مدینہ منورہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(مدینہ سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
مدینہ منورہ
المدينة المنورة
المدینہ المنورہ
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مزار اقدس
حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مزار اقدس
ملک Flag of Saudi Arabia.svg سعودی عرب
صوبہ صوبہ مدینہ
حکومت
 • میر عبدالعزيز بن ماجد
رقبہ
 • کل 589 کلو میٹر2 (227 مربع میل)
بلندی 608 میل (1,995 فٹ)
آبادی (2006)
 • کل 1,300,000
منطقۂ وقت سعودی عرب کا معیاری وقت (UTC+3)
Basmala White.png
170PX

بسلسلہ مضامین:
اسلام

مدینہ منورہ عربی: اَلْمَدِينَة اَلْمَنَوَّرَة مغربی سعودی عرب کے خطہ حجاز کا شہر،جہاں حضرت محمد صلی الله علىه وآله وسلم کا روضہ مبارک ہے۔ یہ شہر اسلام کا دوسرا مقدس ترین شہر ہے۔ شہر کی آبادی 2004ءکی مردم شماری کے مطابق 9 لاکھ 18 ہزار 889 ہے۔ شہر کا پرانا نام یثرب تھا لیکن حضرت محمد صلى الله عليه وآلہ وسلم کی ہجرت مبارکہ کے بعد اس کا نام مدینۃ النبی رکھ دیا گیا جو بعد ازاں مدینہ بن گیا۔ اس کی بنیاد اسلام پر ہے-

شہر کی سب سے اہم خصوصیت یہ ہے کہ یہاں مسجد نبوی اور حضور نبی کریم صلى الله عليه وآلہ وسلم کا روضہ مبارک ہے۔ جس کی زیارت کے لیے ہر سال لاکھوں فرزندان توحید یہاں پہنچتے ہیں۔ تاریخ اسلام کی پہلی مسجد مسجد قباءبھی مدینہ میں قائم ہے۔ مکہ مکرمہ کی طرح مدینہ منورہ میں بھی صرف مسلمانوں کو داخل ہونے کی اجازت ہے۔ دونوں شہروں میں قائم مختلف مساجد میں ہر سال حج کی مناسبت سے لاکھوں مسلمان عبادت کرتے ہیں۔ اس کی ایک اور خصوصیت یہ ہے کہ مدینہ منورہ کے چاروں طرف فرشتے ہیں۔ اور دجال یہاں نہیں آسکے گا۔

تاریخ[ترمیم]

قبل از اسلام شہر مدینہ یثرب کہلاتا تھا۔ یہ ایک اہم تجارتی قصبہ تھا اور یہاں کے بت پرست باشندے ہر سال زیارت مکہ کیا کرتے تھے اور دونوں شہروں کا بت ”منات“ تھا۔ یہ شہر عرب یہودیوں کا بھی مرکز تھا۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے زمانے میں مدینہ میں یہودیوں کے علاوہ دو معروف قبائل بنو اوس اور بنو خزرج بھی موجود تھی۔ یہودی قبائل بنو قینقاع، بنو نذیر، بنو سیدہ، بنو حارث، بنو جشم، بنو نجار اور بنو قریظہ شامل تھی۔

بنو اوس اور بنو خزرج کے طاقتور قبائل کے درمیان 610ءکی دہائی سے 120 سالہ طویل جنگ چل رہی تھی۔

ہجرت مدینہ 622ء[ترمیم]

622ء میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اور ان کے ساتھیوں نے مکہ کے کفار کے مظالم سے تنگ آکر مدینہ ہجرت کی۔ نبی آخر الزماں کی آمد پر اس کا نام مدینۃ النبی پڑ گیا اور یہ شہر اولین اسلامی ریاست کا دار الخلافہ بنا۔ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی آمد پر تاریخی میثاق مدینہ طے پایا اس کے علاوہ مواخات کے تحت تمام مسلمان مہاجرین اور انصار کو بھائی بھائی بنادیا گیا۔

بدر، احد اور احزاب کے غزوات کے بعد فتح مکہ کا تاریخی واقعہ رونما ہوا تاہم نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی جائے پیدائش مکہ میں رہنے کی بجائے دوبارہ مدینہ واپس آئے۔ خلافت راشدہ کے بعد حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے دار الحکومت دمشق منتقل کر دیا گیا۔

نام[ترمیم]

مدینہ : مدینہ عربی لفظ ہے جس کا لفظی مطلب شہر ہے۔
طابہ: مدینہ منورہ کو طابہ بھی کہا جاتا تھا۔ طابہ اور طیب ہم معنی الفاظ ہیں ،، لفظی معنی پاک کے ہے۔ ایک حدیث میں بھی ذکر ملتا ہے کہ رسولﷺ نے فرمایا:"اللہ تعالیٰ نے اس شہر کا نام طابہ رکھا ہے۔"[1]
یثرب:یثرب مدینہ کا قدیم نام ہے۔ رسولﷺ نے شہر کا نام یثرب سے تبدیل کر کے مدینہ رکھ دیا۔ تبدیلی کی وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ لغت میں یثرب کے معنی "ملامت، فساد اور خرابی" ہیں۔[2]
مدینۃ النبوی:مدینۃ النبوی کا مطلب نبیﷺ کا شہر ہے۔ کافی عرصے تک یہ لفظ لوگ اس شہر کے لیے استعمال کرتے رہے۔
مدینہ المنورہ: لفظ منورہ کے معنی "روشن ہوا،پُر نور ہوا یا نور سے سرشار" ہیں۔ رسول ﷺ کی آمد کے بعد لوگوں نے اسے مدینہ منورہ (یعنی وہ شہر جو منور ہوا ہے) کا نام دیا۔

مناظر مدینہ منورہ[ترمیم]

مدینہ منورہ

حوالہ جات[ترمیم]

  1. صحیح المسلم،حدیث :1385، مسند احمد:106/5
  2. اطلس القرآن، موضوع:مدینہ
Midori Extension.svg یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کر کے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