سعودی عرب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مملکت سعودی عرب
Kingdom of Saudi Arabia

المملكة العربية السعودية (عربی)
Al-Mamlakah Al-ʾĀrabīyah As-Saʿūdīyah
Flag of Saudi Arabia
نشان of Saudi Arabia
پرچم نشان
شعار: لا إله إلا الله، محمد رسول الله
"Lā ʾilāha ʾillāl–lāh, Muhammadun rasūl allāh"
"There is no god but God; Muhammad is the messenger of God."[1][lower-alpha 1] (شہادت)
ترانہ: السلام الملكي (as an instrumental)
"عاش المليكہ"
"The Royal Salute"
Location of Saudi Arabia
دار الحکومت
اور سب سے بڑا شہر
ریاض
24°39′N 46°46′E / 24.650°N 46.767°E / 24.650; 46.767
دفتری زبانیں عربی[3]
نسلی گروہ 90% عرب
10% افریقی عرب
مذہب اہل سنت
نام آبادی
حکومت وحدانی ریاست اسلامی مطلق بادشاہت
سلمان بن عبدالعزیز آل سعود
محمد بن سلمان آل سعود
خالی
مقننہ کوئی نہیں
مجلس وزراء
مجلس شوری
قیام
23 ستمبر 1932
24 اکتوبر 1945
31 جنوری 1992
رقبہ
• کل
2,149,690 kمیٹر2 (830,000 مربع میل) (بارہواں)
• آبی (%)
0.7
آبادی
• 2017 تخمینہ
33,000,000[4] (چالیسواں)
• کثافت
15 /کلومیٹر2 (38.8 /میل مربع) (دو سو سولہواں)
خام ملکی پیداوار (مساوی قوت خرید) 2017 تخمینہ
• کل
$1.803 ٹریلین[5] (چودہواں)
• فی کس
$55,229[5] (بارہواں)
خام ملکی پیداوار (برائے نام) 2017 تخمینہ
• کل
$689.004 بلین[5] (بیسواں)
• فی کس
$21,100[5] (چھتیسواں)
انسانی ترقیاتی اشاریہ (2014) Increase2.svg 0.837[6]
انتہائی اعلی · انتالیسواں
کرنسی سعودی ریال (SR) (SAR)
منطقۂ وقت متناسق عالمی وقت+03:00 (متناسق عالمی وقت+3)
تاریخ ہیئت dd/mm/yyyy (ہجری سال)
ڈرائیونگ سمت دائیں
کالنگ کوڈ سعودی عرب میں ٹیلی فون نمبر
انٹرنیٹ ڈومین
  1. ^ Legislation is by king's decree. The Consultative Assembly exists to advise the king.

مملکت سعودی عرب (عربی: المملكة العربية السعودية) جزیرہ نمائے عرب میں سب سے بڑا ملک ہے ۔ شمال مغرب میں اس کی سرحد اردن، شمال میں عراق اور شمال مشرق میں کویت، قطر اور بحرین اور مشرق میں متحدہ عرب امارات، جنوب مشرق میں اومان، جنوب میں یمن سے ملی ہوئی ہے جبکہ خلیج فارس اس کے شمال مشرق اور بحیرہ قلزم اس کے مغرب میں واقع ہے ۔ یہ حرمین شریفین کی سرزمین کہلاتی ہے کیونکہ یہاں اسلام کے دو مقدس ترین مقامات مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ موجود ہیں۔

تاریخ[ترمیم]

سعودی ریاست کا ظہور تقریباً 1750ء میں عرب کے وسط سے شروع ہوا جب ایک مقامی رہنما محمد بن سعود معروف اسلامی شخصیت اورمحمد بن عبدالوہاب کے ساتھ مل کر ایک نئی سیاسی قوت کے طور پر ابھرے ۔

سعودی ریاست مختلف ادوار میں

اگلے ڈیڑھ سو سال میں آل سعود کی قسمت کا ستارہ طلوع و غروب ہوتا رہا جس کے دوران جزیرہ نما عرب پر تسلط کے لئے ان کے مصر، سلطنت عثمانیہ اور دیگر عرب خاندانوں سے تصادم ہوئے ۔ بعد ازاں سعودی ریاست کا باقاعدہ قیام شاہ عبدالعزیز السعود کے ہاتھوں عمل میں آیا۔

