یوٹیوب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
یوٹیوب
The YouTube logo is made of a red round-rectangular box with a white "play" button inside and the word "YouTube" written in black.
YouTube homepage.png
کاروبار کی قسم ذیلی کمپنی
سائٹ کی قسم
ویڈیو ہوسٹنگ سروس
قیام فروری 14، 2005؛ 13 سال قبل (2005-02-14)
صدر دفتر 901 چیری ایونیو
سان برونو، کیلیفورنیا
، ریاستہائے متحدہ امریکا
متناسقات 37°37′41″N 122°25′35″W / 37.62806°N 122.42639°W / 37.62806; -122.42639متناسقات: 37°37′41″N 122°25′35″W / 37.62806°N 122.42639°W / 37.62806; -122.42639
علاقہ خدمت دنیا (ماسوائے بلاک شدہ ممالک)
مالک ایلفابیٹ انکارپوریٹڈ
مؤسس
سی ای او Susan Wojcicki
صنعت انٹرنیٹ
ویڈیو ہوسٹنگ سروس
اصل کمپنی گوگل (2006–تاحال)
ویب سائٹ YouTube.com
(دیکھیے مقامی ڈومین ناموں کی فہرست)
الیکسا درجہ Steady 2 (عالمی, اگست 2018)
اشتہارات گوگل ایڈسینس
اندراج اختیاری [1]
آغاز فروری 14، 2005؛ 13 سال قبل (2005-02-14)
نوجودہ حیثیت فعال
مواد لائسنس
اپ لوڈر کو حق اشاعت کا حامل (معیاری لائسنس); تخلیقی العام منتخب کیا جا سکتا ہے.
تخلیقی زبان پائیتھن (پروگرامنگ زبان) (کور/اے پی آئی), سی (پروگرامنگ زبان) (بذریعہ سی پائتھون), سی++، جاوا (بذریعہ Guice پلیٹ فارم), گو (پروگرامنگ زبان)، جاوا اسکرپٹ (یو آئی)

یوٹیوب ایک وڈیو پیش کرنے والا ایک ویب سائٹ ہے جہاں صارفین اپنی وڈیو شامل اور پیش کر سکتے ہیں۔ پے پال کے تین سابق ملازمین نے فروری 2005ء میں یوٹیوب قائم کی۔ نومبر 2006ء میں گوگل انکارپوریٹڈ نے 1.65 ارب ڈالر کے عوض یوٹیوب کو خرید لیا اور اب یہ گوگل کے ماتحت ادارے کے طور پر کام کر رہا ہے۔ ادارے کے صدر دفاتر سان برونو، کیلیفورنیا، امریکہ میں واقع ہیں۔ یوٹیوب صارف کے وڈیو مواد کو دکھانے کے لیے ایڈوب کی فلیش وڈیو ٹیکنالوجی استعمال کرتا ہے۔ یوٹیوب پر پیش کردہ بیشتر مواد انفرادی طور پر اس کے صارفین کی جانب سے پیش کیا جاتا ہے البتہ سی بی ایس، بی بی سی، یو ایم جی اور دیگر ابلاغی ادارے بھی یوٹیوب شراکت منصوبے کے تحت اپنا کچھ مواد پیش کرتے ہیں۔

غیر مندرج صارفین یوٹیوب پر وڈیو دیکھ سکتے ہیں جبکہ مندرج صارفین کو لامحدود وڈیو پیش کرنے کی اجازت ہے۔ ممکنہ طور پر ناپسندیدہ مواد 18 سال سے زائد عمر کے مندرج صارفین کے لیے دستیاب ہے۔ یوٹیوب کی شرائط کے تحت رسوائی کا باعث بننے والا، فحش، حقوق دانش کی خلاف ورزی کرنے والا اور جرائم پر ابھارنے والا مواد پیش نہیں کیا جا سکتا۔ مندرج صارفین کے کھاتے "چینلز" کہلاتے ہیں۔

یوٹیوب انگریزی کے علاوہ 16 سے زائد زبانوں میں سہولیات فراہم کرتی ہے جن میں ہسپانوی، ولندیزی، چینی اور دیگر شامل ہیں۔

بندش[ترمیم]

ستمبر,2012ء میں توہینِ رسالت پر مبنی فلم یوٹیوب پر زپر اثقال ہونے کی وجہ سے مختلف اسلامی ممالک نے یوٹیوب کی بندش کر دی تھی۔ یوٹیوب،پاکستان میں کئی سال بند رہی پھر سال 2015ء کے آواخر میں اسے کھول دیا گیا۔

  1. (not required to watch most videos; required for certain tasks such as uploading videos, viewing flagged (18+) videos, creating playlists, liking or disliking videos and posting comments)