مندرجات کا رخ کریں

بھوٹان

متناسقات: 27°25′01″N 90°26′06″E / 27.417°N 90.435°E / 27.417; 90.435
آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
مملکت بھوٹان
འབྲུག་རྒྱལ་ཁབ།  (زونگکھا)
دروک گیال خب
پرچم بھوٹان
قومی نشان of بھوٹان
ترانہ: 
دار الحکومت
اور سب سے بڑا شہر
تھمپو
27°28.0′N 89°38.5′E / 27.4667°N 89.6417°E / 27.4667; 89.6417
سرکاری زبانیںزونگکھا
مذہب
(2020)[1][2]
آبادی کا نامبھوٹانی
حکومتوحدانی پارلیمانی آئینی بادشاہت
جگمے کھیسر نامگیال وانگچوک
شیرنگ توبگے
مقننہپارلیمان بھوٹان
قومی کونسل بھوٹان
قومی اسمبلی بھوٹان
تشکیل
• بھوٹان کا اتحاد
1616–1634
1650–1905
• خاندان وانگچوک کا آغاز
17 دسمبر 1907
8 اگست 1949
18 جولائی 2008
رقبہ
• کل
38,394 کلومیٹر2 (14,824 مربع میل)[3][4] (133واں)
• پانی (%)
1.1
آبادی
• 2016 تخمینہ
797,765[5][6] (159واں)
• 2022 مردم شماری
727145[7]
• کثافت
[آلہ تبدیل: invalid number]
جی ڈی پی (پی پی پی)2025 تخمینہ
• کل
$14.110 بلین[8] (160واں)
• فی کس
$17774[9] (102واں)
جی ڈی پی (برائے نام)2025 تخمینہ
• کل
$3.420 بلین[10] (166واں)
• فی کس
$4300[11] (127واں)
جینی (2022)28.5[12]
low
ایچ ڈی آئی (2023)0.698[13]
میڈیم · 125واں
کرنسیبھوٹانی نگلترم (BTN)
بھارتی روپیہ (₹)
منطقۂ وقتیو ٹی سی+06 (بھوٹان وقت)
ڈرائیونگ سائیڈبائیں جانب[14]
کالنگ کوڈ+975
انٹرنیٹ ایل ٹی ڈی.bt
  1. بھوٹان کی آبادی کی پرانی تخمینہ جات 1970 کی دہائی میں اقوام متحدہ میں شمولیت کے وقت تقریباً 10 لاکھ بتائے گئے تھے جن کی بنیاد پر بعد میں تخمینے کیے جاتے رہے۔[15] 2005ء کی مردم شماری کے مطابق آبادی 672425 نکلی۔ اس کے بعد اقوام متحدہ آبادی ڈویژن نے 1950 تا 2000 کے اعداد و شمار میں ترمیم کی۔[16]

بھوٹان[a] باضابطہ طور پر مملکت بھوٹان[b][17] ایک زمین بند ملک ہے جو جنوبی ایشیا کے مشرقی ہمالیہ میں واقع ہے۔ اس کے شمال اور شمال مغرب میں چین جبکہ جنوب اور جنوب مشرق میں بھارت واقع ہے۔ [c]

بھوٹان کی آبادی 727145 سے زائد ہے جبکہ اس کا رقبہ 38,394 کلومربع میٹر (14,824 مربع میل) ہے، جس کے لحاظ سے یہ فہرست ممالک بلحاظ رقبہ اور فہرست ممالک بلحاظ آبادی میں شمار ہوتا ہے۔ یہ ايک جمہوریت اور آئینی بادشاہت ہے جس میں شاہ بھوٹان سربراہ ریاست اور وزیر اعظم بھوٹان سربراہ حکومت ہوتا ہے۔ جے کھنپو ملک کے ریاستی مذہب وجریان بدھ مت کا سربراہ ہے۔

