ڈبلن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ڈبلن
Dublin

Baile Átha Cliath
شہر
سیموئیل بیکٹ پل، کنونشن سینٹر، ٹرنیٹی کالج، او کونل پل، کسٹم ہاؤس، قلعہ ڈبلن
ڈبلنDublin کا پرچم
پرچم
ڈبلنDublin کا قومی نشان
قومی نشان
عرفیت: میلہ شہر
Motto: Obedientia Civium Urbis Felicitas
"شہریوں کی اطاعت سے ایک خوش شہر کا قیام"[1]
ڈبلن is located in آئر لینڈ
ڈبلن
ڈبلن
ڈبلن is located in یورپ
ڈبلن
ڈبلن
آئرلینڈ میں ڈبلن کا مقام
متناسقات: 53°20′59″N 6°15′37″W / 53.34972°N 6.26028°W / 53.34972; -6.26028متناسقات: 53°20′59″N 6°15′37″W / 53.34972°N 6.26028°W / 53.34972; -6.26028
ملک جمہوریہ آئرلینڈ
صوبہ لینسٹر
حکومت
 • قسم سٹی کونسل
 • ہیڈکوارٹر ڈبلن سٹی ہال
 • لارڈ میئر برینڈن کار، (لیبر)
 • ایوان زیریں آئرلینڈ ڈبلن وسطی
خلیج ڈبلن شمالی
ڈبلن شمالی-مغربی
ڈبلن جنوبی-وسطی
خلیج ڈبلن جنوبی
 • یورپی پارلیمنٹ ڈبلن انتخابی حلقہ
رقبہ[3][4]
 • شہر 114.99 کلو میٹر2 (44.40 مربع میل)
 • شہری 318 کلو میٹر2 (123 مربع میل)
آبادی
 • شہر 553,165[2]
 • کثافت 4,811/کلو میٹر2 (12,460/مربع میل)
 • شہری 1,173,179[6]
 • میٹرو 1,904,806[5]
 • نام آبادی ڈبلینر، ڈب
 • نسلیت
(2011 مردم شماری)
منطقۂ وقت مغربی یورپی وقت (UTC0)
 • گرما (گرمائی وقت) آئرلینڈ معیاری وقت (UTC+1)
ڈاک رمز D01 تا D18, D20, D22, D24 اور D6W
ٹیلی فون کوڈ 01 (+3531)
خام ملکی پیداوار امریکی ڈالر 90.1 بلین[7]
فی کس خام ملکی پیداوار امریکی ڈالر 51,319[7]
ویب سائٹ www.dublincity.ie

ڈبلن (انگریزی: Dublin تلفظ: /ˈdʌblin/, آئرش: Baile Átha Cliath[8] آئرش تلفظ: [ˌbʲlʲɑː ˈclʲiə]) جمہوریہ آئرلینڈ کا دار الحکومت اور سب سے بڑا شہر ہے۔ [9][10] ڈبلن آئرلینڈ کے مشرقی ساحل پر صوبہ لینسٹر میں دریائے لفی کے دہانے پر واقع ہے۔ اس کے جنوب میں سلسلہ کوہ ویکلو واقع ہے۔ شہر کے شہری علاقے کی آبادی 1،173،179 ہے۔ [11] کاؤنٹی ڈبلن کی آبادی بمطابق 2016ء 1،347،359 ہے، [12] جبکہ گریٹر ڈبلن علاقہ کی آبادی 1،904،806 نفوس پر مشتمل ہے۔ [13]

آثار قدیمہ کے ماہرین میں یہ بات اب بھی زیر بحث ہے کہ ساتویں صدی میں کیلٹک زبان بولنے والوں نے ٹھیک کس مقام پر ڈبلن کو آباد کیا تھا۔ [14] بعد میں اس کی توسیع بطور وائی کنگ آبادی ہوئی، نارمن حملے کے بعد مملکت ڈبلن جزیرہ آئرلینڈ کا مرکزی شہر بنا۔ [14] شہر نے سترہویں صدی کے بعد بہت تیزی سے ترقی کی 1800ء میں یونین ایکٹ 100 سے قبل یہ کچھ عرصہ کے لیے سلطنت برطانیہ کا دوسرا سب سے بڑا شہر تھا۔ 1922ء میں آئرلینڈ کے تقسیم کے بعد ڈبلن آئرش آزاد ریاست (بعد میں نام تبدیل کر کے جمہوریہ آئرلینڈ رکھا گیا) کا دار الحکومت بنا۔

2010ء میں گلوبلائزیشن اینڈ ورلڈ سٹیز ریسرچ نیٹ ورک نے اسے عالمی شہر کا درجہ "الفا" عطا کیا جس سے یہ دنیا کے تیس بہترین شہروں میں شمار ہوتا ہے۔ [15][16] یہ تعلیم، فنون، انتظامیہ، معیشت اور صنعت کا ایک تاریخی اور معاصر مرکز ہے۔

اشتقاقیات[ترمیم]

ڈبلن (Dublin) کا نام آئرش لفظ "Dubhlinn" سے ہے جو خود ابتدائی کلاسیکی آئیرش "Dubhlind/Duibhlind" سے ماخوذ ہے۔ یہ دو الفاظ کا مرکب ہے، پہلا لفظ "dubh" جس کے معنی سیاہ یا تاریک کے ہیں اور دوسرا "lind" جس کے معنی تالاب ہیں۔ قلعہ ڈبلن کے عقب میں واقع باغات کے قریب پوڈل ندی کے دریائے لفی میں ملنے کے مقام پر ایک مدوجزری تالاب تھا۔ شہر کے ناموں کا اصل تلفظ دوسری زبانوں میں محفوظ ہے جیسے قدیم انگریزی میں ڈیفلن (Difelin)، قدیم نورس میں (Dyflin)، جدید آئس لینڈی میں (Dyflinn)، جدید مینکس میں (Divlyn) اور ویلش میں (Dulyn)۔ آئر لینڈ کی دیگر مقامی آبادیوں میں اسے (Duibhlinn) اور دیگر انگریزیانا نام "Devlin" [17] "Divlin" [18] اور "Difflin" [19] ہیں۔

تاریخ[ترمیم]

خلیج ڈبلن کا علاقہ قبل از تاریخ دور سے آباد رہا ہے۔ بطلیموس کے تحریروں سے 140ء میں ممکنہ طور پر قدیم ترین تحریری حوالہ ملتا ہے۔ اس نے اس آبادی کا نام ایبلانا پولس (یونانی: Ἔβλανα πόλις).[20] لکھا ہے۔

ڈبلن نے 1988ء میں اپنا 'رسمی' ہزار سالہ جشن منایا، جس کا مطلب ہے کہ آئیرش حکومت 988ء کو شہر آباد ہونے کی تاریخ تسلیم کرتی ہے جو بعد میں ڈبلن شہر بنا۔

اب خیال کیا جاتا ہے کہ [21] وائی کنگ آباد مقام کے بعد یہاں ایک مسیحی کلیسیائی آبادی قائم ہوئی جس کا نام ڈوبھلن (Duibhlinn) تھا جس سے نام ڈیفلن (Dyflin) نکلا۔ نویں اور دسویں صدی کے آغاز میں یہاں دو آبادیاں تھیں جو جدید ڈبلن کا نقطہ آغاز ہے۔

قرون وسطی[ترمیم]

ابتدائی جدید[ترمیم]

اواخر جدید اور معاصر[ترمیم]

حکومت[ترمیم]

