فیس بک

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
فیس بک
Facebook Urdu.png
سائٹ کی قسم
سماجی جالکاری خدمت
دستیاب 70 سے زائد
مالک Facebook, Inc.
بانی مارک ذكربرگ، ڈسٹن موسکوویتز، ہیوگز کریس
آمدنی اشتہاری
ویب سائٹ Facebook.com
اندراج لازمی
صارفین 901 ملین (اپریل 2012 تک)
آغاز 4 فروری 2004 (2004-02-04)
نوجودہ حیثیت فعال
اندراج شدہ صارفین بلحاظ عمر، 2010

فیس بک (انگریزی:Facebook ) مینلو پارک، کیلیفورنیا میں واقع ایک آن لائن امریکی ذرائع ابلاغ اور سماجی رابطہ کی کمپنی ہے۔ اس کی ویبسیائٹ کو  4 فروری 2004ء کو مارک زکربرگ نے اپنے ہارورڈ يونيورسٹي کے ساتھیوں اور ہمنشینوں ادوارڈو سورین،اینڈریو میکولم،دوسٹن ماسکوفٹ، اور کرس ہیوزس کے ساتھ مل کر لانچ کیا۔

اس کے بانیوں نے بنیادی طور پر اسکو ہارورڈ کے طالب علموں تک محدود رکھا تھا بعد میں بوسٹن کے علاقہ کے اعلی تعلیمی ادارے،آوی لیگ اسکول اور سٹینڈفورڈ یونیورسٹی تک پھیلا دیا گیا۔ فیس بک نے تدریجی طور پر طالبعلموں اوریونیورسیٹیوں کے لئے مدد فراہم کی اور اور آخر میں ہائی اسکول کے طالبعلموں کے لئے بھی اپنے نیٹورک کو وسیع کیا۔ سنہ 2006ء کے بعد سے  13 سال کی عمر کا  کوئی بھی شخص فیس بک کا رجسٹرڈ صارف بن سکتا ہے۔ حالانکہ عوامی قانون کے مد نظر ابھی بھی بہت سارے علاقوں میں کچھ پابندیاں ہیں۔ فیس بک کا نام دراصل (face book) سے لیا گیا ہے۔ face  book ایک ڈائریکئری کا نام ہے جو امریکی یونیورسٹی کے طالبعلموں کو دی جاتی ہے۔ فیس بک آئی پی او ( IPO-Initial Public Offering) میں سنہ2012ء میں شمولیت ملی اور اسکی مالیت 104 ملین امریکی ڈالر آنکی گئی۔ اس وقت تک کی  نو فہرست یافتی کمپنی میں سب سےزیادہ مالیت والی کمپنی تھی۔ تین ماہ بعد  اس نے اپنا اسٹاک  عوام کو بیچنا شروع کیا۔ فیس بک اپنی زیادہ تر آمدنی اشتہارات سے بناتا ہے جو اس کے صفحہ پر ظاہر ہوتے ہیں۔

فیس بک تک بہت سارے  انٹرنیٹ شدہ آلات سے رسائی حاصل کی جاسکتی ہے جیسے ڈیسک ٹاپ، لیپ ٹاپ، ٹیبلیٹ اور سمارٹ فون وغیرہ۔ کھاتہ بنانے کے بعد صارف اپنی مرضی کے مطابق اپنا پروفائل بناسکتے ہیں جس میں نام، پیشہ اور اسکول وغیرہ کی تفصیلات شامل ہیں۔ ایک صارف دوسرے صارف سے بطور دوست تعلق قائم کر سکتا ہے۔ تبادلہ خیال کر سکتا ہے، اپنا مزاج (status) اپڈیٹ کرسکتا ہے، ویڈیو اور ربط مشترک کر سکتا ہے، بہت سارے سافٹ ویئر اور اطلاقیے استعمال کر سکتا ہے، گیم کھیل سکتا ہے اور دوسرے صارفیں کے سرگرمیوں کی اطلاعات موصول کر سکتا ہے۔ ان سب کے علاوہ صارف اپنی پسند اور دلچسپی کی بنیاد پر گروپ میں شامل ہو سکتا ہے جو افراد، اسکول، کام کی جگہ، دلچسپیاں اور دوسرے موضوعات پر منقسم ہیں۔ صارف اپنے دوستوں کی فہرست کی بھی  درجہ بندی کر سکتاہے جیسے ساتھ کام کرنے والے دوست، اسکول کے دوست، آبائی وطن کے دوست، اور قریبی دوست۔ صارف کسی ناخوشگوار شخص کو بلاک کرنےکےلئے رپورٹ بھی کر سکتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ کسی مراسلہ کے متعلق اپنی رائے دے سکتا ہے اور عریانیت، تشدد، جعلی وغیرہ ہونے کی بنا پر بلاک کروا سکتا ہے۔