شمالی بھوٹان کے بلند ہمالیائی سلسلہ کوہ ملک کے جنوبی سرسبز نیم حارہ مييدانی علاقوں سے اوپر اٹھتے ہیں۔ بھوٹانی ہمالیہ میں کئی چوٹياں 7,000 میٹر (23,000 فٹ) سے زائد بلند ہیں۔ گنگکھر پنسم بھوٹان کی سب سے اونچی اور دنیا کی سب سے بلند غير فتح شدہ چوٹی ہے۔ حیاتیات بھوٹان ہمالیائی تاکن اور سنہری لنگور جیسی ناياب انواع کے لیے مشہور ہے۔ دار الحکومت اور سب سے بڑا شہر تھمپو ہے جہاں ملک کی تقريباً 15 فيصد آبادی آباد ہے۔

بھوٹان اور پڑوسی تبت میں بدھ مت کا پھیلاؤ جنوبی ايشيا سے گوتم بدھ کے دور کے بعد ہوا۔ پہلی ہزار سالی ميں وجريان بدھ مت پال سلطنت کے ذریعے بنگال سے بھوٹان پہنچا۔ سولہويں صدی میں ناگوانگ نامگیال نے واديان بھوٹان کو متحد کر کے ايک ریاست کی بنياد رکھی۔ انھوں نے تبت کی تین یلغاروں کو شکست دی، مخالف مذہبی گروہوں کو تابع کیا، تسا ییگ قانونی نظام مرتب کیا اور مذہبی و شہری انتظام پر مشتمل حکومت تشکیل دی۔ نامگیال پہلے ژبدھرنگ رنپوچے بنے اور ان کے جانشینوں نے تبت کے دلائی لاما کی طرح روحانی قیادت سنبھالی۔

بھوٹان کبھی نوآبادی نہیں بنا تاہم یہ سلطنت برطانیہ کا ايک محمیہ رہا۔ انیسویں صدی کی دؤار جنگ کے بعد بھوٹان نے بنگال دؤار برطانوی راج کو دے دیے۔ بعد ازاں خاندان وانگچوک نے بادشاہت قائم کی اور برصغیر میں برطانوی حکومت کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کیے۔ 1910ء کے معاہدہ پوناکھا کے تحت برطانیہ نے بھوٹان کے خارجہ امور ميں مشورے کا حق حاصل کیا جبکہ بھوٹان کو اندرونی خود مختاری دی گئی۔ 1949ء میں بھارت کے ساتھ دارجلنگ میں نئے معاہدے کے ذریعے دونوں نے ایک دوسرے کی خود مختاری تسلیم کی۔ بھوٹان نے 1971 میں اقوام متحدہ میں شمولیت اختیار کی اور آج 56 ممالک سے تعلقات رکھتا ہے۔ ملکی دفاع کے لیے اگرچہ یہ بھارتی فوجی تربیتی دستہ پر انحصار کرتا ہے مگر اس کی اپنی شاہی بھوٹان فوج بھی موجود ہے۔ 2008 کے آئين بھوٹان کے تحت منتخب قومی اسمبلی بھوٹان اور قومی کونسل بھوٹان پر مشتمل پارلیمانی نظام قائم ہوا۔

بھوٹان جنوبی ایشیائی علاقائی تعاون کی تنظیم (سارک) کا بانی رکن ہے اور کلائمٹ ولنریبل فورم، غیر وابستہ ممالک کی تحریک، بمستیک، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ، ورلڈ بینک، یونیسکو اور عالمی ادارہ صحت کا رکن بھی ہے۔ 2016 میں بھوٹان نے سارک میں اشاریہ اقتصادی آزادی، اشاریہ سہولیات کاروبار، اشاریہ عالمی امن اور اشاریہ ادراک بدعنوانی میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔ 2020ء میں بھوٹان انسانی ترقیاتی اشاریہ میں جنوبی ايشيا میں سری لنکا اور مالدیپ کے بعد تیسرے نمبر پر رہا۔ 2024 میں یہ جنوبی ايشيا کا سب سے پرامن ملک قرار پایا اور اشاریہ عالمی امن کی فہرست کے پہلے حصے میں شامل واحد جنوب ایشیائی ملک تھا۔[19][20]

بھوٹان دنیا کے بڑے ہائیڈرو پاور کے ذخائر رکھنے والے ممالک میں سے ایک ہے۔[21][22] آب و ہوا میں تبدیلی کے باعث گلیشیر بھوٹان کے تیزی سے پگھلنے پر تشویش پائی جاتی ہے۔[23]