مقامی[ترمیم]

قومی[ترمیم]

سیاست[ترمیم]

2016ء کے عام انتخابات میں ڈبلن علاقہ سے منتخب شدہ نمائندوں کی تعداد بلحاظ سیاسی جماعت مندرجہ ذیل ہے۔ [22]

رنگ سیاسی جماعت تعداد
فینے گئیل 14
شن فین 7
فیئینا فائل 6
پیپل بیفور پرافٹ 3
سوشلسٹ پارٹی 2
لیبر پارٹی 2
گرین پارٹی 2
سوشل ڈیموکریٹس 1
آزاد 7

جغرافیہ[ترمیم]

ہیئت ارضی[ترمیم]

سیٹلائٹ تصویر: دریائے لفی بحیرہ آئرش میں داخل ہوتے ہوئے ڈبلن کو دو حصون میں تقسیم کرتا ہے نارتھ سائیڈ اور ساوتھ سائیڈ

ڈبلن مشرقی وسط آئرلینڈ میں دریائے لفی کے دھانے پر واقع ہے اور اس کا رقبہ تقریباً 115 مربع کلومیٹر (44 مربع میل) ہے۔ اس کے جنوبی سمت میں کم اونچا سلسلہ کوہ ہے اور شمال اور مغرب میں مسطح مزروعہ زمین ہے۔ [23] دریائے لفی شہر کو دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے جو نارتھ سائیڈ اور ساوتھ سائیڈ ہیں۔ یہ دونوں حصے دو ندیوں سے مزید تقسیم ہوتے ہیں۔ تولکا ندی جنوب مشرق میں بہتے ہوئے خلیج ڈبلن میں گرتی ہے اور ڈوڈر ندی شمال مشرق میں بہتے ہوئے دریائے لفی کے دہانے میں گرتی ہے۔

دو مزید اجسام آب گرینڈ کینال ساوتھ سائیڈ میں اور رائل کینال نارتھ سائیڈ میں دریائے شینن میں ملنے سے قبل اندورن شہر کے گرد ایک دائرہ بناتے ہیں۔ دریائے لفی لیکسلیپ کے مقام پر شمال مشرقی راستے سے اپنا رخ بنیادی طور پر مشرقی کی سمت تبدیل کرتا ہے اور یہی نقطہ شہری ترقی کو زیادہ زرعی زمین کے استعمال سے فروغ دیتا ہے۔ [24]

ثقافتی تقسیم[ترمیم]

ایک وقت میں ایک شمال-جنوب تقسیم روایتی طور پر موجود تھی اور دریائے لفی یہ تقسیم بناتا تھا۔ شمالی سمت کے لوگ عام طور پر کام کرنے والا طبقہ اور درمیانی طبقے کے لوگوں پر مشتمل تھا جبکہ جنوبی سمت کے لوگوں کو درمیانی طبقہ اور بالائی متوسظ طبقہ شمار کیا جاتا تھا۔ تاہم حالیہ دہائیوں میں شمال اور جنوب دونوں سمتوں میں تبدیلی آئی ہے خاص طور پر شمال میں زیادہ اقتصادی ترقی ہوئی ہے۔ ڈبلن کی اقتصادی تقسیم پہلے مشرق مغرب کے ساتھ ساتھ شمال جنوب میں بھی تھی۔ اس کے علاوہ شہر کے مشرق میں ساحل کے مضافات اور اور مغرب کو مزید جدید تر پیشرفتوں کے درمیان بھی سماجی تفریق موجود تھی۔ [25]

سیاحت اور غیر منقولہ املاک کے تجارت کے سیاق و سباق میں، ڈبلن کو کبھی کبھار محلوں تقسیم کیا جاتا ہے۔ [26][27] ان میں "قرون وسطی کا محلہ" جس میں قلعہ ڈبلن، کرائسٹ چرچ، سینٹ پیٹرک کیتھیڈرل اور قدیم شہر کی دیواریں شامل ہیں،[28] "جارجیائی محلہ" جس میں سینٹ اسٹیفن گرین، ٹرنیٹی کالج اور میرون اسکوائر شامل ہیں، "ڈاک لینڈز محلہ" میں ڈبلن ڈاک لینڈز اور سیلیکون ڈاکس، "ثقافتی محلہ" میں ٹیمپل بار اور "تخلیقی محلہ" میں جنوبی ولیم اسٹریٹ اور جارج اسٹریٹ شامل ہیں۔ [29]

آب و ہوا[ترمیم]

ڈبلن
آب و ہوا چارٹ (وضاحت)
ج ف م ا م ج ج ا س ا ن د
 
 
63
 
9
4
 
 
46
 
9
4
 
 
52
 
11
5
 
 
50
 
12
6
 
 
58
 
15
9
 
 
59
 
18
12
 
 
51
 
20
14
 
 
65
 
20
13
 
 
57
 
17
11
 
 
76
 
14
9
 
 
69
 
11
6
 
 
69
 
9
5
اوسط زیادہ سے زیادہ. اور کم سے کم درجہ حرارت °C
ترسیب کل، ملی میٹر میں
ماخذ: Met Éireann[30]

شمال مغربی یورپ کے باقی علاقوں کی طرح، ڈبلن کی آب و ہوا سمندری (کوپن موسمی زمرہ بندی) ہے، جس میں ٹھنڈے موسم گرما، معتدل موسم سرما اور انتہائی درجہ حرارت کا فقدان ہے۔ جنوری میں اوسط زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 8.8 °س (48 °ف)، جبکہ جولائی میں اوسط زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 20.2 °س (68 °ف) رہتا ہے۔ سورج سب سے زیادہ مئی اور جون کے مہینوں میں چمکتا ہے، جبکہ اکتوبر کے مہینے میں سب سے زیادہ بارش ہوتی ہے جو 76 ملی میٹر (3 انچ) ہے اور خشک ترین مہینہ فروری ہے جس میں صرف 46 ملی میٹر (2 انچ) بارش ہوتی ہے۔ عمومی طور پر بارش سارا سال ہوتی ہے۔

مشرقی ساحل پر ہونے کی وجہ سے ڈبلن آئرلینڈ کا خشک ترین علاقہ ہے جہاں مغربی ساحل کے مقابلے میں تقریباً نصف بارش ہوتی ہے۔ شہر کے جنوب میں واقع رنگسینڈ 683 ملی میٹر (27 انچ) [31] کی اوسط سالانہ بارش کے ساتھ میں ملک میں سب سے کم بارش ریکارڈ ہوتی ہے جبکہ شہر کے مرکز میں 714 ملی میٹر (28 انچ) بارش ہوتی ہے۔ سردیوں میں عمل ترسیب عمومی طور پر بارش ہوتا ہے تاہم تاہم نومبر اور مارچ کے درمیان برف باری بھی ہوتی ہے۔ ژالہ باری برف باری سے زیادہ ہوتی ہے۔ شہر میں موسم گرما میں دن طویل راتیں مختصر ہوتی ہیں۔ موسم خزاں میں تیز اوقیانوس ہوائیں چلتی ہیں۔ یہ ہوایں ڈبلن پر اثر انداز ہو سکتی ہے لیکن اس کے مشرقی مقام کی وجہ سے ملک کے دیگر حصوں کے مقابلے میں اس پر ان کا بہت تم اثر ہوتا ہے۔ تاہم موسم سرما میں مشرقی ہواوں کے باعث شہر میں سردی اور برف باری ہوتی ہے۔