1902ء میں عبدالعزیز نے حریف آل رشید سے ریاض شہر چھین لیا اور اسے آل سعود کا دار الحکومت قرار دیا۔ اپنی فتوحات کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے انہوں نے 1913ء سے 1926ء کے دوران الاحساء، قطیف، نجد کے باقی علاقوں اور حجاز (جس میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے شہر شامل تھے) پر بھی قبضہ کرلیا۔ 8 جنوری 1926ء کو عبدالعزیز ابن سعود حجاز کے بادشاہ قرار پائے ۔ 29 جنوری 1927ء کو انہوں نے شاہ نجد کا خطاب حاصل کیا۔ 20 مئی 1927ء کو معاہدہ جدہ کے مطابق برطانیہ نے تمام مقبوضہ علاقوں جو اس وقت مملکت حجاز و نجد کہلاتے تھے پر عبدالعزیز ابن سعودکی حکومت کو تسلیم کرلیا۔ 1932ء میں برطانیہ کی رضامندی حاصل ہونے پر مملکت حجاز و نجد کا نام تبدیل کر کے مملکت سعودی عرب رکھ دیا گیا۔

مارچ 1938ء میں تیل کی دریافت نے ملک کو معاشی طور پر زبردست استحکام بخشا اور مملکت میں خوشحالی کا دور دورہ ہوگیا۔

سیاست[ترمیم]

خادم الحرمین الشریفین شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز

سعودی عرب کی حکومت کا بنیادی ادارہ آل سعود کی بادشاہت ہے ۔ 1992ء میں اختیار کئے گئے بنیادی قوانین کے مطابق سعودی عرب پر پہلے بادشاہ عبدالعزیز ابن سعود کی اولاد حکمرانی کرے گی اور قرآن ملک کا آئین اور شریعت حکومت کی بنیاد ہے ۔

ملک میں کوئی تسلیم شدہ سیاسی جماعت ہے نہ ہی انتخابات ہوتے ہیں البتہ 2005ء میں مقامی انتخابات کا انعقاد ہوا۔ بادشاہ کے اختیارات شرعی قوانین اور سعودی روایات کے اندر محدود ہیں۔ علاوہ ازیں اسے سعودی شاہی خاندان، علماء اور سعودی معاشرے کے دیگر اہم عناصر کا اتفاق بھی چاہئے ۔ سعودی عرب دنیا بھر میں مساجد اور قرآن اسکولوں کے قیام کے ذریعے اسلام کی ترویج کرتی ہے ۔ شاہی خاندان کے اہم ارکان علماء کی منظوری سے شاہی خاندان میں کسی ایک شخص کو بادشاہ منتخب کرتے ہیں۔

قانون سازی وزراء کی کونسل عمل میں لاتی ہے جو لازمی طور پر شریعت اسلامی سے مطابقت رکھتی ہو۔ عدالت شرعی نظام کی پابند ہیں جن کے قاضیوں کا تقرر اعلیٰ عدالتی کونسل کی سفارش پر بادشاہ عمل میں لاتا ہے ۔

SaudiArabiaNumbered.png

صوبے[ترمیم]

سعودی عرب کو انتظامی لحاظ سے تیرہ علاقوں یا صوبوں میں تقسیم کیا گیا ہے، جن کو عربی زبان میں مناطق (عربی واحد: منطقہ) کہتے ہیں۔ سعودی نقشہ میں صوبے نمبر زد ہیں اور خانہ معلومات میں ان کے بارے میں معلومات درج کی گئي ہیں۔