اکتوبر 2025ء میں بھوٹان کی قومی ڈیجیٹل شناخت (NDI) کو 2026 کے آغاز تک ایتھریئم بلاک چین پر منتقل کرنے کے اعلان نے عالمی توجہ حاصل کی۔ اس تقریب کی صدارت ولی عہد جگمے نامگیال وانگچوک نے کی جبکہ ايتھريئم کے باني ویٹالک بوٹرن اور ايتھريئم فاؤنڈيشن کی صدر آيا مياگوچی بھی موجود تھیں۔[24][25]

تاریخ

[ترمیم]
تین ہمالیائی خطوں کے درمیان واقع بھوٹان (سبز رنگ میں)، 1912 کے مغربی ایشیا کے نقشے میں

قدیم پتھریلے اوزار، ہتھیار، ہاتھیوں کے آثار اور بڑے پتھریلے ڈھانچوں کے باقیات اس بات کا ثبوت دیتے ہیں کہ بھوٹان میں 2000 قبل مسیح ہی سے انسانی سکونت موجود تھی، اگرچہ اس دور کے کوئی تحریری ریکارڈ موجود نہیں۔ مؤرخین نے امکان ظاہر کیا ہے کہ لوہ مون (لفظی 'جنوبی تاریکی') یا مونیول ("اندھیری سرزمین"—جس کا تعلق مونپا قوم سے ہے، جو بھوٹان اور اروناچل پردیش میں رہتی ہے) نامی ایک ریاست 500 ق م سے 600 عیسوی کے درمیان وجود رکھتی تھی۔ لوہ مون تزندن جوںگ (صندل کی سرزمین) اور لوہ مون کھاشی (جنوبی مون—چار راستوں کی سرزمین) جیسے نام قدیم بھوٹانی اور تبتی تواریخ میں ملتے ہیں۔[26][27]

پارو ضلع میں 1646 میں تعمیر ہونے والا ایک زوںگ

بدھ مت پہلی مرتبہ ساتویں صدی عیسوی کے وسط میں بھوٹان میں متعارف ہوا۔ تبتی بادشاہ سونگتسن گامپو[28] (دور حکومت 627–649)، جو بدھ مت اختیار کرچکے تھے، نے تبت کی سلطنت کو سی کیم اور بھوٹان تک پھیلا دیا۔[29] انھوں نے دو بدھ معابد تعمیر کرائے: مرکزی بھوٹان کے جاکر میں جمبے لکھانگ اور پارو ضلع میں کیچو لکھانگ۔[30]

بدھ مت کی منظم تبلیغ 746 میں[31] بادشاہ سندھوراجا (کنجوم؛[32] سینڈھا گیاپ؛ چکھر گیالپو)، جو ایک جلاوطن بھارتی قوم کے راجا تھے اور بُمٹهانگ کے چکھر گوتھو محل میں حکومت قائم کرچکے تھے، کے دور میں ہوئی۔[33]:35[34]:13

پارو کے قومی عجائب گھر میں پرتگالی توپیں
تراشیگانگ زوںگ، تعمیر شدہ 1659

دسویں صدی تک بدھ مت نے بھوٹان کی سیاسی ساخت پر گہرا اثر ڈال دیا تھا۔ بدھ مت کی مختلف فرعی شاخیں ابھریں جن کی سرپرستی مختلف منگول سردار کر رہے تھے۔[35]

بھوٹان غالباً یوآن خاندان سے بھی متاثر ہوا، جس کے ساتھ اس کی مذہبی و ثقافتی مماثلتیں پائی جاتی ہیں۔[36]

چودھویں صدی میں یوآن خاندان کے زوال کے بعد یہ فرعی فرقے باہمی برتری کے لیے آمنے سامنے آئے، جس کا نتیجہ بالآخر سولہویں صدی میں دروکپا سلسلہ کے غلبے کی صورت میں نکلا۔[30][37]

