیہ کی افواج کو شکست سے دوچار کیا۔ اس طرح امریکا، برطانیہ، آزاد فرانس، پولینڈ (اوردیگر اتحادی افواج) نے ایک بڑی جنگ اتحادی فوج کی صورت جیت لی۔

آزادی

[ترمیم]
حبیب بورقیبہ آزاد تونس کے بانی اور پہلے صدر

مغربی ریشہ دوانیوں سے قبل 1881ء تک تونس کی بندرگاہوں کا ایک حصہ سلطنت عثمانیہ کے زیرِ اثرتھا۔اُس وقت تک تونس یورپ سے مالی امداد لے رہا تھا تاکہ ملک میں مالی استحکام و جدیدطرزِ زندگی لایاجاسکے۔ تاہم جب تونس کی عوام کے لیے قرضوں کے بڑھتے ہوئے حجم کے باعث محصولات کا بوجھ ناقابلِ برداشت ہو گیا تو ملک دیوالیہ ہو گیا اور یہی وہ وقت تھا کہ فرانس، برطانیہ اور اطالیہ نے ایک بین الاقوامی معاہدے کے ذریعے تونس کا نظم و نسق اپنے ہاتھ میں لے لیا۔

ابتدائی مراحل میں سرمایہ کاری، تہذیب وشہریت اور جغرافیائی حدود بندی جیسے محرکات کی بنا پر اطالیہ نے تونس پر تسلط کی خواہش کا اظہار کیا۔ تاہم برطانیہ اور فرانس کے باہمی اشتراک نے اطالیہ کی اس خواہش کو پورا نہ ہونے دیا۔ 1871ء تا 1878ء تک کی ان کوششوں کا اختتام تب ہوا کہ جب برطانیہ کے تعاون سے فرانس نے قبرص پر تبادلۂ اقتدار کر لیا، یعنی فرانس نے ایک معاہدہ کے تحت قبرص پر برطانوی قبضے کو تسلیم کر لیا اور بدلے میں برطانیہ نے تونس پر فرانس کے تسلط کو تسلیم کر لیا۔

اطالیہ کا تونس میں اثر قائم تھا جو فرانس کے لیے ایک مسئلہ تھا، لہذا اس کو روکنے کا فیصلہ کیا گیا۔ تونس کے الجزائرپر حملے کے تناظر میں فرانس نے تیزی سے پیش قدمی کرتے ہوئے 36 ہزارفوجیوں کی مدد سے بندرگاہوں پر بھی قبضہ کر لیا اور یوں 1881ء میں معاہدۂ القصر السید وجود میں آیا، جس کے تحت تونس کا نظم و نسق مکمل طور پر فرانس کے ہاتھوں میں آگیا اور تونس مکمل طور پر فرانس کے زیرِاثر آگیا۔

تونس پر فرانس کے تسلط سے جہاں تونس کی آزادی سلب ہوئی، وہیں تونس کو چند فوائد بھی حاصل ہوئے تاہم تونس کی عوام میں خود مختاری کی خواہش باقی رہی۔ 1910ء میں علی بچ حمبہ اور بشیر اصفر نے تونس کے نوجوانوں کو متحد کرناشروع کیا، جو 1920ء میں جماعتِ دستور(آئین) کی شکل اختیار کرگیا۔ آزادی کی اس نئی تحریک کو دبانے کے لیے فرانس کو “جزا اورسزا” کی حکمتِ عملی اپنانے پر مجبورکر دیا، یعنی جو لوگ فرانس کے وفادار ہوتے، اُن کو نوازا جاتا اورجوفرانس کے مفاد کے خلاف کام کرتے، اُن کے لیے سزائیں۔اس حکمتِ عملی نے وقتی طور پر کام بھی کیا لیکن آزادی کی اس تحریک کو دبا نہ سکے۔ 1934ء میں حبیب بورقیبہ، ڈاکٹرمحمود ماتیر، طہراصفر اور باحری جیجہ، جیسے لوگوں کی ولولہ انگیز قیادت میں “نئی جماعت دستور” سامنے آئی، جو پہلے سے زیادہ پرُجوش، پرُعزم اورپرُ اعتماد تھی۔ اس نئی جماعت کے سامنے آتے ہی فرانسیسی اربابِ اختیارنے اسے غیر قانونی قراردے دیا، تاہم اطالیہ نواز تنظیموں نے اس نئی جماعت کی کھل کر حمایت کی۔ [16]

