فیس بک

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
فیس بک
سائٹ کی قسم
سماجی جالکاری خدمت
دستیاب 70 سے زائد
مالک Facebook, Inc.
بانی مارک ذكربرگ، ڈسٹن موسکوویتز، ہیوگز کریس
آمدنی اشتہاری
ویب سائٹ Facebook.com
اندراج لازمی
صارفین 901 ملین (اپریل 2012 تک)
آغاز 4 فروری 2004 (2004-02-04)
نوجودہ حیثیت فعال
اندراج شدہ صارفین بلحاظ عمر، 2010

فیس بک (انگریزی: Facebook) مینلو پارک، کیلیفورنیا میں واقع ایک آن لائن امریکی ذرائع ابلاغ اور سماجی رابطہ کی کمپنی ہے۔ اس کی ویبسیائٹ کو  4 فروری 2004ء کو مارک زکربرگ نے اپنے ہارورڈ يونيورسٹي کے ساتھیوں اور ہمنشینوں ادوارڈو سورین،اینڈریو میکولم،دوسٹن ماسکوفٹ اور کرس ہیوزس کے ساتھ مل کر لانچ کیا۔

اس کے بانیوں نے بنیادی طور پر اس کو ہارورڈ کے طالب علموں تک محدود رکھا تھا بعد میں بوسٹن کے علاقہ کے اعلی تعلیمی ادارے،آوی لیگ اسکول اور سٹینڈفورڈ یونیورسٹی تک پھیلا دیا گیا۔ فیس بک نے تدریجی طور پر طالبعلموں اوریونیورسیٹیوں کے لیے مدد فراہم کی اور اور آخر میں ہائی اسکول کے طالبعلموں کے لیے بھی اپنے نیٹورک کو وسیع کیا۔ سنہ 2006ء کے بعد سے  13 سال کی عمر کا  کوئی بھی شخص فیس بک کا رجسٹرڈ صارف بن سکتا ہے۔ حالانکہ عوامی قانون کے مد نظر ابھی بھی بہت سارے علاقوں میں کچھ پابندیاں ہیں۔ فیس بک کا نام دراصل (face book) سے لیا گیا ہے۔ face  book ایک ڈائریکئری کا نام ہے جو امریکی یونیورسٹی کے طالبعلموں کو دی جاتی ہے۔ فیس بک آئی پی او ( IPO-Initial Public Offering) میں سنہ2012ء میں شمولیت ملی اور اس کی مالیت 104 ملین امریکی ڈالر آنکی گئی۔ اس وقت تک کی  نو فہرست یافتی کمپنی میں سب سےزیادہ مالیت والی کمپنی تھی۔ تین ماہ بعد  اس نے اپنا اسٹاک  عوام کو بیچنا شروع کیا۔ فیس بک اپنی زیادہ تر آمدنی اشتہارات سے بناتا ہے جو اس کے صفحہ پر ظاہر ہوتے ہیں۔

فیس بک تک بہت سارے  انٹرنیٹ شدہ آلات سے رسائی حاصل کی جاسکتی ہے جیسے ڈیسک ٹاپ، لیپ ٹاپ، ٹیبلیٹ اور سمارٹ فون وغیرہ۔ کھاتہ بنانے کے بعد صارف اپنی مرضی کے مطابق اپنا پروفائل بناسکتے ہیں جس میں نام، پیشہ اور اسکول وغیرہ کی تفصیلات شامل ہیں۔ ایک صارف دوسرے صارف سے بطور دوست تعلق قائم کر سکتا ہے۔ تبادلہ خیال کر سکتا ہے، اپنا مزاج (status) اپڈیٹ کرسکتا ہے، ویڈیو اور ربط مشترک کر سکتا ہے، بہت سارے سافٹ ویئر اور اطلاقیے استعمال کر سکتا ہے، گیم کھیل سکتا ہے اور دوسرے صارفیں کے سرگرمیوں کی اطلاعات موصول کر سکتا ہے۔ ان سب کے علاوہ صارف اپنی پسند اور دلچسپی کی بنیاد پر گروپ میں شامل ہو سکتا ہے جو افراد، اسکول، کام کی جگہ، دلچسپیاں اور دوسرے موضوعات پر منقسم ہیں۔ صارف اپنے دوستوں کی فہرست کی بھی  درجہ بندی کر سکتاہے جیسے ساتھ کام کرنے والے دوست، اسکول کے دوست، آبائی وطن کے دوست اور قریبی دوست۔ صارف کسی ناخوشگوار شخص کو بلاک کرنےکےلئے رپورٹ بھی کر سکتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ کسی مراسلہ کے متعلق اپنی رائے دے سکتا ہے اور عریانیت، تشدد، جعلی وغیرہ ہونے کی بنا پر بلاک کروا سکتا ہے۔

