ڈبلن

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ضد ابہام صفحات کے لیے معاونت زیر نظر مضمون آئرلینڈ کے دارالحکومت کے بارے میں ہے۔ دیگر استعمالات کے لیے ڈبلن (ضد ابہام) دیکھیے۔
ڈبلن
Dublin

Baile Átha Cliath
شہر
سیموئیل بیکٹ پل، کنونشن سینٹر، ٹرنیٹی کالج، او کونل پل، کسٹم ہاؤس، قلعہ ڈبلن
ڈبلنDublin کا پرچم
پرچم
ڈبلنDublin کا قومی نشان
قومی نشان
عرفیت: میلہ شہر
نعرہ: Obedientia Civium Urbis Felicitas
"شہریوں کی فرمانبرداری سے ایک خوشحال شہر بنتا ہے"[1]
ڈبلن is located in آئر لینڈ
ڈبلن
ڈبلن
ڈبلن is located in یورپ
ڈبلن
ڈبلن
آئرلینڈ میں ڈبلن کا مقام
متناسقات: 53°20′59″N 6°15′37″W / 53.34972°N 6.26028°W / 53.34972; -6.26028متناسقات: 53°20′59″N 6°15′37″W / 53.34972°N 6.26028°W / 53.34972; -6.26028
ملک جمہوریہ آئرلینڈ
صوبہ لینسٹر
حکومت
 • قسم سٹی کونسل
 • ہیڈکوارٹر ڈبلن سٹی ہال
 • لارڈ میئر نائل رنگ، (آزاد)
 • ایوان زیریں آئرلینڈ ڈبلن وسطی
خلیج ڈبلن شمالی
ڈبلن شمالی-مغربی
ڈبلن جنوبی-وسطی
خلیج ڈبلن جنوبی
 • یورپی پارلیمنٹ ڈبلن انتخابی حلقہ
رقبہ[3][4]
 • شہر 114.99 کلو میٹر2 (44.40 مربع میل)
 • شہری 318 کلو میٹر2 (123 مربع میل)
آبادی
 • شہر 553,165[2]
 • کثافت 4,811/کلو میٹر2 (12,460/مربع میل)
 • شہری 1,173,179[6]
 • میٹرو 1,904,806[5]
 • نام آبادی ڈبلینر، ڈب
 • نسلیت
(2011 مردم شماری)
منطقۂ وقت مغربی یورپی وقت (UTC0)
 • گرما (گرمائی وقت) آئرلینڈ معیاری وقت (UTC+1)
ڈاک رمز ڈی01 تا ڈی18، ڈی20، ڈی22، ڈی24 اور ڈی6ڈبلیو
ٹیلی فون کوڈ 01 (+3531)
خام ملکی پیداوار امریکی ڈالر 90.1 بلین[7]
فی کس خام ملکی پیداوار امریکی ڈالر 51,319[7]
ویب سائٹ www.dublincity.ie

ڈبلن (انگریزی: Dublin تلفظ: /ˈdʌblin/، آئرش: Baile Átha Cliath[8] آئرش تلفظ: [ˌbʲlʲɑː ˈclʲiə]) جمہوریہ آئرلینڈ کا دار الحکومت اور سب سے بڑا شہر ہے۔ [9][10] ڈبلن آئرلینڈ کے مشرقی ساحل پر صوبہ لینسٹر میں دریائے لفی کے دہانے پر واقع ہے۔ اس کے جنوب میں سلسلہ کوہ ویکلو واقع ہے۔ شہر کے شہری علاقے کی آبادی 1،173،179 ہے۔ [11] کاؤنٹی ڈبلن کی آبادی بمطابق 2016ء 1،347،359 ہے، [12] جبکہ گریٹر ڈبلن علاقہ کی آبادی 1،904،806 نفوس پر مشتمل ہے۔ [13]

آثار قدیمہ کے ماہرین میں یہ بات اب بھی زیر بحث ہے کہ ساتویں صدی میں کیلٹک زبان بولنے والوں نے ٹھیک کس مقام پر ڈبلن کو آباد کیا تھا۔ [14] بعد میں اس کی توسیع بطور وائی کنگ آبادی ہوئی، نارمن حملے کے بعد مملکت ڈبلن جزیرہ آئرلینڈ کا مرکزی شہر بنا۔ [14] شہر نے سترہویں صدی کے بعد بہت تیزی سے ترقی کی 1800ء میں یونین ایکٹ 100 سے قبل یہ کچھ عرصہ کے لیے سلطنت برطانیہ کا دوسرا سب سے بڑا شہر تھا۔ 1922ء میں آئرلینڈ کے تقسیم کے بعد ڈبلن آئرش آزاد ریاست (بعد میں نام تبدیل کر کے جمہوریہ آئرلینڈ رکھا گیا) کا دار الحکومت بنا۔

2010ء میں گلوبلائزیشن اینڈ ورلڈ سٹیز ریسرچ نیٹ ورک نے اسے عالمی شہر کا درجہ "الفا" عطا کیا جس سے یہ دنیا کے تیس بہترین شہروں میں شمار ہوتا ہے۔ [15][16] یہ تعلیم، فنون، انتظامیہ، معیشت اور صنعت کا ایک تاریخی اور معاصر مرکز ہے۔

فہرست

اشتقاقیات[ترمیم]

قلعہ ڈبلن کے سامنے سیاہ تالاب کا مقام

ڈبلن (Dublin) کا نام آئرش لفظ "Dubhlinn" سے ہے جو خود ابتدائی کلاسیکی آئیرش "Dubhlind/Duibhlind" سے ماخوذ ہے۔ یہ دو الفاظ کا مرکب ہے، پہلا لفظ "dubh" جس کے معنی سیاہ یا تاریک کے ہیں اور دوسرا "lind" جس کے معنی تالاب ہیں۔ قلعہ ڈبلن کے عقب میں واقع باغات کے قریب پوڈل ندی کے دریائے لفی میں ملنے کے مقام پر ایک مدوجزری تالاب تھا۔ شہر کے ناموں کا اصل تلفظ دوسری زبانوں میں محفوظ ہے جیسے قدیم انگریزی میں ڈیفلن (Difelin)، قدیم نورس میں (Dyflin)، جدید آئس لینڈی میں (Dyflinn)، جدید مینکس میں (Divlyn) اور ویلش میں (Dulyn)۔ آئر لینڈ کی دیگر مقامی آبادیوں میں اسے (Duibhlinn) اور دیگر انگریزیانا نام "Devlin" [17] "Divlin" [18] اور "Difflin" [19] ہیں۔

تاریخ[ترمیم]

وائی کنگ دور کا ایک جنگی بحری جہاز

خلیج ڈبلن کا علاقہ قبل از تاریخ دور سے آباد رہا ہے۔ بطلیموس کے تحریروں سے 140ء میں ممکنہ طور پر قدیم ترین تحریری حوالہ ملتا ہے۔ اس نے اس آبادی کا نام ایبلانا پولس (یونانی: Ἔβλανα πόλις[20] لکھا ہے۔

ڈبلن نے 1988ء میں اپنا 'رسمی' ہزار سالہ جشن منایا، جس کا مطلب ہے کہ آئرش حکومت 988ء کو شہر آباد ہونے کی تاریخ تسلیم کرتی ہے جو بعد میں ڈبلن شہر بنا۔

اب خیال کیا جاتا ہے کہ [21] وائی کنگ آباد مقام کے بعد یہاں ایک مسیحی کلیسیائی آبادی قائم ہوئی جس کا نام ڈوبھلن (Duibhlinn) تھا جس سے نام ڈیفلن (Dyflin) نکلا۔ نویں اور دسویں صدی کے آغاز میں یہاں دو آبادیاں تھیں جو جدید ڈبلن کا نقطہ آغاز ہے۔ مابعد اسکینڈینیویائی آبادکاری دریائے لفی کی معاون پوڈل ندی کے قریب مرکوز ہوئی اس علاقے کو ووڈ کی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ ڈوبلن ایک چھوٹی سی جھیل تھی جس میں بحری جہاز لنگر انداز کیے جاتے تھے۔ پوڈل ندی جھیل کو دریائے لفی سے ملاتی تھی۔ اٹھارویں صدی کے آغاز میں شہر کی ترقی کے ساتھ یہ جھیل ختم ہو گئی۔ ڈوبلن جھیل قلعہ ڈبلن کے باغ کے مقام پر واقع تھی موجودہ دور میں اس کے سامنے چیسٹر بیٹی لائبریری موجود ہے۔

قرون وسطی[ترمیم]

فادر میتھیو پل جسے ڈبلن پل بھی کہا جاتا ہے

ڈبلن کو دسویں صدی میں وائی کنگ نے آباد کیا۔ مقامی آئرش بغاوتوں کی ایک بڑی تعداد کے باوجود یہ وائی کنگ کے زیر تسلط ہی رہا۔ 1169ء میں ویلز سے ہونے والے نارمن حملے کے بعد یہ وائی کنگ سے آزاد ہو گیا۔ [22]

کچھ مؤرخین کے مطابق شہر کی ابتدائی اقتصادی ترقی میں غلاموں کی تجارت کا بڑا حصہ تھا۔ [23] آئرلینڈ اور ڈبلن میں غلاموں کی تجارت نویں اور دسویں صدی میں اپنے عروج پر پہنچی۔ [24] مردوں، عورتوں اور بچوں کو غلام بنانے کے لیے حملے کیلٹک آئرش سمندری حملہ آوروں اور وائی کنگ جنہوں نے اس کا آغاز کیا کافی آمدنی کا باعث ہوتے تھے۔ [25] اس کا شکار بننے والے ویلز، انگلستان، نارمنڈی اور ماورا علاقوں سے ہوتے تھے۔ [23]

قلعہ ڈبلن 1922ء تک آئر لینڈ پر برطانوی راج کی قلعہ بند نشست تھی

شاہ لینسٹر دیرمت مک مرخدا کے روری او کونخور کی جانب سے جلاوطنی کیے جانے کے بعد وہ پیمبروک کے ارل اسٹرانگ بؤ کے مدد سے ڈبلن فتح کرنے میں کامیاب ہوا۔ مک مرخدا کی وفات کے بعد اسٹرانگ بؤ نے ڈبلن شہر کا کنٹرول حاصل کرنے کے بعد اپنے آپ کو شاہ لینسٹر ہونے کا اعلان کر دیا۔ اسٹرانگ بؤ کے کامیاب حملے کے جواب میں ہنری دوم شاہ انگلستان نے 1171ء میں ایک بڑے حملے سے اپنی حاکمیت کی توثیق کی اور خود کو آئرلینڈ کے لارڈ ہونے کا اعلان کیا۔ [26] اسی دور میں ڈبلن شہر کی کاؤنٹی کا قیام عمل میں آیا اور شہر کے ارد گرد کے علاقے بھی شہر میں شامل ہو گئے۔ یہ سلسلہ 1840ء تک جاری رہا جب ڈبلن شہر کی بیرونی کو ڈبلن بیرونی سے الگ کیا گیا۔ 2001ء سے یہ دونوں مل کر ڈبلن شہر کی تشکیل کرتے ہیں۔

قلعہ ڈبلن جو آئرلینڈ میں نارمن طاقت کا مرکز بنا، 1204ء میں جان شاہ انگلستان کے حکم پر اہم دفاعی حصار کے طور پر تعمیر کیا گیا۔ [27] 1229ء میں پہلے لارڈ میئر ڈبلن کی تعیناتی کے بعد شہر کو وسعت ملی اور تیرہویں صدی کے آخر تک اس کی آبادی 8،000 ہو چکی تھی۔ 1317ء میں رابرٹ بروس شاہ اسکاٹ لینڈ کے شہر پر قبضہ کرنے کی کوشش کے باوجود ڈبلن ایک تجارتی مرکز کے طور پر ابھر کر آیا۔ [26] چودہویں صدی تک یہ ایک نسبتا چھوٹا دیوار بند قرون وسطی کا شہر رہا اور اسے آس پاس کی مقامی آبادیوں سے مسلسل خطرہ تھا۔ 1348ء میں سیاہ موت، ایک مہلک طاعون جس نے یورپ کو اپنے نرغے میں لے لیا تھا، ڈبلن میں اس نے کئی دہائوں تک ہزاروں افراد کو ہلاک کیا۔ [28][29]

ڈبلن تاج انکلستان میں بطور دی پیل شامل ہو گیا، جو مشرقی سمندری پٹی کے ساتھ ایک انگریز علاقہ تھا۔ سولہویں صدی میں آئرلینڈ کی ٹورور فتح نے ڈبلن کے لیے ایک نیا دور بنایا، جب یہ شہر کی آئرلینڈ کے انتظامی مرکز کے طور خصوصی اہمیت کا حامل بنا۔ ڈبلن کو ایک پروٹسٹنٹ شہر بنانے کا عزم سے ملکہ انگلستان ایلزبتھ اول نے 1592ء میں شہر میں ٹرنیٹی کالج قائم کیا جو ایک خالص پروٹسٹنٹ کالج تھا اور اس کے ساتھ ہی سینٹ پیٹرک کیتھیڈرل اور کرائسٹ چرچ کیتھیڈرل کو پروٹسٹنٹ گرجا گھروں میں تبدیل کرنے کا حکم دیا۔ [30]

1640ء میں اس شہر کی آبادی 21،000 تھی، 1649–51ء تک ایک بار پھر طاعون نے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور تقریباً شہر کی نصف آبادی اس سے متاثر ہوئی، تاہم انگلستان سے بونے والی تجارت کے نتیجے میں شہر نے تیزی سے ترقی کی اور 1700ء میں اس کی آبادی 50،000 تک پہنچ گئی۔ [31]

ابتدائی جدید[ترمیم]

ہینریاٹا اسٹریٹ، 1720ء کی دہائی میں بنی۔ یہ جارجیائی ڈبلن کی اولین سڑکوں میں سے ایک ہے

اٹھارویں صدی میں شہر کی ترقی کا سفر تیزی سے جاری رہا اور مختصر مدت کے لیے جارجیائی ڈبلن 130،000 سے زائد آبادی کے ساتھ سلطنت برطانیہ کا دوسرا سب سے بڑا شہر اور یورپ کا پانچواں سب سے بڑا بھی رہا۔ ڈبلن کی زیادہ تر قابل ذکر فن تعمیر اسی دور سے تعلق رکھتی ہے جیسے فور کورٹس اور کسٹم ہاؤس۔ ٹیمپل بار اور گرافٹن اسٹریٹ قرون وسطی کے ایسے علاقے ہیں جن پر جارجیائی دور کا اثر نہیں ہوا اور وہ اپنی اصلی حالت میں قائم ہیں۔ [30]

اٹھارویں صدی کے دوران میں ڈبلن نے ڈرامائی طور پر ترقی کی، بہت سے نئے محلوں اور عمارتوں کی تعمیر ہوئی جیسے میرین اسکوائر، پارلیمنٹ ہاؤس اور رائل ایکسچینج وغیرہ۔ [30] وائڈ اسٹریٹ کمیشن 1757ء میں ڈبلن کارپوریشن کی درخواست پر قائم کیا گیا جس کا مقصد سڑکوں، پلوں اور عمارتوں کی ترتیب پر آرکیٹیکچرل معیاروں کو کنٹرول کرنا تھا۔ وائڈ سٹریٹ کمیشن کو 1757 میں ڈبلن کارپوریشن کی درخواستوں پر قائم کیا گیا تھا جس میں سڑکوں، پلوں، عمارتوں کی ترتیب پر معماری کے معیاروں کو کنٹرول کرنا تھا۔ 1759ء میں گینیس بریوری کا قیام عمل میں آیا جو آخر کار کی سب سے بڑی بریوری اور ڈبلن میں سب سے بڑی آجر بن گئی۔ [32][33]

