صحیفہ سجادیہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
صحیفہ سجادیہ کا پرانا ترین خطی نسخہ جو 416 ھ میں کتابت ہوا۔

صحیفہ سجادیہ یا (عربی: الصحيفة السجاديةامام زین العابدین سے منسوب استغاثہ و دعاؤں کا ایک مجموعہ ہے۔
اسے واقعہ کربلا کے بعد مرتب کیا گیا۔ کتاب انسان اور خدا کے درمیان تعلق کی وضاحت پیش کرتی ہے، اگرچہ کتاب دعا کی شکل میں اسلامی علم و فکر کا ایک مجموعہ اصولی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس کتاب نے بنو امیہ کے خلاف بغاوت میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔ بعض علما کے قول کے مطابق، صحیفہ سجادیہ بلاغت کی اعلیٰ ترین شکل میں ہے۔ اور اس کے مندرجات، بیان اور تفسیر کی کئی کتابوں میں نقل کیے گئے ہیں۔ کتاب کا بنیادی حصہ متواتر ہے، علما کی ایک بڑی تعداد نے اس پر حواشی لکھے ہیں، یہ کتاب اہل تشیع کے ہاں مقبول ہے۔

یہ کتاب «انجیل اہل بیت» و «زبور آل محمد» و «اخت القرآن» کے نام سے معروف ہے۔[1][2]

شرح صحیفہ سجادیہ[ترمیم]

اس کتاب پر 60 سے زائد حواشی و شروحات لکھی جا چکی ہیں[3]:

  • شرح محقق ثانی (عربی میں)
  • شرح کفعمی
  • شرح شیخ بہائی (بنام حدائق الصالحین)
  • شرح فارسی ملا محمد ہادی مترجم مازندرانی
  • شرح میرداماد (بنام الفوائد)
  • شرح محمد باقر مجلسی
  • شرح سید علی حسینی مدنی (معروف بہ سید علی خان) (بنام ریاض السالکین)
  • شرح صحیفہ لاہیجی اثر قطب الدین شریف لاہیجی

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]