بیسویں صدی میں شہر کو اسموگ اور فضائی آلودگی کا سامنا رہا جس کی وجہ سے ڈبلن میں تار کول نما ایندھن پر پابندی عائید کر دی گئی ہے۔ [32][33] پابندی سیاہ دھوئیں کے ارتکاز سے نمٹنے کے لیے 1990ء میں لگائی گئی، جو رہائشیوں میں قلب و عروقی، تنفسی امراض کے باٰعث موت کا سبب بن رہی تھی۔ پابندی کے بعد سے تنفسی اور قلب و عروقی امراض سے اموات کی شرح میں کمی واقع ہوئی ہے جو اندازہً 350 اموات سالانہ ہے۔ [34][33]


سیاحتی مقامات[ترمیم]

امتیازی مقامات[ترمیم]

پارک[ترمیم]

معیشت[ترمیم]

نقل و حمل[ترمیم]

سڑکیں[ترمیم]

ڈبلن میں سڑکیں

آئرلینڈ میں سڑکوں کا جال بنیادی طور پر ڈبلن پر مرکوز ہے۔ 2016ء ٹام ٹوم ٹریفک انڈیکس کے مطابق ڈبلین دنیا کا پندرہواں گنجان ترین شہر اور ور یورپ کا ساتوں سب سے گنجان شہر ہے۔ [40][41] ڈبلن میں تقریباً 200 بسوں کے روٹ ہیں جو جو شہر اور مضافات کا احاطہ کرتے ہیں۔ ان میں سے اکثریت ڈبلن بس کے زیر انتطام ہیں، تاہم کئی چھوٹی کمپنیاں بھی یہاں کام کر رہی ہیں۔ کرایہ عام طور پر فاصلے کی بنیاد پر لیا جاتا ہے۔

ایم 50 موٹر وے (آئرلینڈ)[ترمیم]

ایم 50 موٹر وے ڈبلن میں ایک نیم دائرہ کی شکل میں ایک موٹر وے جو آئرلینڈ کی مصروف ترین موٹر وے ہے۔ موجودہ راستہ 1983ء سے 2010ء کے دوران 27 سال میں مختلف حصوں میں تعمیر کیا گیا۔ یہ ڈبلن بندرگاہ سے شروع ہو کر شمال میں ڈبلن بندرگاہ سرنگ سے ہوتے ہوئے ہوائی اڈا موٹر وے کے ایک حصے کے ساتھ چلتا ہے۔ اس کے بعد یہ مغرب میں مڑتا ہے اور ایم 1 موٹر وے سے جنکشن بناتا ہے اور ڈبلن کے شمالی، مغربی اور جنوبی مضافاتی علاقوں کے کرد گھومنا ہے۔ یہ جنوب مشرقی ڈائلن شینکل، ڈبلن کے مقام پر ختم ہوتا ہے۔

ایم 1 موٹر وے[ترمیم]

ایم 1 موٹر وے جمہوریہ آئر لینڈ میں ایک موٹر وے ہے۔ یہ این 1 کا بڑا حصہ تشکیل کرتا ہے اور جزیرہ آئرلینڈ کے مشرق میں ڈبلن کو بیلفاسٹ سے ملاتا ہے۔

ڈبلن بس[ترمیم]

ڈبلن بس جمہوریہ آئرلینڈ کے دار الحکومت ڈبلن میں بس خدمات فراہم کرتی ہے۔ یہ کورس اومپر ائرن کی ذیلی کمپنی ہے۔ 2017ء میں 139.4 ملین مسافروں نے ڈبلن بس سے سفر کیا۔ [42]

ریل اور ٹرام[ترمیم]

ایرنرود ائرن (آئرش: Iarnród Éireann; آئرش تلفظ: [ˈiəɾˠnˠɾˠoːdˠ ˈeːɾʲən̪ˠ]) جسے آئرش ریل بھی کہا جاتا ہے جمہوریہ آئرلینڈ کی قومی ریلوے ورک کی آپریٹر ہے۔ یہ کورس اومپر ائرن (آئرش: Córas Iompair Éireann) کی ذیلی کمپنی ہے اور اس کا قیام 2 فروری 1987ء کو عمل میں آیا۔ ڈبلن میں ایرنرود ائرن کے زیر انتظام دو مرکزی ریلوے اسٹیشن ہیوسٹن ریلوے اسٹیشن اور ڈبلن کونولی ریلوے اسٹیشن ہیں۔

ہیوسٹن ریلوے اسٹیشن[ترمیم]

ہیوسٹن ریلوے اسٹیشن

ہیوسٹن ریلوے اسٹیشن (سابقہ کنگز برج اسٹیشن) جمہوریہ آئرلینڈ کے مرکزی ریلوے اسٹیشنوں میں سے ایک ہے جس کہ دار الحکومت ڈبلن کو جنوب، جنوب مغرب اور مغرب سے منسلک کرتا ہے۔ [43]

ڈبلن کونولی ریلوے اسٹیشن[ترمیم]

ڈبلن کونولی ریلوے اسٹیشن

ڈبلن کونولی ریلوے اسٹیشن جمہوریہ آئرلینڈ کے مرکزی ریلوے اسٹیشنوں میں سے ایک ہے جو ڈبلن میں واقع ہے۔[44] یہ ڈبلن کو ملک کے شمال، شمال-مغرب، جنوب-مشرق اور جنوب-مغرب سے ملاتا ہے۔

ڈبلن ایریا ریپڈ ٹرانزٹ[ترمیم]

ڈبلن ایریا ریپڈ ٹرانزٹ جسے عام طور اس کے مخفف ڈارٹ (DART) سے جانا جاتا ہے ایک برقی ٹرانسپورٹ ریلوے نیٹ ورک ہے جو جمہوریہ آئرلینڈ کے دار الحکومت ڈبلن کے ساحل اور شہر کے مرکز کو خدمات فراہم کرتا ہے۔ 2013ء میں ڈارٹ اور ڈبلن مضافاتی لائنز کے لیے مسافر 16 ملین اور 11.7 ملین تھے جو آئرش ریل کے مسافروں کا تقریباً 75٪ ہے۔ [45]

لواس[ترمیم]

لواس کی ٹرام

لواس جمہوریہ آئرلینڈ کے دار الحکومت ڈبلن میں ٹرام/ہلکی ریل کا نظام ہے۔ اس کی دو دو اہم لائنیں ہیں: گرین لائن، جس نے 30 جون 2004ء کو کام شروع کیا اور ریڈ لائن جس کا افتتاح 26 ستمبر 2004ء کو ہوا۔ اس وقت سے دونوں لائنیں کی مختلف شاخوں میں توسیع اور تقسیم کی گئی ہے۔ اس نظام میں اب سڑسٹھ سٹیشن ہیں اور اس کی لمبائی 36.5 کلومیٹر (22.7 میل) ہے۔ [46][47] 2017ء میں اس پر 37.6 ملین مسافروں نے سفر کیا [48] جو 2016ء کے مقبلے میں 10 فیصد اضافہ تھا۔ [46][49]

ڈبلن مضافاتی ریل[ترمیم]

ڈبلن مضافاتی ریل ایک ریلوے نیٹ ورک ہے ڈبلن، جمہوریہ آئرلینڈ، زیادہ تر گریٹر ڈبلن علاقہ اور بیرونی قصبوں مثلاً ڈراہیڈا، ڈونڈوک اور کاؤنٹی لاوتھ کو خدمات فراہم کرتا ہے۔

بحری[ترمیم]