حبیب بورقیبہ نے زندگی کا بڑا حصہ فرانسیسی جیلوں میں گزارا، تاہم اس سے اُن کی شخصیت کے تاثر یا تحریک پرزیادہ فرق نہیں پڑا۔دوسری جنگِ عظیم حبیب بورقیبہ کے لیے نہایت اہم ثابت ہوئی کیونکہ انھیں فرانسیسی جیل “وشی” سے نکال کر پہلے روم اور پھر تونس پہنچادیاگیا کیونکہ نازی افواج نے عوام میں حبیب بورقیبہ کی مقبولیت سے بھرپور فائدہ اُٹھایا جبکہ حبیب بورقیبہ کبھی اس سلسلے میں کوئی تعاون کی درخواست نہیں کی۔ اس کے بعد حبیب بورقیبہ تونس میں ہی رہے اور اُس کے دو مہینے کے بعد اتحادی افواج نے دوبارہ تونس پر اپنا تسلط قائم کرکے نازی افواج کو شکست دے دی۔

اس کے بعد دس سال تک آزادی کی یہ تحریک جاری رہی اور کی حمایت بڑھتی ہی رہی۔1952ء سے 1954ء کے دوران میں حبیب بورقیبہ کو ایک بار پھر قیدو بند کی صعوبتوں کا سامنا کرنا پڑا نتیجتاً آزادی کے حمایتیوں کی جانب سے گوریلا حملوں کا آغاز کر دیا گیا۔1954ءمیں حالات نے تیزی سے کروٹ لی جب پیری مینڈس فرانس فرانس کے حکومت کی باگ ڈور سنبھالی اور نئی حکومتی پالیسی کا اعلان کیا، جس کے تحت تمام ایسی فرانسیسی بستیوں سے پیچھا چھڑانے کا فیصلہ کیا گیا جو فرانس کی معیشت کے لیے بوجھ بن گئیں تھیں، تونس اس میں شامل تھا۔ نتیجے کے طور پر اپریل 1955ء میں معاہدہ عمل میں آیا، جس کے تحت تونس کو اندرونی خود مختاری دی گئی جبکہ بیرونی و بین الاقوامی تعلقاتِ عامہ کا نظم ونسق فرانس کے پاس ہی رہا۔ کچھ اسی طرح کی انتظامی تبدیلیاں ترکی کی بندرگاہوں کے ساتھ بھی کی گئیں جو 1881ء کے معاہدہ کے زیرِ اثرتھیں۔

نئی دستور جماعت اب قابو میں تھی تاہم حبیب بورقیبہ نے اس وقت تک کسی بھی قسم کی انتظامی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کر دیاکہ جب تک تونس کو مکمل خود مختاری نہ دی جائے۔ اُن کو زیادہ انتظار نہ کرنا پڑا کیونکہ الجزائرکی جنگ آزادی نے فرانس کی بستیاں بنانے کی خواہش کو بدل ڈالا اور یوں “معاہدۂ القصر السید” ختم ہو گیا اور 20 مارچ 1956ء کو تونس کو مکمل خود مختاری مل گئی۔ حبیب بورقیبہ وزیرِ اعظم بن گئے اور پھر 1957ء میں جمہوریہ تونس کے پہلے صدربن گئے۔

حالیہ سیاست

[ترمیم]