اواخر جدید اور معاصر[ترمیم]

ڈبلن کو انیسویں صدی میں "ایکٹس آف یونین 1800ء" کے بعد سیاسی اور اقتصادی تنزلی کے دور کا سامنا کرنا پڑا، جس کے تحت حکومتی نشست لندن میں ویسٹ مینسٹر پارلیمنٹ میں منتقل کر دی گئی تھی۔ شہر نے صنعتی انقلاب میں کوئی اہم کردار ادا نہیں کیا، تاہم یہ جزیرے کی انتظامیہ اور نقل و حمل کا مرکز رہا۔ آئرلینڈ میں کوئلے کے کوئی اہم ذخائر نہیں تھے جو اس وقت کا ایندھن تھا اور ڈبلن بحری جہازوں کی صنعت کا مرکز بھی نہیں تھا اور نہ ہی برطانیہ اور آئرلینڈ میں صنعتی ترقی کے دیگر اہم کرداروں میں سے تھا۔ [22] اس دور میں بیلفاسٹ نے بین الاقوامی تجارت کے مرکب سے تیزی سے ترقی کی جس میں لتن کے کپڑے کی پیداواری فیکٹریاں اور جہاز سازی شامل تھیں۔ [34]

1916ء میں ایسٹر بغاوت کے دوران میں شہر کو نقصان

1916ء میں ایسٹر بغاوت، آئرش جنگ آزادی اور اس کے نتیجے آئرش خانہ جنگی مرکزی ڈبلن میں شہر کو بہت نقصان پہنچایا۔ آئرش آزاد ریاست کی حکومت نے شہر کے مرکز کو دوبارہ تعمیر کیا اور نئی پارلیمان اراکتس، لینسٹر ہاؤس میں قائم کی۔ بارہویں صدی میں نورمین حکمرانی کے آغاز سے ہی شہر مختلف جغرافیائی و سیاسی اداروں کے دارالحکومت کے طور پر کام کرتا ہے: آئرلینڈ کی لارڈشپ (1171ء–1541ء)، مملکت آئرلینڈ (1541ء–1800ء)، بطور حصہ متحدہ مملکت برطانیہ عظمی و آئر لینڈ (1801ء–1922ء) اور آئرش جمہوریہ (1919ء–1922ء)۔

1922ء میں تقسیم آئرلینڈ کے بعد یہ آئرش آزاد ریاست (1922ء–1937ء) کا دار الحکومت بنا اور اب یہ جمہوریہ آئرلینڈ کا دار الحکومت ہے۔ اس وقت کی یادگاروں میں سے ایک باغ یادگار ہے۔ ڈبلن شمالی آئرش مشکلات کا شکار بھی بنا۔ اس 30 سالہ کے تنازعے کے دوران میں تشدد کے بنیادی واقعات شمالی آئرلینڈ میں ہوئے۔ تاہم عبوری آئرش ریپبلکن آرمی کو جمہوریہ آئرلینڈ بشمول ڈبلن سے کچھ پشت پناہی حاصل تھی۔ ایک وفادار پارلیمانی گروپ، "السٹر رضاکار فورس" نے بھی اس دور میں ڈبلن میں دھماکے کیے جس میں سب سے مہلک ڈبلن اور مونیہین بم دھماکے تھے جس کے نتیجے میں بنیادی طور پر خود ہی ڈبلن میں 34 افراد ہلاک ہوئے۔

1997ء سے ڈبلن مِن خاطر خواہ تبدیلی آئی ہے۔ شہر کیٹک ٹائیگر کی مدت کے دوران میں آئرلینڈ کی اقتصادی ترقی میں سب سے اوپر تھا جس میں نجی شعبے اور ہاؤسنگ، ٹرانسپورٹ اور کاروبار نمایاں ہیں۔ عظیم کساد بازاری کے دوران میں اقتصادی گراوٹ کے بعد ڈبلن دوبارہ ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور 2017ء تک یہاں پر بے روزگاری تقریباً ختم ہو چکی ہے۔ [35]

حکومت[ترمیم]

مقامی[ترمیم]

1842ء سے شہر کی سرحدوں کو ڈبلن شہر کی بیرونی اور ڈبلن بیرونی کو سمجھا جاتا تھا۔ 1930ء میں مقامی حکومت (ڈبلن) ایکٹ کے تحت حدوں کو بڑھایا گیا۔ [36] بعد میں 1953ء میں مقامی حکومتی عارضی انتظامیہ حکم سے سرحدوں کو ایک بار پھر بڑھا دیا گیا۔ [37]

ڈبلن سٹی کونسل 63 اراکین پر مشتمل ایک یک ایوانی اسمبلی ہے جسے مقامی انتخابی علاقوں سے ہر پانچ سال کے لیے منتخب کیا جاتا ہے۔ [38] اس کی صدارت لارڈ میئر کرتا ہے جو ایک سالہ مدت کے لیے منتخب کیا جاتا ہے اور وہ مینشن ہاؤس، ڈبلن قیام پزیر ہوتا ہے۔ کونسل کے اجلاس ڈبلن سٹی ہال میں ہوتے ہیں، جبکہ اس کی اکثریتی انتظامی سرگرمیاں ووڈ کی شہری آفس میں انجام پاتی ہے۔ سیاسی جماعت یا جماعتوں کا اتحاد، نشستوں کی اکثریت سے پالیسیوں کو متعارف کراتا ہے اور لارڈ میئر مقرر کرتا ہے۔ کونسل رہائش، ٹریفک انتظامیہ، کچرے، نکاسی اور منصوبہ بندی پر خرچ کرنے کے لیے ایک سالانہ بجٹ منظور کرتی ہے۔ ڈبلن سٹی مینیجر شہری کونسل کے فیصلوں کو لاگو کرنے کا ذمہ دار ہے۔

قومی[ترمیم]

دار الحکومت شہر ہونے کی وجہ سے ڈبلن آئرش قومی پارلیمان اراکتس کی نشست ہے۔ یہ صدر آئرلینڈ، ایوان بالا آئرلینڈ اور ایوان زیریں آئرلینڈ پر مشتمل ہے۔ صدر فینکس پارک میں آراس ان اوختارین میں مقیم ہوتا ہے، جبکہ اراکتس کے دونوں ایوان کلڈیئر اسٹریٹ پر واقع ایک سابقہ ڈیوک محل لینسٹر ہاؤس میں اجلاس منعقد کرتے ہیں۔ یہ 1922ء میں آئرش آزاد ریاست کے بعد آئرش پارلیمان کا گھر رہا ہے۔ مملکت آئرلینڈ کا قدیم آئرش پارلیمنٹ ہاؤس کالج گرین میں واقع ہے۔

حکومتی عمارات میں محکمہ تیشخ، کونسل چیمبر، محکمہ مالیات اور اٹارنی جنرل کا دفتر واقع ہے۔ یہ ایک مرکزی عمارت (1911ء میں مکمل) اور دو بغلی عمارتوں (1921ء میں مکمل) پر مشتمل ہے۔ اسے رائل کالج آف سائنس برائے آئرلینڈ کے ڈین تھامس مینلی ڈین اور سر آسٹن ویب نے ڈیزائن کیا تھا۔ پہلے ایوان زیریں کا اجلاس 1919ء میں مینشن ہاؤس میں ہوا تھا۔ آئرش آزاد ریاست کی حکومت نے عمارت کی دو بغلی عمارتوں کو کچھ وزارتوں کے لیے عارضی طور پر تفویض کیا جبکہ مرکزی عمارت 1989ء تک کالج آف ٹیکنالوجی تھا۔ [39] اگرچہ یہ اور لینسٹر ہاؤس عارضی طور پر اس کے لیے استعمال ہونے تھے تاہم یہ بعد میں پارلیمان کا مستقل گھر بن گئے۔

ایوان زیریں آئرلینڈ کے انتخابات کے لیے شہر کو پانچ حلقوں میں تقسیم کیا گیا ہے: [40]

  1. ڈبلن وسطی (3 نشستیں)
  2. خلیج ڈبلن شمالی (5 نشستیں)
  3. ڈبلن شمالی-مغربی (3 نشستیں)
  4. ڈبلن جنوبی-وسطی (4 نشستیں)
  5. خلیج ڈبلن جنوبی (4 نشستیں)

سیاست[ترمیم]

2016ء کے عام انتخابات میں ڈبلن علاقہ سے منتخب شدہ نمائندوں کی تعداد بلحاظ سیاسی جماعت مندرجہ ذیل ہے۔ [41]

رنگ سیاسی جماعت تعداد
فینے گئیل 14
شن فین 7
فیئینا فائل 6
پیپل بیفور پرافٹ 3
سوشلسٹ پارٹی 2
لیبر پارٹی 2
گرین پارٹی 2
سوشل ڈیموکریٹس 1
آزاد 7

جغرافیہ[ترمیم]

Panorama of Dublin City

ہیئت ارضی[ترمیم]

سیٹلائٹ تصویر: دریائے لفی بحیرہ آئرش میں داخل ہوتے ہوئے ڈبلن کو دو حصون میں تقسیم کرتا ہے نارتھ سائیڈ اور ساوتھ سائیڈ

ڈبلن مشرقی وسط آئرلینڈ میں دریائے لفی کے دھانے پر واقع ہے اور اس کا رقبہ تقریباً 115 مربع کلومیٹر (44 مربع میل) ہے۔ اس کے جنوبی سمت میں کم اونچا سلسلہ کوہ ہے اور شمال اور مغرب میں مسطح مزروعہ زمین ہے۔ [42] دریائے لفی شہر کو دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے جو نارتھ سائیڈ اور ساوتھ سائیڈ ہیں۔ یہ دونوں حصے دو ندیوں سے مزید تقسیم ہوتے ہیں۔ تولکا ندی جنوب مشرق میں بہتے ہوئے خلیج ڈبلن میں گرتی ہے اور ڈوڈر ندی شمال مشرق میں بہتے ہوئے دریائے لفی کے دہانے میں گرتی ہے۔

دو مزید اجسام آب گرینڈ کینال ساوتھ سائیڈ میں اور رائل کینال نارتھ سائیڈ میں دریائے شینن میں ملنے سے قبل اندورن شہر کے گرد ایک دائرہ بناتے ہیں۔ دریائے لفی لیکسلیپ کے مقام پر شمال مشرقی راستے سے اپنا رخ بنیادی طور پر مشرقی کی سمت تبدیل کرتا ہے اور یہی نقطہ شہری ترقی کو زیادہ زرعی زمین کے استعمال سے فروغ دیتا ہے۔ [43]

ثقافتی تقسیم[ترمیم]

ایک وقت میں شمال-جنوب تقسیم روایتی طور پر موجود تھی اور دریائے لفی یہ تقسیم بناتا تھا۔ شمالی سمت کے لوگ عام طور پر کام کرنے والا طبقہ اور درمیانی طبقے کے لوگوں پر مشتمل تھا جبکہ جنوبی سمت کے لوگوں کو درمیانی طبقہ اور بالائی متوسظ طبقہ شمار کیا جاتا تھا۔ تاہم حالیہ دہائیوں میں شمال اور جنوب دونوں سمتوں میں تبدیلی آئی ہے خاص طور پر شمال میں زیادہ اقتصادی ترقی ہوئی ہے۔ ڈبلن کی اقتصادی تقسیم پہلے مشرق مغرب کے ساتھ ساتھ شمال جنوب میں بھی تھی۔ اس کے علاوہ شہر کے مشرق میں ساحل کے مضافات اور اور مغرب کو مزید جدید تر پیشرفتوں کے درمیان میں بھی سماجی تفریق موجود تھی۔ [44]

سیاحت اور غیر منقولہ املاک کے تجارت کے سیاق و سباق میں، ڈبلن کو کبھی کبھار محلوں تقسیم کیا جاتا ہے۔ [45][46] ان میں "قرون وسطی کا محلہ" جس میں قلعہ ڈبلن، کرائسٹ چرچ، سینٹ پیٹرک کیتھیڈرل اور قدیم شہر کی دیواریں شامل ہیں،[47] "جارجیائی محلہ" جس میں سینٹ اسٹیون گرین، ٹرنیٹی کالج اور میرون اسکوائر شامل ہیں، "ڈاک لینڈز محلہ" میں ڈبلن ڈاک لینڈز اور سیلیکون ڈاکس، "ثقافتی محلہ" میں ٹیمپل بار اور "تخلیقی محلہ" میں جنوبی ولیم اسٹریٹ اور جارج اسٹریٹ شامل ہیں۔ [48]

آب و ہوا[ترمیم]

ڈبلن
آب و ہوا چارٹ (وضاحت)
جفمامججاساند
 
 
63
 
9
4
 
 
46
 
9
4
 
 
52
 
11
5
 
 
50
 
12
6
 
 
58
 
15
9
 
 
59
 
18
12
 
 
51
 
20
14
 
 
65
 
20
13
 
 
57
 
17
11
 
 
76
 
14
9
 
 
69
 
11
6
 
 
69
 
9
5
اوسط زیادہ سے زیادہ. اور کم سے کم درجہ حرارت °C
ترسیب کل، ملی میٹر میں
ماخذ: Met Éireann[49]

شمال مغربی یورپ کے باقی علاقوں کی طرح، ڈبلن کی آب و ہوا سمندری (کوپن موسمی زمرہ بندی) ہے، جس میں ٹھنڈے موسم گرما، معتدل موسم سرما اور انتہائی درجہ حرارت کا فقدان ہے۔ جنوری میں اوسط زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 8.8 °س (48 °ف)، جبکہ جولائی میں اوسط زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 20.2 °س (68 °ف) رہتا ہے۔ سورج سب سے زیادہ مئی اور جون کے مہینوں میں چمکتا ہے، جبکہ اکتوبر کے مہینے میں سب سے زیادہ بارش ہوتی ہے جو 76 ملی میٹر (3 انچ) ہے اور خشک ترین مہینہ فروری ہے جس میں صرف 46 ملی میٹر (2 انچ) بارش ہوتی ہے۔ عمومی طور پر بارش سارا سال ہوتی ہے۔

مشرقی ساحل پر ہونے کی وجہ سے ڈبلن آئرلینڈ کا خشک ترین علاقہ ہے جہاں مغربی ساحل کے مقابلے میں تقریباً نصف بارش ہوتی ہے۔ شہر کے جنوب میں واقع رنگسینڈ 683 ملی میٹر (27 انچ) [50] کی اوسط سالانہ بارش کے ساتھ میں ملک میں سب سے کم بارش ریکارڈ ہوتی ہے جبکہ شہر کے مرکز میں 714 ملی میٹر (28 انچ) بارش ہوتی ہے۔ سردیوں میں عمل ترسیب عمومی طور پر بارش ہوتا ہے تاہم تاہم نومبر اور مارچ کے درمیان میں برف باری بھی ہوتی ہے۔ ژالہ باری برف باری سے زیادہ ہوتی ہے۔ شہر میں موسم گرما میں دن طویل راتیں مختصر ہوتی ہیں۔ موسم خزاں میں تیز اوقیانوس ہوائیں چلتی ہیں۔ یہ ہوایں ڈبلن پر اثر انداز ہو سکتی ہے لیکن اس کے مشرقی مقام کی وجہ سے ملک کے دیگر حصوں کے مقابلے میں اس پر ان کا بہت تم اثر ہوتا ہے۔ تاہم موسم سرما میں مشرقی ہواوں کے باعث شہر میں سردی اور برف باری ہوتی ہے۔