بمطابق جنوری 2018 فیس بک پرماہانہ 2٫2 بلین سے زیادہ فعال صارف ہیں۔ اسکی شہرت نے صارف کی  رازداری اور اس پر نفسیاتی اثر کی وجہ سے ہونے والے اہم جانچ پڑتال کی بنا پر  بڑے پیمانے پر میڈیا کوریج کی توجہ کھیچی ہے۔ حالیہ برسوں میں کمپنی نے جھوٹی خبریں، نفرت انگیز تقریر، اور تشدد جیسے معاملات کی وجہ سے شدید دباو برداشت کیا ہے۔ حالانکہ کمپنی سب کا مقابلہ کررہی ہے اور تمام کمیوں کو دور کرنے تئیں کوشاں ہے۔

فہرست ممالک بلحاظ تعداد صارفین[ترمیم]

درجہ ملک آبادی تعداد صارفین فیصدی
  دنیا 6,895,889,000 1,000,000,000 14.50%
1 Flag of the United States.svg ریاستہائے متحدہ 315,120,000 167,431,700 53.97%
2 Flag of Brazil.svg برازیل 193,946,886 65,237,180 32.44%
3 Flag of India.svg بھارت 1,210,193,422 62,761,420 5.35%
4 Flag of Indonesia.svg انڈونیشیا 242,968,342 50,583,320 20.82%
5 Flag of Mexico.svg میکسیکو 112,468,855 39,933,040 35.51%
6 Flag of the United Kingdom.svg مملکت متحدہ 62,348,447 32,827,180 52.65%
7 Flag of Turkey.svg ترکی 77,804,122 32,354,900 41.59%
8 Flag of the Philippines.svg فلپائن 99,900,177 30,265,200 30.30%
9 Flag of France.svg فرانس 64,768,389 25,614,100 39.55%
10 Flag of Germany.svg جرمنی 81,802,257 25,350,560 30.99%


تاریخ[ترمیم]

2003–2006، دی فیسبک، انکی سرمایہ کاری اور نام کی تبدیلی[ترمیم]

مارک زکربرگ نے 2003 میں فیس میش Facemash نامی ایک پروگرام لکھا جبکہ وہ ہارورڈ یونیورسٹی میں سال دوم کے طالبعلم تھے۔ دی ہارورڈ کرمسن کے مطابق یہ ویبسائٹ ہاٹ اور ناٹ ( Hot or Not) کے مقابلہ کی تھی اور نو گھروں کے فیس بوکوں سے تصاویر لیکر انکو دو لائنوں میں اس طرح رکھا کہ تصاویر ایک دوسرے کے مقابلے میں تھی اور صارف سے کہا گیا کہ ان میں سے اچھی تصویر کا انتخاب کریں [1]۔ فیس میش کو  پہلے چار گھنٹوں میں 450 آنلائن زائرین ملے اور تصاویر کو 22000 مرتبہ دیکھا گیا۔ [2] فیس میش ویبسائٹ کو بہت تیزی سے دوسرے اسکول کے سروروں پر فاروارڈ کیا گیا لیکن چند دنوں بعد ہی ہارورڈ انتظامیہ نے ویبسائٹ کو بند کردیا اورمارک زکربرگ کو  سلامتی کو توڑنے، کاپی رائٹ کی خلاف ورزی کرنے اور ذاتی رازداری کی خلاف ورزی کرنے کی وجہ سے کو کالج سے نکال دیا گیا۔ حالانکہ بعد میں الزامات واپس لے لئے گئے تھے۔ [1] اس سیمیسٹر کی دوران زکربرگ نےآرٹ ہسٹری فائنل  امتحان سے قبل ایک سوشل ٹول بناکر   اپنے ابتدائی پراجیکٹ  کو پھیلایا۔ اس نے آرٹ کی تمام تصاویر ایک ویبسائٹ پر اپلوڈ کیں اور تمام تصاویر کے ساتھ تبصرہ کرنے کا خانہ مہیا کروایا پھر اس سائٹ کو اپنے درجہ کے ساتھیوں کے ساتھ شیئر کیا اور لوگوں نے اپنے تبصرے اور نوٹس لکھنا شروع کردئے۔[3]

فائل:Thefacebook.png
Original layout and name of Thefacebook, 2004

فیس بک (face book ) دراصل طالبعلموں کی ایک ڈائریکٹری ہے جس میں تصاویر کے ساتھ ضروری معلومات درج ہوتی ہیں۔[2] سنہ 2003ء میں ہارورڈ میں کوئی عالمی اون لائن فیس بک نہیں تھا۔ صرف  تقسیم کیے ہوئے کاغذات [4] اور نجی اون لائن ڈائریکٹریاں ہوتی تھیں۔[1][5]   زکربرگ نے کرمسن کو بتایا کہ" ہارورڈ میں ہر ایک شخص ایک عالمی فیس بک کے بارے میں بات کرتا تھا۔ [...] مجھے لگا کہ یونیورسٹی کو فیس بک جیسا کچھ بنانے میں دو سال لگ جائیں گے ۔ عجیب ہے۔ میں ان سے بہتر کر سکتا ہوں۔ مجھے بس ایک ہفتہ درکار ہے۔[5] " جنوری 2004 میں زکربرگ ایک نئی ویبسائٹ کے لئے کوڈ لکھنے لگے۔ اسکا نام دی فیس بک رکھا۔  جسکی انکو کرمسن میں فیس میش سے متعلق ایک اداریہ سے حوصلہ افزائی ملی۔ اس میں لکھا تھا؛ "یہ واضح ہیکہ اب ٹیکنالوجی کی ضرورت ہیکہ ایک مرکزی ویبسائت بنائی جائے، وہ ویبسائت اور تیار شدہ دستیاب ہے اور اس کے بہت سارے فوائد ہیں۔" [6] 4 فروری 2004  زکربرگ نے thefacebook.com پتہ پر پر دی فیس بک کو لانچ کردیا۔[7]