بمطابق جنوری 2018 فیس بک پرماہانہ 2٫2 بلین سے زیادہ فعال صارف ہیں۔ اس کی شہرت نے صارف کی  رازداری اور اس پر نفسیاتی اثر کی وجہ سے ہونے والے اہم جانچ پڑتال کی بنا پر  بڑے پیمانے پر میڈیا کوریج کی توجہ کھیچی ہے۔ حالیہ برسوں میں کمپنی نے جھوٹی خبریں، نفرت انگیز تقریر اور تشدد جیسے معاملات کی وجہ سے شدید دباو برداشت کیا ہے۔ حالانکہ کمپنی سب کا مقابلہ کررہی ہے اور تمام کمیوں کو دور کرنے تئیں کوشاں ہے۔

فہرست ممالک بلحاظ تعداد صارفین[ترمیم]

درجہ ملک آبادی تعداد صارفین فیصدی
  دنیا 6,895,889,000 1,000,000,000 14.50%
1 Flag of the United States.svg ریاستہائے متحدہ 315,120,000 167,431,700 53.97%
2 Flag of Brazil.svg برازیل 193,946,886 65,237,180 32.44%
3 Flag of India.svg بھارت 1,210,193,422 62,761,420 5.35%
4 Flag of Indonesia.svg انڈونیشیا 242,968,342 50,583,320 20.82%
5 Flag of Mexico.svg میکسیکو 112,468,855 39,933,040 35.51%
6 Flag of the United Kingdom.svg مملکت متحدہ 62,348,447 32,827,180 52.65%
7 Flag of Turkey.svg ترکی 77,804,122 32,354,900 41.59%
8 Flag of the Philippines.svg فلپائن 99,900,177 30,265,200 30.30%
9 Flag of France.svg فرانس 64,768,389 25,614,100 39.55%
10 Flag of Germany.svg جرمنی 81,802,257 25,350,560 30.99%

تاریخ[ترمیم]

2003–2006، دی فیسبک، انکی سرمایہ کاری اور نام کی تبدیلی[ترمیم]

مارک زکربرگ نے 2003 میں فیس میش Facemash نامی ایک پروگرام لکھا جبکہ وہ ہارورڈ یونیورسٹی میں سال دوم کے طالبعلم تھے۔ دی ہارورڈ کرمسن کے مطابق یہ ویبسائٹ ہاٹ اور ناٹ ( Hot or Not) کے مقابلہ کی تھی اور نو گھروں کے فیس بوکوں سے تصاویر لیکر انکو دو لائنوں میں اس طرح رکھا کہ تصاویر ایک دوسرے کے مقابلے میں تھی اور صارف سے کہا گیا کہ ان میں سے اچھی تصویر کا انتخاب کریں [1]۔ فیس میش کو  پہلے چار گھنٹوں میں 450 آن لائن زائرین ملے اور تصاویر کو 22000 مرتبہ دیکھا گیا۔ [2] فیس میش ویبسائٹ کو بہت تیزی سے دوسرے اسکول کے سروروں پر فاروارڈ کیا گیا لیکن چند دنوں بعد ہی ہارورڈ انتظامیہ نے ویبسائٹ کو بند کر دیا اورمارک زکربرگ کو  سلامتی کو توڑنے، کاپی رائٹ کی خلاف ورزی کرنے اور ذاتی رازداری کی خلاف ورزی کرنے کی وجہ سے کو کالج سے نکال دیا گیا۔ حالانکہ بعد میں الزامات واپس لے لیے گئے تھے۔ [1] اس سیمیسٹر کی دوران زکربرگ نےآرٹ ہسٹری فائنل  امتحان سے قبل ایک سوشل ٹول بناکر   اپنے ابتدائی پراجیکٹ  کو پھیلایا۔ اس نے آرٹ کی تمام تصاویر ایک ویبسائٹ پر اپلوڈ کیں اور تمام تصاویر کے ساتھ تبصرہ کرنے کا خانہ مہیا کروایا پھر اس سائٹ کو اپنے درجہ کے ساتھیوں کے ساتھ شیئر کیا اور لوگوں نے اپنے تبصرے اور نوٹس لکھنا شروع کردئے۔[3]