1783 میں بھوٹان کے داخلی علاقے کا خاکہ
1813 میں بھوٹان کی مصوری
فائل:Durbar of Ugyen Wangchuck...
1905 میں بھوٹان کے شاہی دربار میں برطانوی ایلچی
فائل:Thrikheb.jpg
انیسویں صدی کا تھرکھیب (تخت پوش)، بلند لاماؤں کی نشستوں پر بچھایا جاتا تھا

بھوٹان کو مقامی سطح پر مختلف ناموں سے جانا جاتا رہا ہے۔ بھوٹان کا سب سے قدیم مغربی ریکارڈ 1627 میں پرتگالی یسوعی مبلغین استیوان کاسیلا اور یوان کبرال کی تحریر رلاساؤں ہے،[38] جس میں بھوٹان کا نام مختلف صورتوں میں ملتا ہے: کمبر اسی (ریاست کوچ بہار کے باشندوں کے استعمال میں)، پوتینتے اور مون (جنوبی تبت کا مقامی نام)۔[39]

سترہویں صدی کے اوائل تک بھوٹان کئی چھوٹی لڑاکا جاگیروں میں بٹا ہوا تھا۔ اس خطے کو تبتی لاما اور عسکری رہنما ناگوانگ نامگیال نے متحد کیا، جو مذہبی جبر کے باعث تبت سے بھاگ آئے تھے۔ تبت کی وقفے وقفے سے یلغاروں سے بچاؤ کے لیے نامگیال نے ناقابلِ تسخیر زوںگوں (قلعوں) کا جال بچھایا اور تسا ییگ قانون نامہ نافذ کیا، جس نے مقامی سرداروں کو مرکزی نظم کے تابع کر دیا۔ بہت سے زوںگ آج بھی موجود ہیں اور مذہبی و ضلعی انتظام کے مراکز کے طور پر سرگرم ہیں۔

پرتگالی یسوعی استیوان کاسیلا اور یوان کبرال بھوٹان آنے والے پہلے یورپی تھے (1627)،[40] جو تب تبت جا رہے تھے۔ انھوں نے ژبدھرنگ ناگوانگ نامگیال سے ملاقات کی، انھیں بارود، آتشیں اسلحہ اور دوربین پیش کی، مگر نامگیال نے ان کی عسکری خدمات لینے سے انکار کر دیا۔ کاسیلا نے بعد ازاں چگری خانقاہ سے ایک طویل خط لکھ کر اپنے سفر کی روداد بیان کی، جو ژبدھرنگ کے متعلق نایاب شہادتوں میں شمار ہوتا ہے۔[41]

نامگیال کی 1651 میں وفات کے بعد ان کی موت 54 برس تک خفیہ رکھی گئی۔ کچھ عرصہ استحکام کے بعد بھوٹان اندرونی خانہ جنگیوں میں مبتلا ہو گیا۔ 1711 میں بھوٹان نے جنوبی ریاست ریاست کوچ بہار کے راجا کے خلاف جنگ کی۔ 1714 میں تبت نے بھوٹان پر حملہ کیا مگر ناکام رہا۔[42] اس عرصے میں بھوٹان کا اثر و رسوخ کوچ بہار میں بڑھ گیا۔[43]

اٹھارویں صدی میں بھوٹانیوں نے کوچ بہار پر حملہ کر کے قبضہ کر لیا۔ 1772 میں کوچ بہار کے مہاراجہ نے برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی سے مدد مانگی، جس نے بھوٹانیوں کو پسپا کر کے بعد میں خود بھوٹان پر چڑھائی کی۔ امن معاہدے میں بھوٹان نے 1730 کی سرحدوں تک واپسی قبول کی۔ تاہم سرحدی جھڑپیں اگلے سو برس تک جاری رہیں۔ بالآخر دؤار جنگ (1864–65) ہوئی، جس میں بھوٹان نے شکست کھائی اور دؤار متحدہ مملکت برطانیہ عظمی و آئر لینڈ کے حوالے کیے گئے اور بدلے میں ₹50,000 سالانہ معاوضہ طے پایا۔