تونس ایک عوامی جمہوریہ ہے، جہاں مربوط صدارتی نظام رائج ہے جس پر شروع سے ایک ہی سیاسی جماعت کی اجارہ داری رہی ہے۔ موجودہ صدر زین العابدین بن علی نے 1987ء میں حبیب بورقیبہ کو بلا کسی خون خرابے کے معزول کرکے صدارت کا عہدہ سنبھالا تھا۔ زین العابدین نے حکومت میں رہنے کے لیے اب تک دو مرتبہ ملک کے آئین میں تبدیلیاں کی ہیں۔ پہلی تبدیلی کے تحت کسی بھی شخص کو دو کی بجائے تین بار صدرِ کے عہدے پر رہنے کے لیے اہل قرار دیا گیا جبکہ دوسرے تبدیلی میں یہ مدت تین کی بجائے پانچ بار کردی گئی۔ حزب اقتدار میں جمہوری آئینی جماعت (RCD)، جس کا نام پہلے معاشرتی دستوری جماعت تھا، گذشتہ 25 سال سے ملک کی مضبوط ترین سیاسی جماعت رہی ہے اور ہنوز آر سی ڈی کی سیاسی زندگی بہت طویل نظر آتی ہے۔

تونس کے آئین کے مطابق صدر پانچ سال کے لیے منتخب کیا جاتا ہے، پھر وہ وزیرِ اعظم اور مرکزی کابینہ کوتعینات کرتاہے، جن کا حکومت چلانے میں نہایت اہم کردارہوتا ہے۔ وزیرِ اعظم اور کابینہ پر مشتمل یہ حلقہ مرکزی حکومت تشکیل دیتا ہے جو مرکز اور صوبوں کے لیے گورنرز اور منتظمین تعینات کرتی ہے۔

وسیع پیمانے پر مشاورتی ناظمین (میئرز) اور بلدیاتی کونسل کے ارکان منتخب کیے جاتے ہیںِ یہاں ایک ایوانی قانونی ادارہ ہے، ایوان برائے نمائندگان جس میں 182 نشستیں ہیں، جس کا 20 فیصد حزب ِ اختلاف کے لیے مختص ہے۔ یہ ایوان قومی حکمت عملی و دیگر اہم معاملات پر بحث کے لیے نہایت اہم اور کلیدی کردار ادا کرتا ہے لیکن قانون سازی عمل میں لانا اس کا کام نہیں ہے۔ یہ ایوان پیش کیے گئے تمام قانونی مسودوں پر بحث اور معمولی تغیر و تبدل کے بعد انھیں قانون سازی کے لیے آگے بڑھا دیتاہے۔ گوکہ عدلیہ آزاد ہے لیکن اربابِ اختیار کو جواب دہ ہے، خصوصاً سیاسی مقدمات میں۔ یہاں کی فوج پیشہ وارانہ صلاحیتوں کی حامل ہے لیکن سیاست میں اُس کا کوئی کردار نہیں ہے۔

قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ تونس کی سیاست میں عوام کا عمل دخل نہ ہونے کے برابر ہے۔ مختصراً یہ کہ تونس کی سیاست کا تعین کرنا مشکل ہے کیونکہ یہاں حکومتی سطح پر گہری خاموشی اور غیر شفاف سیاسی حکمتِ ہے۔ یہاں ایسے شواہد بھی موجود ہیں کہ حکومتی منحرفین یا مخالفین کو معمولی الزامات لگا کر پابندِ سلاسل کر دیا جاتا ہے جیسا کہ ممنوعہ ویب سائٹس دیکھنا۔ یہاں پر 6 حزب ِ مخالف سیاسی جماعتیں ہیں، جن کا اپنا اخبار بھی ہے۔ تاہم انجمن برائے تحفظ ِ صحافیان (کمیونٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے)) نے اپنی سال 2005ء کی ملک کی سالانہ رپورٹ میں تفصیلات دیں ہیں، جس کے مطابق حکومت پر تنقید کا ارتکاب کرنے والے صحافیوں کو دہشت، قیدوبند، مقدمات اور جسمانی تشدد کا سامنا کرنا پڑا۔ یہاں تک کہ مغربی صحافیوں کو بھی نہیں بخشا جاتا۔ [17]