ڈبلن بندرگاہ[ترمیم]

ڈبلن بندرگاہ

ڈبلن بندرگاہ ڈبلن، جمہوریہ آئرلینڈ میں ایک بندرگاہ ہے۔ آئر لینڈ کی بندرگاہ نقل و حمل کا تقریباً دو تہائی حصہ اسی بندرگاہ ذریعہ ہوتا ہے۔ یہ جزیرہ آئرلینڈ کی مصروف ترین بندر گاہ ہے۔ ڈبلن کونولی ریلوے اسٹیشن بس کے ذریعے ڈبلن بندرگاہ سے منسلک ہے جہاں سے یہ آئرش فیریز سے مملکت متحدہ کے ہولی ہیڈ ریلوے اسٹیشن منسلک ہے، وہاں سے نارتھ ویلز کوسٹ لائن کے ذریعے چیسٹر ریلوے اسٹیشن اور ایوسٹن ریلوے اسٹیشن تک جاتا جا سکتا ہے۔ ڈبلن بندرگاہ فیری ٹرمینس بھی ہے۔ [50]

آئرش فیریز[ترمیم]

آئرش فیریز ایک سمندری نقل و حمل کمپنی ہے آئرلینڈ، برطانیہ اور براعظم یورپ کے درمیان مسافر اور مال بردار خدمات فراہم کرتی ہے۔ یہ آئرش کونٹینٹل گروپ کا حصہ ہے اور جس کی تجارت آئرش اسٹاک ایکسچینج اور لندن اسٹاک ایکسچینج پر ہوتی ہے۔

فضائی[ترمیم]

ڈبلن ہوائی اڈا[ترمیم]

ڈبلن ہوائی اڈا (آئی اے ٹی اے: DUB، آئی سی اے او: EIDW) جمہوریہ آئرلینڈ کا ایک بین الاقوامی ہوائی اڈا و ہوائی اڈا جو دار الحکومت ڈبلن کو فضائی خدمات فراہم کرتا ہے۔۔[51] ہوائی اڈا ڈبلن کے شمال میں 10 کلومیٹر (6.2 میل) کے فاصلے پر کولنس ٹاؤن، فینگال میں واقع ہے۔

ایر لنگس[ترمیم]

ایر لنگس آئرلینڈ کی ہوائی کمپنی ہے ۔[52] ایر لنگس کا مرکزی دفتر آئر لینڈ کے ہوائی اڈاے ڈبلن ہوائی اڈا پر واقع ہے۔

رایان ائیر[ترمیم]

رایان ائیر جمہوریہ آئرلینڈ کی ہوائی کمپنی ہے ۔[53] ریناائیر کا مرکزی دفتر آئر لینڈ کے ڈبلن ہوائی اڈا پر واقع ہے۔ [54]

اسٹوبارٹ ایئر[ترمیم]

اسٹوبارٹ ایئر جمہوریہ آئرلینڈ کی ایک علاقائی ایئرلائن ہے جو ایر آران کے نام کے تحت کاروبار کرتی ہے اور اس کا صدر دفتر ڈبلن میں واقع ہے۔ [55]

کیسمینٹ ایروڈروم[ترمیم]

کیسمینٹ ایروڈروم (آئی اے ٹی اے: N/A، آئی سی اے او: EIME) ڈبلن، جمہوریہ آئرلینڈ کے جنوب مغرب میں واقع ایک فوجی ہوائی اڈا ہے۔

سائکلنگ[ترمیم]

ڈبلن سٹی کونسل نے 1990ء کی دہائی میں پورے شہر میں سائیکل لینوں اور راستوں کے بنانے کا آغاز کیا اور 2012 تک شہر میں سائیکلوں کے مخصوص راستوں اور آف روڈ پٹریوں کی لمبائی 200 کلو میٹر (120 میل) تھی۔ [56] 2011ء میں شہر دنیا کے سائیکل دوستانہ شہروں کی فہرست میں نویں نمبر پر تھا، [57] تاہم 2015ء میں یہ کم ہو کر پندرہویں نمبر پر آ گیا۔ [58]

ڈبلن بائیکس[ترمیم]

ڈبلن بائیکس ایک عوامی کرائہ سائیکل سکیم ہے جو 2009ء سے ڈبلن شہر میں کام کر رہی ہے۔ آغاز میں اس سکیم کو 450 فرانسیسی [59] سائیکلوں اور 40 سٹیشنوں کے ساتھ شروع کیا گیا تھا۔ [60] 2011ء تک اس نے 550 سائیکلوں اور 44 اسٹیشنوں تک بڑھایا گیا، 2013ء اس کی مزید توسیع کی گئی اور اسے 950 سائیکلوں اور 58 کرایہ اسٹیشنوں تک بڑھا دیا گیا۔ [61]

اعلی تعلیم[ترمیم]

ڈبلن آئرلینڈ میں تعلیم کے بنیادی مراکز میں سے ایک ہے، جہاں تین جامعات موجود ہیں، ڈبلن انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اور دیگر اعلی تعلیمی ادارے بھی یہاں موجود ہیں۔ شہر مضافات میں 20 تیسری سطح کے تعلیمی ادارے موجود ہیں۔ ڈبلن 2012ء میں سائنس کا یورپی دار الحکومت تھا۔ [63][64]

یونیورسٹی آف ڈبلن سولہویں صدی میں قائم ہونے والی آئرلینڈ کی قدیم ترین یونیورسٹی ہے، یہ شہر کے مرکز میں واقع ہے۔ ٹرنیٹی کالج 1592ء میں ایلزبتھ اول کے شاہی حکم سے قائم کیا گیا۔ یہ شہر کے وسط میں کالج گرین میں واقع ہے، اس 15،000 طالب علم زیر تعلیم ہیں۔

نیشنل یونیورسٹی آف آئرلینڈ کا مرکزی کیمپس ڈبلن میں واقع ہے جو متعلقہ جزو جامعہ یونیورسٹی کالج ڈبلن کا مقام ہے جس میں 30،000 سے زیادہ طالب علم زیر تعلیم ہیں۔ 1854ء میں قائم ہونے والی یونیورسٹی اب آئرلینڈ کی سب سے بڑی یونیورسٹی ہے۔[65]

ڈبلن انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی 1887ء میں قائم ہونے والا [66] ڈبلن کا بنیادی اور آئرلینڈ کا سب سے بڑا تحقیق اور ٹیکنالوجی کی تعلیم کا ادارہ ہے جہاں 23،000 سے زیادہ طالب علم ہیں۔ ڈبلن انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی انجینئری، فن تعمیر، سائنس، صحت، صحافت، ڈیجیٹل میڈیا، مہمانیت اور کاروبار میں خصوصیت رکھتا ہے، اس کے علاوہ فن، ڈیزائن، موسیقی اور انسانیت کے پروگرام بھی پیش کرتا ہے۔ [67] گرینجگورمین میں ایک نئے کیمپس کا آغاز بھی کیا گیا ہے۔ [68]

ڈبلن سٹی یونیورسٹی جس کا سابقہ نام "نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ہائر ایجوکیشن" تھا کاروبار، انجینئری، سائنس، مواصلات، لسانیات اور بنیادی تعلیم میں کورس پیش کرتی ہے۔ اس میں تقریباً 16،000 طالب علم زیر تعلیم ہیں۔ [69]