1870 کی دہائی میں پارو، بھوٹان اور ترونگسا کی متحارب وادیوں میں اقتدار کی کشمکش نے خانہ جنگی کو جنم دیا، جس کے نتیجے میں اوگین وانگچوکپینلوپ ترونگسا—نے اپنے مخالفین کو شکست دے کر 1882–85 کے درمیان ملک کو متحد کر دیا۔[44]

1907 میں بھوٹان کے مذہبی رہنماؤں، سرکاری عہدے داروں اور معزز خاندانوں کے اجتماع نے اوگین وانگچوک کو موروثی بادشاہ منتخب کیا۔ اس تقریب کی تصاویر برطانوی سیاسی ایجنٹ جان کلاڈ وائٹ نے لیں۔[45] برطانوی حکومت نے فوری طور پر نئی بادشاہت کو تسلیم کر لیا۔

1910 میں بھوٹان نے معاہدہ پونا کھا پر دستخط کیے، جو ایک معاہدہ ماتحتی تھا اور برطانیہ کو بھوٹان کے خارجی امور پر کنٹرول دیتا تھا۔ آزادی کے بعد 1947 میں بھارت ڈومینین قائم ہوا تو بھوٹان اس کے بعد آزاد بھارت کو تسلیم کرنے والے اولین ممالک میں شامل تھا۔ 8 اگست 1949 کو بھارت کے ساتھ ایک نیا معاہدہ طے پایا، جو 1910 کے معاہدے سے مشابہ تھا۔[26]

1953 میں بادشاہ جگمے دورجی وانگچوک نے 130 رکنی قومی اسمبلی بھوٹان قائم کی تاکہ جمہوری طرز حکومت کو فروغ دیا جا سکے۔ 1965 میں شاہی مشاورتی کونسل اور 1968 میں کابینہ تشکیل دی گئی۔ 1971 میں بھوٹان اقوام متحدہ کا رکن بنا۔ 1972 میں جگمے سنگھے وانگچوک سولہ برس کی عمر میں تخت پر فائز ہوئے۔

فائل:Manmohan Singh ...SAARC...jpg
2010 میں تھمپو میں سارک سربراہ اجلاس کے رہنما

بھوٹان کے چھٹے پانچ سالہ منصوبے (1987–92) میں "ایک قوم، ایک عوام" کی پالیسی شامل تھی۔ اس کے تحت روایتی دروکپا لباس اور آداب پر مبنی درگلام نمژاگ نافذ کیا گیا، جس کے مطابق مردوں کے لیے گھو اور خواتین کے لیے کیرا لازمی قرار دیا گیا۔[46]

1960ء کی دہائی کے آخر سے بھوٹان کی سرکاری زبان زونگکھا کو قومی سطح پر مضبوط بنانے کی پالیسی اپنائی گئی۔ 1964 میں ہندی زبان کا سرکاری استعمال ترک کرنے سے اس عمل کا آغاز ہوا۔[47] اس کے نتیجے میں 1990 میں اسکولوں میں نیپالی زبان (جو جنوبی بھوٹان کے لوٹیشامپا برادری بولتی تھی) کی تدریس ختم کردی گئی۔[46]

1988 میں جنوبی علاقوں میں غیر قانونی ہجرت کی روک تھام کے لیے مردم شماری کی گئی۔ ہر خاندان کو 1958 کا ٹیکس رسید یا جائے پیدائش کا سرٹیفکیٹ پیش کرنا لازم کیا گیا۔ شہریتی کارڈ قبول نہیں کیے گئے۔ ان اقدامات کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاج شروع ہوئے، جنھیں حکومت نے "غیر قومی دہشت گردی" قرار دیا۔[48] بعد ازاں حکومت نے دعویٰ کیا کہ جنوبی بھوٹان میں ایک لاکھ سے زائد "غیر قانونی تارکین" موجود ہیں، حالانکہ یہ تعداد متنازع ہے۔ اس بنیاد پر ہزاروں لوٹیشامپا باشندوں کو زبردستی بے دخل کیا گیا۔ انھیں ریاستی جبر، تشدد، عصمت دری اور قتل کا نشانہ بنائے جانے کے الزامات بھی سامنے آئے۔[49][50][51]