بیسویں صدی میں شہر کو اسموگ اور فضائی آلودگی کا سامنا رہا جس کی وجہ سے ڈبلن میں تار کول نما ایندھن پر پابندی عائید کر دی گئی ہے۔ [51][52] پابندی سیاہ دھوئیں کے ارتکاز سے نمٹنے کے لیے 1990ء میں لگائی گئی، جو رہائشیوں میں قلب و عروقی، تنفسی امراض کے باٰعث موت کا سبب بن رہی تھی۔ پابندی کے بعد سے تنفسی اور قلب و عروقی امراض سے اموات کی شرح میں کمی واقع ہوئی ہے جو اندازہً 350 اموات سالانہ ہے۔ [52][53]

سیاحتی مقامات[ترمیم]

امتیازی مقامات[ترمیم]

ڈبلن سینکڑوں سال قدیم کئی مقامات اور یادگاریں ہیں۔ ان میں سے ایک قدیم ترین قلعہ ڈبلن ہے جس کو پہلی بار 1169ء میں آئرلینڈ پر نارمن حملے کے بعد انگلستان کے شاہ جان کے حکم پر 1204ء میں تعمیر کیا گیا۔ اس حکم کے بعد قلعے اور شہر کی حفاظت کے لیے مضبوط دیواریں اور خندقیں بنائی گئی تا کہ انصاف کی انتظامیہ اور بادشاہ کے خزانے کی حفاظت ہو سکے۔ [59] 1230ء میں بڑی حد تک مکمل ہونے والا قلعہ نارمن صحن طرز کا تھا، مرکزی کھلا علاقہ بغیر مویشی احاطہ کے، تمام سمتوں میں اونچی مظبوظ دیواریں جس گول محافظ مینار تھے۔ نارمن ڈبلن کے جنوب مشرقی علاقے میں ہونے کی وجہ سے پوڈل ندی اسے قدرتی دفاع فراہم کرتی ہے۔

مولی مالون کا مجسمہ

ڈبلن شہر میں بے شمار یادگار اور فنی پارے نصب کیے گئے ہیں۔ ان میں حلزونہ ڈبلن جس کا رسمی نام "روشنی کی یادگار" ایک جدید ترین یادگار ہے۔ [60] یہ اسٹینلیس اسٹیل سے بنا ہے اور اس کی اونچائی 121.2 میٹر (398 فٹ) مخروط طرز پر بنا ہے۔ یہ ڈبلن کی مشہور او کونل اسٹریٹ پر واقع ہے۔ اس نے نیلسن ستون کا متبادل کہا جاتا ہے جو اب تباہ ہو چکا ہے۔ یادگار کی بنیاد روشن ہے جس سے اس کے اوپر کا حصہ بھی روشن ہوتا ہے۔ یہ شہر کے لیے ایک روشنی کے مینار کا کام دیتا ہے۔ [61]

ٹرنیٹی کالج، ڈبلن کی لائبریری میں واقع "کتاب کیلز" شہر کے سب سے زیادہ دلچسبی کے مقامات میں سے ایک ہے۔ ۔[62] ہیپنی پل دریائے لفی پر ایک لوہے کا پیدل پل ہے جو ڈبلن میں سب سے زیادہ فوٹوگرافی مقامات میں سے ایک ہے اور اسے ڈبلن کے سب سے زیادہ مشہور نشانیوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ [63]

دیگر امتیازی مقامات اور یادگاروں میں مولی مالون کا مجسمہ جو گرافٹن اسٹریٹ پر واقع ہے اسے 1988ء ڈبلن کے ہزار سالہ جشن کے موقع پر نصب کیا گیا تھا۔ مولی مالون ڈبلن، آئرلینڈ کا ایک مقبول نغمہ ہے، جو ڈبلن کے غیر رسمی ترانہ بن چکا ہے۔

ڈاسن اسٹریٹ پر واقع مینشن ہاؤس 1715ء سے ڈبلن کے لارڈ میئر کی سرکاری رہائشگاہ ہے۔ اینا لیویا یادگار ہیوسٹن ریلوے اسٹیشن کے نزدیک کراپیز میموریل پارک میں واقع ہے۔ اس کے قبل یہ او کونل اسٹریٹ پر واقع تھی۔ کرائسٹ چرچ کیتھیڈرل قرون وسطی ڈبلن کے سابقہ مرکز ووڈ کی کے نزدیک واقع ہے۔ سینٹ پیٹرک کیتھیڈرل ووڈ کی میں واقع ہے۔ سینٹ فرانسس زیویر چرچ ماؤنٹ جوئے اسکوائر کے نزدیک بالائی گارڈنر اسٹریٹ پر واقع ہے۔ کسٹم ہاؤس دریائے لفی کے کنارے اور آراس ان اوختارین فینکس پارک میں واقع ہے۔[64] پولبیگ جینیریٹنگ اسٹیشن جمہوریہ آئرلینڈ کا ایک بجلی گھر ہے جسے ڈبلن کی تاریخی مقام حاصل ہے۔ جنرل پوسٹ آفس جسے عام طور پر اس کے مخفف جی پی او سے جانا جاتا ہے ڈبلن میں آئرلینڈ کے محکمہ ڈاک ان پوست کا صدر دفتر ہے۔ او کونل اسٹریٹ پر واقع اس عمارت کی تاریخی حیثیت ہے۔ 1916ء میں ایسٹر بغاوت کے دوران میں باغیوں نے اسے اپنا مرکز بنایا تھا۔ [65]

پارک[ترمیم]

شہر کے ارد گرد بہت سے سبز قطعے موجود ہیں اور ڈبلن سٹی کونسل 1،500 ہیکٹر (3،700 ایکڑ) پارکوں کا انتظام کرتی ہے۔ [66] عوامی پارکوں فینکس پارک شہر کے مرکز سے 2-4 کلو میٹر مغرب میں دریائے لفی کے شمال میں، ہربرٹ پارک، بالزبریج میں اور سینٹ اسٹیون گرین گرافٹن اسٹریٹ کے ساتھ واقع ہیں۔ فینکس پارک شہر کے مرکز کے تقریباً 3 کلومیٹر (2 میل) مغرب میں، دریائے لفی کے شمال میں واقع ہے۔ اس کا احاطہ 16 کلومیٹر (10 میل) قدیم دیوار ہے جبکہ اس کا رقبہ 707 ہیکٹر (1،750 ایکڑ) سے زائد ہے۔ یہ یورپ کے سب سے بڑے دیوار بند شہری پارکوں میں سے ایک ہے۔ [67] اس میں بڑے گھاس کے میدان اور درختوں کی قطاروں کی راہیں بھی شامل ہیں اور سترہویں صدی کے بعد سے یہاں زرد ہرن بھی رکھے گءے ہیں۔ صدر آئرلینڈ کی رہائش گاہ آراس ان اوختارین 1751ء میں اسی پارک میں تعمیر کی گئی۔ [68] اس پارک میں ڈبلن چڑیا گھر، ایش ٹاؤن قلعہ اور ریاستہائے متحدہ امریکا کے سفیر کی سرکاری رہائش گاہ بھی موجود ہے۔ کبھی کبھار پارک میں موسیقی کانسرٹ بھی منعقد کیے جاتے ہیں۔

سینٹ اسٹیون گرین ڈبلن کے مشہور خریداری مرکز گرافٹن اسٹریٹ کے ساتھ واقع ہے۔ اس کے ارد گرد کی سڑکوں پر کئی سرکاری اداروں کے دفاتر موجود ہیں۔ سینٹ این پارک ایک عوامی پارک اور تفریح گاہ ہے جو نارتھ سائیڈ کے مضافتی علاقے میں واقع ہے۔ یہ پارک ڈبلن کا دوسرا بڑا میونسپل پارک ہے۔ سب سے بڑا میونسپل پارک جزیرہ بل میں قریب ہی واقع ہے۔

معیشت[ترمیم]

ڈبلن علاقہ آئرلینڈ کا اقتصادی مرکز ہے اور کیلٹک ٹائیگر دور کے دوران ملک کی اقتصادی توسیع میں سب سے اوپر تھا۔ 2009ء میں ڈبلن کو دنیا بھر میں چوتھا امیر ترین شہر بلحاظ طاقت خرید اور دسواں امیر ترین بلحاظ ذاتی آمدن قرار دیا گیا تھا۔ [69][70] مرسر کے 2011ء رہن سہن کے اخراجات کے عالمی سروے کے مطابق ڈبلن یورپی یونین تیرہوں سب سے مہنگا شہر ہے (2010ء میں دسویں درجے سے کم ہو کر) اور رہائش کے لیے عالمی طور پر 58واں (2010ء میں بیالیسویں درجے سے کم ہو کر) سب سے مہنگا شہر ہے۔ [71] 2005ء کے مطابق گریٹر ڈبلن علاقہ میں تقریباً 800،000 افراد ملازمت پیشہ ہیں جن میں سے تقریباً 600،000 خدمات کے شعبے میں اور 200،000 صنعتی شعبے میں ملازم ہیں۔ [72]

ڈبلن کی روایتی صنعتوں کی ایک بڑی تعداد میں جیسے کھانے کی تیاری، ٹیکسٹائل کی صنعت، تخمیری مشروبات، کشید کاری میں آہستہ آہستہ کمی ہے، تاہم "گینس" سینٹ جیمز گیٹ بریوری میں 1759ء سے تیار کی جا رہی ہے۔ 1990ء کے دہائیوں میں اقتصادی اصلاحات نے کئی عالمی دواساز، اطلاعات اور مواصلاتی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو شہر اور گریٹر ڈبلن علاقہ میں متوجہ کیا ہے۔ کئی مشہور عالمی کمپنیوں مثلاً مائیکروسافٹ، گوگل، ایمیزون، ای بے، پے پال، یاہو!، فیس بک، ٹویٹر، ایکسینچر، فائزر کے یورپی ہیڈکوارٹر اور / یا آپریشنل اڈے شہر میں موجود ہیں جن میں سے کئی انٹرپرائز کلسٹرز جیسے ڈیجیٹل ہب اور سیلیکون ڈاکس میں واقع ہیں۔ ان کمپنیوں کی موجودگی نے شہر میں اقتصادی توسیع کو فروغ دیا ہے اور کبھی کبھار ڈبلن کو "یورپ کا تکنیکی دار الحکومت" بھی کہا جاتا ہے۔ [35] کئی بین الاقوامی اداروں نے شہر میں اہم ہیڈکوارٹر قائم کیے ہیں مثلاً سٹی بینک اور کامرزبینک۔ بریکسٹ کے بعد یوروزون تک رسائی برقرار رکھنے کی امید سے ڈبلین کو مالیاتی خدمات کمپنیوں کی میزبانی کرنے کے لیے اہم شہروں میں سے ایک کے طور پر حیثیت کی گئی ہے۔ کیٹک ٹائیگر نے بھی تعمیر میں ایک عارضی تیزی پیدا کی ہے خاص طور پر ڈبلن ڈاک لینڈز اور اسپینسر ڈاک میں۔ تکمیل شدہ منصوبوں میں کنونشن سینٹر، 3 ایرینا اور گرینڈ کینل تھیٹر شامل ہیں۔

اسٹاک ایکسچینج[ترمیم]

آئرش اسٹاک ایکسچینج

آئرش اسٹاک ایکسچینج (ISEQ) آئرلینڈ کی مرکزی اسٹاک ایکسچینج ہے اور یہ 1793ء میں وجود میں آئی۔ یہ ڈبلن، جمہوریہ آئرلینڈ ہے اس کے علاوہ انٹرنیٹ نیوٹرل ایکسچینج (INEX) اور آئرش انٹرپرائز ایکسچینج (IEX) بھی ڈبلن ہی میں واقع ہیں۔

بینک[ترمیم]

سنٹرل بینک آف آئرلینڈ جمہوریہ آئرلینڈ کا مرکزی بینک ہے جس صدر دفتر ڈبلن میں واقع ہے۔ یورو کرنسی متعارف کرانے تک یہ آئرش پاؤنڈ بینک نوٹ اور سکے جاری کرتا تھا اور اب یہ خدمت یورپی مرکزی بینک کے لیے فراہم کرتا ہے۔ بینک آف آئرلینڈ آئرلینڈ میں ایک تجارتی بینک ہے یہ روایتی 'چار بڑے' آئیرش بینکوں میں سے ایک ہے۔ اس کو صدر دفتر ڈبلن میں واقع ہے۔ السٹر بینک ایک بڑا تجارتی بینک ہے اور روایتی بڑے چار آئرش بینکوں میں سے ایک ہے۔ اس کے علاوہ دنیا کے بہترین بینکوں کے دفاتر یہاں موجود ہیں۔

انٹرنیشنل فائنینشل سروسز سینٹر[ترمیم]

1987ء میں ڈبلن کے انٹرنیشنل فائنینشل سروسز سینٹر کی تشکیل سے شہر کے لیے مالی خدمات بھی اہم ہو چکی ہیں۔ آئی ایف سی ایس پروگرام کے تحت تجارت میں 500 سے زائد آپریشنز منظور کیے جا چکے ہیں۔ یہ مرکز دنیا کے بہترین 50 بینکوں اور بہترین 20 انشورنس کمپنیوں میں سے نصف کا میزبان ہے۔ [73]

نقل و حمل[ترمیم]

سڑکیں[ترمیم]

ڈبلن میں سڑکیں

آئرلینڈ میں سڑکوں کا جال بنیادی طور پر ڈبلن پر مرکوز ہے۔ 2016ء ٹام ٹوم ٹریفک انڈیکس کے مطابق ڈبلین دنیا کا پندرہواں گنجان ترین شہر اور ور یورپ کا ساتوں سب سے گنجان شہر ہے۔ [74][75] ڈبلن میں تقریباً 200 بسوں کے روٹ ہیں جو جو شہر اور مضافات کا احاطہ کرتے ہیں۔ ان میں سے اکثریت ڈبلن بس کے زیر انتطام ہیں، تاہم کئی چھوٹی کمپنیاں بھی یہاں کام کر رہی ہیں۔ کرایہ عام طور پر فاصلے کی بنیاد پر لیا جاتا ہے۔

شہر کے لیے تجویز کردہ مشرقی بائی پاس کا پہلا مرحلہ ڈبلین بندرگاہ سرنگ ہے جس کا رسمی افتتاح 2006ء میں کیا گیا۔ یہ عام طور پر بھاری گاڑیوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ سرنگ ڈبلن بندرگاہ کو ایم 1 موٹر وے سے ڈبلن ہوائی اڈے کے قریب ملاتی ہے۔ شہر ایک اندرونی اور بیرونی مداری راستے سے گھرا ہوا ہے۔ اندرونی مداری راستہ جارجیائی ڈبلن کے قلب کے ارد گرد چلتا ہے اور بیرونی مداری راستہ بنیادی طور پر ڈبلن کی دو نہروں، گرینڈ کینال اور رائل کینال کے گرد قائم قدرتی دائرے کے ساتھ ساتھ چلتا ہے۔

ایم 50 موٹر وے (آئرلینڈ)[ترمیم]

ایم 50 موٹر وے

ایم 50 موٹر وے ڈبلن میں ایک نیم دائرہ کی شکل میں ایک موٹر وے جو آئرلینڈ کی مصروف ترین موٹر وے ہے۔ موجودہ راستہ 1983ء سے 2010ء کے دوران میں 27 سال میں مختلف حصوں میں تعمیر کیا گیا۔ یہ ڈبلن بندرگاہ سے شروع ہو کر شمال میں ڈبلن بندرگاہ سرنگ سے ہوتے ہوئے ہوائی اڈا موٹر وے کے ایک حصے کے ساتھ چلتا ہے۔ اس کے بعد یہ مغرب میں مڑتا ہے اور ایم 1 موٹر وے سے جنکشن بناتا ہے اور ڈبلن کے شمالی، مغربی اور جنوبی مضافاتی علاقوں کے کرد گھومنا ہے۔ یہ جنوب مشرقی ڈائلن شینکل، ڈبلن کے مقام پر ختم ہوتا ہے۔