ویبسائٹ لانچ ہونے کے چھ دن بعد ہارورڈ سے سینئر افراد کیمرون ونکلیوس،ٹایلرونکلیوس اور دویا نریندرا نے زکربرگ پر ان سب کو جان بوجھ کر دھوکہ دینے کا الزام لگایا۔ انکا کہنا تھا کہ زکربرگ نے انکو یقین دلایا تھا کہ وہ  HarvardConnection.com.کے نام سے ایک سوشل نیٹ ورک ویبسائٹ بنانے میں انکی مدد کریں گے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ اس کے بجائے زکربرگ نے ایک مقابلہ کا پراڈکٹ بنانے کے لئے ان کے آئڈیا کا استعمال کیا ہے۔ [8]تینوں نے ہارورڈ کرمسن اخبار سے معاملہ کی شکایت کی اور جانچ شروع ہو گئی۔ بعد میں انہوں نے زکربرگ کے خلاف مقدمہ کردیا جوکہ 2008 میں [9] 1.2 ملین شیئر (یعنی فیس بک آئی پی او کا 300 ملین امریکی ڈالر) پر رفع دفع ہوا۔[10]

شروعات میں فیس بک کی ممبرشپ ہارورڈ کالج کے طالبعلموں تک محدود رکھی گئی؛ ایک ماہ کے اندر اندر ہارورڈ کے نصف سے زیادہ انڈرگریجویٹ رجسٹرڈ ہو چکے تھے۔[11] یوداردو ساویرین، داستین موسکووتژ، اندریو میککولوم اور کرس ہوجیژنے ویبسائٹ کے فروغ کے انتظام کے لئے زکربرگ کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا اور ان سے جڑ گیے۔ [12] مارچ 2004 میںیونیورسٹی آف کولمبیا، سٹینفورڈ اور یال تک  فیس بک کی توسیع کردی گئی۔ [13]بعد ازاں آئی وی لیگ کے تمام کالجوں،بوسٹون یونیورسٹی،نیو یارک یونیورسٹی، ایم آئی ٹی واشنگٹناور تدریجا امریکہااور کینیڈا کی زیادہ تر یونیورسٹیوں کے لئے اسے فراہم کردیا گیا۔[14][15]

سنہ 2004ء کے وسط  میں زکربرگ کے ایک غیر رسمی مشیر اور کاروباری، سین پارکر کمپنی کے صدر مقرر ہوئے۔[16] جون 2004ء میں فیس بک نے اپنا دفترپالو آلٹو، کیلیفورنیا میں منتقل کرلیا۔[17] اسی مہینہ میں اس میں پے پل کے مشترک بنیاد گزار پیٹر ثیل نے پہلی سرمایہ کاری کی۔ یہ فیس بک میں ہوی سب سے پہلی سرمایہ کاری تھی۔ [18] سنہ 2005ء میں کمپنی نے ڈومین نام facebook.com امریکی ڈالر 200,000 میں خریدا اور اپنے نام سے لفظ "دی" ہٹا دیا۔[19] یہ ڈومین اس سے پہلے AboutFace  کارپوریشن کی ملکیت میں تھا۔ [20] یہ ویبسائٹ آخری مرتبہ اپریل 8، سنہ ء2005 میں ظاہر ہوئی تھی۔ 10 اپریل 2005 سے 4 اگست 2005 تک اس ویبسائٹ پر 403 error ظاہر ہو رہا تھا۔[21]

مارک زکربرگ, مشترک بانی , اپنےHarvard dorm room, 2005

مئی 2005 میںAccel Partners نے 12٫7 امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کی اورجم برایر نے ایک ملین ڈالر ذاتی رقم لگائی۔[22] ویبسائٹ کا ہائی اسکول ورژن ستمبر 2005 میں لانچ ہوا جسے زکربرگ نے اگلا لاجیکل قدم بتایا۔[23] (اس وقت ہائی اسکول نیٹورک کو ایک دعوت نامہ دکھانا ضروری یوتا تھا۔ [24]  فیس بک نے رکنیت کی توسیع ایپل اور مائکروسوفٹ جیسی کپمنیوں کے ملازمین کے لئے ویبسائٹ رکنیت کی اہلیت کی توسیع کردی۔[25]