بے دخل کیے گئے لوٹیشامپا نیپال کے جنوبی کیمپوں میں پناہ گزین بن گئے۔ 2008 کے بعد سے کینیڈا، ناروے، متحدہ مملکت، آسٹریلیا اور ریاستہائے متحدہ سمیت کئی مغربی ممالک نے ان پناہ گزین خاندانوں کی دوبارہ آبادکاری قبول کی ہے۔[48]

شہر اور قصبے

[ترمیم]
 
بھوٹان کے بڑے شہر یا ٹاؤن
2017 کی مردم شماری کے مطابق[52]
درجہ ضلع آبادی
1 تھمپو [[تھمپو ضلع|تھمپو]] 114,551
2 پھونتشولنگ [[چکھا ضلع|چکھا]] 27,658
3 پارو [[پارو ضلع|پارو]] 11,448
4 گیلیفو [[سرپانگ ضلع|سرپانگ]] 9,858
5 سامدروپ جونگخار [[سامدروپ جونگخار ضلع|سامدروپ جونگخار]] 9,325
6 وانگدو پھودرانگ [[وانگدو پھودرانگ ضلع|وانگدو پھودرانگ]] 8,954
7 پونا کھا [[پونا کھا ضلع|پونا کھا]] 6,626
8 جاکر [[بومتھانگ ضلع|بومتھانگ]] 6,243
9 نگلام [[پیمگاتشل ضلع|پیمگاتشل]] 5,418
10 سامتسے [[سامتسے ضلع|سامتسے]] 5,396

مذہب

[ترمیم]




بھوٹان میں مذہبی تناسب (ایسوسی ایشن آف ریلیجن ڈیٹا آرکائیوز – ARDA) 2020[53][54]

  بدھ مت (74.7%)
  ہندو مت (22.6%)
  بون مذہب (1.9%)
  دیگر (0.8%)

تخمیناً دو تہائی سے تین چوتھائی بھوٹانی آبادی وجریان بدھ مت کی پیروکار ہے، جو ملک کا ریاستی مذہب بھی ہے۔ ہندو مت 22.6 فیصد آبادی پر مشتمل ہے۔[55]

موجودہ قانونی ڈھانچہ اصولی طور پر مذہبی آزادی کی ضمانت دیتا ہے؛ تاہم تبلیغ پر پابندی ہے، جو ایک شاہی فیصلے اور آئين بھوٹان کی عدالتی تشریح کے تحت ممنوع ہے۔[56]

بدھ مت 746 عیسوی میں بھوٹان میں داخل ہوا جب گرو پدم سمبھوا بومتھانگ ضلع تشریف لائے۔ تبتی بادشاہ سونگتسن گامپو نے جمبے لکھانگ (جاکر) اور کیچو لکھانگ (پارو) تعمیر کرائے۔[30]

زبانیں

[ترمیم]

بھوٹان کی سرکاری زبان زونگکھا ہے، جو تبتی زبانیں خاندان کی 53 زبانوں میں سے ایک ہے۔ اس کا رسم الخط چھوکی کہلاتا ہے جو کلاسیکی تبتی رسم الخط سے یکساں ہے۔ تعلیمی نظام میں انگریزی ذریعہ تدریس ہے جبکہ زونگکھا قومی زبان کے طور پر پڑھائی جاتی ہے۔ ایتھنولوگ کے مطابق بھوٹان میں 24 زبانیں بولی جاتی ہیں، جن میں سے بیشتر تبتی برمی زبانیں ہیں، سوائے نیپالی زبان کے جو ہند آریائی زبانیں خاندان سے تعلق رکھتی ہے۔[57]

1980 کی دہائی تک حکومت جنوبی بھوٹان میں نیپالی تعلیم کی سرپرستی کرتی رہی۔ تاہم درگلام نمژاگ کے نفاذ اور زونگکھا کو مستحکم کرنے کی پالیسی کے بعد نیپالی کو نصاب سے خارج کر دیا گیا۔

لوٹیشامپا (نیپالی بولنے والی برادری) 1980 سے پہلے مجموعی آبادی کا تقریباً 30 فیصد تھے۔[57] 1990–1992 میں ان کی بڑے پیمانے پر بے دخلی کے بعد یہ تناسب درست عکاسی نہیں کرتا۔