ایم 1 موٹر وے[ترمیم]

ایم 1 موٹر وے

ایم 1 موٹر وے جمہوریہ آئر لینڈ میں ایک موٹر وے ہے۔ یہ این 1 کا بڑا حصہ تشکیل کرتا ہے اور جزیرہ آئرلینڈ کے مشرق میں ڈبلن کو بیلفاسٹ سے ملاتا ہے۔

نیشنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی[ترمیم]

نیشنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی گریٹر ڈبلن علاقہ کے لیے ٹرانسپورٹ اتھارٹی اور آئرلینڈ کے لیے لائسنس ایجنسی ہے۔ نیشنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی ڈبلن میں شفر کے لیے لیپ کارڈ کا اجرا بھی کرتی ہے جو ڈبلن کے عوامی نقل و حمل خدمات میں سب کے لیےاستعمال کیا جا سکتا ہے۔

ڈبلن بس[ترمیم]

ڈبلن بس جمہوریہ آئرلینڈ کے دار الحکومت ڈبلن میں بس خدمات فراہم کرتی ہے۔ یہ کورس اومپر ائرن کی ذیلی کمپنی ہے۔ 2017ء میں 139.4 ملین مسافروں نے ڈبلن بس سے سفر کیا۔ [76]

ریل اور ٹرام[ترمیم]

ایرنرود ائرن (آئرش: Iarnród Éireann; آئرش تلفظ: [ˈiəɾˠnˠɾˠoːdˠ ˈeːɾʲən̪ˠ]) جسے آئرش ریل بھی کہا جاتا ہے جمہوریہ آئرلینڈ کی قومی ریلوے ورک کی آپریٹر ہے۔ یہ کورس اومپر ائرن (آئرش: Córas Iompair Éireann) کی ذیلی کمپنی ہے اور اس کا قیام 2 فروری 1987ء کو عمل میں آیا۔ ڈبلن میں ایرنرود ائرن کے زیر انتظام دو مرکزی ریلوے اسٹیشن ہیوسٹن ریلوے اسٹیشن اور ڈبلن کونولی ریلوے اسٹیشن ہیں۔

ہیوسٹن ریلوے اسٹیشن[ترمیم]

ہیوسٹن ریلوے اسٹیشن

ہیوسٹن ریلوے اسٹیشن (سابقہ کنگز برج اسٹیشن) جمہوریہ آئرلینڈ کے مرکزی ریلوے اسٹیشنوں میں سے ایک ہے جس کہ دار الحکومت ڈبلن کو جنوب، جنوب مغرب اور مغرب سے منسلک کرتا ہے۔ [77]

ڈبلن کونولی ریلوے اسٹیشن[ترمیم]

ڈبلن کونولی ریلوے اسٹیشن

ڈبلن کونولی ریلوے اسٹیشن جمہوریہ آئرلینڈ کے مرکزی ریلوے اسٹیشنوں میں سے ایک ہے جو ڈبلن میں واقع ہے۔[78] یہ ڈبلن کو ملک کے شمال، شمال-مغرب، جنوب-مشرق اور جنوب-مغرب سے ملاتا ہے۔

ڈبلن ایریا ریپڈ ٹرانزٹ[ترمیم]

ڈبلن ایریا ریپڈ ٹرانزٹ جسے عام طور اس کے مخفف ڈارٹ (DART) سے جانا جاتا ہے ایک برقی ٹرانسپورٹ ریلوے نیٹ ورک ہے جو جمہوریہ آئرلینڈ کے دار الحکومت ڈبلن کے ساحل اور شہر کے مرکز کو خدمات فراہم کرتا ہے۔ 2013ء میں ڈارٹ اور ڈبلن مضافاتی لائنز کے لیے مسافر 16 ملین اور 11.7 ملین تھے جو آئرش ریل کے مسافروں کا تقریباً 75٪ ہے۔ [79]

لواس[ترمیم]

لواس کی ٹرام

لواس جمہوریہ آئرلینڈ کے دار الحکومت ڈبلن میں ٹرام/ہلکی ریل کا نظام ہے۔ اس کی دو دو اہم لائنیں ہیں: گرین لائن، جس نے 30 جون 2004ء کو کام شروع کیا اور ریڈ لائن جس کا افتتاح 26 ستمبر 2004ء کو ہوا۔ اس وقت سے دونوں لائنیں کی مختلف شاخوں میں توسیع اور تقسیم کی گئی ہے۔ اس نظام میں اب سڑسٹھ سٹیشن ہیں اور اس کی لمبائی 36.5 کلومیٹر (22.7 میل) ہے۔ [80][81] 2017ء میں اس پر 37.6 ملین مسافروں نے سفر کیا [82] جو 2016ء کے مقبلے میں 10 فیصد اضافہ تھا۔ [80][83]

ڈبلن مضافاتی ریل[ترمیم]

ڈبلن مضافاتی ریل ایک ریلوے نیٹ ورک ہے ڈبلن، جمہوریہ آئرلینڈ، زیادہ تر گریٹر ڈبلن علاقہ اور بیرونی قصبوں مثلاً ڈراہیڈا، ڈونڈوک اور کاؤنٹی لاوتھ کو خدمات فراہم کرتا ہے۔

لیپ کارڈ[ترمیم]

ٹی ایف آئی لیپ کارڈ ڈبلن میں 12 دسمبر 2011ء کو متعارف کرایا جانے والا ایک مربوط ٹکٹ نظام ہے۔ [84] یہ ایک پری پیڈ کارڈ ہے جو ڈبلن بس، ڈبلن ایریا ریپڈ ٹرانزٹ، بس ائرن، ایرنرود ائرن، سورڈز ایکسپریس، ایشبورن کنیکٹ، کولنز کوچز، میتھیوز۔آئی ای، سٹی ڈائریکٹ، ویکسفورڈ بس اور لواس کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

لیپ کارڈ سے کرایہ ادائگی[ترمیم]

نقد رقم کے مقابلے میں لیپ کارڈ کے ساتھ کرایہ کی ادائگی نسبتاً کم ہوتی ہے۔ ڈبلن بس کے لیے لیپ کارڈ کا استعمال نقد رقم کی قیمتوں کے مقابلے میں 20-27 فیصد کم ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر 1 دسمبر 2017 سے ڈبلن بس کا استعمال کرتے ہوئے 4-13 مرحلہ کا نقد کرایہ 2.85 یورو بنتا ہے جبکہ لیپ کارڈ یہ 2.15 یورو ہو گا۔ اس طور لواس اور ڈارٹ میں بھی لیپ کارڈ کے استعمال سے بچت ہوتی ہے۔

اگر آپ اپنے ٹی ایف آئی لیپ کارڈ سے 1 دن یا 1 ہفتہ (پیر - اتوار) میں بہت سے سفر کرتے ہیں تو ڈبلن بس، لواس، ڈارٹ اور مسافر ریل میں ایک خاص حد قیمت تک پہنچنے کے بعد آپ سے مزید کرایہ وصول نہیں کیا جائے گا۔ حد تک پہنچنے کے بعد اس دن یا ہفتہ مفت سفر کر سکتے ہیں۔ [85]

لیپ کارڈ یومیہ حد ہفتہ وار حد
بالغ طالب علم طفل بالغ طالب علم طفل
ڈبلن بس 7.00 یورو 5.00یورو 2.70 یورو 27.50 یورو 20.00 یورو 8.50 یورو
لواس 7.00 یورو 5.00یورو 2.70 یورو 27.50 یورو 20.00 یورو 8.50 یورو
ڈارٹ اور مسافر ریل 9.50 یورو 7.00 یورو 3.20 یورو 37.00 یورو 27.00 یورو 12.50 یورو
مخلوط استعمال 10.00 یورو 7.50 یورو 3.50 یورو 40.00 یورو 30.00 یورو 14.00 یورو

بحری[ترمیم]

ڈبلن بندرگاہ[ترمیم]

ڈبلن بندرگاہ

ڈبلن بندرگاہ ڈبلن، جمہوریہ آئرلینڈ میں ایک بندرگاہ ہے۔ آئر لینڈ کی بندرگاہ نقل و حمل کا تقریباً دو تہائی حصہ اسی بندرگاہ ذریعہ ہوتا ہے۔ یہ جزیرہ آئرلینڈ کی مصروف ترین بندر گاہ ہے۔ ڈبلن کونولی ریلوے اسٹیشن بس کے ذریعے ڈبلن بندرگاہ سے منسلک ہے جہاں سے یہ آئرش فیریز سے مملکت متحدہ کے ہولی ہیڈ ریلوے اسٹیشن منسلک ہے، وہاں سے نارتھ ویلز کوسٹ لائن کے ذریعے چیسٹر ریلوے اسٹیشن اور ایوسٹن ریلوے اسٹیشن تک جاتا جا سکتا ہے۔ ڈبلن بندرگاہ فیری ٹرمینس بھی ہے۔ [86]

آئرش فیریز[ترمیم]

آئرش فیریز ایک سمندری نقل و حمل کمپنی ہے آئرلینڈ، برطانیہ اور براعظم یورپ کے درمیان مسافر اور مال بردار خدمات فراہم کرتی ہے۔ یہ آئرش کونٹینٹل گروپ کا حصہ ہے اور جس کی تجارت آئرش اسٹاک ایکسچینج اور لندن اسٹاک ایکسچینج پر ہوتی ہے۔

فضائی[ترمیم]

ڈبلن ہوائی اڈا[ترمیم]

ڈبلن ہوائی اڈا (آئی اے ٹی اے: DUB، آئی سی اے او: EIDW) جمہوریہ آئرلینڈ کا ایک بین الاقوامی ہوائی اڈا و ہوائی اڈا جو دار الحکومت ڈبلن کو فضائی خدمات فراہم کرتا ہے۔۔[87] ہوائی اڈا ڈبلن کے شمال میں 10 کلومیٹر (6.2 میل) کے فاصلے پر کولنس ٹاؤن، فینگال میں واقع ہے۔

ایر لنگس[ترمیم]

ایر لنگس آئرلینڈ کی ہوائی کمپنی ہے ۔[88] ایر لنگس کا مرکزی دفتر آئر لینڈ کے ہوائی اڈاے ڈبلن ہوائی اڈا پر واقع ہے۔

رایان ائیر[ترمیم]

رایان ائیر جمہوریہ آئرلینڈ کی ہوائی کمپنی ہے ۔[88] ریناائیر کا مرکزی دفتر آئر لینڈ کے ڈبلن ہوائی اڈا پر واقع ہے۔ [89]

اسٹوبارٹ ایئر[ترمیم]

اسٹوبارٹ ایئر جمہوریہ آئرلینڈ کی ایک علاقائی ایئرلائن ہے جو ایر آران کے نام کے تحت کاروبار کرتی ہے اور اس کا صدر دفتر ڈبلن میں واقع ہے۔ [90]

کیسمینٹ ایروڈروم[ترمیم]

کیسمینٹ ایروڈروم (آئی اے ٹی اے: N/A، آئی سی اے او: EIME) ڈبلن، جمہوریہ آئرلینڈ کے جنوب مغرب میں واقع ایک فوجی ہوائی اڈا ہے۔

سائکلنگ[ترمیم]

ڈبلن سٹی کونسل نے 1990ء کی دہائی میں پورے شہر میں سائیکل لینوں اور راستوں کے بنانے کا آغاز کیا اور 2012 تک شہر میں سائیکلوں کے مخصوص راستوں اور آف روڈ پٹریوں کی لمبائی 200 کلو میٹر (120 میل) تھی۔ [91] 2011ء میں شہر دنیا کے سائیکل دوستانہ شہروں کی فہرست میں نویں نمبر پر تھا، [92] تاہم 2015ء میں یہ کم ہو کر پندرہویں نمبر پر آ گیا۔ [93]

ڈبلن بائیکس[ترمیم]

ڈبلن بائیکس ایک عوامی کرائہ سائیکل سکیم ہے جو 2009ء سے ڈبلن شہر میں کام کر رہی ہے۔ آغاز میں اس سکیم کو 450 فرانسیسی [94] سائیکلوں اور 40 سٹیشنوں کے ساتھ شروع کیا گیا تھا۔ [95] 2011ء تک اس نے 550 سائیکلوں اور 44 اسٹیشنوں تک بڑھایا گیا، 2013ء اس کی مزید توسیع کی گئی اور اسے 950 سائیکلوں اور 58 کرایہ اسٹیشنوں تک بڑھا دیا گیا۔ [96]

اعلیٰ تعلیم[ترمیم]

ڈبلن آئرلینڈ میں تعلیم کے بنیادی مراکز میں سے ایک ہے، جہاں تین جامعات موجود ہیں، ڈبلن انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اور دیگر اعلیٰ تعلیمی ادارے بھی یہاں موجود ہیں۔ شہر مضافات میں 20 تیسری سطح کے تعلیمی ادارے موجود ہیں۔ ڈبلن 2012ء میں سائنس کا یورپی دار الحکومت تھا۔ [97][98]

یونیورسٹی آف ڈبلن سولہویں صدی میں قائم ہونے والی آئرلینڈ کی قدیم ترین یونیورسٹی ہے، یہ شہر کے مرکز میں واقع ہے۔ ٹرنیٹی کالج 1592ء میں ایلزبتھ اول کے شاہی حکم سے قائم کیا گیا۔ یہ شہر کے وسط میں کالج گرین میں واقع ہے، اس 15،000 طالب علم زیر تعلیم ہیں۔

نیشنل یونیورسٹی آف آئرلینڈ کا مرکزی کیمپس ڈبلن میں واقع ہے جو متعلقہ جزو جامعہ یونیورسٹی کالج ڈبلن کا مقام ہے جس میں 30،000 سے زیادہ طالب علم زیر تعلیم ہیں۔ 1854ء میں قائم ہونے والی یونیورسٹی اب آئرلینڈ کی سب سے بڑی یونیورسٹی ہے۔[99]

ڈبلن انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی 1887ء میں قائم ہونے والا [100] ڈبلن کا بنیادی اور آئرلینڈ کا سب سے بڑا تحقیق اور ٹیکنالوجی کی تعلیم کا ادارہ ہے جہاں 23،000 سے زیادہ طالب علم ہیں۔ ڈبلن انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی انجینئری، فن تعمیر، سائنس، صحت، صحافت، ڈیجیٹل میڈیا، مہمانیت اور کاروبار میں خصوصیت رکھتا ہے، اس کے علاوہ فن، ڈیزائن، موسیقی اور انسانیت کے پروگرام بھی پیش کرتا ہے۔ [101] گرینجگورمین میں ایک نئے کیمپس کا آغاز بھی کیا گیا ہے۔ [102]

ڈبلن سٹی یونیورسٹی جس کا سابقہ نام "نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ہائر ایجوکیشن" تھا کاروبار، انجینئری، سائنس، مواصلات، لسانیات اور بنیادی تعلیم میں کورس پیش کرتی ہے۔ اس میں تقریباً 16،000 طالب علم زیر تعلیم ہیں۔ [103]

رائل کالج آف سرجنز ان آئر لینڈ نیشنل یونیورسٹی آف آئرلینڈ کا منظور شدہ طبی کالج ہے جو شہر کے مرکز میں سینٹ اسٹیون گرین میں واقع ہے۔ ڈبلن بزنس اسکول آئرلینڈ کا سب سے بڑی نجی تیسری سطح کا ادارہ ہے جس میں 9،000 سے زیادہ طالب علم ہیں۔ نیشنل کالج آف آرٹ اور ڈیزائن آرٹ، ڈیزائن اور میڈیا میں تربیتی اور تحقیقی خدمات پیش کرتا ہے۔ نیشنل کالج آف آئرلینڈ بھی ڈبلن میں واقع ہے۔ اکنامک اینڈ سوشل ریسرچ انسٹیٹیوٹ ایک سماجی سائنس تحقیقی ادارہ ہے۔