2006–2012: عوام تک رسائی، مائکروسوفٹ کے ساتھ اتحاد اور برق رفتار ترقی[ترمیم]

26 ستمبر 2006 کو کم از کم  13 سال تک کی عمر کے صارف، جس کے پاس درست ای میل آئی ڈی ہو  کے لئے فیس بک  کو عام کردیا گیا۔[26][27][28] سنہ 2007ء کے اواخر میں فیس بک پر 100000 تجارتی صفحات تھے۔ (صفحات : جن میں کمپنیوں کو اپنے اشتہار دینے اور خریداروں کو آمادہ کرنے کی اجازت تھی۔ ) ان کی شروعات گروپ پر مبنی صفحات کے طور پر ہوئی۔ لیکن بعد میں ایک نئے منصوبہ کے تحت تجارتی صفحات بنائے گئے۔[29] مئی 2009 سے صفحات مہیا کروائے گئے۔ [30] 24 اکتوبر 2007 کو مائکروسوفٹ نے اعلان کیا کہ وہ $240 ملین کی مالیت سے فیس بک کے 1.6% شیئر خرید رہی ہے جس سے فیس بک کی قدر $15 بلین ڈالر ہو گئی۔ مائکروسوفٹ کی خرید کے ساتھ سوشل نیٹورک سائٹ پر بین القوامی اشتہارات کا اختیار بھی شامل تھا۔[31][32]

اکتوبر 2008ء کو فیس بک نے اعلان کیا کہ وہ عالمی مرکزی دفتر آئرلینڈ کےڈبلن شہر میں کھولنے جا رہی ہے۔[33] تقریبا ایک سال بعد، ستمبر 2009  میں فیس بک نے کہا کہ پہلی مرتبہ نقد کا بہاؤ مثبت تھا۔ [34] Compete.com کے ماہ جنوری 2009 ءکے مطالعے نے فیس بک کو ماہانہ فعال صارفینکے اعتبار سے دنیا کی سب سے زیادہ مستعمل سماجی رابطے کی ویبسائٹ بتایا۔[35] Entertainment Weeklyنے اسے دہائی کے سب سے اچھی ویبسائٹوں میں یہ کہتے ہوے شامل کیا کہ "کیا اس زمین پر فیسبک سے قبل  اپنے سابق دوستوں کی نگرانی، ساتھ کام کرنے والے دوستوں کے تاریخ پیدائش یاد رکھنا، دوستوں کو بگ کرنا اور کھیل کھیلنا ممکن تھا؟“[36]

سنہ 2009ء کے بعد فیس بک پر مسلسل ٹریفک بڑھتا رہا۔ کمپنی کے جولائی 2010 میں 500 ملین صارفین کا دعوی کیا۔[37] اور اسکے ڈاٹا کے مطابق اسکے آدھے صارفین روزانہ اوسطا  34 منٹ فیسبک استعمال کرتے ہیں۔ جبکہ 150 ملین موبائل سے استعمال کرتے ہیں۔ کنپمی کے ایک عامل نے اس سنگ میل کو انقلابی بتایا۔ [38] SecondMarket Inc (پرائویٹ کمپنیوں کے شیئر کا ایک اکسچینج) کے مطابق نومبر 2010 میں فیس بک کی قدر$41 بلین تھی۔ فیس بک نےآہستہ آہستہ  eBay کو پیچھے چھوڑ کر گوگل اورامیژن کے بعد امریکہ کی تسری سب سے بڑی ویب کمپنی بن گئی۔[39][40]


سنہ 2011ء کے شروع میں فیس بک نے اپنا مرکزی دفترسابق سن مائکرو سسٹمزکیمپس،منلو پارک، کیلیفورنیا کی طرف منتقل کرنے کا  اعلان کیا۔[41][42] مارچ 2011 میں یہ خبر آئی کہ فیس بک  سائبر سیکیورٹی کی غرض سے خلاف ورزی کرنے والوں جیسے اسپیم، تصویری مواد، اور کم عمری کی بنا پر روزانہ 20000 کھاتے حذف کررہا ہے۔[43] DoubleClick کے اعداد و شمارکے مطابق جون 2011ء میں فیس بک پیج ویو ایک ٹرلین تک پہونچ گیا اور DoubleClick کے مطابق یہ سب سے زیادہ دیکھی جانے والی ویبسائٹ بن گئی۔[44][45] نیلسین  (Nielsen)کے ایک مطالعہ کے مطابق فیس بک گوگل کے بعد دنیا کی سب سے زیادہ استعمال کی جانے والی ویبسائٹ بن گئی۔[46][47]

2012-2013: آئی، پی او، مقدمہ اور ایک بیلن واں صارف[ترمیم]