فائل:Thefacebook.png
Original layout and name of Thefacebook, 2004

فیس بک (face book ) دراصل طالبعلموں کی ایک ڈائریکٹری ہے جس میں تصاویر کے ساتھ ضروری معلومات درج ہوتی ہیں۔[2] سنہ 2003ء میں ہارورڈ میں کوئی عالمی اون لائن فیس بک نہیں تھا۔ صرف  تقسیم کیے ہوئے کاغذات [4] اور نجی اون لائن ڈائریکٹریاں ہوتی تھیں۔[1][5]   زکربرگ نے کرمسن کو بتایا کہ" ہارورڈ میں ہر ایک شخص ایک عالمی فیس بک کے بارے میں بات کرتا تھا۔ [...] مجھے لگا کہ یونیورسٹی کو فیس بک جیسا کچھ بنانے میں دو سال لگ جائیں گے ۔ عجیب ہے۔ میں ان سے بہتر کر سکتا ہوں۔ مجھے بس ایک ہفتہ درکار ہے۔[5] " جنوری 2004 میں زکربرگ ایک نئی ویبسائٹ کے لیے کوڈ لکھنے لگے۔ اس کا نام دی فیس بک رکھا۔  جس کی انکو کرمسن میں فیس میش سے متعلق ایک اداریہ سے حوصلہ افزائی ملی۔ اس میں لکھا تھا؛ "یہ واضح ہے کہ اب ٹیکنالوجی کی ضرورت ہے کہ ایک مرکزی ویبسائت بنائی جائے، وہ ویبسائت اور تیار شدہ دستیاب ہے اور اس کے بہت سارے فوائد ہیں۔" [6] 4 فروری 2004  زکربرگ نے thefacebook.com پتہ پر پر دی فیس بک کو لانچ کر دیا۔[7]

ویبسائٹ لانچ ہونے کے چھ دن بعد ہارورڈ سے سینئر افراد کیمرون ونکلیوس،ٹایلرونکلیوس اور دویا نریندرا نے زکربرگ پر ان سب کو جان بوجھ کر دھوکا دینے کا الزام لگایا۔ انکا کہنا تھا کہ زکربرگ نے انکو یقین دلایا تھا کہ وہ  HarvardConnection.com.کے نام سے ایک سوشل نیٹ ورک ویبسائٹ بنانے میں انکی مدد کریں گے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ اس کی بجائے زکربرگ نے ایک مقابلہ کا پراڈکٹ بنانے کے لیے ان کے آئڈیا کا استعمال کیا ہے۔ [8]تینوں نے ہارورڈ کرمسن اخبار سے معاملہ کی شکایت کی اور جانچ شروع ہو گئی۔ بعد میں انہوں نے زکربرگ کے خلاف مقدمہ کر دیا جو 2008 میں [9] 1.2 ملین شیئر (یعنی فیس بک آئی پی او کا 300 ملین امریکی ڈالر) پر رفع دفع ہوا۔[10]

شروعات میں فیس بک کی ممبرشپ ہارورڈ کالج کے طالبعلموں تک محدود رکھی گئی؛ ایک ماہ کے اندر اندر ہارورڈ کے نصف سے زیادہ انڈرگریجویٹ رجسٹرڈ ہو چکے تھے۔[11] یوداردو ساویرین، داستین موسکووتژ، اندریو میککولوم اور کرس ہوجیژنے ویبسائٹ کے فروغ کے انتظام کے لیے زکربرگ کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا اور ان سے جڑ گئے۔ [12] مارچ 2004 میںیونیورسٹی آف کولمبیا، سٹینفورڈ اور یال تک  فیس بک کی توسیع کردی گئی۔ [13]بعد ازاں آئی وی لیگ کے تمام کالجوں،بوسٹون یونیورسٹی،نیو یارک یونیورسٹی، ایم آئی ٹی واشنگٹناور تدریجا امریکہااور کینیڈا کی زیادہ تر یونیورسٹیوں کے لیے اسے فراہم کر دیا گیا۔[14][15]

سنہ 2004ء کے وسط  میں زکربرگ کے ایک غیر رسمی مشیر اور کاروباری، سین پارکر کمپنی کے صدر مقرر ہوئے۔[16] جون 2004ء میں فیس بک نے اپنا دفترپالو آلٹو، کیلیفورنیا میں منتقل کر لیا۔[17] اسی مہینہ میں اس میں پے پل کے مشترک بنیاد گزار پیٹر ثیل نے پہلی سرمایہ کاری کی۔ یہ فیس بک میں ہوئی سب سے پہلی سرمایہ کاری تھی۔ [18] سنہ 2005ء میں کمپنی نے ڈومین نام facebook.com امریکی ڈالر 200,000 میں خریدا اور اپنے نام سے لفظ "دی" ہٹا دیا۔[19] یہ ڈومین اس سے پہلے AboutFace  کارپوریشن کی ملکیت میں تھا۔ [20] یہ ویبسائٹ آخری مرتبہ اپریل 8، سنہ ء2005 میں ظاہر ہوئی تھی۔ 10 اپریل 2005 سے 4 اگست 2005 تک اس ویبسائٹ پر 403 error ظاہر ہو رہا تھا۔[21]

