موطأ امام مالک

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(موطاء امام مالک سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

موطأ امام مالکحدیث کی ایک ابتدائی کتاب ہے جو مشہور سنی عالم دین مالک بن انس بن مالک بن عمر (93ھ - 179ھ) نے تصنیف کی۔ انہی کی وجہ سے مسلمانوں کا طبقہ فقہ مالکی کہلاتا ہے جو اہل سنت کے ان چار مسالک میں سے ایک ہے جس کے پیروان آج بھی بڑی تعداد میں ہیں۔

موطأ کےمصنف کا پورانام یہ ہے: ابوعبداللہ مالک بن انس بن ابی عامرالاصبحی الحمیری ہے۔(۱) آپ کی تاریخ ولادت میں 90ھ سے 97ھ تک کے مختلف اقوال ہیں۔ امام ذہبی نے یحیی بن کثیرکے قول کو اصح قراردیاہے جس کے مطابق آپ کی ولادت 93ھ میں ہوئی ہے۔ جبکہ آپ کی وفات ربیع؁ الاول179ھ کومدنیہ منورہ میں ہوءی امام مالک فقہ اورحدیث مین اھل حجاز بلکہ پوری ملت اسلامیہ کے امام ہیں۔ آپ کی کتاب "الموطأ" حدیث کے متداول اور معروف مجموعوں میں سب سے قدیم ترین مجموعہ ہے۔موطأسے پہلے بھی احادیث کے کی مجموعے تیار ہوءے اور ان میں سے کءی ایک اج موجود بھی ہیں لیکن وہ مقبول اورمتداول نہیں ہیں۔ موطأکے لفظی معنی ہے، وہ راستہ جس کو لوگوں نے پےدرپے چل کر اتناہموارکردیاہو کہ بعد میں انے والوں کے لیےاسپرچلنااسان ہوگیاہو۔ جمہور علماء نے موطأکو طبقات کتب حدیث میں طبقہ اولی میںشمار کیاہے امام شافعی فرماتے ہیں"ماعلی ظہرالارض کتاب بعد کتاب اللہ اصح من کتاب مالک" کہ میں نے روءے زمین پر موطأامام مالک سے زیادہ کوءی صحیح کتاب (کتاب اللہ کے بعد)نہیں دیکھی ۔ حضرت شاہ ولی اللہ موطاکے بارے میں لکھتے ہیں" فقہ میں موطا امام مالک سےزیادہ کوءی مضبوط کتاب موجود نہیں ہے" موطا میں احادیث کی تعداد کے بارے میں کءی روایات ہیں، اور اس اختلاف کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ امام مالک نے اپنی روایات کی تہذیب اورتنقیح برابر جاری رکھی لہذا مختلف اوفات میں احادیث کی تعداد مختلف رہی۔

موطا امام مالک اردو مترجم مع شرح[ترمیم]

مختلف ادوار میں احادیث کی مختلف کتابیں مرتب ومدون کی گئیں لیکن امام مالک بن انس کا مجموعۂ احادیث بنام ’’مؤطا امام مالک ‘‘ کو سلسلہ تدوین ِحدیث میں اوّلین کتاب ہونے کا اعزاز حاصل ہے ،اور یہی وہ ذخیرہ ٔاحادیث جس کو پہلی مرتبہ فقہی انداز میں مرتب کیا گیا۔ نیز اس مجموعہ احادیث کا ایک خاصہ یہ بھی ہے کہ اس میں صرف صحیح احادیث ہی کو نقل کرنے کی سعی جمیل کی گئی ہے اور اس بات پر حضرت شاہ ولی اللہ محدث دھلوی ؒ نے محدثین کا اتفاق نقل فرمایا ہے۔ اس کتاب کی اسی اہمیت کے پیش ِ نظر ہر دور میں اکابر امت نے اپنے اپنے حلقہ ہائے تدریس میں اس سے استفادہ کیا اور مختلف ادوار ،میں مختلف دول ِ اسلامیہ میں اس کی شروحات و تعلیقات بھی تحریر کی گئیں ۔ مؤطا اور اس کی شروحات چونکہ عربی میں تھیں اس لیے اردو داں طبقہ کے لیے اس سے استفادہ میں مشکلات تھیں اس ہی لیے ساجد الرحمن صدیقی نے شب و روز کی انتہک محنت سے نہ صرف اسے دور حاضر کے مطابق اردو قالب میں ڈھالا بلکہ ساتھ ساتھ ہر روایت و آثار کے تحت شرح حدیث کے عنوان سے شیخ الحدیث مولانا زکریا کی کتاب ’’اوجز المسالک‘‘ اور مولانا اشفاق الرحمن کاندھلوی کیکتاب ’’ کشف المغطاء ‘‘ کی تلخیص بھی ذکرکردی ۔