سنن نسائی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
SunanAlNisaee.jpg

سنن نسائی کو عربی زبان میں المجتبى من السنن = السنن الصغرى للنسائي کہا جاتا ہے۔ یہ احادیث کی معتبر کتب صحاح ستہ میں سے ایک ہے جو احمد بن شعیب النسائی کی تصنیف ہے۔

تعارف[ترمیم]

مسلمانوں کا سنی طبقہ سنن نسائی کی تکریم کرتا ہے، سنن نسائی صحاح ستہ میں تیسرے نمبر پر ہے[1] المجتبی یعنی منتخب احادیث کی تعداد 5270 ہے اور اس میں احادیث کی تکرار شامل ہے جو مصنف نے اپنی جامع السنن الکبری سے اخذ کی ہیں۔

شروح و تراجم[ترمیم]

کچھ تراجم و تشریحات درج ذیل ہیں:

  • شرح السیوطی علی السنن النسائی (مصنف: امام سیوطی) جو مکتبہ المطبوعات نے حلب میں 1986ء میں شائع کی۔
  • حاشیات السندی علی النسائی (مصنف: السندی) جو مکتبہ المطبوعات نے حلب میں 1986ء میں شائع کی۔

احکام الٰہی کے متن کانام قرآن مجید ہے اور اس کی شرح وتفصیل کانام حدیث رسول ہے۔ آپ ﷺ کی زندگی اس متن کی عملی تفسیر ہے۔ رسول ﷺ کی زندگی کے بعد صحابہ کرام نے احادیث نبویہ کو آگے پہنچا یا، پھر ان کے بعد ائمہ محدثین نے ان کومدون کیا او ر علما امت نے ان کے تراجم وشروح کے ذریعے حدیث رسول کی عظیم خدمت کی۔ خدمت حدیث کے سلسلے میں علمائے اہل حدیث کی تدریسی وتصنیفی خدمات بھی قابل قد رہیں۔ عہد قریب میں نواب صدیق حسن خاں کے قلم اورمولانا سید نذیر حسین محدث دہلوی کی تدریسی خدمات سے ہندوستا ن میں حدیث نبویہ کو بڑا فروغ ملا، پھر ان کے شاگردوں اور کبار علما نے عون المعبود، تحفۃ الاحوذی، التعلیقات السلفیہ، انجاز الحاجۃ جیسی عظیم شروح لکھیں اور مولانا وحید الزمان نے کتب حدیث کااردو زبان میں ترجمہ کر کے برصغیر میں حدیث کو عام کرنے عظیم کارنامہ سر انجام دیا۔ یہ تراجم تقریباً ایک صدی سے ہندوستان میں متداول ہیں۔ لیکن اب ان کی زبان کافی پرانی ہو گئی تھی اور ایک عرصے سے یہ ضرورت محسوس کی جا رہی ہے تھی کہ ان کتب کو اردو زبان کے جدید اسلوب میں دوبارہ ترجمہ کروا کر شائع کیا جائے۔ نیز سننِ اربعہ میں ضعیف روایات کی نشان دہی کردی جائے۔

حوالہ جات[ترمیم]