آئرش پبلک ایڈمنسٹریشن اور مینجمنٹ ٹریننگ سینٹر ڈبلن میں واقع ہے، پبلک ایڈمنسٹریشن انسٹی ٹیوٹ یونیورسٹی آف آئرلینڈ کے ذریعے ایک گریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ ایوارڈز فراہم کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ کچھ چھوٹے خصوصی کالجز بھی ہیں جیسے گریفتھ کالج ڈبلن، گئیٹی اسکول آف ایکٹنگ اور نیو میڈیا ٹیکنالوجی کالج۔

شہر کی مضافاتی علاقوں جنوبی ڈبلن میں تآلا اور ڈون لاری–ریتھڈاون میں علاقائی کالج ہیں: انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، تآلا میں کل وقتی اور پارٹ ٹائم تکنیکی مضامین کی ایک وسیع رینج میں کورسز ہیں اور ڈون لاہوریئری انسٹی ٹیوٹ آرٹ، ڈیزائن اور ٹیکنالوجی فن، ڈیزائن، کاروبار، نفسیات اور میڈیا ٹیکنالوجی میں تربیتی اور تحقیقی تعلیم فراہم کرتا ہے۔ مغربی مضافاتی علاقے بلینچرڈس ٹاؤن میں واقع انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، بلانچرڈس ٹاؤن میں زبانوں اور تکنیکی مضامین کے ساتھ ساتھ بچوں کی دیکھ بھال اور کھیل مینجمنٹ کورسز پیش کیے جاتے ہیں۔

آبادیات[ترمیم]

اہم تارکین وطن گروہ، 2016ء[105]
قومیت آبادی
Flag of the United Kingdom.svg مملکت متحدہ 22,109
Flag of Poland.svg پولینڈ 10,106
Flag of Romania.svg رومانیہ 8,476
Flag of Brazil.svg برازیل 8,007
Flag of India.svg بھارت 4,459
Flag of Italy.svg اطالیہ 4,439
Flag of Spain.svg ہسپانیہ 4,032
Flag of the United States.svg ریاستہائے متحدہ 3,977
Flag of France.svg فرانس 3,624
Flag of the Philippines.svg فلپائن 3,527

ڈبلن شہر ڈبلن سٹی کونسل کے زیر انتظام ہے، لیکن اصطلاح "ڈبلن" میں ملحق مقامی اتھارٹی کے علاقے ڈون لاری–ریتھڈاون، فینگال اور جنوبی ڈبلن بھی شامل ہیں۔ یہ چاروں علاقے مل کر روایتی کاؤنٹی ڈبلن بناتے ہیں۔ کبھی کبھار یہ علاقہ ڈبلن علاقہ کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ 2016ء کی مردم شماری کے مطابق سٹی کونسل کے زیر انتظام علاقے کی آبادی 553،165 تھی، جبکہ شہری علاقے کی آبادی 1،173،179 تھی۔ کاؤنٹی ڈبلن کی آبادی 1،273،069 اور گریٹر ڈبلن علاقہ کی آبادی 1،904،806 نفوس پر مشتمل تھی۔ علاقے کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے اور مرکزی اعداد و شمار آفس کے تخمینے کے مطابق یہ 2020ء تک 2.1 ملین تک پہنچ جائے گی۔ [106]

1990ء کی دہائی کے آخر سے ڈبلن میں بڑے پیمانے پر نقل مکانی ہوئی ہے خاص طور پر یورپی یونین ممالک سے جن میں مملکت متحدہ، پولینڈ اور لتھووینیا سے فہرست ہیں۔ [107] یورپ کے باہر سے بھی نقل مکانی ہو رہی ہے جن میں برازیل، بھارت، فلپائن، چین اور نائجیریا قابل ذکر ہیں۔ ملک کے دوسرے حصوں کے مقابلے میں ڈبلن میں نقل مکانی کا ایک بڑا تناسب ہے۔ آئرلینڈ کی ایشیائی آبادی کا ساٹھ فیصد ڈبلن میں مقیم ہے۔ [108] 2006ء کے مطابق ڈبلین کی آبادی کا 15 فی صد غیر ممالک میں پیدا ہونے والے تھے۔ [109] عظیم کساد بازاری کے دوران میں بے روزگاری کی وجہ سے غیر ملکی نژاد تارکین کی تعداد میں کمی واقع ہوئی۔

دار الحکومت دیگر ممالک سے غیر کیتھولک تارکین وطن کو سب سے بڑے تناسب میں اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ آئر لینڈ میں سیکولولائزیشن اضافے کی وجہ سے ڈبلن میں باقاعدگی سے کیتھولک چرچ کی حاضری میں 1970ء کی دہائی کے مطابق 90 فیصد سے زائد تھی، جو 2011ء کے سروے کے مطابق کم ہو کر 14 فی صد ہو گئی ہے۔ [110]

2011ء کی مردم شماری کے مطابق ڈبلن کی 90٪ آبادی سفید فام تھی (بشمول 400،749 سفید آئیرش [78٪]، 57،748 دیگر سفید [11٪] اور 1،923 سفید آئرش خانہ بدوش)، 1٪ سیاہ فام اور 4٪ ایشیائی۔ ذہب کے لحاظ سے 75 فیصد کاتھولک، 10 فیصد دیگر مذاہب جبکہ 14 فیصد لا دین یا مذہب بیان نہیں کیا۔ [111]

مذہب[ترمیم]

Circle frame.svg

جمہوریہ آئرلینڈ میں مذہب، 2016ء [112]

  اسلام (1.3%)
  راسخ الاعتقاد کلیسیا (1.3%)
  ہندومت (0.3%)
  رسولی اور پینتی کاسٹل (0.3%)
  بیان نہیں کیا اور دیگر (4.8%)
  لا دین (10.1%)

جمہوریہ آئرلینڈ کا بنیادی مذہب مسیحیت ہے جس میں کاتھولک کلیسیا غالب ہے۔ 2016ء کی مردم شماری کے مطابق 78٪ (3.7 ملین) افراد کی شناخت کاتھولک کے طور پر کی گئی ہے۔ دوسرا سب سے بڑا مذہبی کروہ کلیسیائے آئرلینڈ (انگلیکانیت) ہے۔ بیسویں صدی میں اس کی مقبلولیت میں کمی واقع ہوئی تاہم حال میں اس میں اضافہ ہوا ہے۔ تیسرا سب سے بڑا مذہبی گروہ اسلام ہے۔ 2016ء میں آئرلینڈ میں 63،400 (1.33٪) مسلم تھے۔ [113]

مسیحیت[ترمیم]

جمہوریہ آئرلینڈ کا غالب مذہب مسیحیت ہے۔ ذیل میں ڈبلن میں واقع چند اہم کیتھیڈرل اور گرجا گھر ہیں۔

کیتھیڈرل[ترمیم]
گرجا گھر[ترمیم]
  • سینٹ مارک چرچ، ڈبلن
  • سینٹ میری ڈیل ڈیم
  • سٹینٹ اسٹیفن چرچ، ڈبلن
  • سینٹ تھامس چرچ (قدیم)، ڈبلن
  • سینٹ بارتھولومیو چرچ، ڈبلن
  • سینٹ میری چرچ، میری اسٹریٹ، ڈبلن
  • سینٹ میری، ڈبلن
  • سینٹ کیون چرچ، کیڈمن رو، ڈبلن
  • سینٹر پیٹر چرچ، اینگیر اسٹریٹ، ڈبلن

اسلام[ترمیم]

آئرش مسلم امن اور یکجہتی کونسل[ترمیم]

آئرش مسلم امن اور یکجہتی کونسل ڈبلن، کورک، ایتھلون، پورٹ لیش اور بیلفاسٹ میں ایک قومی نمائندہ مسلم تنظیم ہے۔ [114]

اسلامی ثقافتی مرکز آئرلینڈ[ترمیم]

اسلامی ثقافتی مرکز آئرلینڈ کلاسکیہ، ڈبلن، جمہوریہ آئرلینڈ میں ایک اسلامی مرکز اور مسجد ہے۔ [115]

المصطفٰی اسلامی مرکز آئرلینڈ[ترمیم]

المصطفٰی اسلامی تعلیمی و ثقافتی مرکز ائرلینڈ بلینچرڈس ٹاؤن کاؤنٹی فینگال، ڈبلن کے مضافاتی علاقے میں واقع ہے۔ [116]

جمعیت اسلامی آئرلینڈ[ترمیم]

جمعیت اسلامی آئرلینڈ جمہوریہ آئرلینڈ میں مسلم طلبہ نے 1959ء میں قائم کی۔ 1976ء میں اسی تنظیم کے تحت آئرلینڈ میں پہلی مسجد کا قیام عمل میں آیا۔ اس نے ملک کے دیگر شہروں میں مساجد قائم کرنے میں بھی مدد کی۔ تنظیم کا صدر دفتر مسجد ڈبلن، جنوبی سرکلر روڈ، ڈبلن میں واقع ہے۔ [117]

مسجد ڈبلن[ترمیم]

مسجد ڈبلن جنوبی سرکلر روڈ، ڈبلن، جمہوریہ آئرلینڈ میں ایک مسجد ہے۔ یہ جمعیت اسلامی آئرلینڈ کا صدر دفتر بھی ہے۔ یہ پریسبیٹیرین چرچ 1860ء کی دہائی میں تیرہویں صدی کے انگلستانی چرچ طرز تعمیر پر بنایا گیا۔ [118] 1983ء میں یہ عمارت جمعیت اسلامی آئرلینڈ نے خرید کی اور اسے ایک مسجد میں تبدیل کر دیا۔

انوار مدینہ[ترمیم]

انوار مدینہ ٹالبوٹ اسٹریٹ، ڈبلن میں واقع ایک مسجد ہے۔ [119]

مسجد تآلا[ترمیم]

"مسجد تآلا" تآلا، جنوبی ڈبلن میں واقع ایک مسجد ہے۔ [120]

مسجد لوکن[ترمیم]

مسجد لوکن لوکن، ڈبلن میں واقع ایک مسجد ہے۔ [121]

اہل بیت اسلامی مرکز[ترمیم]
اہل بیت اسلامی مرکز

اہل بیت اسلامی مرکز مل ٹاؤن، ڈبلن، جمہوریہ آئرلینڈ میں اہل تشیع کا بنیادی مرکز ہے۔ اسے عام طور پر "حسینیہ" بھی کہا جاتا ہے اور پہلے یہ آئرلینڈ میں اہل تشیع کا واحد اسلامی مرکز اور مسجد تھی۔ اس کے علاوہ باب العلم سوسائٹی آئرلینڈ ڈبلن میں اہل تشیع کا ایک مرکز ہے۔

مصلے[ترمیم]

ڈبلن میں مساجد کے علاوہ کئی مقامات پر مصلیٰ یا نماز گاہیں بھی موجود ہیں جن نام مندرجہ ذیل ہیں۔

ثقافت[ترمیم]

ادب[ترمیم]

ڈبلن کی ایک اہم ادبی تاریخ ہے اور بہت سی ادبی شخصیات کس تعلق ڈبلن سے جن میں نوبل انعام یافتہ ولیم بٹلر ییٹس، جارج برنارڈ شا اور سیموئل بکٹ شامل ہیں۔ دیگر بااثر ادیبوں اور ڈراما نگاروں میں آسکر وائلڈ، جوناتھن سوئفٹ اور ڈریکولا ناول کے مصنف بریم اسٹوکر شامل ہیں۔ اس کے علاوہ یہ جیمز جوائس کے شہرہ آفاق ناول یولیسیس کا مقام بھی ہے اور ڈبلینرز بھی جیمز جوائس کی مختصر کہانیوں کا مجموعہ ہے جو بیسویں صدی کے اوائل کے دور میں خاص طور پر ڈبلن کے لوگوں کے بارے میں ہیں۔

دیگر معروف مصنفین میں جان میلنگٹن سنگ، شون او کیسی، برینڈن بئین، میئو بنشی، جان بانویل، راڈی ڈویل شامل ہیں۔ آئرلینڈ کی سب سے بڑے کتب خانے اور ادبی عجائب گھر بشمول نیشنل پرنٹ میوزیم اور آئرلینڈ کی قومی لائبریری ڈبلن میں ہی واقع ہیں۔ جولائی 2010ء میں ڈبلن کو یونیسکو کی طرف سے "ادب کا شہر" نامزد کیا گیا ہے۔ ایڈنبرگ، میلبورن اور آئیووا سٹی کے ساتھ یہ ایک مسستقل خطاب ہے۔ [122]

فنون[ترمیم]

سٹی ہال کے فرش پر موزیک سے بنا ڈبلن کا نشان

شہر کے مرکز میں کئی تھیٹر ہیں اور کئی معروف اداکار ڈبلن کے تھیٹر کے پس منظر سے ہی ابھرے ہیں جن میں نوئل پرسیل، مائیکل گیمبن، برینڈن گلیسن، اسٹیون رے، کولن فیرل، کولم مینی اور گیبرئل برن قابل ذکر ہیں۔ مشہور تھیٹروں میں گئیٹی تھیٹر، ایبی تھیٹر، اولمپیا تھیٹر، گیٹ تھیٹر اور گرینڈ کینال تھیٹر شامل ہیں۔

ملک میں ادب اور تھیٹر پر مرکوز ہونے کے علاوہ ڈبلن آئرش فن اور آئرش فنکارانہ منظر کا حامل بھی ہے۔ کتاب کیلز 800 عیسوی ولگاتا کے ماخذ سے کیلٹک راہبوں کی طرف سے تیار کیا جانے وال ایک مشہور زمانہ کتابچہ ہے جو جزیراتی فن کا ایک نمونہ ہے۔ اب یہ ٹرنیٹی کالج، ڈبلن میں زیر نمائش ہے۔ چیسٹر بیٹی لائبریری میں مسودات، چھوٹی پینٹنگز، پرنٹس، ڈرائنگ، نادر کتابیں اور آرائشی فنون کا مجموعہ موجود ہے جسے امریکی (اور اعزازی آئرش شہری) ارب پتی کان کن سر ایلفریڈ چیسٹر بیٹی نے جمع کیا۔ اس مجموعے میں 2700 قبل مسیح اور بعد کت نوادرات ہیں یہ ایشیا، مشرق وسطی، شمالی افریقا اور یورپ سے حاصل کیے گئے ہیں۔

اس کے علاوہ شہر بھر میں عوامی آرٹ گیلریاں موجود ہیں جن میں آئیرش میوزیم آف ماڈرن ارٹ، نیشنل گیلری آف آئرلینڈ، ہیو لین گیلری، ڈگلس ہائڈ گیلری، پراجیکٹ آرٹس سینٹر اور رائل ہایبرنین اکیڈمی شامل ہیں۔ چند اہم نجی گیلریوں میں ریڈ آن گرین گیلری، کرلن گیلری، کیون کیوناگھ گیلری اور مدرز ٹینک اسٹیشن شامل ہیں۔

آئر لینڈ قومی عجائب گھر کی تین شاخیں ڈبلن میں واقع ہیں: آثار قدیمہ کے بارے میں کلڈیئر اسٹریٹ میں، "آرائشی آرٹس اور تاریخ عجائب گھر"، کولنز بیرکس، ڈبلن میں اور نیچرل ہسٹری میوزیم (آئر لینڈ) میرین اسٹریٹ پر واقع ہے۔ [123] اسی علاقے میں کچھ اور چھوٹے جائب گھر جیسے فیٹزولیم اسٹریٹ پر نمبر 29 اور لٹل میوزیم آف ڈبلن سینٹ اسٹیون گرین میں واقع ہے۔ ڈبلن ہی میں نیشنل کالج آف آرٹ اور ڈیزائن بھی واقع ہے جو 1746ء میں قائم ہوا تھا اور 1991ء میں بننے والا ڈبلن انسٹی ٹیوٹ آف ڈیزائن بھی یہیں واقع ہے۔ ڈبلنیا ایک زندہ تاریخ ہے جس میں وائی کنگ اور قرون وسطی کے دور کے نوادرات رکھے گئے ہیں۔