رائل کالج آف سرجنز ان آئر لینڈ نیشنل یونیورسٹی آف آئرلینڈ کا منظور شدہ طبی کالج ہے جو شہر کے مرکز میں سینٹ اسٹیفن گرین میں واقع ہے۔ ڈبلن بزنس اسکول آئرلینڈ کا سب سے بڑی نجی تیسری سطح کا ادارہ ہے جس میں 9،000 سے زیادہ طالب علم ہیں۔ نیشنل کالج آف آرٹ اور ڈیزائن آرٹ، ڈیزائن اور میڈیا میں تربیتی اور تحقیقی خدمات پیش کرتا ہے۔ نیشنل کالج آف آئرلینڈ بھی ڈبلن میں واقع ہے۔ اکنامک اینڈ سوشل ریسرچ انسٹیٹیوٹ ایک سماجی سائنس تحقیقی ادارہ ہے۔

آئرش پبلک ایڈمنسٹریشن اور مینجمنٹ ٹریننگ سینٹر ڈبلن میں واقع ہے، پبلک ایڈمنسٹریشن انسٹی ٹیوٹ یونیورسٹی آف آئرلینڈ کے ذریعے ایک گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ ایوارڈز فراہم کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ کچھ چھوٹے خصوصی کالجز بھی ہیں جیسے گریفتھ کالج ڈبلن، گئیٹی اسکول آف ایکٹنگ اور نیو میڈیا ٹیکنالوجی کالج۔

شہر کی مضافاتی علاقوں جنوبی ڈبلن میں تآلا اور ڈون لاری–ریتھڈاون میں علاقائی کالج ہیں: انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، تآلا میں کل وقتی اور پارٹ ٹائم تکنیکی مضامین کی ایک وسیع رینج میں کورسز ہیں اور ڈون لاہوریئری انسٹی ٹیوٹ آرٹ، ڈیزائن اور ٹیکنالوجی فن، ڈیزائن، کاروبار، نفسیات اور میڈیا ٹیکنالوجی میں تربیتی اور تحقیقی تعلیم فراہم کرتا ہے۔ مغربی مضافاتی علاقے بلینچرڈس ٹاؤن میں واقع انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، بلانچرڈس ٹاؤن میں زبانوں اور تکنیکی مضامین کے ساتھ ساتھ بچوں کی دیکھ بھال اور کھیل مینجمنٹ کورسز پیش کیے جاتے ہیں۔

آبادیات[ترمیم]

اہم تارکین وطن گروہ، 2016ء[70]
قومیت آبادی
Flag of the United Kingdom.svg مملکت متحدہ 22,109
Flag of Poland.svg پولینڈ 10,106
Flag of Romania.svg رومانیہ 8,476
Flag of Brazil.svg برازیل 8,007
Flag of India.svg بھارت 4,459
Flag of Italy.svg اطالیہ 4,439
Flag of Spain.svg ہسپانیہ 4,032
Flag of the United States.svg ریاستہائے متحدہ 3,977
Flag of France.svg فرانس 3,624
Flag of the Philippines.svg فلپائن 3,527

ڈبلن شہر ڈبلن سٹی کونسل کے زیر انتظام ہے، لیکن اصطلاح "ڈبلن" میں ملحق مقامی اتھارٹی کے علاقے ڈون لاری–ریتھڈاون، فینگال اور جنوبی ڈبلن بھی شامل ہیں۔ یہ چاروں علاقے مل کر روایتی کاؤنٹی ڈبلن بناتے ہیں۔ کبھی کبھار یہ علاقہ ڈبلن علاقہ کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ 2016ء کی مردم شماری کے مطابق سٹی کونسل کے زیر انتظام علاقے کی آبادی 553،165 تھی، جبکہ شہری علاقے کی آبادی 1،173،179 تھی۔ کاؤنٹی ڈبلن کی آبادی 1،273،069 اور گریٹر ڈبلن علاقہ کی آبادی 1،904،806 نفوس پر مشتمل تھی۔ علاقے کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور مرکزی اعداد و شمار آفس کے تخمینے کے مطابق یہ 2020ء تک 2.1 ملین تک پہنچ جائے گی۔ [71]

1990ء کی دہائی کے آخر سے ڈبلن میں بڑے پیمانے پر نقل مکانی ہوئی ہے خاص طور پر یورپی یونین ممالک سے جن میں مملکت متحدہ، پولینڈ اور لتھووینیا سے فہرست ہیں۔ [72] یورپ کے باہر سے بھی نقل مکانی ہو رہی ہے جن میں برازیل، بھارت، فلپائن، چین اور نائجیریا قابل ذکر ہیں۔ ملک کے دوسرے حصوں کے مقابلے میں ڈبلن میں نقل مکانی کا ایک بڑا تناسب ہے۔ آئرلینڈ کی ایشیائی آبادی کا ساٹھ فیصد ڈبلن میں مقیم ہے۔ [73] 2006ء کے مطابق ڈبلین کی آبادی کا 15 فی صد غیر ممالک میں پیدا ہونے والے تھے۔ [74] عظیم کساد بازاری کے دوران بے روزگاری کی وجہ سے غیر ملکی نژاد تارکین کی تعداد میں کمی واقع ہوئی۔

دار الحکومت دیگر ممالک سے غیر کیتھولک تارکین وطن کو سب سے بڑے تناسب میں اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ آئر لینڈ میں سیکولولائزیشن اضافے کی وجہ سے ڈبلن میں باقاعدگی سے کیتھولک چرچ کی حاضری میں 1970ء کی دہائی کے مطابق 90 فیصد سے زائد تھی، جو 2011ء کے سروے کے مطابق کم ہو کر 14 فی صد ہو گئی ہے۔ [75]

2011ء کی مردم شماری کے مطابق ڈبلن کی 90٪ آبادی سفید فام تھی (بشمول 400،749 سفید آئیرش [78٪]، 57،748 دیگر سفید [11٪] اور 1،923 سفید آئرش مسافر)، 1٪ سیاہ فام اور 4٪ ایشیائی۔ ذہب کے لحاظ سے 75 فیصد کاتھولک، 10 فیصد دیگر مذاہب جبکہ 14 فیصد لا دین یا مذہب بیان نہیں کیا۔ [76]

ثقافت[ترمیم]

فنون[ترمیم]

تفریح[ترمیم]

خریداری[ترمیم]

میڈیا[ترمیم]

کھیل[ترمیم]

کروک پارک[ترمیم]

کروک پارک

کروک پارک جمہوریہ آئرلینڈ کا سب سے بڑا اسٹیڈیم ہے۔ یہ گیلک ایتھلیٹک ایسوسی ایشن کا صدر دفتر بھی ہے۔ اس میں 82,300 لوگوں کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔ یہ برشلونہ کے کیمپ نو اور لندن کے ویمبلی اسٹیڈیم کے بعد یورپ کا تیسرا بڑا اسٹیڈیم ہے۔ [77] 1972ء میں |محمد علی کا مقابلہ یہیں منعقد ہوا تھا۔ یہ ء2003 کے خصوصی اولمپکس کی افتتاحی اور اختتامی تقریبوں کا میزبان بھی تھا۔ اس میں کانفرنس اور ضیافت کی سہولیات بھی موجود ہیں۔ لینسڈاؤن روڈ کی تعمیر نو کے وقت کروک پارک آئرش رگبی یونین ٹیم اور آئرلینڈ قومی فٹ بال ٹیم کا میزبان بھی رہا۔ [78]

گیلک ایتھلیٹک ایسوسی ایشن[ترمیم]