فیس بک نے فروری 2012ء کو ابتدائی عوامی پیشکش initial public offering کے لئے درخواست دی۔[48] فیس بک (held an initial public offering) کو 17 مئی 2012ء کو منظوری ملی، شیئر کی قیمت 38 بلین ڈالر طے ہوئی۔ کمپنی کی کل قیمت 104 بلین ڈالر لگائی گئی۔ یہ قیمت کسی بھی نئی فہرست زدہ کمپنی سب سے زیادہ تھی[49][50][51]۔ مئی 18 سنہ 2012ء سے فیس بک نے نسدقNASDAQ میں اپنا شیئرعوام کو فروخت کرنا شروع کیا۔ [52]سنہ 2012 ء میں فیس بک کو 5 بلین ڈالر کی آمدنی ہوئی اور فورچون 500 میں پہلی دفعہ مئی 2013ء میں شامل ہوئی۔ اس وقت اسکو 462 واں مقام ملا تھا۔[53]

فیس بک نے سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن (Securities and Exchange Commission) میں 1 فروری 2012ء کو S1 دستاویز بھرا۔ کمپنی نے 5 بلین ڈالر آئی پہ او کے لئے دوخواست دی، [54]یہ ٹکنالوجی کی تاریخ کی سب سے بڑی پیشکش تھی۔  آئی پی او 16 بلین ڈالر تک پہونچ گیا۔ امریکہ کی تاریخ کی تیسری سب سے بڑی اونچائی تھی۔[55][56]

18 مئی کو شیئر فروخت ہونا شروع ہوئے۔ آئی پی او کی قیمت زیادہ ہونے کی وجہ سے دن کے زیادہ تر حصے میں جد وجہد کرنی پڑی۔[57] لیکن ایک آئی پی او کے لئے ایک ریکارڈ قائم ہو گیا جب 460 ملین شیئر بک گئے۔  ٹریڈنگ کا پہلا دن تکنیکی خرابی کے نام رہا جس کی وجہ سے آرڈر نہیں لئے جا سکتے تھے۔[58][59]  اس دن تکنیکی خرابی اور مصنوعی مدد نے سٹاک کی قیمت کو آئی پی او کی قیمت سے نیچے گرنے سے محفوظ رکھا۔[60] مارچ 2012 میں فیس بک نے ایپ سینٹر کا اعلان کیا۔ ایپ سینٹر ایک اسٹور ہے جس میں ویبسائٹ پر اپلیکیشنز بیچی جاتی ہیں۔ یہ اسٹورآئی فون، اینڈرائد اور موبائل ویب صارفین پر مہیا کرایا جانا تھا۔[61]

فائل:نسدق پر فیس بوک .jpeg
Billboard on the تھومسن ریوٹرس عمارت فیس بک کا نسدق میں استقبال کرتی ہے, 2012ء

22 مئی 2012 کو یاہو فاینانس ویبسائٹ نے خبر دی کہ فیس بک کے اول درجہ کے اندراج کرنے والے مورگن سٹانلے، جے پی مورگناور گولڈ مین نے آئی پی او عمل کے دوران ہی اپنی کمائی کی پیشن گوئی میں کمی کردی تھی۔[62] اس دوران اسکا شیئر تیزی سے گرنے لگا اور 21 مئی کو 34.03 اور 22 مئی کو 31.00 پر بند ہوا۔ تیزی سی گرتی ہوی اسٹاک کی قیمت پر لگام لگانے کے لئے سرکٹ بریکر کا استعمال کیا گیا۔[63] سیکورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن کے چیئر مین میری شیپیرو اور مالیاتی صنعت ریگولیٹری اتھارٹی Financial Industry Regulatory Authority (FINRA) کے چیئر مین رک کیچمسےآئی کے بچاو کے لئے حالات کا جائزہ لینے کے لئے رابطہ کیا گیا۔[64]

فیس بک کے آئی پی او کی تحقیق کی گئی اور پمپ اور ڈمپ اسکیم "pump and dump]]" scheme]] سے اسکا موازنہ کیا گیا۔[58][62][64][65] مئی 2012ء میں ایک ٹریڈنگ خرابی پر  ایک مقدمہ کیا گیا جس کی وجہ سے سارے آرڈر خراب ہوئے تھے۔[66][67] مقدمہ ہو گیا، یہ دعوی کیا گیا کہ مورگن اسٹینلی کے ایک مندرج  نے انتخابی طور پر آمدنی کو چہیتے کلائنٹ کے حق میں ایڈجسٹ کردیا تھا۔[68]

دوسرے مندرجین جیسے (ایم ایس، جے پی ایم اور جی ایس) ، فیس بک کے سی ای او اور اسکا بورڈ، اور نسدق، سب ہی نے مقدمہ بازی کا سامنا کیا کیونکہ بہت سارے مقدمے دائر کیے جا چکے تھے۔ جبکہ ایس ای سی اور فینرا نے تحقیق شروع کردی۔.[69] یہ بات مان لی گئی تھی کہ آمدی کا اڈجسٹمینٹ کا تخمینہ سے متعلق  فیس بک کے ایک مالیاتی افسر نے  ایک مندرج سے گفتگو کی تھی،  اس نے ان معلومات کا استعمال  اپنی پوزیشنوں پر رہ کر  نقد رقم نکالنے کے لئے کیا جبکہ عوام کو بڑھی ہوی قیمت کے شیئر پر چھوڑ دیا۔[70] مئی 2012ء کے آخر تک فیس بک کے شیئر کی قیمت اس کے شروعاتی قیمت سے ربع سے زیادہ کم ہو گئی۔ دی وال اسٹریٹ جرنل نے اسے آئی پی او کے لیے ایک ناکامی قرار دیا۔ [71] اکتوبر 2012ء کو  زکربرگ نےمیڈیا میں  اعلان کیا کہ فیس بک نے ایک بلین صارفین کا سنگ میل عبور کر لیا ہے۔ کمپنی کے ڈاٹا نے واضح کیا کہ 600 ملین موبائل صارفین ہیں، 219 بلین تصاویر اپلوڈ ہوی ہیں۔ اور 140 بلین دوستی کے رابطے ہوئے ہیں۔[72]

