نجران

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
نجران
(عربی میں: نجران)[1]  ویکی ڈیٹا پر (P1448) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Najran Fort, Saudi Arabia.jpg
 

تاریخ تاسیس 2000  ویکی ڈیٹا پر (P571) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
انتظامی تقسیم
ملک Flag of Saudi Arabia.svg سعودی عرب  ویکی ڈیٹا پر (P17) کی خاصیت میں تبدیلی کریں[2]
دار الحکومت برائے
تقسیم اعلیٰ نجران علاقہ  ویکی ڈیٹا پر (P131) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جغرافیائی خصوصیات
متناسقات 17°29′30″N 44°07′56″E / 17.49167°N 44.13222°E / 17.49167; 44.13222
بلندی 1293 میٹر  ویکی ڈیٹا پر (P2044) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
آبادی
کل آبادی 298288 (مردم شماری) (2010)[1]
226250 (مردم شماری) (2010)[1]
72038 (مردم شماری) (2010)[1]  ویکی ڈیٹا پر (P1082) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مزید معلومات
رمزِ ڈاک
(61441)  ویکی ڈیٹا پر (P281) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
قابل ذکر
باضابطہ ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ  ویکی ڈیٹا پر (P856) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جیو رمز 103630  ویکی ڈیٹا پر (P1566) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

نجران سعودی عرب کے صوبہ نجران کا ایک شہر ہے جو یمن کی سرحد کے قریب ہے۔ نجران اگرچہ 4,000 سال قدیم ہے اور اس پر کچھ عرصہ قدیم رومن افواج کا قبضہ بھی رہا مگر اس کو 1965ء میں نئے شہر کا درجہ دیا گیا اور اب وہ سعودی عرب کے تیزی سے ترقی کرنے والے شہروں میں سے ایک ہے۔ اس کی آبادی صرف 25 سال کے عرصہ میں ڈھائی گنا بڑھ کر 2004ء میں ڈھائی لاکھ کے قریب ہو گئی جو 1974ء میں ایک لاکھ سے کچھ کم تھی۔ اس کے زیادہ تر باشندے قحطانی قبیلہ کی شاخ بنویام سے تعلق رکھتے ہیں۔ اس شہر میں اسلام کی آمد سے پہلے یہودی اور مسیحی آباد تھے مگر 524ء میں یہودیوں نے نجران کے مسیحیوں کا شدید قتل عام کیا تھا جو اسلام سے پہلے کی بات ہے۔ یہودی یوسف ذونواس نے، جو آخری حمیری یہودی بادشاہ تھا، 524ء میں یہاں قبضہ کر کے کہا کہ یا تو تمام مسیحی یہودی بن جائیں یا نجران چھوڑ دیں یا پھر قتل ہو جائیں۔اسماعیلی اور سنیوں کے ساتھ رہائش سے تعلق رکھتی ہے۔ سعودی عرب کے بادشاہ عبدالعزیز ابن سعود جب نجران کو فتح نہ کر سکا تو اس نے ان کے ساتھ معاہدہ کیا کہ وہ اپنی مذہبی آزادی برقرار رکھنے کی شرط پر سعودی عرب میں شامل ہو جائیں چنانچہ نجران سعودی عرب کا حصہ بن گیا۔ اپریل 2004ء میں وہاں کے اہل تشیع نے سعودی حکومت کے خلاف مسلح بغاوت کا آغاز کیا۔[3] کیونکہ سعودی حکومت اپنے معاہدے سے پھر گئی تھی۔[3] اس شہر کے قریب قدیم آبادیوں کے آثار آج بھی موجود ہیں۔ جن میں سے ایک الالخدود کے آثار ہیں جو نجران شہر کے جنوب میں واقع ہے۔

نگار خانہ[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب تعداد السكان والمساكن — اخذ شدہ بتاریخ: 12 جولا‎ئی 2020
  2.   ویکی ڈیٹا پر (P1566) کی خاصیت میں تبدیلی کریں"صفحہ نجران في GeoNames ID". GeoNames ID. اخذ شدہ بتاریخ 7 اگست 2022ء. 
  3. ^ ا ب نگران انسانی حقوق۔ فروری 16، 2007ء۔ 21 جون 2009 کو اخذ کیا گیا