ویکیپیڈیا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ویکیپیڈیا
A white sphere made of large jigsaw pieces, with letters from several alphabets shown on the pieces
Wikipedia wordmark
سائٹ کی قسم
انٹرنیٹ دائرۃ المعارف
دستیاب 288 نسخے[1]
مالک مؤسسہ ویکیمیڈیا
بانی جیمی ویلز، Larry Sanger[2]
ویب سائٹ wikipedia.org
الیکسا درجہ کم 7[3] (اکتوبر 2015)
تجارتی نہیں
اندراج اختیاری[notes 1]
صارفین 215 فعال صارفین[notes 2] اور 80,733 مندرج صارفین
آغاز 15 جنوری، 2001؛ 17 سال قبل (2001-01-15)
نوجودہ حیثیت فعال
Content license
کریئیٹیو کامنز اجازت نامہ 3.0
اکثر متن دوہرے اجازت نامے گنو آزاد مسوداتی اجازہ کے تحت ہے؛ تصاویر اور دیگر فائلوں کے اجازت نامے مختلف ہو سکتے ہیں۔
Written in لینکس A M پی ایچ پی platform[4]

ویکیپیڈیا (انگریزی: Wikipedia) ویب پر مبنی ایک کثیر اللسان آزاد دائرۃ المعارف ہے جو ہر ایک کو ترمیم کرنے کی نہ صرف اجازت بلکہ دعوت بھی دیتا ہے۔ یہ دائرۃ المعارف انٹرنیٹ کا عظیم ترین، مشہور ترین اور مقبول ترین علمی مرجع خاص و عام ہے۔[5][6][7] الیکسا درجہ بندی کے مطابق یہ دنیا کی سب سے مقبول ویب سائٹوں میں سے ایک ہے۔[3] ویکیپیڈیا ویکیمیڈیا فاونڈیشن کی زیر سرپرستی اور اس کے تعاون سے چلتا ہے۔ ویکیمیڈیا فاونڈیشن ایک غیر منافع بخش تنظیم ہے جس کا ذریعہ آمدنی حصول سرمایہ کی سالانہ مہم سے حاصل ہونے والی رقومات ہیں۔[8][9][10]

15 جنوری 2001ء کو جیمی ویلز اور لیری سانگر نے ویکیپیڈیا کا آغاز کیا۔[11] سانگر نے ویکی اور انسائیکلوپیڈیا کے آمیختہ سے اس اس کا نام ویکیپیڈیا تجویز کیا[12][13] اور یہی نام حتمی قرار پایا۔ ابتدا میں ویکیپیڈیا محض انگریزی زبان میں تھا لیکن جلد ہی دوسری زبانوں میں بھی اس کے نسخے وجود میں آگئے۔ پچاس لاکھ سے زائد مضامین پر مشتمل انگریزی ویکیپیڈیا بقیہ 290 سے زائد ویکیپڈیاؤں میں سب سے بڑا ہے۔ تمام ویکیپیڈیاؤں کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ کل 301 مختلف زبانوں میں 40 ملین سے زیادہ مضامین ہیں۔[14] یہی نہیں بلکہ 18 بلین صفحات اور تقریباً 500 ملین ماہانہ منفرد قارئین کا حامل ویکیپیڈیا دنیا کا سب زیادہ پڑھا جانے والا ماخذ ہے۔ یہ اعداد و شمار فروری 2014ء کے ہیں،[15] جبکہ مارچ 2017ء تک ویکیپیڈیا پر تقریباً 40000 منتخب مضامین اور بہترین مضامیں موجود تھے جو متعدد و متنوع اہم موضوعات کا احاطہ کرتے ہیں۔[16][17] سنہ 2005ء میں نیچر نے ایک مقالہ شائع کیا جس میں دائرۃ المعارف بریٹانیکا اور ویکیپیڈیا کے 42 سائنسی مضامین کا موازنہ کیا گیا، جس میں یہ بات سامنے آئی کہ ویکیپیڈیا کے مضامین کا معیار دائرۃ المعارف بریٹانیکا کا ہم پلہ ہے۔[18] ٹائم رسالہ نے لکھا کہ ویکیپیڈیا کی ہر ایک کو ترمیم کرنے کی کھلی چھوٹ نے اس کو دنیا کا سب سے بڑا اور ممکنہ حد تک سب سے بہتر دائرۃ المعارف بنا دیا ہے جو دراصل جیمی ویلز کے خوابوں کی تعبیر ہے۔[19]