تفریح[ترمیم]

ڈبلن میں جوشیلی نائٹ لائف ہے اور یورپ کے سب سے زیادہ نوجوان شہروں میں سے ایک ہے جس میں 50٪ سے زائد شہریوں کی تعداد 25 سال سے کم ہے۔ [124][125] شہر کے مرکز میں سینٹ اسٹیون گرین، گرافٹن اسٹریٹ کے ارد گرد کئی شراب کانے موجود ہیں، خاص طور پر ہارکورٹ اسٹریٹ، کیمڈن اسٹریٹ، ویکسفورڈ اسٹریٹ اور لیسن اسٹریٹ میں بہت سے نائٹ کلب اور شراب خانے موجود ہیں۔

نائٹ لائف کے لیے سب سے مشہور علاقہ دریائے لفی کے جنوب میں واقع ٹیمپل بار ہے۔ یہ علاقہ سیاحوں کے لیے بہت مقبول ہے، بشمول برطانیہ سے آنے کی اسٹیگ اور ہین پارٹیوں کے لیے۔ [126] یہ علاقہ ڈبلن کا ثقافتی محلہ بن چکا ہے جہاں چھوٹے فن پروڈکشن، فوٹو گرافی اور فنکاروں کے اسٹوڈیوز کے لیے ایک مرکز کی حیثیت رکھتا ہے، اس کے علاوہ سڑک کے فنکاروں اور معمولی موسیقی کے کئی مقامات یہاں موجود ہیں۔ تاہم لونلی پلینٹ نے اسے مہنگا ہونے، غلط اور گندا ہونے کی وجہ سے تنقید کی ہے۔ [127] لیسن اسٹریٹ، ہارکورٹ اسٹریٹ، جنوبی ولیم اسٹریٹ اور کیمڈن/جارج اسٹریٹ نائٹ لائف کے لیے مقامی لوگوں میں بہت مقبول ہیں۔

موسیقی[ترمیم]

لائیو موسیقی ڈبلن بھر میں عام سڑکوں پر ہوتی ہے، شہر نے کئی موسیقار اور گروپ جنہیں بین الاقوامی کامیابی ملی تیار کیے ہیں، جن میں دی ڈبلینرز، تھین لیزی، دہ بوم ٹاؤن ریٹس، یو ٹو، دی اسکرپٹ، شنیڈ اوکانر، بوائے زون، کوڈا لائن اور ویسٹ لائف مشہور ہیں۔

سنیما[ترمیم]

شہر کے مرکز میں دو مشہور سینما سیوئی سنیما اور سنے ورلڈ ہیں یہ دونوں دریائے لفی کے شمال میں واقع ہیں۔ متبادل اور خصوصی دلچسپی سنیما آئرش فلم انسٹی ٹیوٹ ٹیمپل بار کے علاقے میں اور لائٹ ہاؤس سنیما سمتھ فیلڈ کے علاقے میں واقع ہیں۔ بڑے جدید کثیر اسکرین سینما ڈبلن کے مضافاتی علاقوں میں واقع ہیں۔ 3 ایرینا ڈبلن ڈاک لینڈز کے علاقے میں واقع ہے جو دنیا کے معروف فنکاروں کا میزبان رہا ہے۔

فلمیں[ترمیم]

ڈبلن میں کئی فلموں کی عکس بندی کی گئی ہے۔ مندرجہ ذیل ڈبلن کے پس منظر میں بننے والی فلموں کی ایک فہرست ہے۔

خریداری[ترمیم]

مور اسٹریٹ مارکیٹ

نئے خریداری انداز کی ترقی اور کچھ روایتی خریداری مراکز کے خاتمے کے باوجود شہر میں اب بھی مستحکم خریداری ثقافت قائم ہے۔ کئی تاریخی مقامات میں مور اسٹریٹ شہر کے قدیم ترین تجارتی اضلاع میں سے ہے۔ [128] مقامی کسانوں کے بازاروں اور دیگر بازاروں میں بھی کچھ ترقی ہوئی ہے۔ [129][130] 2007ء میں ڈبلن فوڈ کو-آپ نے اپنا گودام دی لبرٹیز علاقہ میں منتقل کر دیا جہاں یہ خریداری اور سماجی تقریبات کا گھر ہے۔ [131][132] مضافاتی ڈبلن میں کئی جدید خریداری مراکز ہیں جن میں ڈنڈرم میں ڈنڈرم ٹاؤن سینٹر، بلینچرڈس ٹاؤن میں بلینچرڈس ٹاؤن سینٹر، تآلا میں دی اسکوائر، کلونڈالکن میں لفی ویلی شاپنگ سینٹر، سانٹری میں اومنی پارک سینٹر، ریتھفارنہم میں نٹگروو شاپنگ سینٹر اور سورڈز میں سورڈز پیویلین شامل ہیں۔

ڈبلن شہر مقامی اور سیاحوں دونوں کے لیے ایک مقبول خریداری مرکز ہے۔ شہر میں متعدد خریداری اضلاع ہیں خاص طور پر گرافٹن اسٹریٹ اور ہینری اسٹریٹ کے قریبی علاقوں میں۔ شہر کے مرکز میں بھی بڑی تعداد میں اسٹورز موجود ہیں۔

گرافٹن اسٹریٹ[ترمیم]

گرافٹن اسٹریٹ ڈبلن شہر کے مرکز میں دو بنیادی سڑک میں سے ایک ہے جبکہ دوسری ہینری اسٹریٹ ہے۔ گرافٹن اسٹریٹ جنوب میں سینٹ اسٹیون گرین سے شروع ہو کر شمال میں کالج گرین تک جاتی ہے۔ 2008ء میں گرافٹن اسٹریٹ دنیا کی پانچویں سب سے زیادہ مہنگی اہم شاپنگ سڑک تھی جو 5621 یورو فی مربع میٹر فی سال تھی۔ [133] مولی مالون کا مجسمہ بھی یہیں واقع ہے۔

ہینری اسٹریٹ[ترمیم]

ہینری اسٹریٹ

ہینری اسٹریٹ نارتھ سائیڈ، ڈبلن میں واقع ہے۔ یہ شہر کے مرکز میں دو بنیادی خریداری مراکز میں سے ایک ہے جبکہ دوسرا گرافٹن اسٹریٹ ہے۔ حلزونہ ڈبلن یہیں واقع ہے۔ 1980ء کے دہائی سے سڑک زیادہ تر پیدل چلنے والوں کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ سالانہ اندازہً 33 ملین افراد ہینری سٹریٹ پر آتے ہیں۔ یہاں اعلیٰ درجے کے ڈپارٹمنٹ اسٹورز موجود ہیں۔ مشہور بیرونی غذائی مارکیٹ مور اسٹریٹ بھی اس کے قریب ہی واقع ہے۔

میڈیا اور مواصلات[ترمیم]

رادیو تیلیفیش ایرن
سیٹینٹا اسپورٹس

رادیو تیلیفیش ایرن[ترمیم]

رادیو تیلیفیش ایرن (آئرلینڈ کا ریڈیو ٹیلی ویژن; مخفف آر ٹی ای) ایک نیم ریاستی کمپنی اور جمہوریہ آئرلینڈ کی قومی عوامی خدمات ناشر ہے۔ یہ پروگراموں کو تیار اور ٹیلی ویژن، ریڈیو اور انٹرنیٹ پر نشر کرتا ہے۔ ریڈیو سروس 1 جنوری 1926ء کو شروع ہوئی [134] جبکہ باقاعدہ ٹیلی ویژن نشریات 31 دسمبر 1961ء سے شروع ہوئیں، [135] جو اسے دنیا میں سب سے قدیم مسلسل عوامی خدمت ناشر بناتا ہے۔

ٹی وی چینل[ترمیم]

شہر میں ٹی وی 3 میڈیا، یو ٹی وی آئرلینڈ، سیٹینٹا اسپورٹس، ایم ٹی وی آئرلینڈ اور اسکائی نیوز کے اسٹیشن قائم ہیں۔

ڈاک[ترمیم]

ان پوست (آئرش: An Post) (آئرش تلفظ: [ən̪ˠ pˠɔsˠt̪ˠ]; اردو لفظی ترجمہ: "ڈاک") جمہوریہ آئرلینڈ میں ریاستی ملکیت ڈاک خدمات فراہم کنندہ کپنی ہے۔ محکمہ ڈاک کا صدر دفتر جنرل پوسٹ آفس، ڈبلن میں واقع ہے۔

ڈبلن ڈاک اضلاع[ترمیم]
ڈبلن میں اسٹریٹ کے نام کی پلیٹ، نمبر ڈبلن ڈاک ضلع کی نشاندہی کرتا ہے
ڈی 4 ہوٹل

ڈاک کی ترسیل کے لیے ڈبلن کو اضللاع میں تقسیم کیا گیا ہے۔ ڈبلن ڈاک اضلاع جمہوریہ آئرلینڈ کے ڈاک نظام ان پوست میں استعمال کیے جاتے ہیں۔ یہ نئے قومی پوسٹ کوڈ کے نظام میں شامل کر دیے گئے جو 2015ء میں مکمل طور پر لاگو کر دیا گیا تھا۔ [136] نئے نظام کے تحت ڈبلن علاقہ کو اصل علاقوں ڈی01 سے ڈی24 تک شامل کیا گیا ہے۔

موجودہ دور میں ڈاک اضلاع مارکیٹنگ نظام میں شہر کے کسی حصے کی نشان دہی کے لیے بھی استعمال ہو رہے ہیں۔

ڈبلن ڈاک اضلاع
نارتھ سائیڈ، مقامی حکومت کے علاقے    ساوتھ سائیڈ، مقامی حکومت کے علاقے
ڈبلن 1 (D1) ڈبلن ڈبلن 2 (D2) ڈبلن
ڈبلن 3 (D3) ڈبلن ڈبلن 4 (D4) ڈبلن، ڈون لاری ریتھڈاون
ڈبلن 5 (D5) ڈبلن ڈبلن 6 (D6) ڈبلن، ڈون لاری ریتھڈاون
ڈبلن 7 (D7) ڈبلن ڈبلن 6W (D6W) ڈبلن، جنوبی ڈبلن
ڈبلن 9 (D9) ڈبلن ڈبلن 8 (D8) ڈبلن
ڈبلن 11 (D11) ڈبلن، فینگال ڈبلن 10 (D10) ڈبلن
ڈبلن 13 (D13) ڈبلن، فینگال ڈبلن 12 (D12) ڈبلن
ڈبلن 15 (D15) فینگال ڈبلن 14 (D14) ڈبلن، ڈون لاری–ریتھڈاون، جنوبی ڈبلن
ڈبلن 17 (D17) ڈبلن، فینگال ڈبلن 16 (D16) ڈون لاری–ریتھڈاون، جنوبی ڈبلن
ڈبلن 18 (D18) ڈون لاری–ریتھڈاون
ڈبلن 20 (D20) ڈبلن، جنوبی ڈبلن
ڈبلن 22 (D22) جنوبی ڈبلن
ڈبلن 24 (D24) جنوبی ڈبلن
"کاؤنٹی ڈبلن"; فینگال، جنوبی ڈبلن، ڈون لاری–ریتھڈاون اور چھوٹے علاقے کاؤنٹی میدھ

ریڈیو[ترمیم]

ٹوڈے ایف ایم

آر ٹی ای ریڈیو کے میزبان ہونے کے علاوہ ڈبلن میں کئی قومی ریڈیو نیٹ ورک بھی موجود ہیں جن میں ٹوڈے ایف ایم اور نیوز ٹاک اور مقامی سٹیشن شامل ہیں۔ شہر میں واقع تجارتی ریڈیو اسٹیشنوں میں 4 ایف ایم (94.9 میگا ہرٹز)، ڈبلن 98 ایف ایم (98.1 میگا ہرٹز)، ریڈیو نووا 100 ایف ایم (100.3 میگا ہرٹز)، کیو 102 (102.2 میگا ہرٹز)، اسپین 1038 (103.8 میگا ہرٹز)، ایف ایم 104 (104.4 میگا ہرٹز)، سنشائن 106،8 (106.8 میگا ہرٹز) شامل ہیں۔

متعدد کمیونٹی اور خصوصی دلچسپی اسٹیشنز بھی موجود ہیں جن میں ڈبلن سٹی ایف ایم (103.2 میگا ہرٹز)، ڈبلن ساوتھ ایف ایم (93.9 میگا ہرٹز)، لفی ساؤنڈ ایف ایم (96.4 میگا ہرٹز)، نیئر ایف ایم (90.3 میگا ہرٹز) اور رادیو نا لائف (106.4 میگا ہرٹز) قابل ذکر ہیں۔

مواصلات[ترمیم]

ڈبلن میں فعال ٹیلی مواصلات کمپنیوں میں ایئر، میٹیور، ووڈافون شامل ہیں۔

اخبارات[ترمیم]

آئرش ٹائمز اور آئرش انڈیپینڈینٹ قومی اخبارات ہیں جن کا صدر دفتر ڈبلن میں واقع ہے جبکہ کئی مقامی اخبارات مثلاً دی ایونینگ ہیرالڈ بھی یہاں سے شائع ہوتے ہیں۔

کھیل[ترمیم]

کروک پارک[ترمیم]

کروک پارک

کروک پارک جمہوریہ آئرلینڈ کا سب سے بڑا اسٹیڈیم ہے۔ یہ گیلک ایتھلیٹک ایسوسی ایشن کا صدر دفتر بھی ہے۔ اس میں 82,300 لوگوں کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔ یہ برشلونہ کے کیمپ نو اور لندن کے ویمبلی اسٹیڈیم کے بعد یورپ کا تیسرا بڑا اسٹیڈیم ہے۔ [137] 1972ء میں محمد علی کا مقابلہ یہیں منعقد ہوا تھا۔ یہ ء2003 کے خصوصی اولمپکس کی افتتاحی اور اختتامی تقریبوں کا میزبان بھی تھا۔ اس میں کانفرنس اور ضیافت کی سہولیات بھی موجود ہیں۔ لینسڈاؤن روڈ کی تعمیر نو کے وقت کروک پارک آئرش رگبی یونین ٹیم اور آئرلینڈ قومی فٹ بال ٹیم کا میزبان بھی رہا۔ [138]

گیلک ایتھلیٹک ایسوسی ایشن[ترمیم]

گیلک ایتھلیٹک ایسوسی ایشن ایک آئرش بین الاقوامی شوقیہ کھیلوں اور ثقافتی تنظیم ہے، جس کی توجہ مقامی گیلک کھیلوں کے فروغ پر مرکوز ہے، [139] جس میں روایتی آئرش کھیل، کیموگی، کیلک فٹ بال، گیلک ہینڈ بال اور راؤنڈز وغیرہ شامل ہیں۔ تنظیم آئرش موسیقی اور رقص اور آئرش زبان کو بھی فروغ دیتی ہے۔

رگبی[ترمیم]