مارک زکربرگ, مشترک بانی , اپنےHarvard dorm room, 2005

مئی 2005 میںAccel Partners نے 12٫7 امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کی اورجم برایر نے ایک ملین ڈالر ذاتی رقم لگائی۔[22] ویبسائٹ کا ہائی اسکول ورژن ستمبر 2005 میں لانچ ہوا جسے زکربرگ نے اگلا لاجیکل قدم بتایا۔[23] (اس وقت ہائی اسکول نیٹورک کو ایک دعوت نامہ دکھانا ضروری یوتا تھا۔ [24]  فیس بک نے رکنیت کی توسیع ایپل اور مائکروسوفٹ جیسی کپمنیوں کے ملازمین کے لیے ویبسائٹ رکنیت کی اہلیت کی توسیع کردی۔[25]

2006–2012: عوام تک رسائی، مائکروسوفٹ کے ساتھ اتحاد اور برق رفتار ترقی[ترمیم]

26 ستمبر 2006 کو کم از کم  13 سال تک کی عمر کے صارف، جس کے پاس درست ای میل آئی ڈی ہو  کے لیے فیس بک  کو عام کر دیا گیا۔[26][27][28] سنہ 2007ء کے اواخر میں فیس بک پر 100000 تجارتی صفحات تھے۔ (صفحات : جن میں کمپنیوں کو اپنے اشتہار دینے اور خریداروں کو آمادہ کرنے کی اجازت تھی۔ ) ان کی شروعات گروپ پر مبنی صفحات کے طور پر ہوئی۔ لیکن بعد میں ایک نئے منصوبہ کے تحت تجارتی صفحات بنائے گئے۔[29] مئی 2009 سے صفحات مہیا کروائے گئے۔ [30] 24 اکتوبر 2007 کو مائکروسوفٹ نے اعلان کیا کہ وہ $240 ملین کی مالیت سے فیس بک کے 1.6% شیئر خرید رہی ہے جس سے فیس بک کی قدر $15 بلین ڈالر ہو گئی۔ مائکروسوفٹ کی خرید کے ساتھ سوشل نیٹورک سائٹ پر بین القوامی اشتہارات کا اختیار بھی شامل تھا۔[31][32]

اکتوبر 2008ء کو فیس بک نے اعلان کیا کہ وہ عالمی مرکزی دفتر آئرلینڈ کےڈبلن شہر میں کھولنے جا رہی ہے۔[33] تقریبا ایک سال بعد، ستمبر 2009  میں فیس بک نے کہا کہ پہلی مرتبہ نقد کا بہاؤ مثبت تھا۔ [34] Compete.com کے ماہ جنوری 2009 ءکے مطالعے نے فیس بک کو ماہانہ فعال صارفینکے اعتبار سے دنیا کی سب سے زیادہ مستعمل سماجی رابطے کی ویبسائٹ بتایا۔[35] Entertainment Weeklyنے اسے دہائی کے سب سے اچھی ویبسائٹوں میں یہ کہتے ہوئے شامل کیا کہ "کیا اس زمین پر فیسبک سے قبل  اپنے سابق دوستوں کی نگرانی، ساتھ کام کرنے والے دوستوں کے تاریخ پیدائش یاد رکھنا، دوستوں کو بگ کرنا اور کھیل کھیلنا ممکن تھا؟“[36]

سنہ 2009ء کے بعد فیس بک پر مسلسل ٹریفک بڑھتا رہا۔ کمپنی کے جولائی 2010 میں 500 ملین صارفین کا دعوی کیا۔[37] اور اس کے ڈاٹا کے مطابق اس کے آدھے صارفین روزانہ اوسطا  34 منٹ فیسبک استعمال کرتے ہیں۔ جبکہ 150 ملین موبائل سے استعمال کرتے ہیں۔ کنپمی کے ایک عامل نے اس سنگ میل کو انقلابی بتایا۔ [38] SecondMarket Inc (پرائویٹ کمپنیوں کے شیئر کا ایک اکسچینج) کے مطابق نومبر 2010 میں فیس بک کی قدر$41 بلین تھی۔ فیس بک نےآہستہ آہستہ  eBay کو پیچھے چھوڑ کر گوگل اورامیژن کے بعد امریکا کی تسری سب سے بڑی ویب کمپنی بن گئی۔[39][40]