زونگکھا تقریباً سکمی زبان سے مفہوم میں مشابہ ہے اور 25% آبادی کی مادری زبان ہے۔ تسانگلا زبان (شارچوپکھا) زیادہ لوگوں کی مادری زبان ہے اور اسے تبتی برمی خاندان کی ایک آزاد شاخ تصور کیا جا سکتا ہے۔ نیپالی بولنے والوں کا تناسب بمطابق 2006 40% بتایا جاتا ہے۔ بڑی اقلیتی زبانوں میں دزلا زبان (11%)، لمبو زبان (10%)، کھینگ زبان (8%) اور رائی زبان (8%) شامل ہیں۔ معتبر اعداد و شمار کی کمی کے باعث یہ مجموعے 100% تک نہیں پہنچتے۔

سانچہ:South Asian topics

27°25′01″N 90°26′06″E / 27.417°N 90.435°E / 27.417; 90.435

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. "Pew Research Center – Global Religious Landscape 2010 – religious composition by country" (PDF)۔ 2016-12-13 کو اصل (PDF) سے آرکائیو کیا گیا
  2. "Bhutan, Religion And Social Profile"۔ Thearda.com۔ 2022-07-17 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2022-07-17
  3. "9th Five Year Plan (2002–2007)" (PDF)۔ Royal Government of Bhutan۔ 2002۔ 20 مارچ 2012 کو اصل (PDF) سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 22 اگست 2011
  4. "National Portal of Bhutan"۔ Department of Information Technology, Bhutan۔ 2012-04-23 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2011-08-22
  5. "World Population Prospects: The 2017 Revision"۔ ESA.UN.org (custom data acquired via website)۔ United Nations Department of Economic and Social Affairs, Population Division۔ اخذ شدہ بتاریخ 2017-09-10
  6. "World Population Prospects – Population Division – United Nations"۔ population.un.org۔ 2020-05-20 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2021-01-02
  7. "Bhutan"۔ City Population۔ 2003-10-05 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-05-07
  8. "World Economic Outlook Database, April 2025" (بزبان انگریزی).
  9. "World Economic Outlook Database, April 2025" (بزبان انگریزی).
  10. "World Economic Outlook Database, April 2025" (بزبان انگریزی).
  11. "World Economic Outlook Database, April 2025" (بزبان انگریزی).
  12. "Gini Index"۔ World Bank۔ 2015-02-09 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2023-11-25
  13. "Human Development Report 2025" (PDF) (بزبان انگریزی). اقوام متحدہ ترقیاتی پروگرام. 6 May 2025. Archived (PDF) from the original on 2024-03-13. Retrieved 2024-03-13.
  14. "List of left- & right-driving countries"۔ WorldStandards۔ 2022-11-10 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2022-11-16
  15. "Treaty Bodies Database – Summary Record – Bhutan"۔ اقوام متحدہ کے اعلیٰ کمشنر برائے انسانی حقوق۔ 5 جون 2001۔ 2009-01-10 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2009-04-23
  16. "World Population Prospects"۔ اقوام متحدہ۔ 2008۔ 2010-01-07 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2009-12-04
  17. George van Driem (1998)۔ Dzongkha = Rdoṅ-kha۔ Leiden: Research School, CNWS۔ ص 478۔ ISBN:978-90-5789-002-4
  18. Shibani Meta (23 اپریل 2025)۔ "On Thin Ice: Bhutan's Diplomatic Challenge Amid the India-China Border Dispute"۔ اخذ شدہ بتاریخ 2025-05-10
  19. "Human Development Index: Bangladesh moves 2 notches up, remains 5th in South Asia."۔ Dhaka Tribune۔ 21 دسمبر 2020۔ 2020-12-21 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2021-01-02