اویوا اسٹیڈیم

لینسڈاؤن روڈ اسٹیڈیم 1874ء میں تعمیر ہوا۔ لینسڈاؤن روڈ ڈبلن میں ایک اسٹیڈیم تھا جو آئرش رگبی فٹ بال یونین کی ملکیت تھا۔ یہ بنیادی طور پر رگبی یونین اور ایسوسی ایشن فٹ بال کے میچوں کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ 2007ء میں اسے منہدم کر کے نیا اویوا اسٹیڈیم تعمیر کیا گیا جس کا افتتاح 2010ء میں ہوا۔ [140][141] اسٹیڈیم کا نام اس سے ملحقہ سڑک سے لیا گیا ہے۔

اویوا اسٹیڈیم "2011ء یو ای ایف اے یوروپا لیگ فائنل" کا میزبان تھا۔ [141] رگبی یونین کی ٹیم لینسٹر رگبی اپنے میچ اویوا اسٹیڈیم میں کھیلتی ہے۔ اس کے علاوہ دیگر کھیلوں کے مقابلے بھی یہاں منعقد ہوتے ہیں۔ [142]

فٹ بال[ترمیم]

کاؤنٹی ڈبلن آئرلینڈ لیگ کی چھ ٹیموں کا گھر ہے۔ تآلا اسٹیڈیم تآلا، جنوبی ڈبلن، جمہوریہ آئرلینڈ میں ایک ایسوسی ایشن فٹ بال اسٹیڈیم ہے جہاں فٹ بال کے زیادہ تر میچ منعقد ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ تولکا پارک اور کارلائل گراؤنڈز بھی فٹ بال کے میچوں کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔

کرکٹ[ترمیم]

ڈبلن میں دو ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ کے میدان موجود ہیں ایک کلونٹارف کرکٹ کلب گراؤنڈ اور دوسرا میلاہائڈ کرکٹ کلب ہے۔ کلونٹارف کرکٹ کلب گراؤنڈ میں پہلا ایک روزہ بین الاقوامی کرکٹ میچ 21 مئی 1999ء کو منعقد ہوا جو کرکٹ عالمی کپ 1999ء کا حصہ تھا۔ یہ بنگلہ دیش قومی کرکٹ ٹیم اور ویسٹ انڈیز کرکٹ ٹیم کے مابین کھیلا گیا

کالج پارک ٹرنیٹی کالج، ڈبلن، جمہوریہ آئرلینڈ میں ایک کرکٹ کا میدان ہے۔ 2000ء میں یہاں آئرلینڈ خواتین کرکٹ ٹیم اور پاکستان خواتین کرکٹ ٹیم کے مابین ایک ٹیسٹ کرکٹ میچ کھیلا گیا۔ [143]

دیگر[ترمیم]

1980ء سے ڈبلن میراتھن میراتھن کا ایک سالانہ 26.2 میل (42.2 کلو میٹر) طویل مقابلہ ہے جو ڈبلن، جمہوریہ آئرلینڈ میں ہر سال اکتوبر کے آخری اتوار کو منعقد ہوتا ہے۔ 1983ء سے ڈبلن خواتین منی میراتھن بھی جون کے پہلے پیر کو منعقد ہوتی ہے۔ [144]

شیلبورن پارک ڈبلن کے مضافاتی علاقے رنگسینڈ میں ایک گرے ہاؤنڈ ڈور کا اسٹیڈیم ہے۔ لیپیرڈس ٹاؤن ریس کورس لیپیرڈس ٹاؤن، ڈون لاری–ریتھڈاون میں ڈبلن شہر سے 8 کلومیٹر جنوب میں واقع ایک آئرش گھڑ دوڑ کا مقام ہے۔

نیشنل اسٹیڈیم خاص طور پر باکسنگ کے لیے بنایا جانے والا قومی اسٹیڈیم ہے۔ باسکٹ بال کے لیے نیشنل باسکٹ بال ارینا تآلا، جنوبی ڈبلن میں موجود ہے۔ [145][146][147][148][149] نیشنل آکواٹک سینٹر بلینچرڈس ٹاؤن، ڈبلن، جمہوریہ آئرلینڈ میں ایک اندورن در آبی مرکز ہے۔

آئرش زبان[ترمیم]

آئرش میڈیم اسکول

جمہوریہ آئرلینڈ کی دفتری زبانیں آئرش اور انگریزی ہیں، جبکہ قومی زبان آئرش ہے۔ ڈبلن علاقے میں 34 آئرش زبان کے پرائمری اسکولوں اور 10 آئرش زبان کے ثانوی اسکولوں میں 12،950 طالب علم زیر تعلیم ہیں۔ [150] ڈبلن ئرش-میڈیم اسکولوں کی تعداد ملک میں سب سے زیادہ ہے۔

دو آئرش زبان کے ریڈیو اسٹیشنوں کے اسٹوڈیو شہر میں موجود ہیں۔ شہر میں بہت سے دیگر ریڈیو اسٹیشن فی ہفتہ ایک گھنٹہ آئرش زبان کے پروگرام نشر کرتے ہیں۔ دار الحکومت میں آئرش زبان کے اداروں کی ایک بڑی تعداد بھی موجود ہے۔

جڑواں شہر[ترمیم]

ڈبلین مندرجہ ذیل جڑواں شہر ہیں۔ [42][151]

شہر قوم تاریخ
سان ہوزے، کیلیفورنیا ریاستہائے متحدہ[152] 1986
لیورپول مملکت متحدہ[153] 1986
برشلونہ ہسپانیہ[154][155] 1998
بیجنگ چین[156][157] 2011
ایمیٹسبرگ، آئیووا ریاستہائے متحدہ 1961