سنہ 2011ء کے شروع میں فیس بک نے اپنا مرکزی دفترسابق سن مائکرو سسٹمزکیمپس،منلو پارک، کیلیفورنیا کی طرف منتقل کرنے کا  اعلان کیا۔[41][42] مارچ 2011 میں یہ خبر آئی کہ فیس بک  سائبر سیکیورٹی کی غرض سے خلاف ورزی کرنے والوں جیسے اسپیم، تصویری مواد اور کم عمری کی بنا پر روزانہ 20000 کھاتے حذف کررہا ہے۔[43] DoubleClick کے اعداد و شمارکے مطابق جون 2011ء میں فیس بک پیج ویو ایک ٹرلین تک پہونچ گیا اور DoubleClick کے مطابق یہ سب سے زیادہ دیکھی جانے والی ویبسائٹ بن گئی۔[44][45] نیلسین  (Nielsen)کے ایک مطالعہ کے مطابق فیس بک گوگل کے بعد دنیا کی سب سے زیادہ استعمال کی جانے والی ویبسائٹ بن گئی۔[46][47]

2012-2013: آئی، پی او، مقدمہ اور ایک بیلن واں صارف[ترمیم]

فیس بک نے فروری 2012ء کو ابتدائی عوامی پیشکش initial public offering کے لیے درخواست دی۔[48] فیس بک (held an initial public offering) کو 17 مئی 2012ء کو منظوری ملی، شیئر کی قیمت 38 بلین ڈالر طے ہوئی۔ کمپنی کی کل قیمت 104 بلین ڈالر لگائی گئی۔ یہ قیمت کسی بھی نئی فہرست زدہ کمپنی سب سے زیادہ تھی[49][50][51]۔ مئی 18 سنہ 2012ء سے فیس بک نے نسدقNASDAQ میں اپنا شیئرعوام کو فروخت کرنا شروع کیا۔ [52]سنہ 2012 ء میں فیس بک کو 5 بلین ڈالر کی آمدنی ہوئی اور فورچون 500 میں پہلی دفعہ مئی 2013ء میں شامل ہوئی۔ اس وقت اس کو 462 واں مقام ملا تھا۔[53]

فیس بک نے سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (Securities and Exchange Commission) میں 1 فروری 2012ء کو S1 دستاویز بھرا۔ کمپنی نے 5 بلین ڈالر آئی پہ او کے لیے دوخواست دی، [54]یہ ٹکنالوجی کی تاریخ کی سب سے بڑی پیشکش تھی۔  آئی پی او 16 بلین ڈالر تک پہونچ گیا۔ امریکا کی تاریخ کی تیسری سب سے بڑی اونچائی تھی۔[55][56]

18 مئی کو شیئر فروخت ہونا شروع ہوئے۔ آئی پی او کی قیمت زیادہ ہونے کی وجہ سے دن کے زیادہ تر حصے میں جد وجہد کرنی پڑی۔[57] لیکن ایک آئی پی او کے لیے ایک ریکارڈ قائم ہو گیا جب 460 ملین شیئر بک گئے۔  ٹریڈنگ کا پہلا دن تکنیکی خرابی کے نام رہا جس کی وجہ سے آرڈر نہیں لیے جا سکتے تھے۔[58][59]  اس دن تکنیکی خرابی اور مصنوعی مدد نے سٹاک کی قیمت کو آئی پی او کی قیمت سے نیچے گرنے سے محفوظ رکھا۔[60] مارچ 2012 میں فیس بک نے ایپ سینٹر کا اعلان کیا۔ ایپ سینٹر ایک اسٹور ہے جس میں ویبسائٹ پر اپلیکیشنز بیچی جاتی ہیں۔ یہ اسٹورآئی فون، اینڈرائد اور موبائل ویب صارفین پر مہیا کرایا جانا تھا۔[61]

فائل:نسدق پر فیس بوک .jpeg
Billboard on the تھومسن ریوٹرس عمارت فیس بک کا نسدق میں استقبال کرتی ہے, 2012ء

22 مئی 2012 کو یاہو فاینانس ویبسائٹ نے خبر دی کہ فیس بک کے اول درجہ کے اندراج کرنے والے مورگن سٹانلے، جے پی مورگناور گولڈ مین نے آئی پی او عمل کے دوران ہی اپنی کمائی کی پیشن گوئی میں کمی کردی تھی۔[62] اس دوران اس کا شیئر تیزی سے گرنے لگا اور 21 مئی کو 34.03 اور 22 مئی کو 31.00 پر بند ہوا۔ تیزی سی گرتی ہوئی اسٹاک کی قیمت پر لگام لگانے کے لیے سرکٹ بریکر کا استعمال کیا گیا۔[63] سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کے چیئر مین میری شیپیرو اور مالیاتی صنعت ریگولیٹری اتھارٹی Financial Industry Regulatory Authority (FINRA) کے چیئر مین رک کیچمسےآئی کے بچاو کے لیے حالات کا جائزہ لینے کے لیے رابطہ کیا گیا۔[64]