نگار خانہ[ترمیم]

اقتباس[ترمیم]

مزید دیکھیے[ترمیم]

See also[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ Kaplan، Katharine A. (November 19, 2003)۔ "Facemash Creator Survives Ad Board"۔ The Harvard Crimson۔ اخذ کردہ بتاریخ June 24, 2017۔ 
  2. ^ ا ب McGirt، Ellen (May 1, 2007)۔ "Facebook’s Mark Zuckerberg: Hacker. Dropout. CEO."۔ Fast Company۔ Mansueto Ventures۔ اخذ کردہ بتاریخ July 4, 2017۔ 
  3. Kincaid، Jason (October 24, 2009)۔ "Startup School: An Interview With Mark Zuckerberg"۔ TechCrunch۔ AOL۔ اخذ کردہ بتاریخ June 24, 2017۔ 
  4. Phillips، Sarah (July 25, 2007)۔ "A brief history of Facebook"۔ The Guardian۔ Guardian Media Group۔ اخذ کردہ بتاریخ July 4, 2017۔ 
  5. ^ ا ب Tabak، Alan T. (February 9, 2004)۔ "Hundreds Register for New Facebook Website"۔ The Harvard Crimson۔ اخذ کردہ بتاریخ July 4, 2017۔ 
  6. Hoffman، Claire (September 15, 2010)۔ "The Battle For Facebook"۔ Rolling Stone۔ Wenner Media۔ اخذ کردہ بتاریخ July 4, 2017۔ 
  7. Rothman، Lily (February 4, 2015)۔ "Happy Birthday, Facebook"۔ Time۔ اخذ کردہ بتاریخ July 4, 2017۔ 
  8. Carlson، Nicholas (March 5, 2010)۔ "In 2004, Mark Zuckerberg Broke Into A Facebook User's Private Email Account"۔ Business Insider۔ Axel Springer SE۔ اخذ کردہ بتاریخ March 23, 2017۔ 
  9. Stone, Brad (June 28, 2008)۔ "Judge Ends Facebook's Feud With ConnectU"۔ New York Times blog۔ 
  10. Rushe، Dominic (February 2, 2012)۔ "Facebook IPO sees Winklevoss twins heading for $300m fortune"۔ The Guardian۔ Guardian Media Group۔ اخذ کردہ بتاریخ March 23, 2017۔ 
  11. Phillips، Sarah (July 25, 2007)۔ "A brief history of Facebook"۔ The Guardian۔ Guardian Media Group۔ اخذ کردہ بتاریخ March 23, 2017۔ 
  12. Weinberger، Matt (September 7, 2017)۔ "33 photos of Facebook's rise from a Harvard dorm room to world domination"۔ Business Insider۔ Axel Springer SE۔ اخذ کردہ بتاریخ December 13, 2017۔ 
  13. "Facebook: a timeline of the social network"۔ The Daily Telegraph۔ Telegraph Media Group۔ February 1, 2012۔ اخذ کردہ بتاریخ December 13, 2017۔ 
  14. Rosmarin, Rachel (September 11, 2006)۔ "Open Facebook"۔ Forbes (New York)۔ اخذ کردہ بتاریخ June 13, 2008۔ 
  15. Nguyen، Lananh (April 12, 2004)۔ "Online network created by Harvard students flourishes"۔ The Tufts Daily (Medford, MA)۔ اصل سے جمع شدہ October 15, 2013 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ August 21, 2009۔ 
  16. Rosen, Ellen (May 26, 2005)۔ "Student's Start-Up Draws Attention and $13 Million"۔ The New York Times۔ اخذ کردہ بتاریخ May 18, 2009۔ 
  17. "Company Timeline". Facebook. January 1, 2007. https://www.facebook.com/press/info.php?timeline۔ اخذ کردہ بتاریخ March 5, 2008. 
  18. "Why you should beware of Facebook"۔ The Age (Melbourne)۔ January 20, 2008۔ اخذ کردہ بتاریخ April 30, 2008۔ 
  19. Williams، Christopher (October 1, 2007)۔ "Facebook wins Manx battle for face-book.com"۔ The Register۔ Situation Publishing۔ اخذ کردہ بتاریخ March 23, 2017۔ 
  20. "AboutFace Home Page"۔ April 8, 2005۔ اصل سے جمع شدہ April 8, 2005 کو۔ 
  21. "error!"۔ April 10, 2005۔ اصل سے جمع شدہ April 8, 2005 کو۔ 
  22. "Jim Breyer (via Accel Partners)"۔ CNBC۔ May 22, 2012۔ اصل سے جمع شدہ December 29, 2014 کو۔ 
  23. Dempsey, Laura (August 3, 2006)۔ "Facebook is the go-to Web site for students looking to hook up"۔ Dayton Daily News (Ohio)۔ 
  24. Lerer, Lisa (January 25, 2007)۔ "Why MySpace Doesn't Card"۔ Forbes (New York)۔ اصل سے جمع شدہ June 2, 2008 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ May 13, 2011۔ 