نمبر شمار صوبہ رقبہ (مربع کلومیٹر) آبادی (1999ء)
1 الباحہ (Al Bahah) 15,000 459,200
2 الحدود الشماليہ (Al Hudud ash Shamaliyah) 127,000 237,100
3 الجوف (Al Jawf) 139,000 332,400
4 المدينہ (Al Madinah) 173,000 1,310,400
5 القصيم (Al Qasim) 65,000 933,100
6 الرياض (Ar Riyad) 412,000 4,485,000
7 الشرقيہ (Ash Sharqiyah) 710,000 3,360,157
8 عسير ('Asir) 81,000 1,563,000
9 حائل (Ha'il) 125,000 527,033
10 جيزان (Jizan) 11,671 1,186,139
11 الحجاز (Hijaz) 164,000 5,797,971
12 نجران (Najran) 119,000 367,700
13 تبوک (Tabuk) 108,000 560,200

بڑے شہر[ترمیم]

  • ریاض (سعودی عرب کا دار الحکومت)
  • جدہ (دوسرا سب سے بڑا شہر، حج و عمرہ کے لئے دنیا بھر کے زائرین کی پہلی قیام گاہ اور بحیرہ قلزم کی بندرگاہ)
  • دمام (مشرقی صوبے کا دار الحکومت اور تیسرا سب سے بڑا شہر)
  • مکہ (اسلام کا مقدس ترین مقام)
  • مدینہ (اسلام کا دوسرا مقدس ترین شہر)
  • طائف (مکہ کے قریب پہاڑی علاقہ)
  • تبوک (اردن کی سرحد کے قریب واقع شمال مغربی شہر)
  • بریدہ (شمال وسطی عرب کا شہر )
  • ہفوف (قدیم ساحلی نخلستانی اور تیل کے عظیم ذخائر کا شہر)
  • خمیس مشیط (مغربی عرب میں عسکری تربیتی مرکز)

جغرافیہ[ترمیم]

سعودی عرب کا نقشہ

مملکت سعودی عرب جزیرہ نمائے عرب کے 80 فیصد رقبے پر مشتمل ہے ۔ متحدہ عرب امارات، اومان اور یمن کے ساتھ منسلک ملک کی سرحدوں کا بڑا حصہ غیر متعین ہے اس لئے ملک کا عین درست رقبہ اب بھی نامعلوم ہے ۔ سعودی حکومت کے اندازوں کے مطابق مملکت کا رقبہ 22 لاکھ 17 ہزار 949 مربع کلومیٹر (8 لاکھ 56ہزار 356 مربع میل) ہے ۔ دیگر اندازوں کے مطابق ملک کا رقبہ 19 لاکھ 60ہزار 582 مربع کلومیٹر (7 لاکھ 56 ہزار 934 مربع میل) اور 22 لاکھ 40 ہزار مربع کلومیٹر (8 لاکھ 64 ہزار 869 مربع میل) کے درمیان ہے تاہم دونوں صورتوں میں سعودی عرب رقبے کے لحاظ سے دنیا کے 15 بڑے ملکوں میں شمار ہوتا ہے ۔

مملکت جغرافیہ مختلف نوعیت کا ہے ۔ مغربی ساحلی علاقے (التہامہ) سے زمین سطح سمندر سے بلند ہونا شروع ہوتی ہے اور ایک طویل پہاڑی سلسلے (جبل الحجاز) تک جاملتی ہے جس کے بعد سطع مرتفع ہیں۔ جنوب مغربی اثیر خطے میں پہاڑوں کی بلندی 3 ہزار میٹر (9 ہزار 840 فٹ) تک ہے اور یہ ملک کے سب سے زیادہ سرسبز اور خوشگوار موسم کا حامل علاقہ ہے ۔ یہاں طائف اور ابہاء جیسے تفریحی مقامات قائم ہیں۔ خلیج فارس کے ساتھ ساتھ قائم مشرقی علاقہ بنیادی طور پر پتھریلا اور ریتیلا ہے ۔ معروف علاقہ ”ربع الخالی“ ملک کے جنوبی خطے میں ہے اور صحرائی علاقے کے باعث ادھر آبادی تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے ۔

مملکت کا تقریباً تمام حصہ صحرائی و نیم صحرائی علاقے پر مشتمل ہے اور صرف 2 فیصد رقبہ قابل کاشت ہے ۔ بڑی آبادیاں صرف مشرقی اور مغربی ساحلوں اور حفوف اور بریدہ جیسے نخلستانوں میں موجود ہیں۔ سعودی عرب میں سال بھر بہنے والا کوئی دریا یا جھیل موجود نہیں۔