حکومتی دعوؤں کے برعکس یہاں اظہارِ رائے کی آزادی اور انسانی حقوق پر کئی طرح کی پابندیاں لاگو ہیں۔ حد یہ ہے کہ تونس کے باشندے ملک کے سیاسی معاملات پر بات کرتے ہوئے خوف محسوس کرتے ہیں۔ تاہم انٹرنیٹ یہاں بہت تیزی کے ساتھ معلوماتِ عامہ کی فراہمی اور ریاستی احکامات کی نفوذپذیری کے لیے مقبولِ عام ہو گیا ہے۔ درحقیقت انٹرنیٹ کا بڑھتا ہوا استعمال بھی تونس کے لیے ایک بڑا مسئلہ بنتا جارہاہے۔ انٹرنیٹ کی بدولت یہاں سیاحت کافی بڑھ گئی ہے اور یہاں بڑی تعداد میں انٹرنیٹ خانے(Internet Cafes) موجود ہیں۔ تاہم دیگر چیزوں کی طرح انٹرنیٹ بھی حکومتی پابندیوں کا شکار ہے۔ حکومت کی طرف سے ایسی تمام ویب سائٹس پر پابندی ہے، فحش مواد پر مبنی ہوں، اس کے علاوہ حکومت مخالف تمام فورمز، چیٹنگ رومزاور ویب سائٹس پر بھی پابندی ہے اور کوئی بھی کمپیوٹر تونس میں یہ ویب گاہ نہیں کھول سکتا۔

تونس اُن تین مسلم اکثریتی ممالک میں سے ایک ہے (آذربائیجان اور ترکی کے بعد) جس نے سرکاری عمارات و اداروں میں حجاب کو ممنوع قرار دے دیا ہے۔ نادر شاہی فرمان یہ ہے کہ کوئی بھی خاتون اگر حکومتی اداروں میں حجاب کے لیے اصرار کرتی ہے تو ایسی خواتین اپنی ملازمت چھوڑ سکتی ہیں۔ حکومتی منحرفین کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ یہ اعتراف کریں کہ انھوں نے ایک قابلِ سزا جرم کا اعادہ کیاہے اور جرم ثابت ہونے پر زنداں میں ڈال دیا جاتا ہے۔ وہ خواتین، جو تمام تر دھمکیوں کے باوجود حجاب رکھنے پر بضد ہوتی ہیں، منفی پروپیگنڈے کا نشانہ بن جاتی ہیں، جس کے لیے تمام سرکاری و غیر سرکاری بعید نما اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

حکومت مخالف اسلامی بنیاد پرستوں کی بھی کچھ تعداد یہاں ہے، سابق صدر حبیب بورقیبہ نے بھی اسلامی بنیاد پرستوں پر مشتمل دائیں بازوکی جماعت بنائی تھی [حوالہ درکار]۔ تاہم زین العابدین بن علی نے بنیادپرستوں کے لیے انتہائی سخت حکمتِ عملی اپنائی، جس کے نتائج کا صحیح اندازہ لگا مشکل ہے کیونکہ یہ ایک ایسی قوم ہے جہاں بہت کچھ خفیہ رکھا جاتا ہے۔ باوجود اس کے کہ تونس پر ایک جبری سیاسی نظام مسلط ہے، لوگوں کا معیارِ زندگی بہترین ترقی یافتہ ممالک سے کسی طور کم نہیں۔ جو دو معاشی مثالوں سے ثابت ہے کہ:

تونس ہر طرح کے مادی اشیاءکی پیداوار میں خود کفیل بن گیا ہے تمام تر شہروں اور قصبوں کی رقبہ کے لحاظ سے تعمیرو ترقی۔ اگر کسی درمیانے درجے کی دکان کو دیکھا جائے تو اس میں %90 اشیاء گھریلو صنعتوں کی تیارکردہ ہوتی ہیں۔ اسی طرح تعمیراتی صنعت و ترقی، اگر کسی چھوٹے قصبے (شہروں سے ہٹ کر) کا بھی دورہ کیا جائے تو یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ ترقی کی رفتار پورے ملک میں یکساں ہے۔ اس کے علاوہ بہت سے منصوبے، خصوصاً ہوٹل کی صنعت، ہوٹل تمام تر جدید طرزِ تعمیر کا نمونہ ہیں اور کئی عمارتوں کے ڈھانچے تیار ہیں کہ جیسے ہی کسی نئی عمارت کی ضرورت ہے تو اُس کو معمولی تکمیلی کام کے بعد ایک عالیشان عمارت میں تبدیل کر دیا جائے، جس کے لیے کثیر سرمایہ بھی موجودہے۔

تونس ایک خود مختار و خود کفیل ریاست کے طور پر موجود ہے، ایک ایسے خطے (افریقہ) میں کہ جہاں بھوک و افلاس، بے خانمی اور بیماریاں و دیگر مسائل میں عام ہیں، وہاں تونس میں یہ سب چیزیں ناپید نظر آتی ہیں۔

مذہب

[ترمیم]

تونس مذہب کے معاملے میں انتہائی اعتدال پسندانہ ہے اور مذہبی حقوق کو مکمل تحفظ دینے اور مذاہب کے احترام کے لیے کے لیے قانون باقاعدہ آئین کا حصہ ہے۔عوام کی اکثریت (تقریباً 90 فیصد) سنی مسلمانوں پر مشتمل ہے، جبکہ مسیحیت اور یہودی بھی موجود ہیں۔ اقلیت میں سب سے بڑی تعداد مسیحی مذہب کے پیروکاروں کی ہے جو تقریباً 560،000 کے قریب ہے، جن میں سے 340،000 پروٹیسٹنٹ مسیحی اور 240،000 رومن کیتھولک مسیحی موجود ہیں۔

تونس بڑے فخر سے اپنے آپ کو ایسے معاشرے کا حامل قرار دیتا ہے جہاں دوسرے مذاہب کا احترام کیا جاتا ہے۔ مذہب کے معاملے تونس کے لوگ انتہائی اعتدال پسندانہ مزاج رکھتے ہیں اور تونس کی حکومت بھی اس بات کو باعثِ افتخار سمجھتی ہے کہ مذاہب کے معاملے میں ان کا معاشرہ انتہائی مثالی ہے اور ہرقسم کے مذہب کے لوگوں کو آزادانہ انداز میں اپنے مذاہب کی تعلیمات کے مطابق عمل کرنے کا حق ہے تاوقتیکہ یہ قومی سلامتی کے لیے خطرہ کا سبب نہ ہو۔

تونس کے لوگ اپنی ثقافت و تہذیب پر بڑا فخر کرتے ہیں لیکن مذہب کے بارے میں پوچھنا یا مذہب کی بنیاد پر تفریق کو پسند نہیں کرتے ہیں۔ تونس اُن چند شمال افریقی ملکوں میں سے ایک ہے جہاں تمام مذہبی عبادت گاہیں عبادت کرنے والوں کے لیے کھلے رہتے ہیں۔

جربا، جو تونس کے جنوب میں واقع ایک جزیرہ ہے، یہودیوں کا سب سے بڑا مرکز ہے۔ دنیا کی قدیم ترین یہودی عبادت گاہوں (سیناگوگ) میں سے ایک جربا میں واقع ہے۔ یہودیوں کی بڑی تعداد زیارت کے لیے جربا آتی ہے۔