فیس بک کے آئی پی او کی تحقیق کی گئی اور پمپ اور ڈمپ اسکیم "pump and dump]]" scheme]] سے اس کا موازنہ کیا گیا۔[58][62][64][65] مئی 2012ء میں ایک ٹریڈنگ خرابی پر  ایک مقدمہ کیا گیا جس کی وجہ سے سارے آرڈر خراب ہوئے تھے۔[66][67] مقدمہ ہو گیا، یہ دعوی کیا گیا کہ مورگن اسٹینلی کے ایک مندرج  نے انتخابی طور پر آمدنی کو چہیتے کلائنٹ کے حق میں ایڈجسٹ کر دیا تھا۔[68]

دوسرے مندرجین جیسے (ایم ایس، جے پی ایم اور جی ایس) ، فیس بک کے سی ای او اور اس کا بورڈ اور نسدق، سب ہی نے مقدمہ بازی کا سامنا کیا کیونکہ بہت سارے مقدمے دائر کیے جا چکے تھے۔ جبکہ ایس ای سی اور فینرا نے تحقیق شروع کردی۔.[69] یہ بات مان لی گئی تھی کہ آمدی کا اڈجسٹمینٹ کا تخمینہ سے متعلق  فیس بک کے ایک مالیاتی افسر نے  ایک مندرج سے گفتگو کی تھی،  اس نے ان معلومات کا استعمال  اپنی پوزیشنوں پر رہ کر  نقد رقم نکالنے کے لیے کیا جبکہ عوام کو بڑھی ہوئی قیمت کے شیئر پر چھوڑ دیا۔[70] مئی 2012ء کے آخر تک فیس بک کے شیئر کی قیمت اس کے شروعاتی قیمت سے ربع سے زیادہ کم ہو گئی۔ دی وال اسٹریٹ جرنل نے اسے آئی پی او کے لیے ایک ناکامی قرار دیا۔ [71] اکتوبر 2012ء کو  زکربرگ نےمیڈیا میں  اعلان کیا کہ فیس بک نے ایک بلین صارفین کا سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ کمپنی کے ڈاٹا نے واضح کیا کہ 600 ملین موبائل صارفین ہیں، 219 بلین تصاویر اپلوڈ ہوئی ہیں۔ اور 140 بلین دوستی کے رابطے ہوئے ہیں۔[72]

نگار خانہ[ترمیم]

اقتباس[ترمیم]

مزید دیکھیے[ترمیم]