موسم[ترمیم]

سعودی عرب کا موسم مجموعی طور پر شدید گرم اور خشک ہے ۔ یہ دنیا کے ان چند علاقوں میں سے ایک ہے جہاں گرمیوں میں درجہ حرارت کا 50 ڈگری سینٹی گریڈ (120 ڈگری فارن ہائیٹ) سے بھی آگے جانا معمول کی بات ہے ۔ موسم سرما میں بلند پہاڑی علاقوں میں کبھی کبھار برف پڑ جاتی ہے تاہم مستقل بنیادوں پر برف باری نہیں ہوتی۔ موسم سرما کا اوسط درجہ حرارت 8 سے 20 ڈگری سینٹی گریڈ (47 سے 68 ڈگری فارن ہائیٹ) ہے ۔ موسم گرما میں اوسط درجہ حرارت 27 سے 43 ڈگری سینٹی گریڈ (81 سے 109 ڈگری فارن ہائیٹ) ہوتا ہے ۔ وسط صحرائی علاقوں میں گرمیوں میں بھی رات کے وقت موسم سرد ہوجاتا ہے ۔

سعودی عرب میں بارش بہت کم ہوتی ہے تاہم کبھی کبھار موسلا دھار بارش سے وادیوں میں زبردست سیلاب آجاتے ہیں۔ دار الحکومت ریاض میں سالانہ بارش 100 ملی میٹر (4 انچ) ہے جو جنوری سے مئی کے درمیان ہوتی ہے ۔ جدہ میں نومبر اور جنوری کے درمیان 54 ملی میٹر (2.1 انچ) بارش ہوتی ہے ۔

اعداد و شمار[ترمیم]

2005ء کے مطابق سعودی عرب کی آبادی 26 اعشاریہ 4 ملین ہے جس میں 5 اعشاریہ 6 ملین غیر ملکی آبادی بھی شامل ہے ۔ 1960ء کی دہائی تک مملکت کی آبادی کی اکثریت خانہ بدوش یا نیم خانہ بدوش تھی لیکن معیشت اور شہروں میں تیزی سے ترقی کی بدولت اب ملک کی 95 فیصد آبادی مستحکم ہے ۔ شرح پیدائش 29 اعشاریہ 56 فی ایک ہزار افراد ہے جبکہ شرح اموات صرف 2 اعشاریہ 62 فی ایک ہزار افراد ہے ۔چند شہروں اور نخلستانوں میں آبادی کی کثافت ایک ہزار افراد فی مربع کلومیٹر سے بھی زیادہ ہے ۔

تقریباً 80 فیصد سعودی باشندے نسلی طور پر عرب ہیں۔ مزید برآں چند جنوبی اور مشرق افریقی نسل سے بھی تعلق رکھتے ہیں جو چند سو سال قبل اولاً غلام بنا کر یہاں لائے گئے تھے۔ سعودی عرب میں دنیا بھر کے 70 لاکھ تارکین وطن بھی مقیم ہیں جن میں بھارت کے 14 لاکھ، بنگلہ دیش کے 10 لاکھ، پاکستان کے 9 لاکھ، فلپائن کے 8 لاکھ اور مصر کے 7 لاکھ 50 ہزار باشندے شامل ہیں۔ قریبی ممالک کے عرب باشندوں کی بڑی تعداد میں مملکت میں برسرروزگار ہے ۔ سعودی عرب میں مغربی ممالک سے تعلق رکھنے والے ایک لاکھ باشندے بھی قیام پزیر ہیں۔

تعلیم[ترمیم]