انتظامی تقسیم

[ترمیم]
تونس کی انتظامی تقسیم

صوبائی یا انتظامی لحاظ سے تونس کو 24 حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ تونس میں صوبے کو ولایت کہتے ہیں، مثلاً ولایۃ قیروان۔ تونس کی 24 ولایتوں کے نام درج ذیل ہیں:

مندرجہ بالا صوبوں کو مزید 262 اضلاع میں تقسیم کیا گیا ہے جنہیں متامدیت بھی کہا جاتا ہے جو آگے جاکے مزید شیخۃ یا میونسپل ڈھانچے میں تقسیم ہوجاتے ہیں۔

جغرافیہ

[ترمیم]
تونس کی فضائی مقام نگاری

تونس ایک ایسا ملک ہے جو شمالی افریقہ میں بحیرہ روم کے کنارے واقع ہے۔ اس کی سرحدیں مغرب میں الجزائر سے ملتی ہیں جبکہ اس کے جنوب مشرق میں لیبیا واقع ہے۔ باوجود ایک چھوٹا ملک ہونے کے تونس جغرافیائی اعتبار سے نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ اس کے عقب میں پہاڑوں کا سلسلہ کوہ اطلس تک پھیلا ہوا ہے جنوب مشرق میں تونس کی سرحدیں الجزائری سرحدوں سے ملتے ہوئے جزیرہ کیپ بون تک چلی جاتی ہیں۔

معیشت

[ترمیم]

تونس کی معیشت متنوع ہے، جس میں زراعت، کان کنی، توانائی، سیاحت، تیل اور پیداواری کے شعبے نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔معاشی معاملات پر حکومتی گرفت اب بھی سخت ہے، تاہم گذشتہ دہائی سے یہ گرفت بتدریج کم ہوتی جارہی ہے، جس کی بدولت نجی کاری کو فروغ ملا، محصولات کے ڈھانچہ کو آسان کیا گیا اور قرضوں تک رسائی آسان کی گئی۔ 1990ء میں ترقی کی رفتار 5٪ تھی جبکہ مہنگائی اس کے مقابلے میں کم تھی۔ بڑھتی ہوئی تجارت اور سیاحت میں معاشی ترقی میں انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے۔

یکم مارچ 1998ء کو تونس اوریورپی اتحاد کے درمیان میں اپنی طرز کا پہلا مشترکہ معاہدۂ تجارت عمل میں آیا۔ یہ بحیرہ روم کے کسی ملک اور یورپی اتحاد کا پہلا معاہدہ تھا۔ اس معاہدے کے تحت تونس آئندہ دہائی میں یورپی اتحاد سے تجارت میں حائل تمام رکاوٹیں بتدریج ختم کر دے گا۔ تاہم بڑے پیمانے پر نج کاری، بیرونی سرمایہ کاری کی راہ ہموار کرنے کے لیے معتدل مزاجی اور کارکردگی کو بڑھانے کے لیے حکومتی استعداد اب بھی تونس کے مستقبل کے لیے وہ مشکلات ہیں جن سے نبردآزما ہو نا ابھی باقی ہے۔ برطانوی جامعہ کے جاری کردہ ضمیمہ 2000ء کے مطابق تونس میں بڑی مقدار میں معدنی نمک کے ذخائر بھی موجود ہیں۔ عالمی تجارتی ادارے کے مطابق 2007ء میں تونس کی معاشی ترقی نے اسے افریقہ کی سب سے تیز ترقی کرنے والی معیشت بنا دیا ہے۔ عرب دنیا میں معاشی ترقی کے لحاظ سے تونس اول نمبر پر جبکہ پوری دنیا میں انتیسویں نمبر پر ہے۔