گیلک ایتھلیٹک ایسوسی ایشن ایک آئرش بین الاقوامی شوقیہ کھیلوں اور ثقافتی تنظیم ہے، جس کی توجہ مقامی گیلک کھیلوں کے فروغ پر مرکوز ہے، [79] جس میں روایتی آئرش کھیل، کیموگی، کیلک فٹ بال، گیلک ہینڈ بال اور راؤنڈز وغیرہ شامل ہیں۔ تنظیم آئرش موسیقی اور رقص اور آئرش زبان کو بھی فروغ دیتی ہے۔

رگبی[ترمیم]

اویوا اسٹیڈیم

لینسڈاؤن روڈ اسٹیڈیم 1874ء میں تعمیر ہوا۔ لینسڈاؤن روڈ ڈبلن میں ایک اسٹیڈیم تھا جو آئرش رگبی فٹ بال یونین کی ملکیت تھا۔ یہ بنیادی طور پر رگبی یونین اور ایسوسی ایشن فٹ بال کے میچوں کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ 2007ء میں اسے منہدم کر کے نیا اویوا اسٹیڈیم تعمیر کیا گیا جس کا افتتاح 2010ء میں ہوا۔ [80] [81] اسٹیڈیم کا نام اس سے ملحقہ سڑک سے لیا گیا ہے۔

اویوا اسٹیڈیم "2011ء یو ای ایف اے یوروپا لیگ فائنل" کا میزبان تھا۔ [82] رگبی یونین کی ٹیم لینسٹر رگبی اپنے میچ اویوا اسٹیڈیم میں کھیلتی ہے۔ اس کے علاوہ دیگر کھیلوں کے مقابلے بھی یہاں منعقد ہوتے ہیں۔ [83]

فٹ بال[ترمیم]

کاؤنٹی ڈبلن آئرلینڈ کی لیگ کی چھ ٹیموں کا گھر ہے۔ تآلا اسٹیڈیم تآلا، جنوبی ڈبلن، جمہوریہ آئرلینڈ میں ایک ایسوسی ایشن فٹ بال اسٹیڈیم ہے جہاں فٹ بال کے زیادہ تر میچ منعقد ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ تولکا پارک اور کارلائل گراؤنڈز بھی فٹ بال کے میچوں کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

کرکٹ[ترمیم]

ڈبلن میں دو ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ کے میدان موجود ہیں ایک کلونٹارف کرکٹ کلب گراؤنڈ اور دوسرا میلاہائڈ کرکٹ کلب ہے۔ کلونٹارف کرکٹ کلب گراؤنڈ میں پہلا ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ میچ 21 مئی 1999ء کو منعقد ہوا جو کرکٹ عالمی کپ 1999ء کا حصہ تھا۔ یہ بنگلہ دیش قومی کرکٹ ٹیم اور ویسٹ انڈیز کرکٹ ٹیم کے مابین کھیلا گیا

کالج پارک ٹرنیٹی کالج، ڈبلن، جمہوریہ آئرلینڈ میں ایک کرکٹ کا میدان ہے۔ 2000ء میں یہاں آئرلینڈ خواتین کرکٹ ٹیم اور پاکستان خواتین کرکٹ ٹیم کے مابین ایک ٹیسٹ کرکٹ میچ کھیلا گیا۔ [84]

دیگر[ترمیم]

1980ء سے ڈبلن میراتھن میراتھن کا ایک سالانہ 26.2 میل (42.2 کلو میٹر) طویل مقابلہ ہے جو ڈبلن، جمہوریہ آئرلینڈ میں ہر سال اکتوبر کے آخری اتوار کو منعقد ہوتا ہے۔ 1983ء سے ڈبلن خواتین منی میراتھن بھی جون کے پہلے پیر کو منعقد ہوتی ہے۔ [85]

شیلبورن پارک ڈبلن کے مضافاتی علاقے رنگسینڈ میں ایک گرے ہاؤنڈ ڈور کا اسٹیڈیم ہے۔ لیپیرڈس ٹاؤن ریس کورس لیپیرڈس ٹاؤن، ڈون لاری–ریتھڈاون میں ڈبلن شہر سے 8 کلومیٹر جنوب میں واقع ایک آئرش گھڑ دوڑ کا مقام ہے۔

نیشنل اسٹیڈیم خاص طور پر باکسنگ کے لیے بنایا جانے والا قومی اسٹیڈیم ہے۔ باسکٹ بال کے لیے نیشنل باسکٹ بال ارینا تآلا، جنوبی ڈبلن میں موجود ہے۔ [86][87][88][89][90] نیشنل آکواٹک سینٹر بلینچرڈس ٹاؤن، ڈبلن، جمہوریہ آئرلینڈ میں ایک اندورن در آبی مرکز ہے۔

آئرش زبان[ترمیم]

آئرش میڈیم اسکول

جمہوریہ آئرلینڈ کی دفتری زبانیں آئرش اور انگریزی ہیں، جبکہ قومی زبان آئرش ہے۔ ڈبلن علاقے میں 34 آئرش زبان کے پرائمری اسکولوں اور 10 آئرش زبان کے ثانوی اسکولوں میں 12،950 طالب علم زیر تعلیم ہیں۔ [91] ڈبلن ئرش-میڈیم اسکولوں کی تعداد ملک میں سب سے زیادہ ہے۔

دو آئرش زبان کے ریڈیو اسٹیشنوں کے اسٹوڈیو شہر میں موجود ہیں۔ شہر میں بہت سے دیگر ریڈیو اسٹیشن فی ہفتہ ایک گھنٹہ آئرش زبان کے پروگرام نشر کرتے ہیں۔ دار الحکومت میں آئرش زبان کے اداروں کی ایک بڑی تعداد بھی موجود ہے۔

جڑواں شہر[ترمیم]

ڈبلین مندرجہ ذیل جڑواں شہر ہیں۔ [23][92]

شہر قوم تاریخ
سان ہوزے، کیلیفورنیا ریاستہائے متحدہ[93] 1986
لیورپول مملکت متحدہ[94] 1986
برشلونہ ہسپانیہ[95][96] 1998
بیجنگ چین[97][98] 2011
ایمیٹسبرگ، آئیووا ریاستہائے متحدہ 1961