مزید دیکھیے[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ Katharine A. Kaplan۔ "Facemash Creator Survives Ad Board"۔ The Harvard Crimson۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ جون 24, 2017۔
  2. ^ ا ب Ellen McGirt۔ "Facebook's Mark Zuckerberg: Hacker. Dropout. CEO."۔ Fast Company۔ Mansueto Ventures۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ جولا‎ئی 4, 2017۔
  3. Jason Kincaid۔ "Startup School: An Interview With Mark Zuckerberg"۔ TechCrunch۔ AOL۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ جون 24, 2017۔
  4. Sarah Phillips۔ "A brief history of Facebook"۔ دی گارڈین۔ Guardian Media Group۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ جولا‎ئی 4, 2017۔
  5. ^ ا ب Alan T. Tabak۔ "Hundreds Register for New Facebook Website"۔ The Harvard Crimson۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ جولا‎ئی 4, 2017۔
  6. Claire Hoffman۔ "The Battle For Facebook"۔ Rolling Stone۔ Wenner Media۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ جولا‎ئی 4, 2017۔
  7. Lily Rothman۔ "Happy Birthday, Facebook"۔ Time۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ جولا‎ئی 4, 2017۔
  8. Nicholas Carlson۔ "In 2004, Mark Zuckerberg Broke Into A Facebook User's Private Email Account"۔ Business Insider۔ Axel Springer SE۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ مارچ 23, 2017۔
  9. Stone, Brad۔ "Judge Ends Facebook's Feud With ConnectU"۔ New York Times blog۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  10. Dominic Rushe۔ "Facebook IPO sees Winklevoss twins heading for $300m fortune"۔ دی گارڈین۔ Guardian Media Group۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ مارچ 23, 2017۔
  11. Sarah Phillips۔ "A brief history of Facebook"۔ دی گارڈین۔ Guardian Media Group۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ مارچ 23, 2017۔
  12. Matt Weinberger۔ "33 photos of Facebook's rise from a Harvard dorm room to world domination"۔ Business Insider۔ Axel Springer SE۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ دسمبر 13, 2017۔
  13. "Facebook: a timeline of the social network"۔ The Daily Telegraph۔ Telegraph Media Group۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ دسمبر 13, 2017۔
  14. Rosmarin, Rachel۔ "Open Facebook"۔ Forbes۔ New York۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ جون 13, 2008۔
  15. Lananh Nguyen۔ "Online network created by Harvard students flourishes"۔ The Tufts Daily۔ Medford, MA۔ مورخہ اکتوبر 15, 2013 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ اگست 21, 2009۔
  16. Rosen, Ellen۔ "Student's Start-Up Draws Attention and $13 Million"۔ The New York Times۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ مئی 18, 2009۔
  17. "Company Timeline" (Press release)۔ Facebook۔ مورخہ 6 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ مارچ 5, 2008۔
  18. "Why you should beware of Facebook"۔ The Age۔ Melbourne۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ اپریل 30, 2008۔
  19. Christopher Williams۔ "Facebook wins Manx battle for face-book.com"۔ The Register۔ Situation Publishing۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ مارچ 23, 2017۔
  20. "AboutFace Home Page"۔ مورخہ اپریل 8, 2005 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  21. "error!"۔ مورخہ اپریل 8, 2005 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  22. "Jim Breyer (via Accel Partners)"۔ CNBC۔ مورخہ دسمبر 29, 2014 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  23. Dempsey, Laura۔ "Facebook is the go-to Web site for students looking to hook up"۔ Dayton Daily News۔ Ohio۔
  24. Lerer, Lisa۔ "Why MySpace Doesn't Card"۔ Forbes۔ New York۔ مورخہ جون 2, 2008 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ مئی 13, 2011۔
  25. Lacy, Sarah۔ "Facebook: Opening the Doors Wider"۔ BusinessWeek۔ New York۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ مارچ 9, 2008۔
  26. Carolyn Abram۔ "Welcome to Facebook, everyone"۔ The Facebook Blog۔ مورخہ 11 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ مارچ 8, 2008۔
  27. "Terms of Use"۔ Facebook۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ مارچ 5, 2008۔
  28. "Facebook Expansion Enables More People to Connect with Friends in a Trusted Environment"۔ Facebook Newsroom۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ فروری 4, 2016۔
  29. Riva Richmond۔ "Enterprise: Facebook, a Marketer's Friend; Site Offers Platform To Tout Products, Interact With Users"۔ Wall Street Journal۔ New York۔ صفحہ B4۔
  30. Greenstein, Howard۔ "Facebook Pages vs Facebook Groups: What's the Difference?"۔ Mashable.com۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ اگست 4, 2014۔
  31. "Microsoft gets a piece of Facebook"۔ CNNMoney۔ CNN۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ مئی 31, 2017۔
  32. Doug Sherrets۔ "Microsoft invests $240M in Facebook, as Facebook develops ad product"۔ VentureBeat۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ مئی 31, 2017۔
  33. "Facebook to Establish International Headquarters in Dublin, Ireland" (Press release)۔ Facebook۔ مورخہ 9 جنوری 2019 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ نومبر 30, 2008۔
  34. "Facebook 'cash flow positive,' signs 300M users"۔ CBC News۔ Toronto۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ مارچ 23, 2010۔
  35. Kazeniac, Andy۔ "Social Networks: Facebook Takes Over Top Spot, Twitter Climbs"۔ Compete Pulse blog۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ فروری 17, 2009۔