  20. "2024 GLOBAL PEACE INDEX" (PDF)۔ 2024-08-19 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا (PDF)۔ اخذ شدہ بتاریخ 2024-08-12
  21. "Bhutan". International Hydropower Association (بزبان انگریزی). Archived from the original on 2022-05-21. Retrieved 2021-01-02.
  22. Sonam Tshering؛ Bharat Tamang۔ "Hydropower – Key to sustainable, socio-economic development of Bhutan" (PDF)۔ United Nations۔ 2020-10-31 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا (PDF)۔ اخذ شدہ بتاریخ 2021-08-23
  23. "Bhutan". UNDP Climate Change Adaptation (بزبان انگریزی). Archived from the original on 2022-05-21. Retrieved 2021-04-13.
  24. Vincent Dioquino (13 اکتوبر 2025)۔ "Bhutan to Anchor National Digital ID on Ethereum by Early 2026"۔ Decrypt۔ اخذ شدہ بتاریخ 2025-10-14
  25. Brayden Lindrea (13 اکتوبر 2025)۔ "Bhutan migrates its national ID system to Ethereum"۔ Coin Telegraph۔ اخذ شدہ بتاریخ 2025-10-14
  26. ^ ا ب "Bhutan"۔ World Institute for Asian Studies۔ 21 اگست 2006۔ 2009-08-01 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2009-04-23
  27. "Origins and Early Settlement, A.D. 600–1600"۔ Bhutan: مطالعہ ملک (Savada, Andrea Matles، اشاعت۔)۔ کتب خانہ کانگریس فیڈرل ریسرچ ڈویژن۔  یہ متن ایسے ذریعے سے شامل ہے، جو دائرہ عام میں ہے۔
  28. Ruth Padel (2009)۔ Tigers In Red Weather: A Quest for the Last Wild Tigers۔ Bloomsbury Publishing USA۔ ص 139–140۔ ISBN:978-0-8027-1854-9
  29. Sailen Debnath ...
  30. ^ ا ب پ Bhutan: مطالعہ ملک (Savada ...، اشاعت۔)۔ کتب خانہ کانگریس فیڈرل ریسرچ ڈویژن۔  یہ متن ایسے ذریعے سے شامل ہے، جو دائرہ عام میں ہے۔
  31. Peoples of the Buddhist World ...
  32. LOC link…
  33. "…" {{حوالہ ویب}}: پیرامیٹر |یوآرایل= غیر موجود یا خالی (معاونت)
  34. O Clarim, 2018…
  35. The History of Bhutan ...
  36. DNA India…
  37. Hannavy, 2013…
  38. ^ ا ب
  39. ResearchGate…
  40. ^ ا ب
  41. Hutt, 2005…
  42. Pulla, 2016…
  43. US State Dept., 2019…
  44. "Bhutan"۔ City Population.de۔ 2003-10-05 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2021-08-23
  45. "Table: Religious Composition by Country" (PDF)۔ پیو ریسرچ سینٹر۔ 2018-03-23 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا (PDF)۔ اخذ شدہ بتاریخ 2022-11-20
  46. "National Profiles"۔ The ARDA۔ اخذ شدہ بتاریخ 2025-03-26
  47. "International Religious Freedom Report 2007–Bhutan"۔ ریاستہائے متحدہ محکمہ خارجہ۔ 14 ستمبر 2007۔ 2019-12-11 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2008-01-06
  48. "Pastor Sentenced to Three Years in Prison"۔ Bhutan News Service۔ 12 دسمبر 2010۔ اصل سے آرکائیو شدہ بتاریخ 2010-12-16۔ اخذ شدہ بتاریخ 2011-01-25{{حوالہ ویب}}: اسلوب حوالہ 1 کا انتظام: ناموزوں یوآرایل (link)
  49. ^ ا ب

مزید پڑھیے

[ترمیم]

عمومی

[ترمیم]

تاریخ

[ترمیم]

جغرافیہ

[ترمیم]
  • Neil Fraser؛ Anima Bhattacharya؛ Bimalendu Bhattacharya (2001)۔ Geography of a Himalayan Kingdom: Bhutan۔ Concept Publishing۔ ISBN:8170228875
  • Augusto Gansser (1983)۔ Geology of the Bhutan Himalaya۔ Birkhäuser Verlag۔ ISBN:3-7643-1371-4

بیرونی روابط

[ترمیم]