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Dublin City Council, Dublin City Coat of Arms"۔ Dublincity.ie۔ اخذ کردہ بتاریخ 29 اگست 2015۔ 
  2. "Ireland: Cities & Legal Towns"۔ City Population۔ اخذ کردہ بتاریخ 7 اکتوبر 2016۔ 
  3. "Census of Population 2011"۔ Preliminary Results۔ Central Statistics Office۔ 30 جون 2011۔ صفحہ 21۔ اصل سے جمع شدہ 14 نومبر 2012 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ 25 مئی 2013۔ 
  4. "Census of Population 2011"۔ Population Density and Area Size by Towns by Size, Census Year and Statistic۔ Central Statistics Office۔ اپریل 2012۔ اخذ کردہ بتاریخ 30 مارچ 2014۔ 
  5. گریٹر ڈبلن علاقہ
  6. "Census of Population 2016"۔ Profile 1 - Geographical distribution۔ Central Statistics Office۔ 6 April 2017۔ صفحہ 15۔ اخذ کردہ بتاریخ 6 April 2017۔ 
  7. ^ 7.0 7.1 "Global city GDP 2014"۔ Brookings Institution۔ اخذ کردہ بتاریخ 18 نومبر 2014۔ 
  8. "Dublin - Placename database of Ireland"۔ اخذ کردہ بتاریخ 15 January 2018۔ 
  9. "The Growth and Development of Dublin" (PDF)۔ اصل سے جمع شدہ 30 March 2013 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ 30 December 2010۔ 
  10. "Primate City Definition and Examples"۔ اخذ کردہ بتاریخ 21 October 2009۔ 
  11. "Census of Population 2016"۔ Profile 1 - Geographical distribution۔ Central Statistics Office۔ 6 April 2017۔ صفحہ 15۔ اخذ کردہ بتاریخ 6 April 2017۔ 
  12. "Sapmap Area - NUTS III - Dublin Region"۔ Census 2016۔ Central Statistics Office۔ 2016۔ اخذ کردہ بتاریخ 16 January 2018۔ 
  13. "Population Distribution - CSO - Central Statistics Office" (en زبان میں)۔ اخذ کردہ بتاریخ 2018-02-04۔ 
  14. ^ 14.0 14.1 Dickson، David (2014)۔ Dublin The Making of a Capital City۔ Profile Books Ltd.۔ صفحات x۔ آئی ایس بی این 978-0-674-74444-8۔ 
  15. "Global Financial Centres Index 8" (PDF)۔ اخذ کردہ بتاریخ 30 December 2010۔ 
  16. "The World According to GaWC 2008"۔ Globalization and World Cities Research Network: Loughborough University۔ 3 June 2009۔ اخذ کردہ بتاریخ 6 November 2009۔ 
  17. "Placenames Database of Ireland: Duibhlinn/Devlin"۔ اخذ کردہ بتاریخ 13 September 2013۔ 
  18. "Placenames Database of Ireland: Béal Duibhlinne/Ballydivlin"۔ اخذ کردہ بتاریخ 13 September 2013۔ 
  19. "Placenames Database of Ireland: Duibhlinn/Difflin"۔ اخذ کردہ بتاریخ 13 September 2013۔ 
  20. Holder، Alfred (1896)۔ Alt-celtischer sprachschatz (German زبان میں)۔ Leipzig: B. G. Teubner۔ col.1393۔ اخذ کردہ بتاریخ 7 November 2014۔ 
  21. Clarke, Howard (1995). Medieval Dublin, the making of a metropolis. Irish Academic Press. p. 44. ISBN 978-0716524595
  22. "The TDs elected to the 32nd Dáil so far"۔ Newstalk۔ اخذ کردہ بتاریخ 12 May 2013۔ 
  23. ^ 23.0 23.1 "Dublin City Council: Facts about Dublin City"۔ Dublin City Council۔ اخذ کردہ بتاریخ 8 July 2014۔ 
  24. "Final Characterisation Report" (PDF)۔ Eastern River Basin District۔ Sec. 7: Characterisation of the Liffey Catchment Area۔ اخذ کردہ بتاریخ 10 November 2014۔ 
  25. "Northside vs Southside"۔ Wn.com۔ 25 February 2009۔ اخذ کردہ بتاریخ 13 September 2013۔ 
  26. "Dublin - A Vibrant City - Quarters"۔ VisitDublin.com۔ اخذ کردہ بتاریخ 22 February 2017۔ 
  27. "Dublin launches new 'Creative Quarter' for city centre"۔ TheJournal.ie۔ 11 March 2012۔ اخذ کردہ بتاریخ 22 February 2017۔ 
  28. "Welcome to medieval quarter"۔ Independent News & Media۔ 12 October 2006۔ اخذ کردہ بتاریخ 22 February 2017۔ 
  29. "Dublin Town - Creative Quarter - DublinTown - What's On, Shopping & Events in Dublin City - Dublin Town"۔ What's On, Shopping & Events in Dublin City - Dublin Town۔ اخذ کردہ بتاریخ 13 November 2016۔ 
  30. "Temperature – Climate – Met Éireann – The Irish Meteorological Service Online"۔ Met.ie۔ 2 January 1979۔ اخذ کردہ بتاریخ 20 August 2010۔ 
  31. "Climatology details for station DUBLIN (RINGSEND), IRELAND and index RR: Precipitation sum"۔ European Climate Assessment & Dataset۔ اخذ کردہ بتاریخ 21 December 2012۔ 
  32. "Smoky coal ban"۔ Department of Communications, Climate Action and Environment۔ اخذ کردہ بتاریخ 1 January 2018۔ 
  33. ^ 33.0 33.1 "How the coal ban dealt with Dublin's burning issue"۔ Irish Times۔ 26 September 2015۔ اخذ کردہ بتاریخ 22 February 2017۔ 
  34. Clancy، L.; Goodman، P.; Sinclair، H; Dockery، D. (2002). "Effect of air-pollution on death rates in Dublin Ireland: an intervention study.". The Lancet. doi:10.1016/S0140-6736(02)11281-5. http://www.thelancet.com/journals/lancet/article/PIIS0140-6736(02)11281-5/fulltext. 
  35. "Climatological Information for Merrion Square, Ireland"۔ European Climate Assessment & Dataset۔ 
  36. "Dublin Airport 1981–2010 averages"۔ Met Éireann۔ اخذ کردہ بتاریخ 13 October 2016۔ 
  37. ^ 37.0 37.1 37.2 "Absolute Maximum Air Temperatures for each Month at Selected Stations"۔ Met Éireann۔ اخذ کردہ بتاریخ 13 October 2016۔ 
  38. ^ 38.0 38.1 38.2 "Absolute Minimum Air Temperatures for each Month at Selected Stations"۔ Met Éireann۔ اخذ کردہ بتاریخ 13 October 2016۔ 
  39. "Casement Airport 1981–2010 averages"۔ Met Éireann۔ اخذ کردہ بتاریخ 13 October 2016۔ 
  40. Kelpie، Colm (23 March 2016)۔ "Revealed: Dublin ranked worse than London or Paris for road congestion"۔ The Irish Independent۔ اخذ کردہ بتاریخ 20 December 2016۔ 
  41. "TomTom Traffic Index"۔ TomTom۔ اخذ کردہ بتاریخ 20 December 2016۔ 
  42. "Dublin Bus customer numbers reach 10 year high of almost 140 million in 2017 – Dublin Bus"۔ www.dublinbus.ie (en زبان میں)۔ اخذ کردہ بتاریخ 11 جنوری 2018۔ 
  43. CIE annual report which names the station as "Heuston Station".
  44. انگریزی ویکیپیڈیا کے مشارکین۔ "Dublin Connolly railway station"۔ 
  45. "Passenger Journeys by Rail by Type of Journey and Year – StatBank – data and statistics"۔ اخذ کردہ بتاریخ 20 اپریل 2016۔ 
  46. ^ 46.0 46.1 "Frequently Asked Questions"۔ Luas۔ اصل سے جمع شدہ 2012-01-03 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ 1 July 2013۔ 
  47. "Over 32 million passenger trips made on Luas in 2014 » Inside Ireland"۔ insideireland.ie۔ 9 April 2015۔ اصل سے جمع شدہ 9 April 2015 کو۔ 