  25. Lacy, Sarah (September 12, 2006)۔ "Facebook: Opening the Doors Wider"۔ BusinessWeek (New York)۔ اخذ کردہ بتاریخ March 9, 2008۔ 
  26. Abram، Carolyn (September 26, 2006)۔ "Welcome to Facebook, everyone"۔ The Facebook Blog۔ اخذ کردہ بتاریخ March 8, 2008۔ 
  27. "Terms of Use"۔ Facebook۔ November 15, 2007۔ اخذ کردہ بتاریخ March 5, 2008۔ 
  28. "Facebook Expansion Enables More People to Connect with Friends in a Trusted Environment"۔ Facebook Newsroom۔ September 26, 2006۔ اخذ کردہ بتاریخ February 4, 2016۔ 
  29. Richmond، Riva (November 27, 2007)۔ "Enterprise: Facebook, a Marketer's Friend; Site Offers Platform To Tout Products, Interact With Users"۔ Wall Street Journal (New York)۔ صفحہ B4۔ 
  30. Greenstein, Howard (May 27, 2009)۔ "Facebook Pages vs Facebook Groups: What's the Difference?"۔ Mashable.com۔ اخذ کردہ بتاریخ August 4, 2014۔ 
  31. "Microsoft gets a piece of Facebook"۔ CNNMoney۔ CNN۔ October 24, 2007۔ اخذ کردہ بتاریخ May 31, 2017۔ 
  32. Sherrets، Doug (October 24, 2007)۔ "Microsoft invests $240M in Facebook, as Facebook develops ad product"۔ VentureBeat۔ اخذ کردہ بتاریخ May 31, 2017۔ 
  33. "Facebook to Establish International Headquarters in Dublin, Ireland". Facebook. October 2, 2008. https://www.facebook.com/press/releases.php?p=59042۔ اخذ کردہ بتاریخ November 30, 2008. 
  34. "Facebook 'cash flow positive,' signs 300M users"۔ CBC News (Toronto)۔ September 16, 2009۔ اخذ کردہ بتاریخ March 23, 2010۔ 
  35. Kazeniac, Andy (February 9, 2009)۔ network/ "Social Networks: Facebook Takes Over Top Spot, Twitter Climbs"۔ Compete Pulse blog۔ اخذ کردہ بتاریخ February 17, 2009۔ 
  36. Geier, Thom؛ Jensen، Jeff؛ Jordan، Tina؛ Lyons، Margaret؛ Markovitz، Adam (December 11, 2009)۔ "The 100 Greatest Movies, TV Shows, Albums, Books, Characters, Scenes, Episodes, Songs, Dresses, Music Videos, and Trends that entertained us over the 10 Years"۔ Entertainment Weekly (1079/1080) (New York)۔ صفحات 74–84۔ 
  37. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ 500 million نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  38. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ Quiet revolution نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  39. Curtis، Sophie (February 3, 2014)۔ "Facebook at 10: Zuckerberg hails 'incredible journey'"۔ The Telegraph۔ Telegraph Media Group۔ اخذ کردہ بتاریخ May 31, 2017۔ 
  40. Womack، Brian (November 15, 2010)۔ "Facebook Becomes Third Biggest US Web Company"۔ Jakarta Globe۔ BeritaSatu Media Holdings۔ اصل سے جمع شدہ December 3, 2010 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ May 31, 2017۔ 
  41. Parr, Ben (February 7, 2011). "These Are Facebook's New Offices [PHOTOS]". Mashable (New York). Retrieved April 6, 2011.
  42. Brundage, Sandy (February 8, 2011). "Facebook moving headquarters to Menlo Park: Social-networking giant to move into former Sun/Oracle campus". The Almanac (Menlo Park, CA).
  43. "Facebook deletes 20,000 underage profiles daily"۔ IBN Live (Noida, Uttar Pradesh)۔ Press Trust of India۔ March 24, 2011۔ اخذ کردہ بتاریخ March 24, 2011۔ 
  44. Protalinski، Emil (August 24, 2011)۔ "Facebook is first with 1 trillion page views, according to Google"۔ ZDNet۔ CBS Interactive۔ اخذ کردہ بتاریخ July 13, 2017۔ 
  45. Solomon، Kate (August 25, 2011)۔ "Facebook hit 1 trillion page views in June"۔ TechRadar۔ Future plc۔ اخذ کردہ بتاریخ July 13, 2017۔ 
  46. "Google and Facebook top 2011's most visited sites in US"۔ BBC News۔ BBC۔ March 8, 2012۔ اخذ کردہ بتاریخ July 13, 2017۔ 