مطالعہ جمہور

[ترمیم]
تونس کی روایتی روٹی تبونہ تیاری کے مراحل میں

تونس کی آبادی کی اکثریت ([18]%98) عرب ہے [19] اور تونسی عربی بولتے ہیں۔ تاہم یہاں کی سب سے چھوٹی اقلیت (تقریباً[18] %1) بربر قبائل کے لوگوں کی آبادی بھی ہے جو جنوب مشرقی پہاڑی سلسلے اور جربہ کے جزیروں پر آباد ہیں۔ بربر قبائل کے لوگ بنیادی زبان بربر زبانیں بولتے ہیں جنہیں اکثر شیلہا کہا جاتا ہے۔ تونس کے 98 فی صد لوگ مسلمان ہیں[20] جبکہ تونس کی دوسری قدیم ترین آبادی یہودیوں کی ہے جو آج کل زیادہ تر دار الحکومت تونس اور جزیرہ جربہ تک محدود ہو گئے ہیں۔ ان کی تعداد فرانس سے تونس کی آزادی کے بعد مسلسل کم ہوتی جارہی ہے۔

گو کہ تونس کے مقامی لوگ اپنے آپ کو عربی کہتے ہیں لیکن تونس کے لوگوں کے وراثیات کے ایک تحقیقاتی مطالعے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ بات درست نہیں ہے صرف 40 فیصد عرب لوگ مشرق وسطیٰ سے ہجرت کرکے تونس آئے جبکہ تونس میں موجود لوگوں کی اکثریت کا تعلق بربر قبائل سے ہے۔ جو فونیق اور قرطاج سے بھی پہلے پتھر کے زمانے سے یہاں موجود تھے۔ ایک اور تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ تونس کے لوگ موروثی طور پر یورپیوں سے قدرے مختلف ہیں اور شمالی افریقہ کے لوگوں سے قدرے مماثلت رکھتے ہیں۔

زبان

[ترمیم]

جدید معیاری عربی تونس کی سرکاری زبان ہے۔ تاہم عام بول چال کے لیے عرب دنیا کی طرح یہاں بھی عام عربی زبان بولی جاتی ہے۔تونس میں مقامی زبان تیونسی عربی ہے جو مالٹائی زبان سے گہری مماثلت رکھتی[21] ہے جبکہ بہت ہی کم تعداد میں یہاں لوگ شیلہا اور بربر زبانیں بھی لولتے ہیں۔[22] فرانسیسی زبان کا کردار بھی ملک میں نہایت اہم رہا ہے گوکہ اس کی کوئی سرکاری حیثیت نہیں ہے۔بالخصوص تعلیم کے شعبے میں فرانسیسی زبان کا استعمال (مثال کے طور پر اسکولوں میں سائنس کے مضامین پڑھانے میں یا تدریسی زبان کے طور پر) بڑے پیمانے پر کیا جاتا ہے، اس کے علاوہ صحافت میں، تجارت میں جبکہ تونس کے زیادہ تر تعلیم یافتہ لوگ فرانسیسی بول سکتے ہیں۔ شہری علاقوں میں رہنے والے زیادہ تر تونسی، فرانسیسی اور عربی کا اختلاط بھی کرتے ہیں۔

تعلیم

[ترمیم]

1958ء سے پہلے تونس میں تعلیم صرف متمول لوگوں کا مقدر تھی جو کل آبادی کا 14 فی صد تھے۔تاہم اب ترجیحی بنیاد پر تعلیم کے لیے کل قومی پیداواری وسائل کا 6 فیصد حصہ مختص کر دیا گیا ہے۔ 1991ء میں 6 سے 16 سال تک کی عمر کے بچوں کے لیے بنیادی تعلیم کو لازمی قرار دے دیا گیا۔

6 سال کی عمر تک بچوں کر گھر پر ہی تونسی عربی سکھائی جاتی ہے۔، 6 سال کی عمر میں جب بچے کو اسکول میں داخل کرایا جاتا ہے تو اُس کو معیاری عربی میں لکھنا اور پڑھنا سکھایا جاتا ہے۔8 سال کی عمر میں اُن کو فرانسیسی سکھائی جاتی ہے جبکہ 10 سال کی عمر میں انگریزی سے متعارف کرایا جاتاہے۔