ویکیپیڈیا پر انتظامی تعصب، رطب و یابس اور غلط سلط معلومات فراہم کرنے اور متعدد موضوعات میں ہیرا پھیری کرنے کا الزام بھی لگایا گیا اور بعض متنازع موضوعات میں ویکیپیڈیا کے مضامین سخت تنقید کا نشانہ بھی بنتے رہے ہیں۔ سنہ 2017ء میں فیس بک نے اعلان کیا کہ وہ ویکیپیڈیا کے مضامین کے مناسب روابط فراہم کرکے قارئین کے سامنے جھوٹی خبروں کی نشان دہی کرے گا۔ نیز یوٹیوب نے بھی 2018ء میں ایسا ہی اعلان کیا جس کے جواب میں واشنگٹن پوسٹ نے سرخی لگائی، "ویکیپیڈیا انٹرنیٹ کا ایک اچھا داروغہ" ہے۔[20]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Kiss، Jemima؛ Gibbs، Samuel (اگست 6, 2014)۔ "Wikipedia boss Lila Tretikov: 'Glasnost taught me much about freedom of information"۔ The Guardian۔ اخذ کردہ بتاریخ اگست 21, 2014۔ 
  2. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ Sidener نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  3. ^ 3.0 3.1 نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ Alexa siteinfo نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  4. Roger Chapman۔ "Top 40 Website Programming Languages"۔ roadchap.com۔ اخذ کردہ بتاریخ ستمبر 6, 2011۔ 
  5. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ Tancer نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  6. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ Woodson نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  7. "comScore MMX Ranks Top 50 US Web Properties for August 2012"۔ comScore۔ September 12, 2012۔ اخذ کردہ بتاریخ 6 فروری 2013۔ 
  8. "Wikimedia pornography row deepens as Wales cedes rights – BBC News"۔ BBC۔ May 10, 2010۔ اخذ کردہ بتاریخ June 28, 2016۔ 
  9. Vogel, Peter S. (October 10, 2012)۔ "The Mysterious Workings of Wikis: Who Owns What?"۔ Ecommerce Times۔ اخذ کردہ بتاریخ June 28, 2016۔ 
  10. Mullin, Joe (January 10, 2014)۔ "Wikimedia Foundation employee ousted over paid editing"۔ Ars Technica۔ اخذ کردہ بتاریخ 28 جون 2016۔ 
  11. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ KockJungSyn2016 نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  12. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ MiliardWho نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  13. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ J Sidener نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  14. "Wikipedia cofounder Jimmy Wales on 60 Minutes"۔ CBS News۔ اخذ کردہ بتاریخ April 6, 2015۔ 
  15. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ small screen نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  16. Poderi, Giacomo (2009)۔ "Comparing featured article groups and revision patterns correlations in Wikipedia"۔ First Monday۔ اخذ کردہ بتاریخ July 13, 2010۔ 
  17. Viégas, Fernanda B.; Wattenberg, Martin; McKeon, Matthew M. (July 22, 2007) (PDF). The Hidden Order of Wikipedia. http://www.research.ibm.com/visual/papers/hidden_order_wikipedia.pdf۔ اخذ کردہ بتاریخ October 30, 2007. 
  18. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ GilesJ2005Internet نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  19. "The 2006 Time 100"۔ Chris Anderson۔ Time۔ May 8, 2006۔ اخذ کردہ بتاریخ November 11, 2017۔ 
  20. Noam Cohen, "Conspiracy videos? Fake news? Enter Wikipedia, the ‘good cop’ of the Internet" Washington Post April 7, 2018
  1. البتہ کچھ مخصوص کاموں کی انجام دہی کے لیے اندراج لازمی ہے مثلاً محفوظ صفحات میں ترمیم اور تصاویر کی اپلوڈنگ وغیرہ۔
  2. For an editor to be considered active، one or more edits have had to be made in said month.