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Dublin City Council, Dublin City Coat of Arms"۔ Dublincity.ie۔ اخذ کردہ بتاریخ 29 اگست 2015۔ 
  2. "Ireland: Cities & Legal Towns"۔ City Population۔ اخذ کردہ بتاریخ 7 اکتوبر 2016۔ 
  3. "Census of Population 2011"۔ Preliminary Results۔ Central Statistics Office۔ 30 جون 2011۔ صفحہ 21۔ اصل سے جمع شدہ 14 نومبر 2012 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ 25 مئی 2013۔ 
  4. "Census of Population 2011"۔ Population Density and Area Size by Towns by Size, Census Year and Statistic۔ Central Statistics Office۔ اپریل 2012۔ اخذ کردہ بتاریخ 30 مارچ 2014۔ 
  5. گریٹر ڈبلن علاقہ
  6. "Census of Population 2016"۔ Profile 1 – Geographical distribution۔ Central Statistics Office۔ 6 اپریل 2017۔ صفحہ 15۔ اخذ کردہ بتاریخ 6 اپریل 2017۔ 
  7. ^ ا ب "Global city GDP 2014"۔ Brookings Institution۔ اخذ کردہ بتاریخ 18 نومبر 2014۔ 
  8. "Dublin – Placename database of Ireland"۔ اخذ کردہ بتاریخ 15 جنوری 2018۔ 
  9. "The Growth and Development of Dublin" (PDF)۔ اصل سے جمع شدہ 30 مارچ 2013 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ 30 دسمبر 2010۔ 
  10. "Primate City Definition and Examples"۔ اخذ کردہ بتاریخ 21 اکتوبر 2009۔ 
  11. "Census of Population 2016"۔ Profile 1 – Geographical distribution۔ Central Statistics Office۔ 6 اپریل 2017۔ صفحہ 15۔ اخذ کردہ بتاریخ 6 اپریل 2017۔ 
  12. "Sapmap Area – NUTS III – Dublin Region"۔ Census 2016۔ Central Statistics Office۔ 2016۔ اخذ کردہ بتاریخ 16 جنوری 2018۔ 
  13. "Population Distribution – CSO – Central Statistics Office" (en زبان میں)۔ اخذ کردہ بتاریخ 2018-02-04۔ 
  14. ^ ا ب David Dickson (2014)۔ Dublin The Making of a Capital City۔ Profile Books Ltd.۔ صفحات x۔ آئی ایس بی این 978-0-674-74444-8۔ 
  15. "Global Financial Centres Index 8" (PDF)۔ اخذ کردہ بتاریخ 30 دسمبر 2010۔ 
  16. "The World According to GaWC 2008"۔ Globalization and World Cities Research Network: Loughborough University۔ 3 جون 2009۔ اخذ کردہ بتاریخ 6 نومبر 2009۔ 
  17. "Placenames Database of Ireland: Duibhlinn/Devlin"۔ اخذ کردہ بتاریخ 13 ستمبر 2013۔ 
  18. "Placenames Database of Ireland: Béal Duibhlinne/Ballydivlin"۔ اخذ کردہ بتاریخ 13 ستمبر 2013۔ 
  19. "Placenames Database of Ireland: Duibhlinn/Difflin"۔ اخذ کردہ بتاریخ 13 ستمبر 2013۔ 
  20. Alfred Holder (1896)۔ Alt-celtischer sprachschatz (German زبان میں)۔ Leipzig: B. G. Teubner۔ col.1393۔ اخذ کردہ بتاریخ 7 نومبر 2014۔ 
  21. Clarke, Howard (1995)۔ Medieval Dublin, the making of a metropolis. Irish Academic Press. p. 44. ISBN 978-0716524595
  22. ^ ا ب Norman Davies (1999)۔ The Isles: a history۔ London: Macmillan۔ صفحہ 1222۔ آئی ایس بی این 0-333-76370-X۔ 
  23. ^ ا ب David Dickson (2014)۔ Dublin The Making of a Capital City۔ Profile Books Ltd.۔ صفحہ 10۔ آئی ایس بی این 978-0-674-74444-8۔ 
  24. Poul Holm (1989)۔ The Slave Trade of Dublin, Ninth To Twelfth Centuries۔ PERITIA: Journal of the Medieval Journal of Ireland۔ صفحات x۔ 
  25. Poul Holm (1989)۔ The Slave Trade of Dublin, Ninth To Twelfth Centuries۔ PERITIA: Journal of the Medieval Journal of Ireland۔ صفحہ 335۔ "the very idea of the taking of prisoners of war spread to the Irish [from the Vikings] in the tenth century" 
  26. ^ ا ب "A Brief History of Dublin, Ireland"۔ Dublin.info۔ اخذ کردہ بتاریخ 19 اگست 2011۔ 
  27.  "Fitzhenry, Meilerلغت برائے عوامی سوانح نگاری۔ London: Smith, Elder & Co۔ 1885–1900 
  28. "The Story of Ireland"۔ Brian Igoe (2009)۔ p.49.
  29. "Black Death"۔ Joseph Patrick Byrne (2004)۔ p.58. ISBN 0-313-32492-1
  30. ^ ا ب پ "A Brief History of Dublin"۔ visitingdublin۔ اخذ کردہ بتاریخ 19 اگست 2011۔ 
  31. "Dublin: a cultural history"۔ Siobhán Marie Kilfeather (2005)۔ Oxford University Press US۔ pp. 34–35. ISBN 0-19-518201-4
  32. Stones of Dublin۔ Collins Press۔ 2014۔ آئی ایس بی این 978-1-84889-872-1۔ "[Guinness] was Dublin's largest brewery in 1810, Ireland's largest in 1833, and the largest in the world by 1914. Guinness was also the city's largest employer" 
  33. "St James's Gate: a brief history"۔ Irish Times۔ 16 اپریل 2004۔ اخذ کردہ بتاریخ 17 جون 2018۔ "[in] 1886 Guinness [was] officially the biggest brewery in the world with an annual production of 1.2 million barrels. [And, by] 1906 the workforce exceeds 3,200; some 10,000 are directly dependent on the brewery for their livelihood – one in thirty of Dublin's population" 
  34. F.S.L. Lyons (1973)۔ Ireland since the famine۔ Suffolk: Collins / Fontana۔ صفحہ 880۔ آئی ایس بی این 0-00-633200-5۔ 
  35. ^ ا ب "Dublin Economic Monitor – اکتوبر 2017"۔ issuu۔ اخذ کردہ بتاریخ 14 دسمبر 2017۔ 
  36. Irish Statute Book۔ Local Government (Dublin) Act
  37. "Irish statute book, Local Government Provisional Order Confirmation Act, 1953"۔ Irishstatutebook.ie۔ 28 مارچ 1953۔ اخذ کردہ بتاریخ 13 ستمبر 2013۔ 
  38. "Local Elections 2014"۔ Dublin City Council۔ اصل سے جمع شدہ 15 جولائی 2014 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ 13 جولائی 2014۔ 
  39. Department of the Taoiseach: Guide to Government Buildings (2005)
  40. "Constituency Commission Report 2012"۔ Constituency Commission۔ اخذ کردہ بتاریخ 22 جولائی 2014۔ 
  41. "The TDs elected to the 32nd Dáil so far"۔ Newstalk۔ اخذ کردہ بتاریخ 12 مئی 2013۔ 
  42. ^ ا ب "Dublin City Council: Facts about Dublin City"۔ Dublin City Council۔ اخذ کردہ بتاریخ 8 جولائی 2014۔ 
  43. "Final Characterisation Report" (PDF)۔ Eastern River Basin District۔ Sec. 7: Characterisation of the Liffey Catchment Area۔ اخذ کردہ بتاریخ 10 نومبر 2014۔ 
  44. "Northside vs Southside"۔ Wn.com۔ 25 فروری 2009۔ اخذ کردہ بتاریخ 13 ستمبر 2013۔ 
  45. "Dublin – A Vibrant City – Quarters"۔ VisitDublin.com۔ اخذ کردہ بتاریخ 22 فروری 2017۔ 
  46. "Dublin launches new 'Creative Quarter' for city centre"۔ TheJournal.ie۔ 11 مارچ 2012۔ اخذ کردہ بتاریخ 22 فروری 2017۔ 
  47. "Welcome to medieval quarter"۔ Independent News & Media۔ 12 اکتوبر 2006۔ اخذ کردہ بتاریخ 22 فروری 2017۔ 
  48. "Dublin Town – Creative Quarter – DublinTown – What's On, Shopping & Events in Dublin City – Dublin Town"۔ What's On, Shopping & Events in Dublin City – Dublin Town۔ اخذ کردہ بتاریخ 13 نومبر 2016۔ 
  49. "Temperature – Climate – Met Éireann – The Irish Meteorological Service Online"۔ Met.ie۔ 2 جنوری 1979۔ اخذ کردہ بتاریخ 20 اگست 2010۔ 
  50. "Climatology details for station DUBLIN (RINGSEND)، IRELAND and index RR: Precipitation sum"۔ European Climate Assessment & Dataset۔ اخذ کردہ بتاریخ 21 دسمبر 2012۔ 
  51. "Smoky coal ban"۔ Department of Communications, Climate Action and Environment۔ اخذ کردہ بتاریخ 1 جنوری 2018۔ 
  52. ^ ا ب "How the coal ban dealt with Dublin's burning issue"۔ Irish Times۔ 26 ستمبر 2015۔ اخذ کردہ بتاریخ 22 فروری 2017۔ 
  53. Clancy، L.; Goodman، P.; Sinclair، H; Dockery، D. (2002). "Effect of air-pollution on death rates in Dublin Ireland: an intervention study.". The Lancet. doi:10.1016/S0140-6736(02)11281-5. http://www.thelancet.com/journals/lancet/article/PIIS0140-6736(02)11281-5/fulltext. 
  54. "Climatological Information for Merrion Square, Ireland"۔ European Climate Assessment & Dataset۔ 
  55. "Dublin Airport 1981–2010 averages"۔ Met Éireann۔ اخذ کردہ بتاریخ 13 اکتوبر 2016۔ 
  56. ^ ا ب پ "Absolute Maximum Air Temperatures for each Month at Selected Stations"۔ Met Éireann۔ اخذ کردہ بتاریخ 13 اکتوبر 2016۔ 
  57. ^ ا ب پ "Absolute Minimum Air Temperatures for each Month at Selected Stations"۔ Met Éireann۔ اخذ کردہ بتاریخ 13 اکتوبر 2016۔ 
  58. "Casement Airport 1981–2010 averages"۔ Met Éireann۔ اخذ کردہ بتاریخ 13 اکتوبر 2016۔ 
  59. Denis McCarthy (2004)۔ Dublin Castle: at the heart of Irish History۔ Dublin: Irish Government Stationery Office۔ صفحات 12–18۔ آئی ایس بی این 0-7557-1975-1۔ 
  60. "Spire cleaners get prime view of city"۔ Irish Independent۔ 5 جون 2007۔ اخذ کردہ بتاریخ 5 جون 2007۔ 
  61. "The Dublin Spire"۔ Archiseek۔ 2003۔ اخذ کردہ بتاریخ 20 اکتوبر 2011۔ 
  62. "Guinness Storehouse tops list of most visited attractions"۔ Irish Times۔ 26 جولائی 2013۔ 
  63. "Some Famous Landmarks of Dublin – Dublin Hotels & Travel Guide"۔ Traveldir.org۔ 8 مارچ 1966۔ اخذ کردہ بتاریخ 16 ستمبر 2011۔ 
  64. "Áras an Uachtaráin"۔ 
  65. "Easter Rising – Day 1: Rebels on the streets"۔ The Irish Times (en-US زبان میں)۔ اخذ کردہ بتاریخ 2018-06-25۔ 
  66. "Dublin City Parks"۔ Dublin City Council۔ اخذ کردہ بتاریخ 1 ستمبر 2015۔ 
  67. It is larger than all of London’s city parks put together, and more than twice the area of New York’s Central Park. "The Phoenix Park Visitor Guide"۔ Office of Public Works۔ اخذ کردہ بتاریخ 1 جنوری 2018۔ 
  68. "Outline History of Áras an Uachtaráin"۔ Áras an Uachtaráin۔ اخذ کردہ بتاریخ 7 جنوری 2013۔ 
  69. "Richest cities in the world by purchasing power in 2009"۔ City Mayors۔ اخذ کردہ بتاریخ 17 جون 2010۔ 
  70. "Richest cities in the world by personal earnings in 2009"۔ Citymayors.com۔ 22 اگست 2009۔ اخذ کردہ بتاریخ 17 جون 2010۔ 
  71. "Dublin falls in city-cost rankings"۔ Irish Times۔ 12 جولائی 2011۔ اخذ کردہ بتاریخ 20 جولائی 2011۔ 
  72. سانچہ:PDFWayback "Archived copy"۔ اصل سے جمع شدہ 7 فروری 2012 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ 2013-03-30۔ 
  73. "I.F.S.C"۔ I.F.S.C.ie۔ 21 جون 2010۔ اخذ کردہ بتاریخ 21 جنوری 2010۔ 
  74. Colm Kelpie (23 مارچ 2016)۔ "Revealed: Dublin ranked worse than London or Paris for road congestion"۔ The Irish Independent۔ اخذ کردہ بتاریخ 20 دسمبر 2016۔ 
  75. "TomTom Traffic Index"۔ TomTom۔ اخذ کردہ بتاریخ 20 دسمبر 2016۔ 
  76. "Dublin Bus customer numbers reach 10 year high of almost 140 million in 2017 – Dublin Bus"۔ www.dublinbus.ie (en زبان میں)۔ اخذ کردہ بتاریخ 11 جنوری 2018۔ 
  77. CIE annual report which names the station as "Heuston Station"۔
  78. "Dublin Connolly railway station"۔ 
  79. "Passenger Journeys by Rail by Type of Journey and Year – StatBank – data and statistics"۔ اخذ کردہ بتاریخ 20 اپریل 2016۔ 
  80. ^ ا ب "Frequently Asked Questions"۔ Luas۔ اصل سے جمع شدہ 2012-01-03 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ 1 جولائی 2013۔ 
  81. "Over 32 million passenger trips made on Luas in 2014 » Inside Ireland"۔ insideireland.ie۔ 9 اپریل 2015۔ اصل سے جمع شدہ 9 اپریل 2015 کو۔ 
  82. "37.6 million passengers were carried in 2017"۔ اصل سے جمع شدہ 11 اپریل 2017 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ 10 اپریل 2017۔ 
  83. "Over 32 million passenger trips made on Luas in 2014 » Inside Ireland"۔ insideireland.ie۔ 9 اپریل 2015۔ اصل سے جمع شدہ 9 اپریل 2015 کو۔ 
  84. Aoife Carr (12 دسمبر 2011)۔ "Integrated ticketing card launched"۔ The Irish Times۔ اخذ کردہ بتاریخ 1 جنوری 2012۔ 
  85. https://about.leapcard.ie/fare-capping
  86. "53 – Dublin Bus"۔ dublinbus.ie۔ 
  87. "Dublin Airport"۔ 
  88. ^ ا ب ائیرپورٹس ڈیٹا بیس
  89. Barry O'Halloran (25 اگست 2016)۔ "Ryanair carries more international passengers than any other airline"۔ Irish Times۔ اخذ کردہ بتاریخ 2 اپریل 2017۔ 
  90. "Aer Arann Contact Information وثق شدہ بتاریخ 2010-08-21 در وے بیک مشین۔" Aer Arann. Retrieved on 12 نومبر 2009.
  91. "Cycling Maps"۔ Dublincitycycling.ie۔ اخذ کردہ بتاریخ 13 ستمبر 2013۔ 
  92. "Copenhagenize Consulting – Copenhagenize Index of Bicycle-Friendly Cities 2011"۔ Copenhagenize.eu۔ اخذ کردہ بتاریخ 13 ستمبر 2013۔ 
  93. "Copenhagenize Consulting – Copenhagenize Index of Bicycle-Friendly Cities 2011"۔ Copenhagenize.eu۔ اخذ کردہ بتاریخ 3 جولائی 2017۔ 
  94. "Dublin's long-awaited wheel deal on track for ستمبر roll-out"۔ The Irish Times۔ 13 جون 2009۔ اخذ کردہ بتاریخ 10 مارچ 2010۔ 
  95. "2,000 join Dublin bicycle scheme"۔ Raidió Teilifís Éireann۔ 13 ستمبر 2009۔ اخذ کردہ بتاریخ 10 مارچ 2010۔ 
  96. "Deal agreed to increase Dublin bicycles service"۔ The Irish Times۔ 11 مئی 2013۔ اخذ کردہ بتاریخ 11 مئی 2013۔ 
  97. "ESOF Dublin"۔ EuroScience۔ 2012۔ اصل سے جمع شدہ 8 ستمبر 2015 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ 29 اگست 2015۔ 
  98. John Walshe (25 نومبر 2008)۔ "Celebrations and hard work begin after capital lands science 'Olympics' for 2012"۔ Irish Independent۔ اخذ کردہ بتاریخ 17 جون 2010۔ 
  99. "History of the NUI"۔ اخذ کردہ بتاریخ 3 جولائی 2015۔ 
  100. "DIT makes 'top100' for up-and-coming third-level institution"۔ Irish Times۔ 30 اپریل 2014۔ 
  101. Jimmie Robinson (2007)۔ From Certificates to Doctorates,by Degrees; Dublin Institute of Technology – a Photographic Memoir.۔ آئی ایس بی این 978-1-84218-143-0۔ 
  102. "DIT opens new campus in Grangegorman to first students"۔ Irish Independent۔ 10 ستمبر 2014۔ 
  103. "DCU incorporation of CICE, St Pats and Mater Dei"۔ DCU۔ 2014۔ اخذ کردہ بتاریخ 5 مئی 2016۔ 
  104. Dublin delineated in twenty-six views, etc۔ Dublin: G. Tyrrell, 1937. p. 49.
  105. http://www.cso.ie/px/pxeirestat/Statire/SelectVarVal/define.asp?MainTable=E7050&ProductID=DB_E7&PLanguage=0&Tabstrip=&PXSId=0&SessID=7827795&FF=1&tfrequency=1
  106. Call for improved infrastructure for Dublin 2 اپریل 2007
  107. "Dublin heralds a new era in publishing for immigrantsThe Guardian 12 مارچ 2006.
  108. Foreign nationals now 10% of Irish population 26 جولائی 2007
  109. "Dublin"۔ OPENCities, a British Council project. "Archived copy"۔ اصل سے جمع شدہ 30 مارچ 2013 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ 2016-02-05۔ 
  110. Catholic Church's Hold on Schools at Issue in Changing Ireland The New York Times، 21 جنوری 2016
  111. http://airo.maynoothuniversity.ie/external-content/dublin-city
  112. "2011 Census Sample Form" (PDF)۔ Central Statistics Office۔ صفحہ 4, q.12۔ اخذ کردہ بتاریخ 15 اکتوبر 2017۔ ; "Census 2016 Sample Form" (PDF)۔ Central Statistics Office۔ صفحہ 4, q.12۔ اخذ کردہ بتاریخ 15 اکتوبر 2017۔ 
  113. "Change in Religion"۔ 
  114. http://impic.ie/
  115. https://islamireland.ie/
  116. http://www.islamiccentre.ie/
  117. http://islamicfoundation.ie/
  118. Marist Fathers – Society of Mary in Ireland وثق شدہ بتاریخ 2009-05-27 در وے بیک مشین
  119. https://www.salatomatic.com/spc/Dublin/Anwar-e-Madina/xmVCG7MXm8
  120. https://moovitapp.com/index/en/public_transit-Tallaght_Mosque-Ireland-site_26296277-502
  121. https://www.halaltrip.com/mosque-details/4704/lucan-islamic-centre/
  122. Irish Independent – Delight at City of Literature accolade for Dublin۔ Retrieved 26 جولائی 2010.
  123. "National Museum of Ireland"۔ Museum.ie۔ 8 جون 2010۔ اخذ کردہ بتاریخ 17 جون 2010۔ 
  124. "The Irish Experience"۔ The Irish Experience۔ اخذ کردہ بتاریخ 17 جون 2010۔ 
  125. "Dublin Guide, Tourist Information, Travel Planning, Tours, Sightseeing, Attractions, Things to Do"۔ TalkingCities.co.uk۔ 6 اکتوبر 2009۔ اصل سے جمع شدہ 6 اکتوبر 2009 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ 6 اکتوبر 2009۔ 
  126. Article on stag/hen parties in Edinburgh, Scotland (which mentions their popularity in Dublin)، mentioning Dublin. Retrieved 15 فروری 2009.
  127. "New Lonely Planet guide slams Ireland for being too modern, Ireland Vacations"۔ IrishCentral۔ اخذ کردہ بتاریخ 17 جون 2010۔ 
  128. Kevin Doyle (17 دسمبر 2009)۔ "Let us open up for Sunday shoppers says Moore Street"۔ The Herald۔ اخذ کردہ بتاریخ 28 دسمبر 2009۔ 
  129. John McKenna (7 جولائی 2007)۔ "Public appetite for real food"۔ The Irish Times۔ اخذ کردہ بتاریخ 28 دسمبر 2009۔ 
  130. Sinead Van Kampen (21 ستمبر 2009)۔ "Miss Thrifty: Death to the shopping centre!"۔ The Irish Independent۔ اخذ کردہ بتاریخ 28 دسمبر 2009۔ 
  131. Sinead Mooney (7 جولائی 2007)۔ "Food Shorts"۔ The Irish Times۔ اخذ کردہ بتاریخ 28 دسمبر 2009۔ 
  132. Dublin Food Co-op website ref. Markets / News and Events / Recent Events / Events Archive
  133. "The most expensive shopping street in the world"۔ Cushman & Wakefield۔ اصل سے جمع شدہ 24 جولائی 2011 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ 6 ستمبر 2010۔ 
  134. "RTÉ Annual Report 2000 pp3" (PDF)۔ RTÉ News۔ وثق شدہ اصل جمع شدہ1 مارچ 2011 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ 13 جنوری 2011۔ 
  135. "RTÉ Annual Report 2002 pp10" (PDF)۔ RTÉ News۔ وثق شدہ اصل جمع شدہ1 مارچ 2011 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ 13 جنوری 2011۔ 
  136. New postal code system by 2011، Irish Times، 21 ستمبر 2009
  137. "Croke Park Stadium"۔ Crokepark.ie۔ اخذ کردہ بتاریخ 13 اکتوبر 2016۔ 
  138. "World record crowd watches Harlequins sink Saracens"۔ The Sydney Morning Herald۔ 1 اپریل 2012۔ اخذ کردہ بتاریخ 27 اپریل 2012۔ 
  139. http://www.gaa.ie/the-gaa/about-the-gaa/
  140. "Taoiseach Officially Opens Aviva Stadium"۔ IrishRugby.ie۔ 14 مئی 2010۔ اخذ کردہ بتاریخ 29 اگست 2015۔ 
  141. ^ ا ب "Homepage of Lansdowne Road Development Company (IRFU and FAI JV)"۔ Lrsdc.Ie۔ اصل سے جمع شدہ 18 مئی 2016 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ 17 جون 2010۔ 
  142. Irish Rugby : Club & Community : Ulster Bank League : Ulster Bank League Tables وثق شدہ بتاریخ 4 اگست 2013 در وے بیک مشین
  143. "Women's Test Matches played on College Park, Dublin"۔ CricketArchive۔ اخذ کردہ بتاریخ 29 اگست 2011۔ 
  144. "History"۔ VHI Women's Mini Marathon۔ 2015۔ اخذ کردہ بتاریخ 29 اگست 2015۔ 
  145. "National Basketball Arena"۔ bamireland.ie۔ اخذ کردہ بتاریخ 22 جنوری 2017۔ 
  146. "Federation Focus: Ireland"۔ fibaeurope.com۔ 4 جون 2012۔ اخذ کردہ بتاریخ 22 جنوری 2017۔ 
  147. "Irish Basketball – A Brief History"۔ basketballireland.ie۔ اخذ کردہ بتاریخ 22 جنوری 2017۔ 
  148. "National Basketball Arena"۔ iftn.ie۔ اخذ کردہ بتاریخ 22 جنوری 2017۔ 
  149. "National Basketball Arena"۔ discoverireland.ie۔ اخذ کردہ بتاریخ 22 جنوری 2017۔ 
  150. "Education through the Medium of Irish 2015/2016"۔ gaelscoileanna.ie۔ 2016۔ اخذ کردہ بتاریخ 1 جنوری 2018۔ 
  151. "Dublin City Council: International Relations Unit"۔ Dublin City Council۔ اخذ کردہ بتاریخ 8 جولائی 2014۔ 
  152. "Sister City Program"۔ City of San José۔ 19 جون 2013۔ اخذ کردہ بتاریخ 8 جولائی 2014۔ 
  153. "Liverpool City Council twinning"۔ Liverpool.gov.uk۔ 17 نومبر 2008۔ اصل سے جمع شدہ 6 جولائی 2010 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ 23 جون 2009۔ 
  154. "Ciutats agermanades, Relacions bilaterals, L'acció exterior"۔ CIty of Barcelona۔ 18 جون 2009۔ اصل سے جمع شدہ 29 اپریل 2010 کو۔ اخذ کردہ بتاریخ 23 جون 2009۔ 
  155. "Barcelona City Council signs cooperation agreements with Dublin, Seoul, Buenos Aires and Hong Kong"۔ Ajuntament de Barcelona۔ 26 نومبر 2012۔ اخذ کردہ بتاریخ 29 اگست 2015۔ 
  156. "Dublin signs twinning agreement with Beijing"۔ Dublin City Council۔ 2 جون 2011۔ اخذ کردہ بتاریخ 11 فروری 2012۔ 
  157. Clifford Coonan (3 جون 2011)۔ "Dublin officially twinned with Beijing"۔ Irish Times۔ اخذ کردہ بتاریخ 8 جولائی 2014۔ (رکنیت درکار)

بیرونی روابط[ترمیم]

دستاویزی فلمیں[ترمیم]