1932ء میں مملکت سعودی عرب کے قیام کے وقت ہر باشندے کی تعلیم تک رسائی نہیں تھی اور شہری علاقوں میں مساجد سے ملحق مدارس میں تعلیم کی محدود اور انفرادی کوششیں ہورہی تھیں۔ ان مدارس میں شریعت اسلامی اور بنیادی تعلیم سکھائی جاتی تھی تاہم گذشتہ صدی کے اختتام تک سعودی عرب ایک قومی تعلیمی نظام کا حامل ہے جس میں تمام شہریوں کو اسکول سے قبل سے لے کر جامعہ کی سطح تک مفت تربیت فراہم کی جاتی ہے ۔ جدید سعودی تعلیمی نظام جدید اور روایتی فنی و سائنسی شعبہ جات میں معیاری تعلیم فراہم کرتا ہے ۔ اسلام کی تعلیم سعودی نظام تعلیم کا بنیادی خاصہ ہے ۔ سعودی عرب کا مذہبی تعلیمی نصاب دنیا بھر کے مدارس میں بھی پڑھایا جاتا ہے ۔

سعودی عرب میں باقاعدہ بنیادی تعلیم کا آغاز 1930ء کی دہائی میں ہوا۔ 1945ء میں شاہ عبدالعزیز السعود نے مملکت میں اسکولوں کے قیام کے لئے ایک جامع پروگرام کا آغاز کیا۔ 6 سال بعد 1951ء میں مملکت کے 226 اسکولوں میں 29 ہزار 887 طالب علم زیر تعلیم تھے ۔ 1954ء میں وزارت تعلیم کا قیام عمل میں آیا جس کے پہلے وزیر شہزادہ فہد بن عبدالعزیز بنے ۔ سعودی عرب کی پہلی جامعہ شاہ سعود یونیورسٹی 1957ء میں ریاض میں قائم ہوئی۔

آج سعودی عرب کا قومی سرکاری تعلیمی نظام 8 جامعات، 24 ہزار سے زائد اسکولوں اور ہزاروں کالجوں اور دیگر تعلیمی و تربیتی اداروں پر مشتمل ہے ۔ اس نظام کے تحت ہر طالب علم کو مفت تعلیم، کتب اور صحت کی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔ مملکت کے سرکاری میزانیہ کا 25 فیصد سے زائد تعلیم کے لئے مختص ہے ۔ سعودی عرب میں طالب علموں کو اسکالرشپ پروگرام کے تحت بیرون ملک بھی بھیجا جاتا ہے جن میں امریکہ، کینیڈا، برطانیہ، آسٹریلیا، جاپان، ملائشیا اور دیگر ممالک شامل ہیں۔

سعودی عرب کے کالج اور یونیورسٹیوں کی فہرست[ترمیم]

