اہل سنت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
Basmala.svg

Allah-green.svg
مقالہ بہ سلسلۂ مضامین
اسلام

تاریخ اسلام

عقائد و اعمال

خدا کی وحدانیت
قبولیت اسلام
نماز · روزہ · حج · زکوٰۃ

اہم شخصیات

محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم
ابوبکر صدیق · عمر فاروق · عثمان غنی · علی حیدر
احباب حضور اکرم
حضور اکرم کا خاندان
حضور اکرم کی ازواج
دیگر پیغمبران

کتب و قوانین

قرآن · حدیث · شریعت
قوانین · کلام
سیرت

مسلم مکتبہ ہائے فکر

سنی · شیعہ · صوفی

معاشرتی و سیاسی پہلو

اسلامیات · فلسفہ
فنون · سائنس
فن تعمیر · مقامات
اسلامی تقویم · تعطیلات
خواتین اور اسلام · رہنما
سیاسیات · جہاد · آزاد خواہی

مزید دیکھیئے

اسلامی اصطلاحات
اسلام پر مضامین کی فہرست


اہلسنت و الجماعت (أهل السنة والجماعة) مسلمانوں میں پیدا ہو جانے والے دو بڑے تفرقوں میں سے ایک ہے تفرقہ ہے اور اس کو عام الفاظ میں سنی بھی کہا جاتا ہے[1]۔ مسلمانوں کی اکثریت اسی تفرقے سے تعلق رکھتی ہے۔ اہل سنت وہ لوگ ہیں جو خدا اور اس کے رسول کی اطاعت پر ایمان رکھتے ہیں۔ تمام صحابہ کرام کو احترام اور عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک سب صحابی بالخصوص خلفائے راشدین برحق ہیں۔ اور ان کا زمانہ ملت اسلامیہ کا بہترین اور درخشاں دور ہے۔ ان کے نزدیک خلافت پر ہر مومن فائز ہو سکتا ہے بشرطیکہ وہ اس کا اہل ہو۔ ان کے نزدیک خلیفہ جمہور کی رائے سے منتخب ہونا چاہیے۔ وہ خدا کی طرف سے مامور نہیں ہوتا، وہ خلافت کے موروثی نظریے کو تسلیم نہیں کرتے۔ ان کے نزدیک ابوبکر صدیق صحابہ میں فضیلت کا درجہ رکھتے ہیں۔ اور پھر خلافت کی ترتیب سے حضرت عمر فاروق حضرت عثمان اور حضرت علی ۔ خاندان اہل بیت کو بھی سنی بڑی احترام و عقیدت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ سنی عقیدہ کے مطابق سوائے پیغمبروں کے کوئی انسان معصوم نہیں۔ یہ اسلامی فرقہ مذہب میں اعتدال اور میانہ روی پر زور دیتا ہے۔ سنی کئی فرقوں میں بٹے ہوئے ہیں جیسے؛ شافعی ، مالکی ، حنفی اور حنبلی۔

وجۂ تسمیہ

جیسا کہ ابتدائیہ میں مذکور ہوا کہ اہل السنت و الجماعت ہر ان تمام افراد کو کہا جاتا ہے کہ جو محمدDUROOD3.PNG کی سنت پر عمل کرتے ہوں اور صحابہ اکرام کا احترام کرتے ہوں۔ اس نام کی وجۂ تسمیہ ان کے نام سے بھی ظاہر ہے کہ اہل سنت کہنے کی وجہ تو یہ ہے کہ یہ اپنے آپ کو سنت پر چلنے والا مانتے ہیں اور جماعت کہنے کی وجہ یہ ہے کہ ان کے مطابق یہ وہ لوگ ہیں جو کہ حق (سچائی) پر جمع ہوۓ اور تفرقات میں نہیں پڑے۔