  47. Fleming، Ryan (December 29, 2011)۔ "Google and Facebook top the most visited websites of 2011"۔ Digital Trends۔ اخذ کردہ بتاریخ July 13, 2017۔ 
  48. "Facebook, Inc. Financial Statements"۔ Securities and Exchange Commission۔ February 1, 2013۔ اخذ کردہ بتاریخ February 1, 2013۔ 
  49. Mark Milian and Marcus Chan (May 18, 2012)۔ "Facebook's Valuation: What $104 Billion Is Worth"۔ Bloomberg Technology۔ اخذ کردہ بتاریخ January 11, 2014۔ 
  50. Kerr، Dara۔ "Facebook stock hits a record high, since IPO"۔ C|Net News۔ C|Net۔ اخذ کردہ بتاریخ August 27, 2013۔ 
  51. Andrew Tangel؛ Walter Hamilton (May 17, 2012)۔ "Stakes are high on Facebook's first day of trading"۔ The Los Angeles Times۔ اصل سے جمع شدہ May 18, 2012 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ May 17, 2012۔ 
  52. "Birthday boy Mark Zuckerberg to get $100bn gift"۔ The Times of India۔ Associated Press۔ May 14, 2012۔ اصل سے جمع شدہ May 14, 2012 کو۔ 
  53. Krantz، Matt (May 6, 2013)۔ "Facebook squeaks onto the Fortune 500"۔ USA Today۔ اخذ کردہ بتاریخ May 19, 2013۔ 
  54. "Facebook Officially Files for $5 Billion IPO"۔ KeyNoodle۔ February 1, 2012۔ اصل سے جمع شدہ October 18, 2013 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ February 1, 2012۔ 
  55. Evelyn M. Rusli؛ Peter Eavis (May 17, 2012)۔ "Facebook Raises $16 Billion in I.P.O."۔ The New York Times۔ اخذ کردہ بتاریخ May 17, 2012۔ 
  56. Bernard Condon (May 17, 2012)۔ "Questions and answers on blockbuster Facebook IPO"۔ U.S. News۔ Associated Press۔ اخذ کردہ بتاریخ May 17, 2012۔ 
  57. "Facebook Sets Record For IPO Trading Volume"۔ The Wall Street Journal۔ May 18, 2012۔ اصل سے جمع شدہ May 24, 2012 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ May 18, 2012۔ 
  58. ^ ا ب Tepid honeymoon of Facebook and NASDAQ does not deliver the big bang. forbes.com
  59. Shawn Baldwin (May 18, 2012)۔ "Facebook IPO: Capital Market Transaction vs Social Offering"۔ Forbes۔ 
  60. MARCY GORDON (May 23, 2012)۔ "Regulators probe banks role Facebook IPO"۔ News.yahoo.com۔ اخذ کردہ بتاریخ January 18, 2014۔ 
  61. "Facebook app store launches amid mobile revenue worries"۔ BBC News۔ May 10, 2012۔ 
  62. ^ ا ب Henry Blodget (May 22, 2012)۔ "Facebook Bankers Secretly Cut Facebook's Revenue Estimates In Middle Of IPO Roadshow"۔ Yahoo! Finance۔ اخذ کردہ بتاریخ December 14, 2014۔ 
  63. Another Facebook First: Tripping a Circuit-Breake. WSJ Online
  64. ^ ا ب Facebook shares fall valuation doubts. Yahoo! Finance
  65. Facebook IPO underscores shutting out the masses. sfgate.com
  66. Regulators, investors turn up heat over Facebook IPO وثق شدہ بتاریخ October 1, 2015, در وے بیک مشین. finance.yahoo.com
  67. Morgan Stanley sued firm. yahoo.com
  68. "Listing of Recent Securities Lawsuits Filed Against Facebook"۔ اصل سے جمع شدہ October 19, 2013 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ July 19, 2013۔ 
  69. Matt Nesto (May 23, 2012)۔ "Fury Over Facebook IPO Grows, Lawsuits Mount"۔ Yahoo! Finance۔ اخذ کردہ بتاریخ December 14, 2014۔ 
  70. Blodget، Henry (May 22, 2012)۔ "EXCLUSIVE: Here's The Inside Story Of What Happened On The Facebook IPO"۔ Business Insider۔ Axel Springer SE۔ اخذ کردہ بتاریخ March 23, 2017۔ 
  71. Weidner، David (May 30, 2012)۔ "Facebook IPO Facts, Fiction and Flops"۔ The Wall Street Journal۔ 
  72. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ Billion statistics نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  73. Edward Snowden: Facebook Is A Surveillance Company Rebranded As "Social Media"

سانچہ:Facebook navbox

سانچہ:Andreessen Horowitz