سعودی عرب کی جامعات، کالج اور تعلیمی اداروں کی فہرست

جامعہ/دانشگاہ ویب سائٹ قیام شہر
شاہ فہد یونیورسٹی www.ksu.edu.sa 1957 ریاض
اسلامی یونیورسٹی مدینہ www.iu.edu.sa 1961 مدینہ
شاہ عبد العزیز یونیورسٹی www.kau.edu.sa 1967 جدہ
امام محمد بن سعود اسلامی یونیورسٹی www.imamu.edu.sa 1974 ریاض
شاہ فیصل یونیورسٹی www.kfu.edu.sa 1975 دمام
شاہ فہد یونیورسٹی برائے پٹرولیم و معدنیات www.kfupm.edu.sa 1975 ظہران
ام القراء یونیورسٹی www.uqu.edu.sa 1979 مکہ
شاہ خالد یونیورسٹی www.kku.edu.sa 1998 ابھا
شاہ عبد اللہ یونیورسٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی www.kaust.edu.sa 2008 ضوال
قصیم یونیورسٹی www.qu.edu.sa 2004 بریدہ
طائف یونیورسٹی www.tu.edu.sa 2004 طائف
الجوف یونیورسٹی www.ju.edu.sa 2005 الجوف
جازان یونیورسٹی 2005 جازان
حائل یونیورسٹی www.uoh.edu.sa 2006 حائل
الباحہ یونیورسٹی www.bu.edu.sa 2006 الباحہ
نجران یونیورسٹی init www.nu.edu.sa 2006 نجران
یونیورسٹی کالج الجبیل www.ucj.edu.sa 2006 الجبیل
ینبع صنعتی کالج www.yic.edu.sa 1989 ینبع
الفیصل یونیورسٹی www.alfaisal.edu 2007 ریاض
عرب اوپن یونیورسٹی www.arabou.org.sa 2002 ریاض
شہزادہ سلطان یونیورسٹی www.psu.edu.sa 2003 ریاض
دوا شناسی اور دندان سازی کا کالج www.riyadh.edu.sa, 2004 ریاض
دار العلوم یونیورسٹی www.dau.edu.sa 2005 ریاض
طیبہ یونیورسٹی www.taibahu.edu.sa 2005 مدینہ
شہزادہ محمد یونیورسٹی www.pmu.edu.sa 2006 الخبر
شاہ سعود بن عبد العزیز یونیورسٹی برائے ہیلتھ www.ksau-hs.edu.sa 2005 ریاض
شہزادہ سلطان کالج برائے سیاحت و www.pscj.edu.sa 2007 جدہ
عفت کالج www.effatcollege.edu.sa 1999 جدہ
دار الحکمۃ کالج www.daralhekma.edu.sa 1999 جدہ
کالج برائے بزنس ایڈمنسٹریشن (CBA) www.cba.edu.sa 2000 جدہ
شہزادہ سلطان ایوی ایشن اکیڈمی [2] 2004 جدہ
الیمامہ کالج www.alyamamah.edu.sa 2004 ریاض
دمام ٹیکنالوجی کالج www.dct.gotevot.edu.sa دمام
جبیل انڈیسٹریل کالج www.jic.edu.sa 1978 الجبیل
جبیل ٹیکنیکل کالج الجبیل
انسٹی ٹیوٹ اف پبلک انتظامیہ www.ipa.edu.sa ریاض, جدہ, مکہ, دمام
جدہ کالج برائے اساتذہ www.jtc.edu.sa جدہ
جدہ کالج برائے ٹیکنالوجی www.jct.edu.sa 1987 جدہ
مدینہ کالج برائے ٹیکنالوجی www.mct.edu.sa 1996 مدینہ
کالج برائے ٹیلیکام و الیکٹرونکس جدہ
جدہ پرائیویٹ کالج جدہ
جدہ ہیلتھ کئیر کالج جدہ
جدہ کمیونٹی کالج Link جدہ
الحدود الشاملیۃ یونیورسٹی عرعر
تبوک یونیورسٹی تبوک
بٹرجی میڈیکل کالج bmcmedcollege.net جدہ
قصیم میڈیسن کالج Qassim College of Medicine بریدہ
سلیمان الراجحی یونیورسٹی Sulaiman Al Rajhi University بکریہ
ابن سینا نیشنل کالج برائے میڈیکل سٹڈیز ibnsina.edu.sa جدہ
المجمع کمیونٹی کالج 2002 مجمعہ
دمام کمیونٹی کالج www.dcc.edu.sa دمام
حفر الباطن کمیونٹی کالج www.hbcc.edu.sa 1999 حفر الباطن

کھیل[ترمیم]

سعودی عرب کا سب سے مقبول کھیل فٹ بال ہے ۔ سعودی عرب گرمائی اولمپکس، والی بال، باسکٹ بال اور دیگر کھیلوں میںعالمی سطح کے ٹورنامنٹس میں شرکت کرتا ہے ۔ قومی فٹ بال مسلسل 4 مرتبہ ورلڈ کپ اور 6 مرتبہ ایشین کپ کے لئے کوالیفائی کرنے کے باعث عالمی سطح پرجانی جاتی ہے ۔ سعودی عرب تین مرتبہ ایشین چمپئن رہ چکا ہے اور دو مرتبہ فائنل میں شکست کھاگیا۔ سعودی عرب کے چند معروف فٹ بال کھلاڑیوں میں ماجد عبداللہ، سامي الجابر اور ياسر القحطاني شامل ہیں۔

ثقافت[ترمیم]