سنی تفرقے کی ابتداء

آج 2009ء کی ابتداء پر مسلمانوں میں تفرقہ بازی کی ابتداء ہوۓ قریب قریب 1400 سال ہونے کو ہیں[2]۔ 632ء میں محمدصلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی وفات سے شروع ہونے والی مسلمانوں کی تفرقہ بازی کی اس داستان کو اگر پیچیدہ تاریخی و معاشرتی وجوہات و واقعات کی طوالت سے صرف نظر کرتے ہوۓ مختصر بیان کرنے کی کوشش کی جاۓ تو یوں کہا جاسکتا ہے کہ مسلمانوں کے درمیان أهل السنة والجماعة یعنی سنی اور الشيعة الامامية الاثنا العشرية یعنی شیعہ تفرقے کی تشکیل کا آغاز نفسیاتی طور پر، محمدDUROOD3.PNG کی وفات کے بعد آپDUROOD3.PNG کے جانشین اور امت کے لیۓ خلیفہ کا تعین کرنے کے وقت سے ہوچکا تھا۔ اس انتخاب پر جن لوگوں کا خیال تھا کہ چونکہ خود محمدDUROOD3.PNG نے کسی جانشین کی جانب اشارہ نہیں کیا اس لیۓ جو بھی متقی اور کامل مومن ہو وہ خلیفہ بن سکتا ہے، محمدDUROOD3.PNG کے ایک ساتھی اور ان کی تعلیمات پر عمل کرنے والے ابو بکرRAZI.PNG کے حق میں فیصلہ ہوا اور 632ء تا 634ء کی مدت کے لیۓ وہ خلیفہ رہے، اسی عمل پیرا ہونے والوں کی نسبت سے اس گروہ یا تفرقے کو اہل السنۃ یا سنی کہا گیا۔
اس وقت کچھ لوگوں کے مطابق حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے علی بن ابو طالب کی خلافت کا اعلان کیا تھا اور امامت خدا کی طرف سے ودیعت کی جاتی ہے۔ پھر عمرRAZI.PNG کا انتخاب بطور خلیفۂ دوم (634ء تا 644ء) کر لیا گیا اور علیRAZI.PNG کی حمایت کرنے والے افراد کی نفسیات میں وہ حمایت اور شدت اختیار کر گئی ، اگر تفصیل سے تاریخ کا مطالعہ کیا جاۓ تو یہ وہ عرصہ تھا کہ گو ابھی شیعہ و سنی تفرقے بازی کھل کر تو سامنے نہیں آئی تھی لیکن تیسرے خلیفہ عثمانRAZI.PNG کے انتخاب (644ء تا 656ء) پر بہرحال ایک جماعت اپنی وضع قطع اختیار کر چکی تھی جس کا خیال تھا کہ علیRAZI.PNG کو ناانصافی کا نشانہ بنایا جارہا ہے، اس جماعت سے ہی اس تفرقے نے جنم لیا جسے شيعة علی اور مختصراً شیعہ کہا جاتا ہے۔

خلافت راشدہ کا اختتام

کوئی ساتویں صدی کے میان سے امت محمدیDUROOD3.PNG میں ایک پرتشدد اور افراتفری کا دور شروع ہوا جس کی شدت و تمازت عثمانRAZI.PNG کی شہادت پر اپنے عروج پر پہنچی؛ اب خلافت راشدہ کا اختتام قریب قریب تھا کہ جب علیRAZI.PNG خلیفہ کے منصب پر آۓ (656ء تا 661ء)۔ لوگ فتنۂ مقتلِ عثمانRAZI.PNG پر نالاں تھے اور علیRAZI.PNG پر شدید دباؤ ان کے قاتلوں کی گرفتاری کے لیۓ ڈال رہے تھے جس میں ناکامی کا ایک خمیازہ امت کو 656ء کے اواخر میں جنگ جمل کی صورت میں دیکھا نصیب ہوا؛ پھر عائشہRAZI.PNG کے حامیوں کی شکت بعد دمشق کے حاکم امیر معاویہ نے علیRAZI.PNG کی بیت سے انکار اور عثمانRAZI.PNG کے قصاص کا مطالبہ کر دیا، فیصلے کے لیۓ میدان جنگ چنا گیا اور 657ء میں جنگ صفین کا واقعہ ہوا جس میں علیRAZI.PNG کو فتح نہیں ہوئی۔ معاویہ کی حاکمیت مصر ، حجاز اور یمن کے علاقوں پر قائم رہی۔ 661ء میں عبد الرحمن بن ملجم کی تلوار سے حملے میں علیRAZI.PNG شہید ہوۓ۔ یہاں سے ، علیRAZI.PNG کے حامیوں اور ابتدائی سنی تاریخدانوں کے مطابق ، خلافت راشدہ کے آخری خلیفۂ پنجم حسنRAZI.PNG کا عہد شروع ہوا۔

حوالہ جات

  1. ^ ایک روۓ خط اردو لغت میں لفظ سنی اور بطور اس کے مترادف ، اہلسنت و الجماعت کا اندراج۔
  2. ^ Islam's Sunni-Shiite split. Dan Murphy