  36. Geier, Thom؛ Jeff Jensen؛ Tina Jordan؛ Margaret Lyons؛ Adam Markovitz۔ "The 100 Greatest Movies, TV Shows, Albums, Books, Characters, Scenes, Episodes, Songs, Dresses, Music Videos, and Trends that entertained us over the 10 Years"۔ Entertainment Weekly (1079/1080)۔ New York۔ صفحات 74–84۔
  37. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ 500 million نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  38. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ Quiet revolution نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  39. Sophie Curtis۔ "Facebook at 10: Zuckerberg hails 'incredible journey'"۔ روزنامہ ٹیلی گراف۔ Telegraph Media Group۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ مئی 31, 2017۔
  40. Brian Womack۔ "Facebook Becomes Third Biggest US Web Company"۔ Jakarta Globe۔ BeritaSatu Media Holdings۔ مورخہ دسمبر 3, 2010 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ مئی 31, 2017۔
  41. Parr, Ben (February 7, 2011). "These Are Facebook's New Offices [PHOTOS]". Mashable (New York). Retrieved April 6, 2011.
  42. Brundage, Sandy (February 8, 2011). "Facebook moving headquarters to Menlo Park: Social-networking giant to move into former Sun/Oracle campus". The Almanac (Menlo Park, CA).
  43. "Facebook deletes 20,000 underage profiles daily"۔ IBN Live۔ Noida, Uttar Pradesh۔ اخذ شدہ بتاریخ مارچ 24, 2011۔
  44. Emil Protalinski۔ "Facebook is first with 1 trillion page views, according to Google"۔ ZDNet۔ CBS Interactive۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ جولا‎ئی 13, 2017۔
  45. Kate Solomon۔ "Facebook hit 1 trillion page views in June"۔ TechRadar۔ Future plc۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ جولا‎ئی 13, 2017۔
  46. "Google and Facebook top 2011's most visited sites in US"۔ BBC News۔ BBC۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ جولا‎ئی 13, 2017۔
  47. Ryan Fleming۔ "Google and Facebook top the most visited websites of 2011"۔ Digital Trends۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ جولا‎ئی 13, 2017۔
  48. "Facebook, Inc. Financial Statements"۔ Securities and Exchange Commission۔ اخذ شدہ بتاریخ فروری 1, 2013۔
  49. Mark Milian and Marcus Chan۔ "Facebook's Valuation: What $104 Billion Is Worth"۔ Bloomberg Technology۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ جنوری 11, 2014۔
  50. Dara Kerr۔ "Facebook stock hits a record high, since IPO"۔ C|Net News۔ C|Net۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ اگست 27, 2013۔
  51. Andrew Tangel؛ Walter Hamilton۔ "Stakes are high on Facebook's first day of trading"۔ The Los Angeles Times۔ مورخہ مئی 18, 2012 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ مئی 17, 2012۔
  52. "Birthday boy Mark Zuckerberg to get $100bn gift"۔ The Times of India۔ مورخہ مئی 14, 2012 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  53. Matt Krantz۔ "Facebook squeaks onto the Fortune 500"۔ USA Today۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ مئی 19, 2013۔
  54. "Facebook Officially Files for $5 Billion IPO"۔ مورخہ اکتوبر 18, 2013 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ فروری 1, 2012۔
  55. Evelyn M. Rusli؛ Peter Eavis۔ "Facebook Raises $16 Billion in I.P.O."۔ The New York Times۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ مئی 17, 2012۔
  56. Bernard Condon۔ "Questions and answers on blockbuster Facebook IPO"۔ U.S. News۔ اخذ شدہ بتاریخ مئی 17, 2012۔
  57. "Facebook Sets Record For IPO Trading Volume"۔ The Wall Street Journal۔ مورخہ مئی 24, 2012 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ مئی 18, 2012۔
  58. ^ ا ب Tepid honeymoon of Facebook and NASDAQ does not deliver the big bang. forbes.com
  59. Shawn Baldwin۔ "Facebook IPO: Capital Market Transaction vs Social Offering"۔ Forbes۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  60. MARCY GORDON۔ "Regulators probe banks role Facebook IPO"۔ News.yahoo.com۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ جنوری 18, 2014۔
  61. "Facebook app store launches amid mobile revenue worries"۔ BBC News۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  62. ^ ا ب Henry Blodget۔ "Facebook Bankers Secretly Cut Facebook's Revenue Estimates In Middle Of IPO Roadshow"۔ Yahoo! Finance۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ دسمبر 14, 2014۔
  63. Another Facebook First: Tripping a Circuit-Breake. WSJ Online
  64. ^ ا ب Facebook shares fall valuation doubts. Yahoo! Finance
  65. Facebook IPO underscores shutting out the masses. sfgate.com
  66. Regulators, investors turn up heat over Facebook IPO وثق شدہ بتاریخ October 1, 2015, در وے بیک مشین. finance.yahoo.com
  67. Morgan Stanley sued firm. yahoo.com
  68. "Listing of Recent Securities Lawsuits Filed Against Facebook"۔ مورخہ اکتوبر 19, 2013 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ جولا‎ئی 19, 2013۔ |archiveurl= اور |archive-url= ایک سے زائد مرتبہ درج ہے (معاونت); |archivedate= اور |archive-date= ایک سے زائد مرتبہ درج ہے (معاونت)
  69. Matt Nesto۔ "Fury Over Facebook IPO Grows, Lawsuits Mount"۔ Yahoo! Finance۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ دسمبر 14, 2014۔
  70. Henry Blodget۔ "EXCLUSIVE: Here's The Inside Story Of What Happened On The Facebook IPO"۔ Business Insider۔ Axel Springer SE۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ مارچ 23, 2017۔
  71. David Weidner۔ "Facebook IPO Facts, Fiction and Flops"۔ The Wall Street Journal۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  72. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ Billion statistics نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  73. Edward Snowden: Facebook Is A Surveillance Company Rebranded As "Social Media"

سانچہ:Facebook navbox

سانچہ:Andreessen Horowitz