سعودی ثقافت کی بنیاد مذہب اسلام ہے . اسلام کے دو مقدس ترین مقامات مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ سعودی عرب میں موجود ہیں۔ ہر روز دنیا بھر کے مسلمان 5 مرتبہ مکہ مکرمہ میں قائم خانہ کعبہ کی جانب رخ کرکے نماز پڑھتے ہیں۔ سعودی عرب میں ہفتہ وار تعطیل جمعہ کو ہوتی ہے ۔ قرآن مجید سعودی عرب کا آئین اور شریعت اسلامی عدالتی نظام کی بنیاد ہے ۔

سعودی عرب کے معروف ترین لوک رسم قومی رقص ارضیٰ ہے ۔ تلواروں کے ساتھ کیا جانے والا یہ رقص قدیم بدوی روایات کا حصہ ہے ۔ حجاز کی السہبا لوک موسیقی کی جڑیں قرون وسطیٰ کے عرب اندلس سے جاملتی ہیں۔

سعودی عرب کا لباس باشندوں کے زمین، ماضی اور اسلام سے تعلق کا عکاس ہے ۔ روایتی طور پر مرد ٹخنے تک کی لمبائی کی اونی یا سوتی قمیض پہنتے ہیں جو ثوب کہلاتی ہے جس کے ساتھ سر پر شماغ یا غطرہ کا استعمال کیا جاتا ہے ۔ عورتوں کا لباس قبائلی موتیوں، سکوں، دھاتی دھاگوں اور دیگر اشیاء سے مزین ہوتا ہے ۔ سعودی خواتین گھر سے باہر عبایہ اور نقاب کا استعمال کرتی ہیں۔

اسلام میں شراب نوشی اور سور کے گوشت کے استعمال کی سختی سے ممانعت ہے اور اس پر سعودی عرب میں سختی سے عملدرآمد کیا جاتا ہے ۔ سعودی روٹی خبز کا تقریباً تمام کھانوں میں استعمال کیا جاتا ہے ۔ بھنی ہوئی بھیڑ، مرغی، فلافل، شورمہ اور فول بھی دیگر مشہور کھانوں میں شامل ہیں۔ روایتی قہوہ خانے ہر جگہ موجود ہیں تاہم اب ان کی جگہ بڑے کیفے لے رہے ہیں۔ بغیر دودھ کی سیاہ عربی چائے کا استعمال ہر جگہ کیا جاتا ہے ۔

سعودی عرب میں تھیٹر اور سینما پر پابندی عائد ہے تاہم ظہران اور راس تنورہ میں قائم نجی آبادیوں میں تھیٹر قائم ہیں تاہم یہ فلموں کے نمائش کے بجائے مقامی موسیقی اور فنون پیش کرنے کے حوالے سے مشہور ہیں۔ حال ہی میں بچوں اور عورتوں کے لئے عربی کارٹون پیش کرنے کے لئے سینمائوں کے قیام کا منصوبہ بنایا گیا ہے ۔ امریکہ کی مشہور فلموں کی وڈیوز اور ڈی وی ڈیز قانونی ہیں اور ہر جگہ دستیاب ہیں۔

متعلقہ مضامین[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

متناسقات: 24°N 45°E / 24°N 45°E / 24; 45

  1. "About Saudi Arabia: Facts and figures". The royal embassy of Saudi Arabia, Washington, D.C., United States. اصل سے جمع شدہ 17 April 2012 کو. 
    • "God". Islam: Empire of Faith. PBS. 
    • "Islam and Christianity", Encyclopedia of Christianity (2001): Arabic-speaking Christians and Jews also refer to God as Allah.
    • L. Gardet. "Allah". Encyclopaedia of Islam Online. 
  2. Cite error: حوالہ بنام CIA_World_Factbook کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا ().
  3. "Official annual projection". cdsi.gov.sa. 2014. اصل سے جمع شدہ 9 May 2016 کو. 
  4. ^ 5.0 5.1 5.2 5.3 "Saudi Arabia". International Monetary Fund. 
  5. "2015 Human Development Report". United Nations Development Programme. 2015. 


Cite error: <ref> tags exist for a group named "lower-alpha", but no corresponding <references group="lower-alpha"/> tag was found, or a closing </ref> is missing