بھوٹان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ڈومین .bt

بھوٹان (Bhutan) (تلفظ: /bˈtɑːn/; زونگکھا འབྲུག་ཡུལ Dru Ü, با ابجدیہ: [ʈʂɦu yː]),[1] جنوبی ایشیاء کا ایک چھوٹا اور اہم ملک ہے. یہ ملک چین اور بھارت کے درمیان واقع ہے. اس ملک کا مقامی نام درك یو ہے، جس کا مطلب ہوتا ہے 'ڈریگن کا ملک. یہ ملک بنیادی طور پر پہاڑی علاقے پر مشتمل ہے صرف جنوبی حصہ میں تھوڑی سی ہموار زمین ہے. ثقافتی اور مذہبی طور سے تبت سے منسلک ہے، لیکن جغرافیائی اور سیاسی حالات کے پیش نظر اس وقت یہ ملک بھارت کے قریب ہے.

جغرافیہ[ترمیم]

بھٹان کا پہاڑ و میدانی نقشہ ــ
بھٹان کا موسمی نقشہ ــ
ھا وادی مغربی بھٹان میں ــ
گھنگکر ببویسم ــ

بھوٹان ایک پہاڑی ملک ہے ــ جو چین اور بھارت کے درمیان پایا جاتا ہے ــ

نام[ترمیم]

کچھ لوگوں کے مطابق بھوٹان سنسکرت کے لفظ بھو-ات تھان سے بنا ہے جس کا لفظی مطلب ہے اونچی زمین. کچھ کے مطابق یہ بھوت - انت (یعنی تبت کا خاتمہ) کی بگڑی شکل ہے. یہاں کے باشندے بھوٹان کو درك - يو (ڈریگن کا ملک) اور اس کے باشندوں کو درپكا کہتے ہیں. اس کے علاوہ بھی بھوٹان کے کئی اور سابق نام بھی ہیں۔

تاریخ[ترمیم]

سترھویں صدی کے آخر میں بھوٹان میں بدھ لوگوں کی اکثریت تھی. 1865 میں برطانیہ اور بھوٹان کے درمیان سنچل معاہدہ پر دستخط ہوا، جس کے تحت بھوٹان کی کچھ سرحدی زمین کے حصہ کے بدلے کچھ سالانہ فنڈنگ ​​کے معاہدے کئے گئے. برطانوی اثرات کے تحت 1907 میں وہاں بادشاہی نظام کی تشکیل ہوئی. تین سال بعد ایک اور معاہدہ ہوا، جس کے تحت برطانوی اس بات پر راضی ہوئے کہ وہ بھوٹان کے اندرونی معاملات میں دخل اندازی نہیں کریں گے لیکن بھوٹان کی خارجہ پالیسی برطانیہ کی طرف سے طے کی جائے گی. بعد میں 1947 کے بعد یہی کردار بھارت کو برطانیہ کی طرف سے ملا. دو سال بعد 1949 میں بھارت بھوٹان معاہدے کے تحت بھارت نے بھوٹان کی وہ ساری زمین اسے لوٹا دی جو انگریزوں کے قبضے میں تھی. اس معاہدے کے تحت بھارت کا بھوٹان کی خارجہ پالیسی اور دفاعی پالیسی میں کافی اہم کردار رہا.

فہرست متعلقہ مضامین بھوٹان[ترمیم]

Incomplete-document-purple.svg یہ ایک نامکمل مضمون ہے۔ آپ اس میں اضافہ کرکے ویکیپیڈیا کی مدد کر سکتے ہیں۔
  1. Driem، George van (1998). Dzongkha = Rdoṅ-kha. Leiden: Research School, CNWS. صفحہ۔478.