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. "Tunisia Constitution, Article 4" (PDF)۔ 26 جنوری 2014۔ 9 فروری 2014 میں اصل (PDF) سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 10 فروری 2014 
  2. "Tunisian Constitution, Article 1" (PDF)۔ 26 جنوری 2014۔ 9 فروری 2014 میں اصل (PDF) سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 10 فروری 2014  Translation by the University of Bern: "Tunisia is a free State, independent and sovereign; its religion is the Islam, its language is Arabic, and its form is the Republic."
  3. Arabic, Tunisian Spoken۔ Ethnologue (19 فروری 1999)۔ اخذکردہ بتاریخ on 5 ستمبر 2015.
  4. "Tamazight language"۔ Encyclopædia Britannica۔ 04 جنوری 2021 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 02 اگست 2017 
  5. "Nawaat – Interview avec l' Association Tunisienne de Culture Amazighe"۔ Nawaat۔ 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 02 اگست 2017 
  6. "An outline of the Shilha (Berber) vernacular of Douiret (Southern Tunisia)" 
  7. "Tunisian Amazigh and the Fight for Recognition – Tunisialive"۔ Tunisialive۔ 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 02 اگست 2017 
  8. ^ ا ب پ
  9. Justin Frosini، Francesco Biagi (2014)۔ Political and Constitutional Transitions in North Africa: Actors and Factors۔ Routledge۔ صفحہ: 4۔ ISBN 978-1-317-59745-2 
  10. Choudhry, Sujit; Stacey, Richard (2014) "Semi-presidential government in Tunisia and Egypt" آرکائیو شدہ (Date missing) بذریعہ idea.int (Error: unknown archive URL)۔ International Institute for Democracy and Electoral Assistance. اخذکردہ بتاریخ 7 جنوری 2016.
  11. "National Institute of Statistics-Tunisia"۔ National Institute of Statistics-Tunisia۔ 12 ستمبر 2014۔ 4 ستمبر 2015 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 12 ستمبر 2014 
  12. ^ ا ب پ ت "Tunisia"۔ International Monetary Fund۔ 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 02 فروری 2018 
  13. "GINI index"۔ World Bank۔ 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 19 جنوری 2013 
  14. "2016 Human Development Report" (PDF)۔ United Nations Development Programme۔ 2016۔ 25 دسمبر 2018 میں اصل (PDF) سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 4 اپریل 2016 
  15. "Report on the Delegation of تونس۔"۔ Internet Corporation for Assigned Names and Numbers۔ 2010۔ 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 8 نومبر 2010 
  16. مصطفٰی کریم۔ اٹلی نژاد تنظیمیں اور تونس کی آزادی 1918–1939 Cahiers du CERES،تیونس، 1969صفحہ نمبر96
  17. "Committee to Protect Journalists 2005 Report on Tunisia"۔ CPJ۔ 2005۔ 25 دسمبر 2018 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 30 نومبر 2006 
  18. ^ ا ب "CIA"۔ 16 اکتوبر 2012 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 02 جون 2008 
  19. "Columbia Gazetteer"۔ 02 اکتوبر 2008 میں اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 02 جون 2008 
  20. سی آئی اے ورلڈ فیکٹ بک
  21. Borg and Azzopardi-Alexander Maltese (1997:xiii) "The immediate source for the Arabic vernacular spoken in Malta was Muslim Sicily, but its ultimate origin appears to have been Tunisia. In fact Maltese displays some areal traits typical of Maghrebine Arabic، although during the past eight hundred years of independent evolution it has drifted apart from Tunisian Arabic."
  22. Gabsi, Zouhir (2003) 'An outline of the Shilha (Berber) vernacular of Douiret (Southern Tunisia)' [1] آرکائیو شدہ (Date missing) بذریعہ library.uws.edu.au (Error: unknown archive URL)

بیرونی روابط

[ترمیم]

34°N 9°E / 34°N 9°E / 34; 9