  48. "37.6 million passengers were carried in 2017"۔ اصل سے جمع شدہ 11 April 2017 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ 10 April 2017۔ 
  49. "Over 32 million passenger trips made on Luas in 2014 » Inside Ireland"۔ insideireland.ie۔ 9 April 2015۔ اصل سے جمع شدہ 9 April 2015 کو۔ 
  50. "53 - Dublin Bus"۔ dublinbus.ie۔ 
  51. انگریزی ویکیپیڈیا کے مشارکین۔ "Dublin Airport"۔ 
  52. ائیرپورٹس ڈیٹا بیس
  53. ائیرپورٹس ڈیٹا بیس
  54. O'Halloran، Barry (25 August 2016)۔ "Ryanair carries more international passengers than any other airline"۔ Irish Times۔ اخذ کردہ بتاریخ 2 April 2017۔ 
  55. "Aer Arann Contact Information وثق شدہ بتاریخ 2010-08-21 در وے بیک مشین۔" Aer Arann. Retrieved on 12 نومبر 2009.
  56. "Cycling Maps"۔ Dublincitycycling.ie۔ اخذ کردہ بتاریخ 13 September 2013۔ 
  57. "Copenhagenize Consulting – Copenhagenize Index of Bicycle-Friendly Cities 2011"۔ Copenhagenize.eu۔ اخذ کردہ بتاریخ 13 September 2013۔ 
  58. "Copenhagenize Consulting – Copenhagenize Index of Bicycle-Friendly Cities 2011"۔ Copenhagenize.eu۔ اخذ کردہ بتاریخ 3 July 2017۔ 
  59. Rosita Boland (13 June 2009)۔ "Dublin's long-awaited wheel deal on track for September roll-out"۔ The Irish Times۔ اخذ کردہ بتاریخ 10 March 2010۔ 
  60. "2,000 join Dublin bicycle scheme"۔ Raidió Teilifís Éireann۔ 13 September 2009۔ اخذ کردہ بتاریخ 10 March 2010۔ 
  61. Olivia Kelly (11 May 2013)۔ "Deal agreed to increase Dublin bicycles service"۔ The Irish Times۔ اخذ کردہ بتاریخ 11 May 2013۔ 
  62. Dublin delineated in twenty-six views, etc. Dublin: G. Tyrrell, 1937. p. 49.
  63. "ESOF Dublin"۔ EuroScience۔ 2012۔ اصل سے جمع شدہ 8 September 2015 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ 29 August 2015۔ 
  64. Walshe، John؛ Reigel, Ralph (25 November 2008)۔ "Celebrations and hard work begin after capital lands science 'Olympics' for 2012"۔ Irish Independent۔ اخذ کردہ بتاریخ 17 June 2010۔ 
  65. "History of the NUI"۔ اخذ کردہ بتاریخ 3 July 2015۔ 
  66. "DIT makes 'top100' for up-and-coming third-level institution"۔ Irish Times۔ 30 April 2014۔ 
  67. Robinson، Jimmie (2007)۔ From Certificates to Doctorates,by Degrees; Dublin Institute of Technology - a Photographic Memoir.۔ آئی ایس بی این 978-1-84218-143-0۔ 
  68. "DIT opens new campus in Grangegorman to first students"۔ Irish Independent۔ 10 September 2014۔ 
  69. "DCU incorporation of CICE, St Pats and Mater Dei"۔ DCU۔ 2014۔ اخذ کردہ بتاریخ 5 May 2016۔ 
  70. http://www.cso.ie/px/pxeirestat/Statire/SelectVarVal/define.asp?MainTable=E7050&ProductID=DB_E7&PLanguage=0&Tabstrip=&PXSId=0&SessID=7827795&FF=1&tfrequency=1
  71. Call for improved infrastructure for Dublin 2 April 2007
  72. "Dublin heralds a new era in publishing for immigrants". The Guardian 12 March 2006.
  73. Foreign nationals now 10% of Irish population 26 July 2007
  74. "Dublin". OPENCities, a British Council project. "Archived copy"۔ اصل سے جمع شدہ 30 March 2013 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ 2016-02-05۔ 
  75. Catholic Church's Hold on Schools at Issue in Changing Ireland The New York Times, 21 January 2016
  76. http://airo.maynoothuniversity.ie/external-content/dublin-city
  77. "Croke Park Stadium"۔ Crokepark.ie۔ اخذ کردہ بتاریخ 13 October 2016۔ 
  78. "World record crowd watches Harlequins sink Saracens"۔ The Sydney Morning Herald۔ 1 April 2012۔ اخذ کردہ بتاریخ 27 April 2012۔ 
  79. http://www.gaa.ie/the-gaa/about-the-gaa/
  80. "Taoiseach Officially Opens Aviva Stadium"۔ IrishRugby.ie۔ 14 May 2010۔ اخذ کردہ بتاریخ 29 August 2015۔ 
  81. "Homepage of Lansdowne Road Development Company (IRFU and FAI JV)"۔ Lrsdc.Ie۔ اصل سے جمع شدہ 18 May 2016 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ 17 June 2010۔ 
  82. "Homepage of Lansdowne Road Development Company (IRFU and FAI JV)"۔ Lrsdc.Ie۔ اصل سے جمع شدہ 18 May 2016 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ 17 June 2010۔ 
  83. Irish Rugby : Club & Community : Ulster Bank League : Ulster Bank League Tables وثق شدہ بتاریخ 4 August 2013 در وے بیک مشین
  84. "Women's Test Matches played on College Park, Dublin"۔ CricketArchive۔ اخذ کردہ بتاریخ 29 August 2011۔ 
  85. "History"۔ VHI Women's Mini Marathon۔ 2015۔ اخذ کردہ بتاریخ 29 August 2015۔ 
  86. "National Basketball Arena"۔ bamireland.ie۔ اخذ کردہ بتاریخ 22 January 2017۔ 
  87. "Federation Focus: Ireland"۔ fibaeurope.com۔ 4 June 2012۔ اخذ کردہ بتاریخ 22 January 2017۔ 
  88. "Irish Basketball – A Brief History"۔ basketballireland.ie۔ اخذ کردہ بتاریخ 22 January 2017۔ 
  89. "National Basketball Arena"۔ iftn.ie۔ اخذ کردہ بتاریخ 22 January 2017۔ 
  90. "National Basketball Arena"۔ discoverireland.ie۔ اخذ کردہ بتاریخ 22 January 2017۔ 
  91. "Education through the Medium of Irish 2015/2016"۔ gaelscoileanna.ie۔ 2016۔ اخذ کردہ بتاریخ 1 January 2018۔ 
  92. "Dublin City Council: International Relations Unit"۔ Dublin City Council۔ اخذ کردہ بتاریخ 8 July 2014۔ 
  93. "Sister City Program"۔ City of San José۔ 19 June 2013۔ اخذ کردہ بتاریخ 8 July 2014۔ 
  94. "Liverpool City Council twinning"۔ Liverpool.gov.uk۔ 17 November 2008۔ اصل سے جمع شدہ 6 July 2010 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ 23 June 2009۔ 
  95. "Ciutats agermanades, Relacions bilaterals, L'acció exterior"۔ CIty of Barcelona۔ 18 June 2009۔ اصل سے جمع شدہ 29 April 2010 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ 23 June 2009۔ 
  96. "Barcelona City Council signs cooperation agreements with Dublin, Seoul, Buenos Aires and Hong Kong"۔ Ajuntament de Barcelona۔ 26 November 2012۔ اخذ کردہ بتاریخ 29 August 2015۔ 
  97. "Dublin signs twinning agreement with Beijing"۔ Dublin City Council۔ 2 June 2011۔ اخذ کردہ بتاریخ 11 February 2012۔ 
  98. Coonan، Clifford (3 June 2011)۔ "Dublin officially twinned with Beijing"۔ Irish Times۔ اخذ کردہ بتاریخ 8 July 2014۔ (رکنیت درکار)

بیرونی روابط[ترمیم]

دستاویزی فلمیں[ترمیم]